آزادی کے بعد اردو ڈرامہ/ڈاکٹر شبانہ نسرین – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اردو کے کلاسیکی اصناف میں ’ڈراما‘ ایک اہم صنف سخن ہے۔ لفظ ’ڈراما‘ یونانی زبان کے لفظ ڈراؤ(Drao)سے مشتق ہے جس کے معنی عمل یا حرکت (Action)کے ہوتے ہیں ۔ یہ ایک طرح سے نقالی ،اداکاری، حرکت و عمل اور مختلف نشیب و فراز کے اظہار اور ادائیگی کا فن ہے۔اس میں انسانی زندگی کے متنوع پہلوؤں اور روز مرہ کے حالات و واقعات ،حقائق اور مسائل کو مختلف کرداروں ،مکالموں اور اداکاروں کے ذریعہ اسٹیج پر پیش کیا جاتا ہے اور ناظرین و سامعین ان سے لطف اندوز بھی ہوتے ہیں اور درس عبرت بھی حاصل کرتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب’آزادی کے بعد اردو ڈراما‘ ڈاکٹر شبانہ نسرین کے پی ایچ ڈی کا مقالہ تھا جو انھوں نے 2016میں تخلیق کار پبلشر کے ذریعے کتابی صورت میں شائع کرایا ہے۔اس کتاب کو مصنفہ نے چار ابواب میں تقسیم کیا ہے۔پہلا باب ’ڈرامے کا فن اور اردو ڈرامے کا ارتقاء‘ہے۔اس کے دو حصے ہیں حصہ’الف‘ میں ڈرامے کا فن، کردار نگاری کی خصوصیات، مکالمہ نگاری، مکالمہ نگاری کی مفاہمتیں اور ڈرامے کے اقسام پر تفصیلی گفتگو کرتے ہوئے اپنے تحقیقی و تنقیدی تاثرات اور خیالات کا بھر پور اظہار کیا ہے۔جبکہ دوسرا حصہ’ب‘ ہے جس میں اردو ڈرامے کے ارتقاء پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ اس میں ایک طرح سے خلاء کا احساس ہوتا ہے وہ یہ کہ انھوں نے جدید ڈرامہ نگار جو ابھی تک اس کی صنفی روایت کو سنبھالے ہوئے ہیں اور اس کے فروغ میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں ان کا ذکر نہیں کیا گیا ہے۔آزادی کے بعد اب تک جو لوگ اس فن اور صنف کو زندہ رکھے ہوئے ہیں ان سب کا ذکر اجمالاً سہی ارتقاء پر بحث کرتے ہوئے شامل کرنا چاہیے تھا ۔ اس میں زیادہ تر ترقی پسند تحریک کے زیر اثر لکھے گئے ڈراموں کا جائزہ پیش کیا گیا ہے۔بہر حال ارتقاء پر جس انداز سے بات کی گئی ہے وہ قابل تحسین اور لائق مطالعہ ہے۔اس کتاب کا دوسرا باب’تقسیم ہند اور اردو ڈراما ‘ہے۔اس میں تقسیم ہند کے نتیجے میں اسٹیج ڈراموں میں جس طرح کی تبدیلی آئی اس کا ذکر تو ہے ہی ساتھ میں موضوعات کی تبدیلی اور اس کے اسباب و علل پر اچھی بحث کی گئی ہے۔اس باب میں جن کا تفصیل سے ذکر کیا گیا ہے ان میں کرشن چندر، خواجہ احمد عباس، عصمت چغتائی، راجندر سنگھ بیدی،ساگر سرحدی،ابراہیم یوسف، اظہر افسر وغیرہ قابل ذکر ہیں ۔مصنفہ نے ان کی شخصیت اور ان کے ڈراموں کا تجزیہ کرتے ہوئے اس کے حسن و قبح دونوں پہلوؤں پر تفصیل سے روشنی ڈالنے کی بہتر سعی کی ہے اور گرانقدر معلومات فراہم کی ہے۔تیسرا باب’آزادی کے بعد کے سیاسی، ادبی اور سماجی ڈرامے‘ ہے۔ اس میں آزادی کے بعد کی سیاسی ، سماجی، اور ادبی صورتحال پر اجمالی بحث کرتے ہوئے اس عہد کے اہم ڈراما نگار منٹو، اشک،منجو قمر، شمیم حنفی،محمد حسن، شوکت تھانوی،رشید جہاں،عبدالحلیم شرراور غلام معین الدین وغیرہ کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔یہ وہ ڈراما نگار ہیں جنھوں نے ڈرامے کو جدید روش سے روشناس کرایا۔موضوعات، اسلوب اور تکنیک کی سطح پر کچھ نئے تجربے بھی کئے ۔محض حسن و عشق کے موضوعات تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا بلکہ عصری مسائل کو پیش کرکے سامعین اور ناظرین کو غور و فکر کی دعوت بھی دی نیزسماجی اور معاشرتی اصلاح کے لئے لوگوں کے اندر بیداری پیدا کرنے کا کام بھی کیا۔مصنفہ نے مذکورہ تمام ڈرامہ نگاروں کے ڈراموں کی روشنی میں اس عہد کے سیاسی ،سماجی،اور ادبی صورتحال پر فرداً فرداً تفصیلی بحث کی گئی ہے۔کتاب کا چوتھا اور آخری باب ’آزادی کے بعد اردو ڈرامے کے اسالیب‘ہے ۔اس میں مصنفہ نے منظوم ڈراموں کے اسالیب پر بحث کرتے ہوئے اس عہد کے سماجی ،معاشرتی صورتحال کے تناظر میںاس کے اسالیب کے تعین کی کوشش کی ہے اوراسٹیج ڈرامے ،منظوم ڈرامے، اور ریڈیائی ڈراموں کے اسالیب میں جو بنیادی فرق ہے اس کو واضح کرنے کی بھر پور کوشش کی ہے۔اس کے علاوہ لفظی ترجمہ،براہ راست ترجمہ،اور تخلیقی ترجمہ وغیرہ یہ سب مختلف النوع اسالیب کی راہیں ہموار کرتی ہیں لیکن اس باب کو پڑھتے ہوئے بہت حد تک تشنگی محسوس ہوتی ہے کیونکہ اس میں ڈراموں کے اسالیب پر گفتگو کے بجائے پورا زور ڈراموں کے تجزیے پر دیا گیا ہے ۔یہ ایک اچھی بات کہی جا سکتی ہے لیکن ان ڈراموں میں کون سے اسالیب اختیار کئے گئے ہیں اس ذکر معدوم سا لگتا ہے۔کتاب کو پڑھتے ہوئے رقصی ڈرامے، منظوم ڈرامے، تراجم، لایعنی ڈرامے، ریڈیائی ڈرامے اور دیگر ڈراموں کے اسالیب میں نمایاں فرق کیا ہے کچھ واضح ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔آخر سے قبل’ماحصل‘کے تحت پورے مقالے کا خلاصہ پیش کیا گیا ہے اور سب آخر میں کتابیات کے تحت بنیادی مآخذ اور ثانوی مآخذ کی فہرست دی گئی ہے جس سے اس کتاب کے معتبر اور مستند ہونے کا اندازہ کر سکتے ہیں۔376صفحات پر مشتمل یہ کتاب دیدہ زیب بھی ہے اور قیمت کے اعتبار سے مناسب بھی ہے ۔طباعت بھی بہتر ہیٹائپنگ اور پروف کی غلطیاں الشاذ کالعدم ہیں۔زبان و بیان اور پیش کش کے اعتبار سے ایک اچھی کتاب کہی جا سکتی ہے۔اردو ڈرامے پر کام کرنے والے اسکالرس کے لئے بہت حد تک معاون ثابت ہوسکتی ہے۔امید ہے کہ اس کی پذیرائی ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

