فیڈ این جی او کی جانب سے فاضل پور مکتب میں زیر تعلیم بچوں کے درمیان اِسلامی کوئز و تعلیمی مظاہرہ کا انعقاد
سمستی پور (نامہ نگار): موجودہ حالات میں مسلمانوں کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ اگلی نسلوں کو دین سے وابستہ رکھنے کے طریقۂ کار پر غور کریں اور ایسا راستہ اختیار کریں کہ ہمارے بچے عصری تعلیم میں بھی آگے ہوں اور ان کی دینی پہچان بھی پوری طرح قائم رہے ، اس کیلئے سب سے مفید اور آزمودہ طریقہ مکاتب کا نظام ہے۔ یہ باتیں فیڈ این جی او کے سربراہ ،کانگریس اقلیتی سیل کے کارگزار صدر سماجی کارکن غضنفر شکیل نے تاج پور بلاک کی پنچایت شاہ پور بگھو نی ،فاضل پور میں قائم مکتب میں زیر تعلیم بچوں کے درمیان فیڈ این جی او کی جانب سے منعقد اِسلامی کوئز اور تعلیمی مظاہرہ پروگرام میں شرکت کرنے والوں بچوں کے درمیان انعام تقسیم کرنے سے قبل اپنے خطاب میں کہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ ہماری نو جوان نسل الحاد وارتداد کے دہانے پر کھڑی ہے آئے دن ان کے ایمان و اخلاق اور عزت و ناموس پر حملے ہورہے ہیں سماج کی لڑکیاں غیروں کے ساتھ رشتہ استوار کررہی ہیں لڑکے انٹرنیٹ پر مخرب اخلاق چیزیں دیکھ کر ایسے کام سر انجام دے رہے ہیں جن سے مسلم معاشرہ بدنام ہورہا ہے۔ اگر ہم اس کی وجوہات تلاش کریں گے تو ضرور اس کے پیچھے ایمان کی کمی، اسلام سے کنارہ کشی، قرآن و حدیث سے بے رغبتی، علماء، مساجد، مدارس اور مکاتب سے دوری ہے۔ سماج کا اکثر طبقہ نہ اسلام کے موٹے موٹے احکام ومسائل سے واقف ہے اور نہ اس کے پاس اچھے اخلاق و کردار ہیں۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آج ہمارا معاشرہ مدارس اور مکاتب سے کٹ چکا ہے۔ مسلم سماج کے چھ یا سات فیصد بچے مدارس میں دینی تعلیم حاصل کرتے ہیںاورمابقیہ بچے اسکولوں میں زیرتعلیم ہیں۔ اس بات سے کسی کو شکایت نہیں کہ مسلم بچہ اسکول میں تعلیم حاصل کررہاہے یا مدارس دینیہ میں زیر تعلیم ہے۔ بس علماء کرام اور دانشوران ملت کو یہ فکر کھائے جارہی ہے کہ مسلم بچہ کس طرح دینی شعور حاصل کرے ۔اپنے اسکول، کالج اوراپنے دائرہ کار میں رہتے ہوئے دین پر کیسے جمے رہے۔مسٹر غضنفر شکیل نے مزید کہا کہ فیڈ این جی او لگاتار سماجی فلاح و بہبود کے شعبہ میں کام کر رہی ہے۔ تعلیم کا شعبہ کو ہم نے اولین ترجیح میں شامل کیا ہے۔ اس لئے لگاتار تعلیم کے شعبہ میں کام کر رہے ہیں۔ فیڈ کے تمام ممبران بھی اس شعبہ میں کام کرنے میں کافی دلچسپی رکھتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ہم لگاتار اس شعبہ میں آگے بڑھ رہے ہیں۔ اس موقع پر ڈاکٹر حذيف ، آل انڈیا اردو موومنٹ کے قومی کنوینر ڈاکٹر بسمل عارفی ، سرفراز فاضل پوری ، یوتھ آر جے ڈی کے ریاستی صدر نور الضحی آفو ، یوتھ جے ڈی یو کے ضلع نائب صدر عادل رحمن خان نے بھی اپنے خطاب سے سامعین کو محفوظ کیا۔ پروگرام کی صدارت ماسٹر الحاج محمد شکیل اور نظامت مولانا محمد انظر ندوی اور مولانا محمد ابصار نے مشترکہ طور پر کیا ۔ موقع پر احمد مرتاض ، نازش زماں ، دانش زماں ، ایہاب مبین، اِشام مبین ، ساجد پروانہ ، ظفر الہدی ، فیاض اکرم وغیرہ موجود تھے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

