تأثر وتجزیہ /شمیم طارق- ڈاکٹر خان محمد آصف
شمیم طارق کا تنقیدی تصور تخلیقی کرب و انسباط کی نئی دھاراسے عبارت ہے۔ تخلیق کی یہ نئی دھارا”کاگد کی لیکھی پر نہیں بلکہ آنکھن دیکھی "پر یقین کرتی ہے۔کیونکہ کہ شمیم طارق کا تعلق وارانسی سے وہی ہے جو کبیر کا کاشی تھا بس فرق صرف یہ ہے کہ کبیر کو کاشی سے اور کاشی کو کبیر سے الگ کر کے سمجھا اور پرکھانہین جا سکتا ۔کبیر جس کاشی کے باجار میں کھڑے ہو کر سب کے خیر کی دعا مانگ رہے تھے شمیم طارق اسی وارانسی سے ایک نئے بازار کی تلاش میں عروس البلاد کا سفر کیا۔مکچھ سے معیشت تک کا یہ سفر آج بھی جاری ہے۔ جس میں اپنے خیر کی کامنا شامل ہے۔شمیم طارق کی ذہنی پرواز محض شاعری اور صحافت تک محدود نہیں بلکہ ان کے سوچ سمندر کی لہریں تنقید ،تحقیق ،تصوف ،تاریخ اور تعلیم کے خشک سوتوں کوبھی سیراب کرتی ہیں۔
زیر نظر کتاب سات ابواب اور اٹھائیس مضامین پر محتوی ہیں۔ہر مضمون قاری پر اپنا الگ تأثر قائم کرتا ہے ۔زبان و بیان کے حوالے سے فاضل مصنف نے اس بات کی کوشش کی ہے کہ ایسی زبان استعمال کی جائے جو سادہ اور عام فہم ہو۔کتاب کا پہلا مضمون”تنقید کے تقاضے”ادب کے طلبا کو سامنے رکھ کر لکھا گیا ہے ۔جس میں اس بات کو اجاگر کر نے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہر تخلیقی فن پارہ اپنے تہذیبی و ثقافتی پس میں رہ کر معنیاتی اور ہیئتی پرتوں کو ظاہر کرتاہے۔تخلیق کایہ معنیاتی نظام قاموس اورلغات انحصار نہیں کرتا ۔ تخلیق کی تعبیر و تفہیم کے لئے تنقید نگا رکو باذوق و باشعور ہونا لازمی ہے ۔کیونکہ ادب پارے کی تنقید کا مقصد قاری کو اس کی خوبیوں اورخامیوں سے آگاہی ہے تاکہ قاری ادب کی فنی پرکھ کر سکے ۔ناقدین کو بھاری بھرم اصطلاحیں اور طول طویل جملے سے گریز کرنا چاہیے کیونکہ یہ قرأت کو بوجھل بناتے ہیں ۔مطالعہ کی وسعت کے ساتھ شخصیت میں ہمہ گیری آتی ہے۔شخصیت کی یہ ہمہ گیریت ناقد کو تعصب اور تنگ نظری سے محفوظ رکھتی ہے۔ فاضل مصنف نے علامہ شبلی پر تین مضامین لکھے ہیں اور تینوں اپنی نوعیت کے الگ الگ مضامین ہیں ۔ان میں سے ایک” شبلی کی شعریات اور ٹیگور کی شاعری” پر ہے اتنی بات تو ادب کا ہر قاری جانتا ہے کہ شبلی نے شاعری کی مشرقی شعریات کے معیار و منہاج متعین کیے ہیں ۔تاکہ قاری کے اندر شعر فہمی اور نقد شعر کا صحیح وژن پیدا ہو۔شبلی کی شعریات کی تفہیم کے لئے مضمون نگار نے کئی اقتباس پیش کیے ۔لیکن ٹیگور کے ضمن میں ان کا ایک لیکچر پیش کیا ہے جو انھوں نے ایران میں دیا تھا ۔اس لیکچر میں ٹیگور نے فارسی شعراء کے کلام کی تاثیر کا ذکر کیا اور مثال کے طور پر ٹیگور نے موسم بہار میں چڑیوں کی چہک اور گلوں کی مہک کو کائناتی کلام کہا ۔جوکسی تشریح و تعبیر کی محتاج نہیں وہ تو صدائے الوہی ہے جو بے ساختہ خیالات میں آتی ہے اس مضمون میں محض شعریات شبلی سے بحث ہے اور ٹیگورکی شعری کائنات پر کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔”شبلی اور معاندین شبلی (لفظوں کی تہذیب کے حوالے سے) ” عنوان سے ہی موضوع کا اندازہ ہو جاتا ہے ۔یہ مضمون شبلی کے مخالفین و معاندین کے لفظی و لسانی تہذیب سے بحث کرتا ہے ۔شبلی سے عنادرکھنے والے مولوی عبدالحق نے لکھاہے کہ ‘شبلی کی تحریروں کو ابھی سے لونی لگنی شروع ہو گئی ہے’ ۔تو وحید قریشی صاحب نے انہیں نرگسی شخصیت بتایا۔پروفیسر ظہور الدین صاحب نے شعر العجم کی پہلی جلد کو براؤن کی لٹریری ہسٹری سے استفادے کی بات کی ۔ناصر عباس نیر نے شبلی پر سرقہ کا الزام ہی لگا دیاجسے میں نیر صاحب کی نظریاتی مجبوری کہہ سکتا ہوں کہ اباء کا ازبر کرایا ہوا سبق اتنی آسانی سے نہیں بھولا جاسکتا۔تیسرا مضمون "علامہ شبلی کی بلند نگاہی(تعلیمی افکار و تجربات کی روشنی میں)” پر ہے ۔اگر علامہ شبلی کے تعلیمی نظریات کو مدارس کے نصاب میں شامل کر لیا جاتا تو مسلمان اتنا ذلیل و خوار نہ ہوتا ۔لیکن علماء فرنگی محلی اور مولوی عبدالحئی نے اس کو ناک کا مسئلہ بنا لیا اور آج پوری قوم کی ناک کٹی ہوئی ہے۔اس کٹی ہوئی ناک کا علاج کسی کے پاس نہیں "ناگپاڑہ کا منٹو ” منٹونے انیس سو چوتیس سے اڑتالیس تک کا زمانہ بمبئی میں گذرا،بمبئی کے قیام کے دوران جو افسانے لکھے ان کے کرداروں کی پارکھ اور شاہد وہ خود تھے۔وہ کردار ان کے گرد و پیش کے جانے پہچانے تھے۔خواہ وہ خوشیا ،ممد بھائی ،سہائے،بابو گوپی ناتھ یا موذیل ہویہ کردار منٹو سے اور منٹو ان کرداروں سے جانے جاتے ہیں۔” میرا جی کی نثر” فرائڈ نے نرگسیت کو دو اسٹیج میں تقسیم کیا ہے ایک پرائمری اور دوسرا سیکنڈری ۔میرا جی کی نرگسیت سیکنڈری اسٹیج پر تھی ۔اس اسٹیج کی انتہا پر پہنچ کر میرا جی نے جنسی تلذذ کے حصول کا کام اپنے دست کو سونپ دیا تھا۔یہ ذہنی کجروی ان کے زندگی کی ڈھلتی دوپہر کی ہے۔جس کا ذکر منٹو اور طفیل احمدنے اپنے خاکے میں کیا ہے ۔میرا جی کی شاعری ہو یا نثر اس میں مشرقی ویدانتیت اور یونانی کے اساطیر کا تصور ملتا ہے۔”علی سردار کی نظمیہ شاعری” علی سردار جعفری کی نظمیہ شاعری بورژوازیت ،سامراجیت اور ساہوکاریت کے خلاف ایک بغاوت ہے۔ انھوں نے اپنی نظموں میں کمیونسٹ مینی فیسٹو کا بھر پور پروپگنڈا کیا۔اور ہندستانی معاشرے کو دو طبقاتی معاشرہ تسلیم کرنی کی غلطی کی جب کی ہندستان میں طبقاتی کش مکش کے بجائے ورنیہ تصادم ہے جس کی وجہ سے ترقی پسند تحریک پرچار اور پمفلٹ تک سمٹ کر رہ گئی۔”بیدی اور ترقی پسندی” ادب کی تخلیق اور تفہیم کو لے کر بیدی کا اپنا نظریہ ہے ۔ان کی نظر میں ادب اقلیدس اور الجبرا کو اصول نہیں کہ جہاں دو اور دو چار کا پیمانہ بنا بنایا ہو ۔ادب توسماج کی نبض پرہاتھ رکھ کر روٹی اور روح کے سوالوں کے جواب تلاش کرتا ہے۔”خواجہ احمد عباس ۔جیسا دیکھا اور سنا” خواجہ احمد عباس جب تک جیئے ایک روحانی کرب میں جیئے،ان کا خاندانی پس منظر مذہبی تھا جو انسان دوستی اور ہندستان دوستی کے درمیان معلق رہا۔کانگریسیوں نے انھیں کمیونسٹ اور کمیونسٹوں نے انھیں رجعت پسند قرار دیا۔کیونکہ وہ اسٹالن کے فاشزم کے مقابلے گاندھیائی عدم تشدد کو ترجیح دیتے تھے۔”جانثار اختر کا شعری مزاج(غزل کے حوالے سے)” ترقی پسند غزل گو شعراء میں فیض اور مجروح کے قد کا کوئی شاعر نہیں ہواجن کے یہاں قدیم کلاسیکی رچاؤ کے ساتھ جدید حسیت بھی پائی جاتی ہو۔جانثار ،کیفی یا دیگر ترقی پسند شعراء ہوں ان کی شاعری واقعاتی اورسانحاتی ہوتی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ابوالکلام قاسمی بحیثیت نقاد – پروفیسر قاضی عبیدالرحمان ہاشمی )
جن کے موضوعات جلد ہی باسی ہو جاتے ہیں ۔”مجاز کی ایک نظم ۔۔۔۔۔” نورا”مجاز سوز میں ڈوبا ہوا ساز تھا ۔نرس نورا مجاز کے شکستہ خواب کی تعبیر ہے۔وہ خواب جس کی تعبیر سلطانہ کی سلطنت میں نہ ہوئی۔اس کو ارض کلیسا کی ایک ماہ پارہ نے حقیقت میں بدل دیا۔”سید امین اشرف کی ایک مسحور کن غزل” سید امین اشرف کی شاعری میں تازہ کاری ،نغمہ سرائی اور حیرانی کے ساتھ روایات پاس بھی ہے ۔جس کا تجزیہ کرتے ہوئے فاضل تجزیہ نگار نے کمال ہنر مندی سے قاری کو آسان زبان میں سمجھا دیا ہے۔”حمید سہروردی کے افسانوں کی ذہنی فضا اور زبان (‘امیر بخش کون؟ ‘کے حوالے سے) "افسانہ’ امیر بخش کون ؟’انفرادی عمل کو اجتماعی عمل میں تبدیل کرنے کا وسیلہ ہے ۔حمید سہروردی نے سر سید کے انشائیہ ‘گزرا ہوا زمانہ’ کو افسانوی کرافٹ میں پیش کر کے سر سید کی فکری توسیع کی ہے۔”مٹی سے کشید کیا ہوا عطر "ظفر گورکھپوری پر لکھا گیا مضمون ہے۔ظفر کے دوہے،پہیلیاں اور کہہ مکرنیاں ہندوی لوک دانش کا حصہ ہیںجسے امیر خسرو نے اپنی تخلیق کا وظیفہ بنایا ۔اسی ماں ،ماٹی اور ماتر بھاشا کی گم شدہ لسانی و شعری میراث کی بازیافت ظفر گورکھپوری نے اپنے دوہوں اور گیتوں میں کی ہے۔ظفر کے دوہوں اور گیتوں میں پوربیا کی تہذیبی کائنات پوشیدہ ہے ۔”شہپر رسول کا شعری سفر اور مہاجرت”شہپر رسول پر جلدی میں لکھا گیا مضمون ہے۔جس میں ان کی شاعری کے ہجریہ پہلو پرمحض اُچٹتی نظر ڈالی گئی ہے جب کہ شہپر رسول کا اپنا ڈکشن اور شعری لفظیات ہیں ۔جس سے وہ اپنے حسی کیفیات کی ترسیل کرتے ہیں ۔اور وہ ان کے لیے کافی ہے ۔”جمال فتنہ احباب زر سے نکلو تو(خالد جمال کا رنگ سخن)”خالد جمال کے رنگ سخن و آہنگ کا معصوم تحیر چشم حیراں کو رمز و اسرار کی لذتوں سے آشنا کراتا ہے۔”کبیر اجمل اور منتشر لمحوں کا نور” کبیر اجمل کی شاعری کو شمس الرحمن فاروقی نے نوعمری اور نو مشقی کی شاعری کہا ہے جب کہ ندا فاضلی ان کی تخلیقی لفظیات وتراکیب پر سوال کھڑے کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کبیر اجمل اپنے گرد و نواح کی آواز سے نابلد ہیں ۔مقالہ نگار کی پوری قوت اپنے ممدوح کی پختہ عمری اور مشاقی کو ثابت کرنے میں صرف ہوئی ہے۔”سرسید احمد خان بحیثیت مورخ”اس مضمون میں سر سید کو بطور مورخ پیش کرنے کے لیے ان شواہد کو پیش کیا گیا ہے جو سر سید کے بارے میں دنیا کے مورخین نے اپنی رائے دی تھی۔سائنسی تحقیق،متن کی تصحیح اور کتبہ شناسی کے معیار و منہاج کا طریقہ سر سید نے دیا تھا آج ایک دنیا اس کو سند مانتی ہے۔سر سید نے تحقیق کو غیر معروضی بنایا،سر سید نے اس بات کا بھی پتا لگایا کہ سکوں اور اینٹوں کے مطالعے سے ان کی عمر کا تعین کیا جاسکتا ہے۔”داغ کے خطوط ” داغ کے خطوط کا موصوف نے ژرف بینی سے مطالعہ کیا اور خطوط میں بیان واقعہ کی جزئیات پر اپنی رائے دی۔اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ داغ کے خطوط کی غیر افسانوی نثر میں اہمیت کیا ہے۔گو کہ غالب کا سا مکالماتی انداز ناپید ہے۔لیکن دہلی کے روز مرہ و محاورات خطوط میں زندگی کی رمق ڈال دیتے ہیں ۔اس پر مستزاد زبان کی سلاست اور روانی قاری کو حسی حظ پہنچاتی ہے۔”دبستان لکھنؤ اور اردو صحافت”یہ مضمون دو حصوں میں ہے پہلا حصہ دبستان لکھنؤاور دہلی کی خصوصیات پر مشتمل ہے۔دوسرا حصہ لکھنؤ کی اردو صحافت اور اس کی ادبی ہم آہنگی اور زبان کی لذت و تاثیر سے بحث کرتا ہے۔دبستان لکھنؤ نے اردو کی صحافتی زبان کو آسان اور عمومی بنانے پر زور دیا اور بہت سے مشکل الفاظ کو نکال باہر کیا جو عوامی مزاج سے میل نہ کھاتے تھے۔”کلاسیکی ادب کی تحقیق۔میعار و کردار(ممبئی یونیورسٹی کے حوالے سے)”یہ مضمون شعبہ اردو ممبئی یونیورسٹی کے تحقیقی المیہ کا ذاتی کرب ہے۔علم کے اس معبد میں شمیم طارق کو صلات کے بجائے صلواتیں ملیں، انہیں اس بات کا بھی ملال ہے کہ دنیا نے ان کے علم و فضل کے لیے اعزازات دیئے لیکن اپنوں نے اعزاء کے لائق بھی نہیں سمجھا۔طعنے سہے لیکن اردو تحقیق کے معیار کو بلند رکھا ۔ان کا یہ الزام کسی کی ذات تک تو ٹھیک ہے لیکن کسی ادارے کو نشانہ بنانا کہ اردو تحقیق کا معیار اس وجہ سے مجروح ہورہا کہ اردو کے جواں سال اسکالر اپنا مقالہ کسی پیشہ ور سے لکھواتے ہیں جو کہ ایک ریکٹ کی شکل اختیار کر چکا ہے میں ذاتی طور پر اس کی مذمت کرتا ہوں ۔آپ کی ذاتی عناد و پر خار اور چپقلش کسی سے ہو سکتی ہے لیکن کسی باوقار ادارے کو اپنی انا کی تسکین کے لئے مورد الزام نہیں ٹھرا سکتے ۔”ہند ایرانی تہذیب میں مچھلی”مچھلی کے تاریخی و تہذیبی حوالے کو جس خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے ۔وہ اپنی مثال آپ ہے مضمون میں حضرت موسٰی سے حاجی ملنگ تک کی کہانی بیان کی گئی ہے،مچھلی کااساطیری اور معجزاتی بیانیہ مذہب کی مقدس کتابوں اور فکشن کے مہابیانیہ میں مذکور ہے۔مثلاًقرآن،مہابھارت،راجہ ہریش چند کا زبانی مہابیانیہ کے علاوہ امیر خسرو کی پہیلیوں اور کہہ مکرنیوں میں بھی ملتا ہے۔’دلہا دلہن ‘کا عارفانہ تصور” ہند اسلامی تصوف ، بھارت کی بھکتی اور ارضیت کا تصور ہے یہاں بھگوان کا بھون اپنی امیج رکھتا ہے اندر کی سبھا ہو ،یا رادھا کا رقص، اروشی کو وجود ہو، یا مینکا تریا چرترسب کا تصوراتی پیکر موجود ہے۔یہی وجہ ہے کہ پتی ورتا عورتیں اپنے شوہر میں مجازی خدا دیکھتی ہیں ۔ کبیر کا بر ابناسی ہے تو میرا بھی سب لوک لاج تج کر مرلی کے من کی ملکہ بننے کی خواہش رکھتی ہیں ۔بلہے شاہ کی نظم ‘ہوری کھیلوں گی کہہ بسم اللہ’ میں بھی عبد و معبود کے ملن کا استعارہ ملتا ہے۔”تصوف اور ہندوستانی سماج” ہندستانی صوفیائے نے عبد و معبود کی دوئی و غیریت کے ساتھ ظل الہی کے تصور کو فلک سے اٹھا کر زمین بوس کر دیا۔صوفیاء کرام کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے انھوں نے عوام الناس کو زمین پر اللہ کے خلیفہ کے طور پر پیش کیا۔اور اپنی مجلسوں سے طبقاتی تفریق کو ختم کیا۔زندگی کے ہر شعبہ میں فطری توازن و مساوات کو قائم رکھا اور مقامی رسوم و قیود کو اس عمدگی سے اسلامی روایات میں ضم کیا کہ عقائد پر آنچ نہ آئے۔وحدت میں کثرت جو ہندستان کی روح ہے گلشن کی شکل میں وجود میں آئی ۔”نکڑناٹک کی سماجی معنویت” نکڑ ناٹک کا براہ راست تعلق عوام سے ہے اس لیے اس کی زبان عوامی ہوتی ہے۔نکڑناٹک کی پیش کش کا مطلب ذھنی و سماجی تبدیلی ہے۔”بچوں کا ادب :روایت اور فن” بچوں کا ادب تخلیق کرتے وقت ان کی ذھنی سطح پر آکر سوچنا پڑتا ہے تاکہ ان کے اندر لفظوں کی سمجھ کے ساتھ نئے الفاظ کا ذخیرہ جمع کر سکیں۔بچوں کے ادب میں تحیر وتجسس ہو ۔خیر شر کو اس طرح پیش کیا جائے کہ وہ آسانی سے سمجھ سکیں۔اقبال نے بچوں کی کتابیں ترتیب دیتے وقت اس بات پر زور دیا تھا کہ بچوں کی صحیح نگہداشت اور تربیت ضروری ہے۔”اردو شاعری میں بنارس اور صبح بنارس”بنارس محض سنیاسی اور سلک کی ساری ہی نہیں بلکہ یہ دلبروں کا شہر ہے۔غالب نے اسے کعبہ ہندوستان اور عبادت خانہ ناقوس کہا تو اقبال نے ‘مہر ومہ بر شعلہ فکرش سپند ‘کہہ کر اس کی عظمت کا اعتراف کیا۔ شفیع جاوید اپنے کسی افسانے میں لکھتے ہیں "بنارس تو پان کی گلوری ہے،گنگا کا گھاٹ ہے،سلک کی ساری ہے،بھجن ولاپ ہے، کنٹھے مہاراج کا ریاض ہے،بسم اللہ خاں کی شہنائی ہے اور۔۔۔۔”۔”بھارت ماتا (تاریخی اور ادبی پس منظر)”رامائن اور مہابھارت کی ٹیلی ویژن پر تشہیر کے بعد بھارت ماتا نے التباسی روپ اختیار کیا ا س سے پہلے بھارت ماتا کا تصور خیالی اور نراکارتھا ۔اس کے اکار میں رنگ تو ابھی بھرا گیا ہے جو ہاتھوں میں ترشول لئے شیر پر سوار ہے۔آنند مٹھ کا تعلق ایک خاص لسانی و جغرافیائی خطے سے ہے۔جس کی اپنی تہذیبی و ثقافتی روایات ہیں ۔لیکن رفتہ رفتہ یہ ناول پورے بھارت کا ترجمان بن گیا ہے ۔
شمیم طارق کی کتا ب تأثر و تجزیہ اسم بامسمّہ ہے۔اس میں شامل ڈھائی درجن مضامین تبصراتی و تجزیاتی ہیں ۔سوائے چند کے جن کو انگلیوں پر گنا جا سکتا ہے ۔مثلًاتنقیدی تقاضہ، داغ کے خطوط ،سر سید احمد خاںن بحیثیت مؤرخ اور مٹی سے کشید کیا ہوا عطرتحقیقی نوعیت ہے اس کے علا وہ دلہا دلہن کا عارفانہ تصور اور ہند ایرانی تہذیب میںمچھلی اپنے اندر موضوع کے حوالے سے بڑی معلومات رکھتا ہے۔جسے دلچسپی سے پڑھے جانے کی امید ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

