سورج کی سیر” کا جائزہ ارحاء مدثر، چاسدہ
کتاب "سورج کی سیر” راج محمد آفریدی کی لکھی ہوئی بچوں کے لیے ایک اصلاحی کتاب ہے۔ جس میں انہوں نے چھوٹے چھوٹے کہانیوں کو لے کر بچوں کی اصلاح کرنے کی کوشش کی ہے۔ کتاب سورج کی سیر میں انہوں نے پہلی کہانی "مصلحت” پیش کی ہے۔” جس میں انہوں نے ایک فقیر اور سانپ کا قصہ بیان کیا ہے کہ کس طرح سے فقیر کی بد دعا سے سانپ سے خدا ساری توانائی جو اس کی ڈھارس بن کر اس کا محافظ ہوتی ہے،چھین لیتا ہے،اور پھر وہ کس طرح لوگوں کے کھیلنے کا سامان بن جاتاہے۔ پھر بعد میں فقیر کو احساس ہو جاتاہے کہ ہر چیز میں خدا کی کوئی نہ کوئی مصلحت ہوتی ہے۔ خدا سے التجا کر کے سانپ کو وہ ساری توانائیاں واپس دلا دیتا ہے ۔ ”
کتاب کی دوسری کہانی احساس کے عنوان سے ہے ۔ جس میں وہ بچوں کی اصلاح کچھ اس خیال سے کرتے ہیں کہ ہماری چھوٹی چھوٹی شرارتوں کی وجہ سے دوسرے انسان کی زندگی کس قدر متاثر ہوتی ہے۔
تیسری کہانی "اللہ کی مخلوق” جس میں مصنف راج محمد آفریدی صاحب نے پرندوں کی زندگی کا ذکر کیا ہے ۔ اس میں انہوں نے ہمارے انسان ہونے پر طنز کے تیر چلائے ہیں کہ ہم کس قدر بے حس مخلوق ہیں ،جو انسانیت بھول کر خالق کائنات کی مخلوق کو تکلیف میں رکھتے ہیں۔ خود تو کھاتے رہتے ہیں، لیکن ان بے زبانوں کے لیے کچھ نہیں چھوڑتے ۔ پہلے تو ہم کھانہ دیتے نہیں ،اور جب رحم کھا کر دیتے بھی ہے تو ہم سے بچا ہوا نہیں بلکہ خراب کھانا جو گھل سڑ گیا ہو۔
اس چھوٹی سی کہانی کے پس پشت بہت بڑا راز چھپا ہے۔ جو ہمیں ہماری سنگ دلی کا بتاتی ہے کہ ہم انسان کس قدر شقی القلب ہیں۔ اگر سائنسی نظر سے اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو اس کتاب میں ہمیں دو کہانیاں نظر آتی ہیں ،ایک سورج کی سیر اور دوسری ٹائم ٹنل مشین ” ۔ ان دو کہانیوں میں نہ صرف ہمیں معلومات بلکہ ہر حال میں راضی بہ رضائے الٰہی ہونا چاہیے کا درس ملتا ہے۔ کہانی "آب حیات کی تلاش،اور کھلونا بندوق” اطفال کو حصول علم کا درس دیتی ہے۔ کہانی انوکھی سزا میں مصنف نے بچوں میں پھیلی ہوئی جراثیم جسے ہم عام زبان میں گالی گلوچ کہتے ہیں، کا ذکر کیا ہے کہ کس طرح نجم نے نجاد کو گالیاں دی اور کس طرح اس کے والد نے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کرکے اس کے گھر جاکر اس کو اخلاقی شکست دی ۔ جس سے وہ متاثر ہوکر نجاد سے معافی مانگتا ہے ۔ اس کے آگے کہانی میں مصنف نے بچوں میں پھیلی ہوئی ناشکری کا ذکر کیا ہے کہ آج کل کے بچے کس طرح ناشکری کرتے ہیں ۔ کتاب "سورج کی سیر”میں کل 24کہانیاں ہیں۔ ہر کہانی اپنا ایک الگ مقام رکھتی ہے۔ ہر کہانی کے پس پشت مصنف نے بچوں کے اصلاح کی کوشش کی ہے۔ (یہ بھی پرھیں خیبر پختونخوا کی ایک توانا نسائی آواز: ڈاکٹر شاہدہ سردار – راج محمد آفریدی )
کتاب کی اسلوب کی بات کی جائے تو محترم راج محمد آفریدی نے سادہ اور سلیس انداز اپنا کر اس کتاب کی فضا کو انتہائی رواں دواں اور دل چسپ و دل فریب بنایا ہوا ہے۔ سادہ اور سلیس زبان کی وجہ سے پڑھنے والا کسی ذہنی دباؤ اور بوجھ کا شکار نہیں ہوتا گویا سیدھی سادی اور عام فہم انداز بیان اس کتاب کی بہت بڑی فنی خوبی ہے۔ راج آفریدی کے اسلوب میں سادگی اور سلاست کے ساتھ شستگی اور روانی،اور ساتھ میں ملاحت اور شیرینی بھی باہم جمع ہوگئی ہے۔ ان خصوصیات کی بنا پر کتاب "سورج کی سیر ” کے اثر میں شدت پیدا ہوگئی ہے جو قاری کو اکتاہٹ کا شکار نہیں بناتی ۔
مذکورہ کتاب میں مصنف نے اپنی کتاب کے ساتھ انصاف کیا ہے۔ اس میں مختلف موضوعات پر اصلاحی کہانیاں نہ صرف اطفال کے لیے بلکہ معاشرے کے ہر فرد کی اصلاح کے لیے ضروری ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

