عہد حاضر کی اہم خواتین فکشن نگاروں میں صغرا مہدی کو خاص مرتبہ حاصل ہے۔انھوں نے علمی اور تنقیدی مضامین بھی لکھے، تحقیق میں بھی طبع آزمائی کی اور کتابوں کی ترتیب کا بھی کام انجام دیا،مگر بنیادی طور پر ان کی شناخت ایک تخلیق کار،ایک فکشن نگار کی ہے۔ان کے کئی ناول شائع ہوئے جن میں ’پابہ جولاں‘،’دھند‘، ’پروائی‘ اور ’راگ بھوپالی‘ کو شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی۔تنقید میں ان کی اہم تصنیف ’ اکبر کی شاعری کا تنقیدی مطالعہ‘ ہے جو حوالے کی حیثیت رکھتا ہے اور تحقیق میں ان کی اہم تصنیف ’ سخن دلنواز‘ کو ادبی حلقے میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتاہے۔جہاں تک صغرا مہدی کے افسانوں کا تعلق ہے تو ان کے کئی افسانوی مجموعے شائع ہوئے۔’افسانوی مجموعات’ پتھر کا شہزادہ‘، ’جو میرے وہ راجہ کے نہیں‘، اور ’پہچان‘ میں ان کے ابتدائی زمانے کے افسانے ہیں۔میرے پیش نظر ان کا مجموعہ ’ پہچان‘ ہے۔میں نے اس مجموعے میں شامل افسانوں کے حوالے سے صغرا مہدی کے فن کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔
’’پہچان‘‘ صغرا مہدی کے افسانوں کا تیسرا مجموعہ ہے جس کی اشاعت ۱۹۹۵ میں ادب پبلی کیشنز،نئی دہلی کے زیر اہتمام ہوئی،اس کتاب میں ۱۵ کہانیاں شامل ہیں۔مجموعہ کی پہلی کہانی’’ چوتھا کھونٹ‘‘ ہے۔یہ ایک ایسے شخص کی کہانی ہے جو محبت بلکہ شادی کے بندھن میں یقین نہیں رکھتا۔ارن اس کہانی کا مرکزی کردار ہے جس کے ارد گرد پوری کہانی گھومتی رہتی ہے۔ارن کی نظر میں عورتیں دو طرح کی ہوتی ہیں اول وہ جو گھر کی چہار دیواری میں زندگی بسر کرتی ہیں۔یعنی جن کی زندگی کا محور اور مرکز شوہر اور بچوں کے علاوہ اپنے خاندان تک محدود رہتا ہے۔دوسری قسم کی عورتیں وہ ہوتی ہیں جن کا تعلق عموماً امیر گھرانے سے ہوتا ہے یا جن کے خیالات عام عورتوں سے مختلف ہوتے ہیں،دوسرے لفظوں میں ہائی سوسائٹی کی عورتیں۔ارن کے مطابق دوسری قسم میں شامل عورتیں غیر مردوں کے رتبے ،دولت یا شخصیت سے متاثر ہوکر وقتی طور پر جسمانی رشتہ قائم کرنے سے نہیں جھجکتی ہیں۔ارن بھی ان آزاد خیال عورتوں سے دوستی کرنے اور کچھ وقت کے لیے جسمانی قربت کو نہ صرف پسند کرتا ہے بلکہ وہ خود بھی اس کا خواہاںہوتا ہے۔ اقتباس دیکھئے:
’’اس کو صرف ایک عورت کے ساتھ اپنا دائمی رشتہ جوڑنے کے خیال سے ہی جھرجھری آجاتی ہے۔اس کی نظروں میں روتی، جھینکتی طرح طرح کی ڈیمانڈز کرتی شک و شبہے میں مبتلا سر جھاڑ منہ پھاڑ بیوی گھومنے لگتی، یا پھر پڑھی لکھی میک اپ سے لپی پتی ساڑھیوں اور زیوروں میں ملبوس خواتین کا خیال آتا جو صرف سماج میں دکھاوے کے لیے اپنے شوہروں کے ساتھ بحیثیت بیوی کے رہتی تھیں اور دوستیاں دوسرے مردوں سے کھلے بندوں یا ڈھکے چھپے طور پر کرتیں اور دوستی میں ہر حد کو پھلانگ جاتیں۔‘‘(ص: ۱۰)
اس کہانی میں ہائی سوسائٹی سماج کے اس طبقے کو مرکز بنا کر پیش کیا گیا ہے جو شادی بیاہ کے پاک رشتوں میں یقین نہیں رکھتے بلکہ اس رشتے کے پس پردہ ناجائز رشتے قائم کرتے ہیں،ایسے سماج میں اس طرح کے ناجائز رشتوں کو برا بھی نہیں سمجھا جاتااور نہ ہی کوئی ان رشتوں کے تقدس کا احترام کرتا ہے بلکہ اسے آزادی سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ارن جو اس ہائی سوسائٹی کا ایک فرد ہے وہ ایسی آزادی اور غیر مشروط جسمانی رشتوں کو قائم کرنے میں لطف محسوس کرتا ہے،اس نے یہاں تک سوچ رکھا تھا کہ وہ کبھی شادی نہیں کرے گا۔زندگی بالکل اسی طرح گزر رہی تھی جیسا ارن چاہتا تھا،مگر اچانک مادھوی نام کی ہائی سوسائٹی لڑکی سے اس کی ملاقات نے ارن کے سوچنے اور سمجھنے کے انداز کو یکسر بدل دیا۔مادھوی سے ارن کی دوستی کی غرض بھی وہی تھی جو سابقہ عورتوں سے ہوتی تھی مگر مادھوی دوسری عورتوں جیسی نہیں تھی بلکہ کئی اعتبار سے ان سے مختلف تھی:
’’اور اسے[مادھوی]اپنے اتنے قریب پاکر اسے محسوس ہوا کہ وہ کھائی کھیلی عورت نہیں تھی،اسے تعجب بھی ہواکہ اتنی بڑی عمر کی ملکوں ملکوں گھومی اعلیٰ تعلیم یافتہ میوزک کی ماہر عورت، اور____ اور___کمال ہے!وہ ایک لمحے کو ٹھٹکا اور سوچنے لگا کہ وہ اس معصوم اور سادہ دل عورت کے دروازے کو جو اب تک اس نے بند کر رکھے تھے وا نہ ہونے دیا وہ بھولی اور سیدھی عورت جو اپنی عمر کی تیسری دہائی پوری کررہی تھی جو اس میدان میں بالکل نئی تھی اس نے اس کے کھوکھلے اور بے معنی فقروں اور اشاروں کنایوں کو خوبصورت معنی پہنا دیئے تھے۔‘‘ (ص: ۱۰۔۱۱)
محبت ایک خوبصورت جذبے کا نام ہے۔ارن بھی اس خوبصورت احساس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔وہ انسان جو ہر رات ایک نئی عورت کی بانہوں میں گزارنے میں یقین رکھتا تھا ،وہ مادھوی سے مل کر اپنے کئے ہوئے عمل پر نادم نظر آنے لگتا ہے۔ارن کے اس خیال کو کہ دولت مند عورتیں بد کردار ہوتیں ہیں مادھوی نے بالکل بدل دیا تھا۔اب ارن کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس ہائی سوسائٹی کی ساری عورتیں بدکردار اور بری نہیں ہوتی ہیں بلکہ ان میں بھولی بھالی،سادہ لوح،شریف،پاکباز ،نیک دل،نیک سیرت عورتیں بھی ہوتی ہیں جن کے ماتھے پر محبت میں سب کچھ قربان کردینے کے بعد بھی شکن کی ایک لکیر بھی نظر نہیں آتی ۔
’’ پہچان ‘‘ میں شامل ایک افسانہ ’’ ملبہ‘‘ ہے۔یہ ایک ایسی لڑکی کی کہانی ہے جس کے ماضی نے اس کے حال اور مستقبل کو تہس نہس کردیا۔ شہلا اس کہانی کا مرکزی کردار ہے۔شہلا کی پرورش و پرداخت ایک علمی اور مذہبی گھرانے میں ہوتی ہے،ماں باپ کی لاڈلی ہونے کے باوجود وہ منکسر المزاج لڑکی ہے۔گویا ایک شریف،مہذب اور باوقار خاندان کی باحیا عورتوں میں جو خوبیاں ہوسکتی ہیں وہ سب اس میں موجود تھی،یہی وجہ تھی کہ محلے اور خاندان کی عورتیں اپنی بیٹیوں کو شہلا کی مثال دیتی رہتیں۔
ایک بار کالج میں شہلا کی ملاقات عادل کے نام کے ایکٰ لڑکے سے ہوئی۔عادل ایک شریف اور ملنسار لڑکا تھا۔وہ نہ چاہتے ہوئے بھی عادل سے قریب ہوتی چلی گئی۔یہ ملاقات اور قربتیں کب محبت میں تبدیل ہوگئی اس کا اندازہ شہلا کو بعد میں ہوا۔شہلا کے گھر والوں کو بھی عادل پسند تھا اور انہیں اس رشتے سے کوئی اعتراض نہ تھا۔
وقت یونہی گزرتا رہا عادل چھٹیوں میں اپنے آبائی وطن گیا ہوا تھا اور شہلا تصور جاناں میں کھوئی اپنی قسمت پر نازاں و مسرور آنے والے دن کے بارے میں سوچ سوچ کے پھولے نہیں سماتی تھی کہ ایک دن ڈاکیہ آیا اور ایک دعوت نامہ اسے پکڑا دیا،اس نے لفافہ چاک کیا تو اس کے ہوش اڑ گئے:
’’عزیزی عادل رشید سلمہ کا عقد…اور آگے وہ نہیں پڑھ سکی،اسے لگا بہت زور کی آندھی چل رہی ہو،جس میں اس کا سب کچھ اُڑا جارہا ہو،اس نے خاموشی کے ساتھ وہ لفافہ ماں کو پکڑا دیا۔‘‘ (ص: ۲۱)
یہ ایک ایسی خبر تھی جس نے شہلا کی زندگی کی خوشیاں ہی چھین لی،مگر شہلا نے اپنے جذبات کو دوسرے پر ظاہر نہیں ہونے دیا،گزرتے وقت کے ساتھ عادل سے جڑی یادیں دھندلی پڑتی چلی گئیں۔ چند دنوں بعد شہلا کی ملاقات ایاز سے ہوئی اور بہت جلد دونوں کانکاح ہوگیا۔شہلا کی زندگی میں خوشیاں لوٹ آئی تھی اور وہ ایاز کی رفیق حیات بن کر خود کو نہایت خوش قسمت سمجھنے لگی،مگر اسے کیا خبر تھی کہ ماضی کے نقوش اب بھی باقی ہیں اور وہ اس کا تعاقب کررہے ہیں۔شہلا نے ایک رات اپنے شوہر ایاز سے عادل کے متعلق ساری باتیں کہہ دی۔ایاز ،شہلا کے ماضی کو جان کر چراغ پا ہوگیا اور اسی دن سے اسے لعن طعن کرنا شروع کردیا۔یہ حقیقت ہے کہ مرد کا ماضی کتنا بھی داغ دار کیوں نہ ہو وہ اپنی بیوی کے دامن پر پڑے ایک بھی چھینٹ کو برداشت نہیں کر سکتا۔ایاز نے بھی وہی کیا۔ایاز کی نفرت روز بروز بڑھتی گئی مگر شہلا نے کبھی پلٹ کر اسے جواب نہیں دیاحالانکہ وہ اس بات سے واقف تھی کہ شادی سے قبل ایاز کسی دوسری لڑکی سے محبت کرتا تھا جس نے ایاز کے بجائے کسی اور سے شادی کرلی تھی۔صغرا مہدی نے اپنے افسانے سے عورت اور مرد کے درمیان سماجی تفریق پر طنز کیا ہے۔سماج کا نظام ایسا ہے جہاں مرد ہمیشہ خود کو برتر تصور کرتا ہے،اور اس کی وجہ بڑی حد تک عورتوں کا رویہ بھی ہے،وہ خود کو لاچار اور مجبور سمجھتی ہیں اور مرد کی ہر خطا کو معاف کردینا اپنا مذہبی فریضہ سمجھتی ہیں۔صغرا مہدی نے نہایت خوش اسلوبی کے ساتھ یہ دکھانے کی کوشش کی ہے کہ ایاز اور شہلا دونوں کا شادی سے قبل کسی دوسرے سے ایک رشتہ تھا مگر سزا صرف شہلا کو ملتی ہے،آخر کیوں یہ بہت اہم سوال ہے۔کیوں کہ مرد کی غلطی معاف کرنا اور عورتوں کی سرزنش کرنا اچھے اور صحت مند سماج کے لیے نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے۔
صغرا مہدی کا ایک افسانہ ’’پہچان‘‘ ہے جو اس مجموعے کا عنوان بھی ہے۔یہ دو جڑواں بہنوں نموّ اور جموّ کی کہانی ہے۔دونوں کی شکل بالکل ایک جیسی ہے اور گھر والے بھی ان دونوں میں فرق نہیں کر پاتے ۔ جب ان میں سے کسی کو مخاطب کرنا ہوتا وہ دونوں کا نام لیتے ۔یہ بات جموّ کونہایت ناگوار گزرتی اوروہ خود کو اپنی بہن نموّ سے مختلف کرنے کی تدبیریں کرنے لگتی :
’’وہ بچپن سے اس کوشش میں لگ گئی کہ اپنی الگ پہچان بنائے اور اس کی صرف ایک ہی صورت تھی کہ ہر وہ کام کرے جو نموّ نہیں کرتی تھی۔نمو خاموش رہتی اس نے بے تحاشا بولنا شروع کردیا تھا وہ پڑھنے میں تیز تھی اس نے پڑھنے میں لا پرواہی برتنی شروع کردی۔نموّ ہر وقت صاف ستھری بنی سجی رہتی اس نے خود کو اول جلول لباس میں ملبوس کرلیا،عام طور پر جینز اور میلی سی قمیض لڑکوں جیسے بال۔‘‘ (ص:۳۴)
جمو کا کردار بہت متحرک اور باغی ہے وہ اپنی ایک الگ شناخت قائم کرنے کے لیے جس طرح قربانی دیتی ہے وہ بھی خاصی دلچسپ ہے۔جمو کی مسلسل کوششوں کے باعث بہت جلد دونوں بہنوں کے درمیان واضح فرق نظر آنے لگا ۔ادھر گھر والے جب کبھی جمو کے لیے کچھ لاتے تو وہ لینے سے منع کردیتی اور وہ ساری چیزیں نمو کو دے دی جاتی ہیں۔جمو کی اس رویے پر کسی نے کوئی خاص دھیان نہیں دیا،اس طرح جمو اکیلی ہوتی گئی اور ساتھ ساتھ اس کے مزاج میں تلخی بھی پیدا ہوتی گئی۔کہانی آگے بڑھتی ہے اور نمو اور جمو کے رشتے کا بھائی راحت نوکری کی تلاش میں تھوڑے دنوں کے لیے اس کے یہاں آکر ٹھہرتا ہے۔نمو حسب عادت خوش اخلاقی کا مظاہرہ کرتی ہے اور جمو تلخ مزاجی کا۔آہستہ آہستہ جمو کو یہ احساس ہوتا کہ راحت نمو سے زیادہ اسے پسند کرتا ہے،اس کی پسند ناپسند کا خیال رکھتا ہے۔ظاہر ہے جمو کے لیے یہ احساس نیا تجربہ ہوتا ہے کیوں کہ بچپن سے اس سے کسی نے پیار سے بات نہیں کی تھی،کسی نے یہ جاننے کی کوشش ہی نہیں کی تھی کہ اسے کیا پسند ہے کیا نا پسند؟ایسے میں راحت کے ہمدردانہ رویے نے جمو کو راحت کے قریب کردیا۔اب اس کا دل چاہتا ہے کہ وہ بھی اچھے کپڑے پہنے ،بال سنوارے پھول لگائے مگر اسے اس بات کا ڈر ستانے لگتا ہے کہ اگر اس نے اپنے مزاج میں تبدیلی لانے کی کوشش کی تو نمو کے جیسی لگنے لگے گی اور راحت نمو کو پسند کرلے گا۔جمو کا یہ احساس کہ اگر اس نے اپنے اندر تبدیلی پیدا کی توان دونوں بہنوں میں کوئی فرق نہیں رہ جائے گا اور راحت نمو کو پسند کر لے گا دراصل جمو کی محرومی کی داستان بیان کرتا ہے۔افسانے میں کہیں یہ نہیں دیکھایا گیا ہے کہ جمو کے ساتھ کوئی نا انصافی ہوئی ہے مگر پھر بھی قاری کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ جمو کے ساتھ کسی نے ہمدردی نہیں کی،کسی نے یہ جاننے کی کوشش بھی نہیں کی کہ آخر اس کے مزاج کی تلخی کی وجہ کیا ہے؟صغرا مہدی کا یہ افسانہ نفسیاتی قسم کا ہے۔جمو کے اندر بچپن سے جو تبدیلی آرہی تھی اس پر بھی کسی نے غور نہیں کیا اور اسے نظر انداز کرتے گئے۔افسانے سے ایک اقتباس دیکھئے جس سے یہ اندازہ لگانا آسان ہوجاتا ہے کہ جمو کی تلخی کی وجہ اس کی محرومی ہے:
’’نہیں، نہیں وہ جلدی جلدی کپڑے اتار رہی تھی،اور جب پھروہ جینز اور قمیض پہن کر آئی تو راحت باہر کھڑا تھا وہ اس سے لپٹ گئی نہیں راحت…میں یہ نہیں کروں گی میں کھو جاؤں گی تم مجھے کیسے ڈھونڈوگے راحت بتاؤ۔راحت نے دیکھا جمو کی آنکھوں میں خوف کے ساتھ ساتھ ویرانی بھی تھی۔‘‘ (ص: ۳۷)
دراصل اپنی بہن سے مختلف نظر آنے کی کوشش میں جمو کے یہاں جو ذہنی انتشار کی صورت پیدا ہوئی اسی کا نتیجہ تھا کہ اس کے اندر ایک ڈر اور ایک خوف نے جگہ بنالی تھی اسے ہر وقت یہ لگتا کہ کوئی اس کی چیز چھین نہ لے،اس کے اسی ڈر نے ا سے پاگل بنادیا اور اسے مینٹل ہاسپیٹل تک میں داخل ہونا پڑا۔
صغرا مہدی کی ایک کہانی ’’ بھروسا ‘‘ ہے۔اس کہانی میں مرکزی کردار ریحانہ اور کانتا کا ہے جن کے ارد گرد یہ کہانی گھومتی ہے۔اس کہانی میں ہندو مسلم اتحاد کی ضرورت اور اہمیت کو دکھایا گیا ہے۔ افسانے میں کہیں بھی واضح طور پر اتحاد کی ضرورت پر زور نہیں دیا گیا ہے مگر کہانی میں دو ضمنی واقعات اس طرح پیش کیے گئے ہیں کہ قاری کا ذہن فوراً اس جانب مبذول ہوجاتا ہے۔ریحانہ کی جب شادی ہوئی تھی اس وقت وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس بستی میں رہنے سے ڈر رہی تھی جہاں غیر مسلموں کی آبادی زیادہ تھی ،مگر جب وہ وہاں کے لوگوں سے ملی تو اس کا یہ خوف بھی جاتا رہا،اس علاقے میں ہندو مسلم ایک ساتھ خوشی خوشی رہتے تھے،ریحانہ کو وہاں جاکے احساس ہوا کہ انسانی اقدار کسی بھی قوم و ملت میں پائی جاسکتی ہیں اور مذہب منافرت پھیلانے کا حکم نہیں دیتا ہے۔ریحانہ کی دوست کانتانے ہندو ہونے کے باوجود ہمیشہ ریحانہ کی حوصلہ افزائی کی تھی۔اقتباس دیکھئے:
’’کانتا تو اس کی ہر پریشانی ہر دکھ کو بغیر کہے سمجھ لیتی تھی،اس نے اس کی شادی شدہ زندگی کے اتار چڑھاؤ میں کیسا کیسا اس کا ساتھ دیا تھا،کبھی دوست بن کر سمجھایا تھا،کبھی ماں بن کر ڈانٹا تھا،کبھی بہن بن کر دلداری کی تھی،کتنی ہم خیالی تھی ان دونوں میں۔‘‘ (ص: ۴۰)
کانتا نے ریحانہ کا ہر موقعہ پر ساتھ دیا تھا،جب وہ پہلے پہل اس بستی میں آئی تھی تب بھی سب سے پہلے کانتا نے ہی اس کا استقبال کیا تھا،دونوں میں بہت جلد دوستی ہوگئی تھی۔وہ دونوں ایک دوسرے کی خوشی اور تکلیف میں شریک رہتے ۔دونوں کی قربتیں بڑھتی ہیں۔مگر کہتے ہیں سیاست ہمارے ملک کا مستقبل طے کرتی ہیں۔ مغلیہ عہد میں ایودھیا میں تعمیر کی گئی بابری مسجد کو چند امن کے دشمن عناصر نے ۱۹۹۲ میں شہید کردیا،جس کے پاداش میں پورے ملک میں فساد ہوئے کئی مسجدیں شہید کردی گئیں کئی مندریں مسمار ہوئیں،ہزاروں کی تعداد میں لوگوں کا قتل کیا گیا ۔اس نفرت آمیز سیاست کا نتیجہ یہ ہوا کہ برسوں سے بنا مذہبی تفریق کے ایک ساتھ رہنے والے دوستوں کو بھی اس گندی سیاست نے الگ رہنے پر مجبور کردیااور مذہب بچاؤ کا نعرہ کچھ اس طرح بلند ہوا گویا اگر ہندوؤں نے مسلمانوں کو نہیں مارا تو ہندو مذہب ختم ہوجائے گا اور اگر مسلمانوں نے ہندوؤں کو قتل نہیں کیا تو مذہب اسلام باقی نہیںرہ پائے گا۔ ظاہر ہے جس سماج یا ملک کی سیاست اس طرح کی تفریق پیدا کرتی ہو وہاں کی عوام دوسرے مذاہب کو کیسے عزت کی نگاہ سے دیکھ سکتی ہے۔ریحانہ اور کانتا کے رشتے کو بھی اس گندی سیاست نے متاثر کیا مگر وقت رہتے ان دونوں کو اپنی غلطی کا احساس ہوجاتا ہے اور اس طرح محبت،اخوت اور بھائی چارگی کی جیت ہوتی ہے اور فرقہ پرستوں کی ہار۔
صغرا مہدی کے افسانوی مجموعہ ’’ پہچان‘‘ میں شامل ایک افسانہ ’دیوالی‘ ہے۔’دیوالی‘ کو ’ بھروسے ‘ کی توسیع کہا جائے تو غلط نہ ہوگا۔۱۹۹۲ کے بابری مسجد سانحہ کے بعد ہندوستان میں جو خون خرابہ ہوا وہ ناقابل بیان ہے۔افسانہ ’ بھروسا‘ میں صغرا مہدی نے بابری مسجد سانحہ کے بعد ہندو مسلم فساد کے لیے تیار ہوتی زمین کی طرف ہلکا سا اشارہ کیا ہے مگر افسانہ’ دیوالی‘ میں افسانہ نگار نے اس تاریخی واقعے کے بعد پیدا ہوئی صورت حال کو پر درد انداز میں بیان کیا ہے۔اس کہانی کا مرکزی کردار ایک چودہ برس کا لڑکا ’’احمد‘‘ ہے۔احمد کی پرورش گاؤں کے اس ماحول میں ہوئی تھی جہاں مذہب کے نام پر منافرت نہیں محبت،اخوت اور بھائی چارکی کا درس دیا جاتا تھا۔جہاں لوگ بغیر کسی تفریق کے ایک دوسرے کی خوشی اور غم میں شریک ہوتے تھے۔
احمد کو پڑھنے کا بڑا شوق تھا،وہ تعلیم حاصل کرنے کی غرض سے شہر جانا چاہتا تھا،حالانکہ اس کے والدین کی خواہش تھی کہ وہ گاؤں میں ہی ان کے ساتھ رہ کر پڑھائی کرے، مگر احمد کی ضد کے آگے سبھی نے ہار مان لی اور وہ اپنے ایک رشتے کے بھائی کے یہاں رہ کر تعلیم حاصل کرنے لگا۔شہر کا ماحول گاؤں سے بالکل مختلف تھا یہاں کسی کو کسی کی کوئی فکر نہیں رہتی۔دوسری طرف فساد کا اثر بھی اس علاقے میں نظر آنے لگا تھا،اس کا اثر یہ ہوا کہ روز کسی نہ کسی بات پر شہر بندکیا جاتا،ریلیاں نکالی جاتیں، اسکول بند ہوجاتے۔احمد کو اس ماحول کی بالکل عادت نہیں تھی لہذا بہت جلد وہ شہر کے ماحول سے بیزار ہونے لگا ۔ اسے اپنا خواب چکناچور ہوتا نظر آنے لگا،اسے شہر آنے والے اپنے فیصلے پر بھی ندامت کا احساس ہونے لگا تھا۔فساد کا اثر اسکول کے اساتذہ کے تعلقات پر بھی واضح نظر آنے لگا اور، وہ بھی ایک دوسرے سے دور رہنے لگے:
’’یہ تم نے مس رحمن سے باتیں کرنا کیوں چھوڑ دیا‘ اس [احمد]کے کان کھڑے ہوگئے۔اس کے پیچھے کچھ ٹیچریں آرہی تھیں۔
’’ تم سے کس نے کہا‘‘گیم کی ٹیچر نے تیوری چڑھا کر کہا۔
کہتا کون کیا میری آنکھیں نہیں ہیں، ہندی کی بہن جی کہہ رہی تھی۔
دیکھو یہ سب پولیٹکس کی باتیں ہیں،ہمیں تمہیں اس سے کیا؟
مجھے تو ان سے نفرت ہے۔بابر نے کتنے ظلم ڈھائے۔‘‘
اس اقتباس کی روشنی میں ہم اس سماج کی صورت حال اور فساد کے اثرات کو بہتر طور پر سمجھ سکتے ہیں۔فسادکا اثر اساتذہ کے ذہن پر بھی پڑا۔اساتذہ جو امن و امان،بھائی چارگی اور متحدہ قومیت کی تعلیم دیتے ہیں جب ان کا ہی ذہن بدل جائے تو سماج کی تشکیل کیسی ہوگی اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے۔احمد کو اپنی ٹیچر کی باتیں بہت ناگوار گزرتی ہیں،اسی درمیان اس کے محلے میں یہ اعلان کیا جاتا ہے کہ اس بار کوئی بھی دیوالی نہیں منائے گا،اگر کسی نے دیے جلائے تو اس کے گھر کو آگ لگا دی جائے گی۔اس اعلان نے احمد جیسے کم عمربچے کے دل و دماغ کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا،اسے اپنے گاؤں کی یاد شدت سے آنے لگی جہاں سب لوگ مل جل کر خوشیاں بانٹا کرتے تھے۔احمد نے فیصلہ کرلیا کہ وہ اپنے گاؤں چلا جائے گا اور وہاں سب کے ساتھ مل کر دیوالی کی خوشیاں منائے گا ۔ایک دن اس نے کچھ رنگین موم بتیاں لیں اور خاموشی کے ساتھ اپنے گاؤں جانے والی بس میں سوار ہوگیا۔وہ بہت خوش تھا ، اپنے دوستوں سے ملنے کی خواہش اور گاؤں میں مل کر دیوالی منانے کے خیال سے ہی وہ مسرور ہوگیا اور نا جانے کب اسے نیند آگئی کہ اچانک اسے کسی نے جھنجھوڑ کر جگایا، وہ وہاں کا نظارہ دیکھ کر حیران بلکہ ششدر رہ گیا۔اقتباس دیکھئے:
’’آنکھ کھولی تو بس میں ہنگامہ تھا۔ایک آدمی نے اسے [احمد کو] اتارا،اس کے منہ پر ٹارچ ڈالی’ تم کون ہو؟‘ ہم مجید[احمد] ہیں گاؤں جارہے ہیں دیوالی منانے ‘ سالاجھوٹ بولتا ہے۔تو دیوالی منانے جارہا ہے۔فسادیوں نے ایک بس کو روک لیا،کئی لوگ مارے گئے،کچھ زخمی ہوگئے،پولیس نے جائزہ لیا،اس میں ایک چودہ سال کے بچے کی لاش بھی تھی جس کے پاس پڑے تھیلے سے دو تین رنگین موم تبیاںجھانک رہی تھیں۔‘‘ (ص: ۷۴)
احمد کو کس نے مارا؟اس کا قصور کیا تھا؟یہ سوال بہت اہم ہے۔ظاہر ہے احمد کے قاتل کوئی بھی ہو مگر یہ اس گندی ذہنیت کی عکاسی کرتا ہے۔ایک معصوم بچہ کا قاتل بھلا انسان کہلانے کے لائق کہا ں رہا ؟ فساد کہیں بھی ہو کسی کی سازش ہو مگر نقصان دونوں قوموں کا ہوتا ہے،کسی کا کم کسی کا زیادہ۔صغرا مہدی نے بھی اپنے افسانے میں اس جانب اشارہ کیا ہے۔ان فسادات میں صرف مالی نقصانات نہیں ہوتے بلکہ جانی نقصانات کے ساتھ ہم جس تعصب کے شکار ہوجاتے ہیں وہ اور بھی خطرناک اورزیادہ نقصان دہ ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں صغریٰ مہدی کا افسانہ ’’ دوسرا ہنی مون‘‘ (ایک تجزیہ)- پروفیسر خالد محمود)
مذکورہ بالا کہانیوں کے علاوہ بھی اس مجموعے میں افسانے شامل ہیں۔ان میں’’ غریب خانہ‘‘ دراصل بدلتے ہوئے سماجی پس منظر کی کہانی ہے۔اس کہانی کا مرکز ایک شریف اور عزت دار گھرانہ ہے جس نے ضرورت مندوں کی ہمیشہ مدد کی ہے لیکن پڑوس میں بسے کوٹھی والوں سے ملنے جلنے کو معیوب سمجھتے ہیں۔یہ کوٹھی والے نئے دولت مند ضرور ہیں مگر ان میں شرافت نام کی کوئی چیز موجود نہیں۔افسانہ نگار نے سماج میں موجود درجہ بندی اور طبقاتی تفریق مٹانے کی کوشش کی ہے۔اس مجموعے میں شامل ایک کہانی ’’نیلم شہزادی‘‘ ہے۔اس کہانی میں افسانہ نگار نے عورتوں کے مسائل کو پیش کیا ہے۔فرخ اور عظمیٰ اس کہانی کے اہم کردار ہیں۔فرخ جو عظمیٰ کا شوہر ہے اس کے اندر غرور اور انا کا مادہ بہت ہے جب کہ عظمیٰ شروع سے آخر تک سمجھدار،صبر،حوصلے، اپنائیت، محبت اور قربانی کا ثبوت دیتی ہے۔کہانی کے اختتام پر شوہر کو اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے مگر تب تک عظمیٰ اس سے دور جاچکی ہوتی ہے۔ان کہانیوں کے علاوہ بھی کئی اہم کہانی اس مجموعے میں شامل ہے ،جو مختلف موضوعات کا احاطہ کرتی ہیں۔
مجموعی طور پر صغرا مہدی کا افسانوی مجموعہ ’’ پہچان‘‘ کے کئی افسانے ایسے ہیں جو اپنے موضوع کی وجہ سے ہمارے ذہنوں کو اپنی جانب متوجہ کرتے ہیں،بعض افسانے ایسے ہیں جن کے سحر سے نکلنا مشکل ہے وہ شروع سے آخر تک قاری کو اپنی گرفت میں لیے رہتے ہیں۔مگر بعض افسانوں کو پڑھ کر بے ربطی کا احساس ہوتا ہے،زبان و بیان کی سطح پر بھی بعض افسانے مکمل نہیں نظر آتے،کہیں کہیں کھردرے پن کا احساس ہوتا ہے۔صغرا مہدی کے کردار اچھے ہیں اور وہ ہمارے سماج سے تعلق رکھتے ہیں۔
۱۷مارچ ۲۰۱۴ ء کو صغرا مہدی اس دار فانی سے رخصت ہوگئیں۔صغرا مہدی نے ادب کے تقریبا تمام اصناف میں طبع آزمائی کی تھی مگر ان کی شناخت ایک فکشن نگار کی ہی رہی،آج وہ ہمارے درمیان نہیں ہیں مگر ان کی تحریریں انہیں کافی عرصے تک قاری کے دل و دماغ میں محفوظ رکھیں گی۔
٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

