اداریہ
سرسیّد احمد خاں ایک صاحبِ بصیرت اور وسیع النظر شخصیت کے مالک تھے۔اُن کی شخصیت کے بے شمار پہلو ہیں۔ وہ اپنے آپ میں ایک انجمن اور ایک تحریک تھے۔ اُن کے خلوص اور عمل کا دائرہ بہت وسیع تھا کیوں کہ اُن کے عہد میں ہندوستانی مسلمانوں کی زندگی کا شاید ہی کوئی پہلو یا اجتماعی مسئلہ ایسا رہا ہو جو اُن کی فکری اور اصلاحی دسترس سے باہر رہا ہو۔ مذہب، تہذیب، ثقافت، زبان وادب اور معاشرت وغیرہ کو اپنی اصلاحی کوششوں سے انھوں نے متاثر کیا۔انھوں نے مسلمانوں کو پسماندگی اور زبوں حالی سے باہر لانے کے لئے تعلیم وتعلّم پر سب سے زیادہ زور دیا۔ وہ اس بات سے بخوبی واقف تھے کہ تعلیم وتربیت کے ساتھ ساتھ حیاتِ انسانی کی تہذیب میں اس کا ایک اہم کردار ہوتا ہے نیز انسانی زندگی میں انقلاب برپا کرنے کا بھی ایک مؤثر ذریعہ تعلیم ہے ۔
سرسید کے عہد میں مشرق ومغرب، قدیم وجدید ، بدعت وسنت، مذہب وسائنس، جبلّت وعقل وغیرہ تمام معاملات میں ایک طرح کا تصادم نظر آتا ہے ۔سرسید ایک صاحبِ فکر اور دور اندیش شخص تھے اس لیے یہ کیسے ممکن تھا کہ وہ ان ہنگاموں پرایک تماشائی کی نظر ڈال کر آگے بڑھ جاتے ۔ وہ ساحل سے طوفان کا نظارہ کرنے والوں میں سے نہیں تھے بلکہ ہرقسم کے نا مساعد حالات کا سامنا کرنے کا حوصلہ رکھتے تھے ۔یہی وجہ ہے کہ وہ خود عملی طورپر ان سب میں شامل رہے اور دیگر لوگوں کو بھی ہرقدم پر اس میں شرکت کے لیے راغب کیا ۔
جدید فکر کے بانی اور معمار ِقوم سر سیّد احمد خاں کی آج ۲۰۴ ویں یوم پیدائش ہے۔ سر سیّد احمد خاں جیسی عقبری اور ہمہ جہت شخصیت اور اُن کی زندگی کے تمام پہلوؤں کا احاطہ ہر عہد میں کیا جاتا رہا ہے اور آئندہ بھی کیا جاتا رہے گا ۔ اُن کی دلفریب شخصیت کا اندازہ اس بات سے بھی کیا جا سکتا ہے کہ نہ صرف ملک بلکہ بیرون ملک اور دُنیا بھر میں اُن سے شناسائی اور اُن کی کار کردگی کا اعتراف کرنے والے ، اُن سے عقیدت رکھنے والے اُن کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں ۔
جدید ذرائع ابلاغ کے اِس زمانے میں اور انفارمیشن و کمیونی کیشن ٹیکنالوجی کے نِت نئے طریقوں اور سوشل میڈیا کا بھر پور استعمال کرکے عظیم شخصیات کے عظیم الشان کارناموں سے لوگوں کو متعارف کرایا جا رہا ہے۔ اِسی ضمن میں ادبی میراث adbimiras ویب پورٹل بھی اپنا اہم رول ادا کر رہا ہے۔ آج ۱۷ ، اکتوبر کو ہندوستان کی عظیم شخصیت کے اعتراف میں لکھے ہوئے متفرق مضامین کو ہندوستان اور بیرون ملک متعارف کرانے کی ایک اہم کو شش میں سر سیّد احمد خاں پر لکھے گئے مضامین کو یکجا کرکے ادبی میراث اپنے پورٹل پر خصوصی طور پر پیش کر رہا ہے۔
ادبی میراث نے ایک نئے سلسلے کا آغاز کیا ، اس ضمن میں اردو کے مختلف ادیب و دانشور کو ان کے یوم پیدائش اوریوم وفات کے موقع پر خاص طور پر یاد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ادبی میراث نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان اہم مواقع پر ادبی میراث کے ساتھ مہمان مدیر جڑیں گے ۔ اس سلسلے کی پہلی کڑی کے طور پر آج یوم سرسید کے موقع پر ادارے نے بطور مہمان مدیر مجھے موقع دیا ہے۔ میں ادبی میراث کے بانی اور مدیر ڈاکٹر نوشاد منظر کا شکر گزار ہوں اور دعا کرتا ہوں کہ ادبی میراث کامیابیوں کی بلندیوں تک پہنچے۔
ہمیں قارئین کے قیمتی تاثرات اور مفید مشوروں کا انتطار رہے گا ۔
ڈاکٹر زاہد ندیم احسن
مہمان مدیر
٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


2 comments
ماشا اللہ ڈاکٹر زاہد ندیم احسن صاحب کا اداریہ لائق تحسین ہے.
میراث کے ادبی خدمات کی جھلک شوشل میڈیا پر دیکھتا رہتا ہوں.
ڈاکٹر نوشاد منظر قابل مبارکباد ہیں.
tabsara thora time dayy karray gay