کتاب:تنقیدی مرحلے/پروفیسر رئیس انور- مبصر:ڈاکٹر احمد علی جوہرؔ
پروفیسر رئیس انور اردو کے ایک ممتاز اور مایہ ناز استاد ہیں۔للت نارائن متھلا یونیورسٹی کے شعبۂ اردومیں ان کی چھتیس سالہ تدریسی خدمات اس کی گواہ ہیں۔اس یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کو متمول وثروت مند بنانے میں دیگر جید اساتذہ کرام کے ساتھ ساتھ ان کا بھی اہم کردار رہا ہے۔ویسے تو طالب علمی ہی کے زمانے سے ان کی تخلیقی و تنقیدی تحریریں مختلف رسائل وجرائد میں شائع ہوتی رہی ہیں۔جس نے علمی وادبی حلقوں سے دادوتحسین وصول کیا مگر استاذ کے عہدہ پر فائز ہونے کے بعد ان کی علمی وادبی سرگرمیوں اور کارناموں نے اردو قارئین کو خاصا متاثر بھی کیا اور ان کی مقبولیت میں بھی اضافہ ہوا۔پروفیسر رئیس انور اعلیٰ ذہانت وفطانت کے مالک اور سلجھی ہوئی طبیعت کے حامل انسان ہیں۔نفاست ولطافت،اعتدال وتوازن ،متانت وسنجیدگی،نرمی وشائستگی اور جاذبیت ودلکشی ان کی باوقار شخصیت کے نمایاں اوصاف ہیں۔ان کے یہاں ایک خاص رکھ رکھائو بھی پایا جاتا ہے۔یہ تمام خوبیاں ان کی تقریر وتحریر دونوں میں موجود ہیں۔اب تک پروفیسر رئیس انور کی تصنیف کردہ اور مرتبہ کئی کتابیں منظر عام پر آچکی ہیںجیسیـ "تذکرۂنسخۂدلکشا”،”ارمان۔حیاتوخدمات”،”منتخبالتذکرہ”،بازیافتپرویزشاہدی”،”تحقیقی گوشے”،”تاثروتبصرہ”،”تنقیدی گوشے”،”بہار میں ناول نگاری1980کے بعد”۔ ان کی تصنیف "تنقیقدی مرحلے”اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔یہ کتاب 2017میں شائع ہوئی ہے جو اٹھارہ تنقیدی وتاثراتی مضامین پر مشتمل ہے۔اس کتاب میں مشمولہ مضامین کی فہرست اس طرح ہے۔
"شعر منثور:رومانی تحریک کی پیداوار”،”ادب،تاریخ اور فلسفہ کے باہمی رشتے(اردو ادب کے حوالے سے)”، "اردو زبان ،ادب اور معاشرہ:فلموں میں”،”اردو زبان وادب پر پہلی جنگ آزادی کے اثرات”،”آزادیٔ ہند اور اردو کے غیر مسلم شعراء”،”اردو غزل کا بدلتا منظر نامہ(محمد قلی قطب شاہ سے غالب تک)”،”قرۃ العین حیدر کے افسانوں میں جبریہ عناصر”،”جوش ملیح آبادی کی شاعری”،”محمد علی اثر : حمدیہ مرحلے میں”،”مظہر امام: شخصی وشعری نقوش”،”اویس احمد دوراں:بہار کا نمائندہ ترقی پسند شاعر”،”شمس عظیم آبادی کی تین مثنویاں”،”نسیم محمد جان: ایک فراموش کردہ افسانہ نگار”،”عبدالعلیم آسی کی نثری تحریریں”،”بہار میں اردو غزل1980کے بعد”،”بہار میں اردو افسانہ نگاری( پچھلے پچاس برسوں میں)”،”متھلا یونیورسٹی کے مطبوعہ سندی اردو مقالے (2008تک)”،”دربھنگہ:اردو کا ایک اہم مرکز”زیرِ نظر کتاب کے مشمولات کو دیکھ کر یہ اندازہ لگانا قطعی مشکل نہیں کہ اردو ادب کی تاریخ وتہذیب اور ادبی تحریکات ورجحانات پر پروفیسر رئیس انور کی گہری نظر ہے۔دراصل پروفیسر رئیس انور ایک سنجیدہ اوروسیع المطالعہ ناقد ہیں۔اردو ادب میں جنم لینے والی ہر لہر اور ہر کروٹ سے وہ واقف ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ جتنی بے باکی سے کلاسیکی ادب پر گفتگو کرتے ہیں ،اتنی ہی بے باکی سے جدید ادب کو بھی موضوع بحث بناتے ہیں۔زیر تبصرہ کتاب "تنقیدی مرحلے”میں ان کی اس مہارت کو بخوبی دیکھا جا سکتا ہے۔اس کتاب میں جہاں انہوں نے کلاسیکی غزل،رومانی تحریک،علی گڈھ تحریک،تحریکِ آزادیٔ ہندکو پروان چڑھانے میں غیر مسلم اردو شعراء کی خدمات،اردو زبان وادب اور معاشرہ کی عکاسی میں فلموں کے کردار،قرۃ العین حیدر،جوش ملیح آبادی کے فکروفن اور ادب ،تاریخ اور فلسفہ کے باہمی رشتوں پر ایجازواختصار کے ساتھ جامع و پرلطف گفتگو کی ہے،وہیں جدید شعراء وادباء مظہر امام،محمد علی اثر،اویس احمد دوراں ،شمس عظیم آبادی،نسیم محمد جان اور عبدالعلیم آسیؔ وہ گمنام شعراء وادباء ہیں جن کی طرف ناقدین نے توجہ نہیں دی حالانکہ وہ اردو ادب میں توجہ کے مستحق تھے۔ایسے شعراء وادباء کی شخصیت اور فکروفن کا جائزہ لے کر انہیں متعارف کرانا بھی ایک اہم بڑا ادبی فریضہ ہے جسے پروفیسر رئیس انور نے بڑے سلیقہ سے انجام دیا ہے۔یہ اس کتاب کی انفرادیت بھی ہے۔”بہار میں اردو غزل 80کے بعد "اور ــ”بہارمیںاردوافسانہنگاریپچھلےپچاسبرسوںمیں "بھیوقیعمضامینہیں۔
اول الذکر مضمون میں عالم خورشید،خورشید اکبر،جمال اویسی،نعمان شوق،خالد عبادی،عطا عابدی،راشد طراز،شمیم قاسمی،عین تابش،شاداب رضی،طارق متین،شاہد رضوی،سرور ساجد،انور ایرج،امام اعظم اور رفیق انجم کے حوالے سے بہار میں 80کے بعد اردو غزل کا فکری وفنی،معنیاتی اور اسلوبیاتی جائزہ لے کر پروفیسر رئیس انور نے بہار میں اردو غزل کے منظر نامہ کو بڑے دلچسپ انداز میں دکھایا ہے۔ثانی الذکرمضمون میں پروفیسر رئیس انور نے اختر اورینوی،محسن عظیم آبادی،سہیل عظیم آبادی،شین مظفر پوری،شکیلہ اختر،کلام حیدری،ذکی انور،انور عظیم، غیاث احمد گدی، احمد یوسف،شفیع جاوید،عظیم اقبال،نسیم محمد جان،الیاس احمد گدی،شین اختر،نشاط الایمان،منظر کاظمی،ظفر اوگانوی،اشرف قادری،ناز قادری،انیس رفیع،عبدالصمد،حسین الحق،شوکت حیات،شفیع مشہدی،م ق خان،عبید قمر،شفق،مشرف عالم ذوقی،ذکیہ مشہدی،قمر جہاں،مشتاق احمد نوری،احمد صغیر،شموئل احمد،فخرالدین عارفی،اقبال حسن آزاد،شبیر حسن،مجیر احمد آزاد،کہکشاں پروین،شاہد اختراور ابواللیث جاوید کے حوالے سے 1950-60سے لے کر اب تک بہار میں اردو افسانہ نگاری کی صورت حال پر روشنی ڈالی ہے۔انہوں نے مذکورہ افسانہ نگاروں کے فکروفن ،موضوعات ومسائل،تکنیک واسلوب اور زبان وبیان کا جائزہ لے کر بڑے سہل اور علمی انداز میں ان کی خدمات کو بھی متعارف کرایا ہے اور بہار میں اردو افسانہ نگاری کے روشن امکانات سے بھی آگاہ کیا ہے۔اس کتاب کے آخری دو مضامین متھلا یونیورسٹی اور شہر دربھنگہ اور اردو سے متعلق ہیں۔متھلا یونیورسٹی میں اردو سندی مقالے لکھنے کی ابتداء1981میں ہوئی۔1981سے2008تک متھلا یونیورسٹی کئی مقالے لکھے گئے لیکن ان میں کل دس مقالے شائع ہوئے۔ متھلا یونیورسٹی سے متعلق مضمون میں ان شائع شدہ سندی مقالوں کا جائزہ لے کر پروفیسر رئیس انور نے متھلا یونیورسٹی کی تحقیقی سرگرمیوں کو دکھایا ہے اور وہاں ہونے والے تحقیقی کاموں سے یک گونہ اطمینان کا اظہار کیا ہے۔دربھنگہ سے متعلق مضمون میں پروفیسررئیس انور نے دربھنگہ کو اردو کے ایک اہم مرکز کے طور پر متعارف کرایا ہے۔دربھنگہ شہر میں بہت پہلے سے اردو کے لئے فضا سازگار رہی ہے۔یہاں اردو زبان وادب کو فروغ دینے اور اس کی بزم کو سجانے سنوارنے میں مکاتب ومدارس اورعلمی وادبی انجمنوں کے ساتھ ساتھ متھلا یونیورسٹی کے شعبۂ اردو کا بھی اہم کردار رہا ہے۔دربھنگہ شہر میں اردو زبان وادب کو فروغ دینے اور اس کی زلف کو سنوارنے کے لئے انفرادی واجتماعی طور پر بھی قابلِ قدر کاوشیں انجام دی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ یہاں آج بھی اردو زبان وادب کا مستقبل مستحکم وتابناک نظر آتا ہے۔اس مضمون کے ساتھ ہی کتاب "تنقیدی مرحلے”اختتام کو پہنچتی ہے۔
اس کتاب میں شامل تمام مضامین اردو زبان وادب سے متعلق ہیں۔ان مضامین کی اہم خوبی یہ ہے کہ ان میں ایجاز واختصار کے ساتھ علمی وادبی انداز میں بڑے سلیقہ سے باتیں پیش کی گئی ہیں۔ بھاری بھرکم تنقیدی اصطلاحات کے استعمال اور ژولیدہ بیانی سے بچنے کی کوشش کی گئی ہے۔زیرِ بحث متن کے مخفی گوشوں کو اس طرح اجاگر کیا گیا ہے کہ ان تک بڑی آسانی سے قاری کی رسائی ہو جاتی ہے۔بات کہنے کا انداز بھی شگفتہ اور دلکش ہے۔ مصنف کی ان تحریروں میں مطالعہ کی وسعت،تفہیمی صلاحیت،ژرف نگاہی،علمی استدلال ومعروضیت اور ادبی بصیرت ،یہ تمام خوبیاں موجود ہیں۔اس کتاب کے بیشتر مضامین تاثراتی نوعیت کے ضرور ہیں مگر ان میں بھی مصنف کا پختہ تحقیقی وتنقیدی شعور نمایاں ہے۔کتاب کا سرورق د ل کش،دیدہ زیب،طباعت عمدہ اور قیمت بھی مناسب ہے ۔مجھے پوری امید ہے کہ پروفیسر رئیس انور کی اس اہم کتاب کو علمی وادبی حلقوں میں تحسین کی نظر وں سے دیکھا جائے گا اور بھرپور پذیرائی ملے گی۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

