شعریات : تفہیم و تعبیر –   امتیاز احمد

by adbimiras
0 comment

 شعریات کی اصطلاح کا استعمال عام طور پر ادبی نظریہ و تھیوری کے اصول و ضوابط کے لئے ہوتا ہے جبکہ خاص معنی میں اس سے اصول شاعری و قواعد سخن مراد لئے جاتے ہیں۔ اس کی ابتدا ارسطوئی ہیئت پسندی سے ہوئی، اس کی شہرہ آفاق کتاب ‘‘ بوطیقا ’’ شعریات کی افہام و تفہیم میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس مختصر کتاب میں ارسطو نے چھبیس عناوین کے تحت فن شاعری و اصول شعریت پر ارادۃ اور بیانیہ ادب پر غیر ارادی طور پر اپنے خیالات و نظریات کا اظہار کیا ہے۔ پروفیسر معین الدین جینابڑے بوطیقا میں ذکر کردہ اصطلاحات پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

‘‘ فکشن کی عملی تنقید یا اس کی نظریاتی مباحث میں زمان و مکان، پلاٹ، کردار اور عمل کی اصطلاحات سے مفر نہیں، بوطیقا میں ارسطو نے پہلی مرتبہ ان لفظوں کو ادبی تنقید کی اصطلاحات کے طور پر برتا۔ اس وقت سے لے کر آج تک یہ اصطلاحیں بحث و تمحیص کا موضوع بنی ہوئی ہیں’’۔ (1)

ابتدا میں شعریات کی مبادیات و مضمرات کو شعری اصناف میں ہی تلاش کیا جاتا رہا اس لئے نثری اصناف کی شعریت اور اصول پر بہت کم بحث و مباحثہ ہوئی لیکن اب جبکہ اس کی تلاش و تمحیص نثری مطالعات میں بھی شروع ہو گئی ہے تو اس کے امکانات کو مذکورہ اصناف میں ڈھونڈھا جانے لگا ہے۔ اس ضمن میں وہاب اشرفی اپنی کتاب ‘ مغربی و مشرقی شعریات ’ میں رقمطراز ہیں۔

‘‘ ایک زمانہ تھا کہ شعریات کی بحثیں سمٹی ہوئی تھیں، اس کا تعلق صرف تکنیکی مسائل سے تھا یعنی شعر و ادب کو برتا کس طرح جائے؟، اس کے لازمی اجزا کیا ہوں؟، اور حدود کس طرح متعین کئے جائیں؟۔ لیکن ایسے مسائل سے دوچار ہونے میں زیادہ تر بلاغت کے امور زیر بحث آتے، عروضی مطالعات کو مرکز نگاہ رکھا جاتا، فکری موضوعات حاشیہ پر رہتے گویا شعریات کی حدیں تقریبا متعین تھیں۔ نثری مطالعات میں شعریات کم جگہ پاتی یہی وجہ ہے کہ قدیم کتابوں میں افکار سے زیادہ فنی رموز سامنے رہتے لیکن جیسے جیسے زمانہ بدلتا جاتا شعریات کے مفہوم و معنی میں وسعت پیدا ہوتی جاتی۔ اب تو اس کے حدود متعین کرنا ایک طرح سے متنازعہ عمل ہے’’۔ (2)

امتداد زمانہ کے ساتھ شعریات کے حدود اور دائرہ کار بڑھتا گیا اور اس میں شعبئہ علوم و فنون کی تقریبا سبھی اصناف و اقسام شامل ہونے لگیں۔ مشرقی ادب کے بہ نسبت مغربی ادب میں شعریات کے معنی و مفہوم تھوڑا الگ ہے وہاں اس کا عمومی اطلاق ہر طرح کے انسانی اعمال و افعال پر ہوتا ہے اور اسی نقطئہ نظر سے فنکار کی تخلیقات پر بحث و مباحثہ اور تنقید و تفسیر کی جاتی ہے جبکہ خصوصی انطباق ادبی نظریات پر ہوتا ہے جن سے ادبی مباحثہ و مناقشہ کی راہیں ہموار ہوتی ہیں۔ Alex Preminger  اور T.V.F Brogan  “The New Princeton Encyclopedia of Poetry and Poetics”  میں شعریات کی عمومی و خصوصی اطلاق پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

“The term has been used to denote ‘theory of lit’ i.e. theory of literary discourse’’. (3)

شعریات کا ادبی تھیوری ہونے پر زور دیتے ہوئے Peter Brooks نے Tzvetan Todorov کی کتاب ‘Introduction to poetics’ کے دیباچے میں لکھا ہے۔

“Here in essence is the double thrust of the argument for poetics; that on the one hand poetics should be a discipline derived from the study of literature, not other field of knowledge that claims to explain literature, and on the other hand that the discipline of literary study must not simply assume that its justification and its coherence derive from the works that it studies’’. (4)

Peter Brooks شعریات کو ادبی تھیوری قرار دیتے ہوئے اس کی تعریف و توضیح کے لئے تھیوری و نظریہ کا اسی ادب سے ماخوذ ہونے کی شرط لگاتے ہیں۔ متن پارے کی قدر شناسی اور تنقید و تمحیص کے لئے یہ بنیادی اور لازمی شرط ہے اس کو نظر انداز کر کے ہم کسی صنف کی ادبی معنویت و افادیت کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔

Introduction to poetics کے مصنف Tzvetan Todorov نے شعریات کی وضاحت مندرجہ ذیل الفاظ میں کی ہے۔

“Poetics breaks down the symmetry thus established between interpretation and science in the field of literary studies. In contradiction to the interpretation of particular works, it does not seek to name meaning but aims at a knowledge of the general laws that preside over the birth of each work, but in contradiction to such science as psychology, sociology etc. it seeks these laws within literature itself. Poetics is therefore an approach to literature at once ‘abstract’ and internal’’. (5)

Todorov کے مندرجہ بالا اقتباس سے یہ بات عیاں ہو جاتی ہے کہ شعریات کا تعلق ان قوانین علم اور اصول فن سے ہے جو کسی فن پارے کی تشریح و توضیح اور تحمید و تنقیص کے لئے ایک معیار و میزان ہوں۔

ڈاکٹر ناصر عباس نیر اپنی کتاب ‘ساختیات ایک تعارف’ میں شعریات کی اصطلاح کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں۔

‘‘ یہ شعریات ہی ہے جو کسی نظم، غزل، افسانے، ناول کو اس کی ادبی اور صنفی شناخت دیتی ہے لہذا شعریات ان بنیادی اصولوں، رسمیات، قوانین، ضابطوں کا مجموعہ ہے جو ہر ادب کو ممکن بنا رہا ہوتا ہے ’’۔ (6)

اس اقتباس سے شعریات کے اسرار رموز اور مضمرات و ممکنات ایک حد تک آشکار ہو جاتے ہیں۔

شمس الرحمان فاروقی اپنی کتاب ‘تعبیر کی شرح’ میں شعریات اور نئی شعریات عنوان کے تحت شعریات پر مفصل گفتگو کے بعد لکھتے ہیں۔ ‘‘ شعریات کی مختصر تعریف یہ ہے کہ یہ ان اصولوں کا نام ہے (چاہے وہ اصول تحریری ہوں یا زبانی یا چاہے بعض ان میں زبانی ہوں اور بعض تحریری) جن کی روشنی میں ہم عام طور پر فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سی چیز ادب ہے، کون سی چیز ادب نہیں اور پھر یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ کون سا شعر یا نظم یا شاعری یا افسانہ اپنہ طرح کی کن دوسری چیزوں سے بہتر ہے؟۔ فن کی دنیا میں کیا چیز بہتر ہے اور کسن سی چیز کم بہتر اور کون سی بالکل خراب؟، اس کو طے کرنے کے اصول بھی شعریات ہی کہلاتے ہیں’’۔ (7)

مذکورہ اقتباسوں اور بحثوں سے شعریات کے جو معنی و مفہوم مجھے سمجھ میں آتی ہے وہ یہ ہے کہ شعریات کسی فن پارے کی تعمیر و تشکیل، اس کی تعبیر و تحلیل اور تنقید و تفسیر کے مکنہ اصول و ضوابط کے کلی نظام کا مجموعہ ہوتی ہے جو ادب پارے کی قرآت و مطالعے کے ساتھ ساتھ اس کو قابل فہم بنانے کا معیار و میزان ہے جس کے ذریعے اس کے عمل کو گرفت میں لینے کی سعی کی جاتی ہے اور جس سے ہمیں اس کے کلامیے اور رسمیات کا علم ہوتا ہے جو کہ ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور جدا ہوتے ہیں مثلا قصیدہ و غزل کی رسمیات اور داستان و ناول کی رسمیات حالانکہ سب میں کہانی مشترک ہوتی ہے۔ شعریات ان اصولوں اور رسمیات کو مرتب کرتی ہے جو متنوع کلامیوں اور اصناف کی حد بندیوں کو متعین کرتی ہیں۔

 

شعریات کی ابعادی و امکانی جہات

شعریات کی بہتر افہام و تفہیم اور تفسیر و تشریح کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس کی ممکنہ ابعادی اور امکانی جہات کا بہ نظر غائر جائزہ لیں جس سے شعر و ادب کی جملہ اصناف کا منصفانہ اور غیر جانبدارانہ جرح و تعدیل کر سکیں۔ اس ضمن میں شعریات کی تین ممکنہ جہات قابل ذکر ہیں؛ معنیاتی جہت، صرفیاتی و نحویاتی جہت اور بیانیاتی جہت۔

  • معنیاتی جہت

معنیاتی جہت کا مفہوم یہ ہے کہ ایک فن پارہ کیا معنی دیتا ہے اور کس طرح معنی دیتا ہے۔ اول الذکر کا تعلق لسانیاتی معنیات سے ہے جبکہ آخر الذکر کا ادنی معنیات سے۔ متن کی قرآت اور تشریح میں ادبی معنیات کو ہی اہمیت دی جاتی ہے کیونکہ ہم اسی سے کسی متن کی صحیح توضیح و تعبیر کر پاتے ہیں اور اس کی قدر و قیمت کو اجاگر کرتے ہیں۔ ادبی معنیات کے ضمن میں چند نکات قابل اعتنا ہیں۔

(الف) متنی صداقت و ہم آہنگی

متنی صداقت کا مطلب یہ ہے کہ فن پارہ جس معاشرہ، ملک یا دنیا کی منظر کشی کر رہا ہو وہ اس کے ہر نشیب و فراز، فتح و شکست، تعمیر و تخریب، ٹکراو و تصادم اور آمیزش و آویزش سے اس طرح ہم آہنگ ہو جائے کہ قاری و سامع فن پارہ پڑھ کر یا سن کر اس کو سچ سمجھنے لگے اور اس کو قرب و جوار کی دنیا متصور کرنے لگے۔

(ب) استعاریت

استعاریت کا مفہوم یہ ہے کہ متن میں معنوی تنوع اور ابہام و تہہ داری ہو تاکہ قاری و سامع جتنی دفعہ اس کو پڑھے یا سنے اس پر معانی کے کئی دریچے وا ہوتے جائیں اور متن کی معنویت و ادبیت بڑھتی جائے۔

(ج) داخلیت

کسی بھی ادبی فن پارے میں تخلیق کار کی انفرادیت و داخلیت کی شمولیت ناگزیر ہے کیونکہ جب وہ کسی مضمون پر قلم اٹھاتا ہے تو تخلیق کے معرض وجود میں آنے سے پہلے اس کے غور و فکر اور عقل و شعور میں بیک وقت کئی تجربات و مشاہدات موجود ہوتے ہیں اس کے بعد ہی وہ تخلیقی سرگرمی شروع کرتا ہے جس کی وجہ سے شعوری اور لاشعوری یکجہتی اور ہم آہنگی کے ذریعے اس کی داخلیت فن پارے میں در آتی ہیں۔

  • صرفیاتی و نحویاتی جہت

شعریات کے مطالعے میں دوسری اہم جہت صرفی و نحوی ہے۔ صرفیات لسانیات کا وہ شاخ ہے جس میں لسانی نقطہ نظر سے الفاظ کی ساخت، ان کے اصول و قواعد اور طریقہ اشتقاق سے بحث کی جاتی ہے۔ شعریات کی صرفی جہت پر گفتگو کرتے ہوئے سوئس ماہر لسانیات Ferdinand de Saussure  اپنی کتاب ‘ Course in general linguistics’  میں رقمطراز ہیں۔

‘‘ شعریات کے ضمن میں صرفی حوالے سے ہماری گفتگو Mode, Time, Vision  اور Voice تک محدود رہے گی ’’۔ (8)

Mode فن پارے میں ابھارے گئے واقعات کے اظہار کی درجہ بندی ظاہر کرتی ہے۔ Time  واقعات کے ان دو دھاروں کو ظاہر کرتا ہے جس میں وہ واقعہ رونما ہوا ہے اور جس میں وہ بیانیہ لکھی گئی ہے۔ Vision فن پارے کے اس واضح تصور اور نظریہ کو ظاہر کرتا ہے جس کی وجہ سے فن پارہ معرض وجود میں آیا ہے، ہر فن پارہ کسی نہ کسی تصور کی ہی پیداوار ہوتی ہے۔ Voice فن پارے کی بیانیہ میں اہم کردار ادا کرتا ہے، بیانیہ ادب میں تخلیق کار کرداروں کو پیش کرنے کے لئے عموما دو طریقے اختیار کرتے ہیں؛ تشریحی اور ڈرامائی، تشریحی طریقہ میں تخلیق کار کرداروں کے جذبات و احساسات وغیرہ کو بیان کرتا ہے اور خود ان پر رائے زنی بھی کرتا ہے جبکہ ڈرامائی میں کرداروں کے خیالات اور احساسات انہی سے بیان کرواتا ہے اور ان پر اپنا کوئی فیصلہ صادر نہیں کرتا بلکہ فیصلہ سازی کا اختیار سامع و ناظر کو دے دیتا ہے۔

نحویات لسانیات کا وہ شعبہ ہے جس میں جملوں کی ساخت، ترکیب اور لفظوں کی ترتیب کے اصولوں اور قواعد کا مطالعہ کیا جاتا ہے یعنی نحویات سے ہمیں جملوں کی صحیح ترتیب اور موزوں و بر محل استعمال کا علم ہوتا ہے مثلا ‘ ادیبہ نے نماز ادا کی ’ اس جملہ میں جیسے جیسے الفاظ یک بعد دیگرے ایک ترتیب سے آتے ہیں معنی ظاہر ہوتے جاتے ہیں اور جب تک آخری لفظ نہیں آ جاتا معنی مکمل نہیں ہوتا۔ شعریات میں نحوی حوالے سے دیکھیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہر متن کو چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں رکھا جا سکتا ہے اور پھر ان ٹکڑوں کے درمیان پائے جانے والے ربط و تعلق کی بنیاد پر ان میں موجود متنی ساخت کا امتیاز کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح متنی ساخت کے لحاظ سے متن کی دو قسمیں ہوتی ہیں؛ منطقی و زمانی ترتیب پر مبنی متن اور مکانی ترتیب پر مبنی متن۔ منطقی و زمانی ترتیب میں علت و معلول کی بنا پر متن کی ترتیب ہوتی ہے، نثری اصناف میں یہی ترتیب مروج ہے۔ مکانی ترتیب پر مبنی متن کا استعمال عموما اصناف سخن میں کیا جاتا ہے۔

 

  • بیانیاتی جہت

شعریاتی مطالعہ میں بیانیاتی جہت غیر معمولی اہمیت کی حامل ہے اس میں بیانیہ کی تعریف، نظریہ، اقسام و اوصاف اور تفاعل پر بحث و مباحثہ کیا جاتا ہے۔ افسانوی ادب کی تشکیل و تعمیر اور تحسین و تنقیص میں بیانیہ ایک اہم رول ادا کرتی ہے۔ مغربی ادب کے ساتھ ساتھ مشرقی ادب میں بھی اس پر کافی بحث و مباحثے ہوئے ہیں اور اس کے مضمرات و ممکنات کی ایضاح و توضیح میں بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔

Jerome Bruner بیانیہ کی تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“A Narrative is an account of events occurring over time, it is irreducibly durative”. (9)

Paul Cobley اپنی کتاب “Narrative: The new critical idiom” میں رقمطراز ہیں:

   “Story consists of all the events which are to be depicted, plot is the chain of causation which dictates that these events are somehow and that they are therefore to be depicted in relation to each other. Narrative is the showing or the telling of these events and the mode selected for that to take place, narrative is a sequence that is narrated”. (10)

درج بالا اقتباس سے بیانیہ کی تعریف اور تفاعل واضح ہو جاتی ہے یعنی بیانیہ واقعات و حالات کو سلسلہ وار پیش کرنے کا طریقہ ہے۔ بیانیہ میں پلاٹ کا کردار صرف اتنا ہوتا ہے کہ وہ دو واقعات کے درمیان ربط و تعلق کی زنجیر کو قائم رکھتا ہے اور ان دونوں کے مابین علت و معلول کے علاقے کو ظاہر کرتا ہے۔

Gerard Genette بیانیہ کی تعریف مندرجہ ذیل الفاظ میں کرتے ہیں:

‘‘ یہ زبان کے ذریعے اور بہ طور خاص تحریری زبان کے ذریعے حقیقی یا افسانوی واقعہ یا واقعات کے تسلسل کی نمائندگی ہے’’۔  (11)

بیانیہ تھیوری کے مضمرات اور امکانات کی وضاحت کرتے ہوئے Mieke Bal اپنی کتاب ‘ Narratology: Introduction to the theory of narrative’ میں رقمطراز ہیں:

“ A narrative text is a text in which a narrative agent tells a story”. (12)

Mieke Bal  کہانی کار کی لفظیات اور جملوں کے مجموعات کو بیانیہ کہتا ہے ساتھ ہی بیانیہ کے لئے کسی کہانی کی موجودگی کو لازمی قرار دیتا ہے یعنی جب تک کسی واقعہ یا کہانی معرض وجود میں نہیں آتی تب تک کسی بیانیہ کی وجود ممکن نہیں۔

بیانیہ پر گفتگو کرتے ہوئے ممتاز شیریں لکھتی ہیں:

‘‘ بیانیہ صحیح معنوں میں کئی واقعات کی ایک داستان ہوتی ہے جو یکے بعد دیگرے علی الترتیب بیان ہوتے ہیں، ہم بیانیہ کو بقول عسکری کہانیہ بھی کہہ سکتے ہیں’’۔  (13)

شمس الرحمان فاروقی اپنے مضمون ‘ چند کلمے بیانیہ کے بیان میں ’ میں بیانیہ کی تعریف پر سیر حاصل گفتگو کرنے کے بعد کہتے ہیں:

‘‘ بیانیہ سے مراد ہر وہ تحریر ہے جس میں کوئی واقعہ یا واقعات بیان کئے جائیں’’۔ (14)

قاضی افضال حسین بیانیہ کے تفاعل اور اہمیت و افادیت پر بحث کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

‘‘ بیانیات Narratology اب ایک مستقل شعبئہ علم Discipline ہے جس کے ماہرین نے بیانیہ کی تعریف۔ اوصاف اور تفاعل کے متعلق انتہائی فکر انگیز مباحث کا قابل قدر سرمایہ فراہم کر دیا ہے۔ افسانوی بیانیہ کے متعلق مسلسل نئے سوالات قائم ہو رہے ہیں۔ افسانے میں واقعہ کون بیان کرتا ہے؟، راوی کا ایک طرف متن کے مصنف سے اور دوسری طرف واقعے کے بیان سے کیا اور کیسا تعلق ہے؟’’۔ (15) (یہ بھی پڑھیں شعری و ادبی جمالیات :  مفہوم و طریقۂ کار – طفیل احمد مصباحی )

افسانوی ادب میں بیانیہ کے ناگزیر کردار اور عمل کو تسلیم کرتے ہوئے صغیر افراہیم بیانیہ اور بیان کے مابین فرق و امتیاز کی وضاحت کرتے بوئے رقمطراز ہیں:

‘‘ جب یہ تسلیم کر لیا گیا کہ افسانوی ادب میں بیانیہ ایک لازمی عنصر ہے تو تجسس بڑھتا ہے کہ آخر یہ بیانیہ ہے کیا؟، اس میں اور بیان میں کیا فرق ہے؟، کیا ہر بیانیہ بیان بھی ہے؟ اور کیا ہر بیان بیانیہ بھی ہے؟۔ غور کیا تو احساس ہوا کہ بیان تو ہم Statement کے معنی میں لے سکتے ہیں مگر بیانیہ Statement نہیں ہے Narration ہے یعنی بیانیہ میں تو بیان موجود رہتا ہے مگر بیان میں بیانیہ کی موجودگی کا امکان شاذ ہی ہوتا ہے کیونکہ بیان میں بیان کنندہ کا موجود رہنا ضروری نہیں ہے جیسا کہ صحافتی زبان میں نظر آتا ہے اور اگر بیان کنندہ (راوی) ہے بھی تو وہ چھپا ہوا ہے، اس کا سامنے آنا ضروری نہیں ہے مگر بیانیہ میں بیان کنندہ کی موجودگی ضروری ہے جیسا کہ بالعموم افسانوں اور ناولوں میں ہوا کرتا ہے’’۔ (16)

مندرجہ بالا بحثوں کی روشنی میں ہم شعریات کے خد و خال اور اس کے ابعاد و جہات کی تعبیر و تشریح بآسانی کر سکتے ہیں اور اس کے امکانی و اسنادی اصول و ضوابط کی بنا پر شعری و نثری اصناف کی تفسیر و تحلیل بیان کر سکتے ہیں البتہ یہاں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا تمام اصناف کی جانچ پرکھ کے لئے کوئی ایک شعریات کافی ہیں؟، کیا ایک صنف کی شعریات کسی دوسری صنف کی ادبیت قائم کرنے کا معیار بن سکتی ہیں؟۔ اس کا جواب یقینا نفی میں ہوگا کیونکہ ایک صنف کے عناصر و رسمیات دوسری صنف سے مختلف اور جدا ہوتی ہیں۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ جس طرح سونے کی اہمیت و وقعت کو چاندی کے معیار پر نہیں تولا جا سکتا اسی طرح ایک فن پارے کی خوبی و خامی کسی دوسری صنف کے معیار پر نہیں پرکھا جا سکتا مثال کے طور پر اگر ہم ناول کی خصوصیات نظم میں تلاش کریں تو ہمارے ہاتھ صرف مایوسی ہی لگے گی۔ اسی طرح قصیدے کی خصوصیات غزل کے معیار و میزان پر اجاگر نہیں کی جا سکتی کیونکہ قصیدے کی خصوصیات میں مبالغہ آرائی، شوکت الفاظ اور غیر منطقی و غیر عقلی پیکر تراشی شامل ہیں جبکہ غزل میں سادگی، نزاکت الفاظ، لطافت زبان اور شاعرانہ صداقت ہوتی ہیں۔

میں اپنی گفتگو شمس الرحمان فاروقی کے اقتباس پر ختم کرتا ہوں۔

‘‘ اردو شعریات کو سمجھنے اور پھر بیان کرنے کی شرط یہ ہے کہ ہم اردو زبان کی ان تحریروں سے بخوبی واقف ہوں جنہیں ‘ اردو ادب ’ کہا جاتا ہے۔ پرانے لوگوں نے اور بعض نئے لوگوں نے بھی یہی غلطی کی کہ انہوں نے اردو کی شعریات پر کام کرتے وقت خود اردو ادب کو اور اس کی روشنی میں مستنبط ہونے والے اصولوں کو نظر انداز کر دیا مثلا یہ کہنا کہ داستان کا مرتبہ ناول سے فروتر ہے یا مرثیے میں واقعیت کی کمی ہے۔ داستان پر ناول کی شعریات اور مرثیے پر انیسویں صدی کی فرانس اور انگلستان کی واقعیت بپرستی کی شعریات مسلط کرنے کے باعث ہوا یعنی یہ گمان کیا گیا کہ داستان اور ڈکنس کے ناول اور مرثیہ اور ایمیل زولا Emile Zola کے ناول ایک ہی عالم سے ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ داستان کی اپنی شعریات ہے اور مرثیے کی واقعیت کے اصول انیسویں صدی کی مغربی Realism  کے اصولوں سے بالکل الگ ہیں اور کوئی ضروری نہیں کہ ان میں کوئی نقطئہ اشتراک ایسا ہو جس کی بنا پر ناول کی شعریات کو داستان پر اور واقعیت کی شعریات کو مرثیے پر جاری کرنا ضروری ہو’’۔  (17)

 

مصادر

  • اردو میں بیانیہ کی روایت :۔ معین الدین جینابڑے
  • مغربی و مشرقی شعریات :۔ وہاب اشرفی
  • اردو ناول کی شعریات :۔ ڈاکٹر جہانگیر احمد
  • ایضا
  • ایضا
  • ساختیات ایک تعارف :۔ ڈاکٹر ناصر عباس نیر
  • تعبیر کی شرح :۔ شمس الرحمٰن فاروقی
  • Course in general linguistics :- Ferdinand De Saussure
  • بیانیہ: تفہیم و تعبیر :۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فیصل
  • Narrative: the new critical idiom :- Paul Cobley
  • اردو ناول کی شعریات :۔ ڈاکٹر جہانگیر احمد
  • بیانیہ: تفہیم و تعبیر :۔ ڈاکٹر عبدالرحمٰن فیصل
  • ناول اور افسانے میں تکنیک کا تنوع :۔ ممتاز شیریں مشمولہ بیانیات مرتب قاضی افضال حسین
  • چند کلمے بیانیہ کے باب میں :۔ شمس الرحمٰن فاروقی مشمولہ بیانیات مرتب قاضی افضال حسین
  • بیانیات :۔ قاضی افضال حسین مشمولہ تنقید شش ماہی
  • اردو کا افسانوی ادب :۔ صغیر افراہیم
  • شعریات :۔ مترجم شمس الرحمٰن فاروقی

  امتیاز احمد

  ایم۔ اے اردو ( سمسٹر اول)

 جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

 

 

You may also like

Leave a Comment