Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
فکر و عمل

اردوادب کے نابغہ پروفیسرحسین الحق – شگفتہ دلدار

by adbimiras جنوری 2, 2022
by adbimiras جنوری 2, 2022 0 comment

غالب ایوارڈ یافتہ فکشن نگارپروفیسر حۡسین الحق صاحب افسانہ نگاری کے تیسرے دور سے لکھ رہے ہیں۔ یہ وہ دور تھا جب افسانہ نگاری میں نئے نئے تجربے ہو رہے تھے علامت نگاری کا بول بالا تھا ، شعور کی روکی تکنیک کے ساتھ کہانیاں لکھنا ایک فیشن بن چکاتھا یہی وجہ ہے کہ انھوں نے بھی اس رجحان اور اس رویے کو اپنایا ، لیکن اس ڈھنگ سے اپنایا کہ دیکھتے ہی دیکھتے جدید افسانوں کی دنیا میں ان کا نام اہمیت کا حامل بن گیا۔ انہیں اردو افسانوں میں اظہار کی تیز ترین دھار،نئے نئے الفاظ کے انتخاب اور جملوں کی تخلیقی سطح کی وجہ سے اپنے ہم عصروں میں سبقت حاصل ہے اورمعاصر فکشن نگاروں میں جن لوگوں نے نوجوان قلمکاروں کو اپنی طرف متوجہ کیا ان میں حۡسین الحق صاحب کا نام ناگزیر ہے۔حۡسین الحق صاحب کا تعلق شیر شاہ کے شہر سہسرام کے عظیم صوفی خاندانِ مشائخ سے ہے۔ ان کے والد حضرت مولاناانوارالحق شہودی نازش سہسرامی تھے جو خودایک مشہور عالم دین، خطیب،شاعر اور ادیب تھے۔ ان کی والدہ محترمہ شوکت آرا کا بھی تعلق سہسرام سے ہی تھا۔ حۡسین الحق صاحب ۲ نومبر۱۹۴۹کو سہسرام میں پیدا ہوئے ابتدائی تعلیم خانوادے کی روایات کے مطابق ان کے والد کے زیر سایہ دینی تعلیم سے ہوئی، اس کے بعد انھوں نے مدرسہ کبیریہ سے مولوی کا امتحان پاس کیا بعدازاں آرا ضلع اسکول آرا سے۱۹۶۳ء میں

میٹرک کا امتحان پاس کیا۔۱۹۶۸میں ایس۔پی۔جین کالج سے گریجویشن مکمل کیا اور یونیورسٹی میں اوّل ہوئے۔ بعدازاں پٹنہ یونیورسٹی سے۱۹۷۰میں اردو میں ایم اے کیا اور اس میں بھی ٹاپ ہوئے۔۱۹۷۲میں مگدھ یونیورسٹی بودھ ،گیا سے فارسی میں بھی ایم اے کی سند حاصل کی بعدازاں گر و گو و ندسنگھ کالج ، پٹنہ میں عارضی طور پر بحیثیت لیکچرار ملازمت بھی کی ،بعدازاں یو جی سی سے جونیرفیلوشپ ملی اور غالباً۱۹۷۴ء تک ریسرچ فیلو کی حیثیت سے پٹنہ یونیورسٹی میں تحقیقی و تدریسی کاموں میں مصروف رہے، ان کے اس زمانے کے شاگرد وں میں پروفیسر شاداب رضی ، ڈاکٹر انیس صدری ، ڈاکٹر نعیم فاروقی اور آج کے کانگریسی لیڈر شکیل الزماں کا نام قابلِ ذکر ہے۔۱۹۷۷ء میں ان کی شادی سیّد محمد اسرارالحق کی صاحبزادی نشاط آرا خاتون سے ہوئی۔ا للہ نے انہیں دو بیٹی اور دو بیٹوں سے نوازا۔ اسی درمیان ایس پی کالج، دمکا میں ان کی پوسٹنگ ہوئی اور۱۹۸۱ء میں شعبہ اردو پوسٹ گریجویٹ مگدھ یونیورسٹی بودھ گیا (بہار) میں ان کا تبادلہ ہو گیا۔ مگد ھ یونیورسٹی بودھ گیا سے ہی صدرشعبہ کی حیثیت سے۲۰۱۳ میں وظیفہ یاب ہوئے۔

والدصاحب کی رہنمائی میں لکھنے کا کام تو دس برس کی عمر سے ہی شروع ہو گیا تھا۔ حۡسین الحق صاحب کی پہلی کہانی عزت کا انتقال غالباً۱۹۶۴یا۱۹۶۵میں ماہنامہ کلیاں لکھنو میں صوفی بلیاوی کے نام سے شائع ہوئی۔ اسی سال ماہنامہ جمیلہ دہلی میں ان کا پہلا افسانہ پسند شائع ہوا۔۱۹۶۶ء میں انہوں نے بچّوں کا ایک رسالہ انوارصبح سہسرام سے نکالا۔۱۹۶۹میں ان کاپہلامضمون بعنوان اردوشاعری پر گاندھی جی کے اثرات بہار کی خبریں پٹنہ میں شائع ہوا۔

اردو فکشن کے آبرو جناب حۡسین الحق صاحب کو صرف کہانی کار کہنا شاید ان کے ساتھ زیادتی ہوگی ،در حقیقت وہ ایک معلم، مفکر، فلسفی ، تاریخ داں ،مۡتصوّف ، ماہرنفسیات ، مصلح اور عالمی ادبیات کے عارف بھی ہیں۔ ان کی شخصیت کے یہ پہلو ان کے ناولوں اور افسانوں میں بخوبی نظر آتے ہیں ، یہی خصوصیات انھیں ہم عصر فکشن نگاروں سے الگ کرتی ہیں اور ان کی کہانیاں صرف کہانیاں نہیں رہتیں وہ ہمارے ادب عالیہ کا اہم فن پارہ بن جاتیں ہیں۔ نامور افسانہ نگار ،ناقد ،اور محقق کلام حیدری صاحب فرماتے ہیں کہ؛

’’۔حۡسین الحق صاحب کے پاس روایات کا خزانہ ہے اور وہ انہیں عہدجدید کے Relevant بنا کر پیش کرتے ہیں۔ مذہب ان کی تربیت کا پسِ منظر ہے۔وہ یہ بھی فرماتے ہیں کہ حۡسین الحق کے یہاں حق و باطل کی کشمکش ایک خاص موضوع ہے ،لیکن یہ کشمکش تو ازلی ہے لیکن حۡسین الحق اسے حالاتِ حاضرہ پر منۡطبق کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ، چنانچہ کوئی بھی تاریخی واقعہ نئے منظرنامے کا جزو بن جاتا ہے اس لیے کہ یہ کشمکش لافانی ہے۔‘‘

حۡسین الحق صاحب کا ایک افسانہ ’’وَقِنَا عَذَابَ النّارِ ‘‘ جو میں نے بہت پہلے پڑھاتھا اۡس کی کہانی کچھ اس طرح ہے کہ تیس برسوں سے ایک لاش کمرے میں گل سڑ رہی تھی۔ اب لوگوں کو اس کا احساس ہوا ہے۔ لوگ اس سے نجات حاصل کرنے کی فکر میں ہیں کہ لاش غائب ہو جاتی ہے اور دو حصّوں میں تقسیم ہوکر وقت بے وقت گھروں پر دستک دیتی ہے اور انھیں اپنا شکار بناتی ہے۔ ہو سکتا ہے حۡسین الحق صاحب ہندو مسلم نفاق کا استعارہ لاش کو بنائے ہوئے ہوں کہ دونوں ایک دوسرے کی زندگی کے درپے ہیں۔ یہ لاش ہندو مسلم فساد کی ہے۔ یہ لاش انسانیت کی ہے جو برسوں سے لوگوں کی بے حسی سے تنگ آکر اب خود انھیں جگانے چلی آتی ہے۔ طارق سعیدصاحب ان کے بارے میں اظہارِ خیالات کرتے ہیں کہ :

’’ حۡسین الحق صاحب کا فن علامت ، استعارہ اور تمثیل کے بوتے پر مہملیت سے کنارہ کشی اور ماورائی کائنات اور اقدار کی کہانی عبارت ہے خارجی حالات کی نامساعد کیفیات کا لامتناہی سلسلہ ایک طرف اور ہزاروں خواہشات کی تکمیلیت دوسری طرف ایسی صورت میں انسانی زندگی میں تضاد کا پیدا ہو جانا کوئی تعجّۡب کی بات نہیں۔‘‘

گزشتہ دو عشروں میں حۡسین الحق صاحب فکر و فن اور علم و بصیرت کے اس بلند مقام پر پہنچ چکے ہیں جہاں ان کے ہم عصروں میں شاید ہی کوئی ہو۔ حۡسین الحق صاحب کو شاعری سے بھی خوب لگائو رہا۔ انھوں نے لاتعداد غزلیں اور نظمیں لکھی ان کی نظموں کا مجموعہ ’’آخری گیت۱۹۷۱ء میں شائع ہواڈیڑھ سو سے زیادہ افسانوں اور تین عہدساز ناولوں کے خالق حۡسین الحق کے افسانوی مجموعوں میں (۱)پش پردہ شب۱۹۸۱ء(۲)صورتِ حال ۱۹۸۲ء(۳)بارش میں گھرا مکان ۱۹۸۶ (۴) گھنے جنگلوں میں ۱۹۸۹ء(۵)مطلع ۱۹۹۵ء(۶) سوئی کی نوک پر رۡکا لمحہ۱۹۹۷ء(۷)نیو کی اینٹ۲۰۰۹ء قابلِ ذکرہیں۔ غور سے دیکھیں تو ایک سو سے زیادہ حۡسین الحق صاحب کے افسانے اردو فکشن کی آبرو قرار دیئے جاسکتے ہیں۔ لیکن افسانہ نیو کی اینٹ ، چپ رہنے والا کون ، ندی کنارے دھواں ، استعارہ ، ایندھن ، مورپاؤں ، جلیبی کا رس، کربلا، زخمی پرندے ، گونگا بوبولنا چاہتا ہے ، سبحان اللہ، وَقِنَا عَذَابَ النّارِ ، انحد، کہاسے میں خواب ، مردہ راڈار، لڑکی کو رونامنع ہے اور جلتے صحرا میں ننگے پیروں رقص وغیرہ ایسی تخلیقات ہیں ،جنھیں افسانوی ادب میں دوام کا درجہ دیا جاتا ہے۔ ان کی کہانیوں کے متعلق یہ بات بڑی حد تک درست ہے کہ تاریخ ،کلچر ،مذہب اور اساطیر سے کم آگاہ قاری ان سے پوری طرح محظوظ نہیں ہوسکے گا۔ دراصل ان کا تخصص یہ ہے کہ انھوں نے ماضی کے واقعات اور اساطیر کے حوالے سے اپنے عہد کی سنگین حقیقتوں کو سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ افسانہ نیو کی اینٹ میں بھی انہوں نے مسلمانوں کے حالات پر روشنی ڈالی ہے خصوصاً اس نقطہ نظر سے کہ کس طرح انھیں Fundamentalism کی آڑ میں بدنام کرنے کی کوشش ہورہی ہے۔ یہ سازش مسلمانوں کی اہمیت پر ضرب لگانے کی ایک نامشکور کوشش ہے۔ حۡسین الحق صاحب نے اس موضوع کو کسی عامیانہ انداز میں پیش نہیں کیا بلکہ فنی صورت اس طرح دی کہ اثرات دورس ہو جاتے ہیں۔ دراصل بابری مسجد کی شہادت پرلاتعداد کہانیاں لکھیںگئی ہیں۔حۡسین الحق صاحب کا لازوال افسانہ ’’نیو کی اینٹ‘‘ بھی اسی المیہ پر مبنی ہے لیکن نیو کی اینٹ کو اس لیے بابری مسجد المیہ کے ضمن میں شاہکار کا درجہ حاصل ہے کہ یہ واحد تخلیق ہے جو حیرت ناک طور پر اکثریتی اور اقلیتی طبقہ کے سماجی اور تہذیبی رشتوں کے روایتی استحکام کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ بہار کے گیا شہر کے شیو پوجن اور سلامت اللہ کی دوستی کی کہانی ہے۔

حۡسین الحق صاحب نے ہندوستانی مسلمانوں کی قدیم روایات ، سماجی اقدار و زوال اور تباہی کی کبھی نہ بھولنے والی کہانیاں تخلیق کی ہیں۔ آج کے ہندو مسلم افتراق کی جو غیر فطری صورت حال پیدا ہوتی ہے وہ کسی بھی افسانہ نگار کو مسلسل پریشان کرنے کے لئے کافی ہے۔ وہ تخلیقی سطح پر بیدار ہوکر اسے برتنے کی سعی میں مصروف نظرآتا ہے۔ اسی سلسلے کی کہانی ’مورپاؤں ‘ بھی ہے جس میں غیر فطری طور پر جس طرح ہندوستان اور مسلمانوں کے درمیان دیوار کھینچنے کی کوشش کی جارہی ہے اور کلچرل طریقے پر ان کی تقسیم کا بگۡل بجایا جارہا ہے وہ حۡسین الحق کے کرب کی ایک صورت ہے۔ جسے وہ تخلیقی طور پر برت کر ایک طرح کی کتھارسس کرتے نظر آتے ہیں۔ افسانہ’گونگا بولنا چاہتا ہے ‘ میںبھی انہوں نے گلوبل ایشوز کے موضوع پر سوالات کھڑے کئے۔ اسی طرح دوسرے افسانوں میں بھی بعض ایسے حالات کو کہانی کی شکل دی گئی ہے، جس میں عالمی مسائل در آئے ہیں، فی زمانہ عالموں کا ایک جم غفیرہے، جس میں چند عالم با عمل ہیں اور زیادہ تعداد بے عمل عالموں کی ہے۔ یہ حالات کا جبر ہے ، عالم ِباطل مسلسل فروغ پارہے ہیں۔ ایسی تصویر دیکھنی ہو تو افسانہ ’’ زخمی پرندہ‘‘ پر ایک نگاہ ڈالنی چاہیئے۔حۡسین الحق صاحب کا افسانہ ’’جلیبی کا رس‘‘ سیاست کے میدان میں کامیابی اور عہدوں کی آرزو میں ضمیر کا سودا کرنے والے کرداروں کی کہانی ہے۔ انھوں نے ہندوستانی معاشرے کے جس پہلو پر بھی افسانہ لکھا ہے وہ ناقابل فراموش ہے۔ بہر حال یہ کچھ کم نہیں کہ شترمرغ کی طرح حالات کی دھوپ سے بچنے کے لئے غفلت کی ریت میں سر چھپانے والی جماعت میں سے ایک شخص نے سچائی بیان کرنے کی جرات و شجاعت کی ہے۔ مذہب فلسفہ ، تاریخ، تصوف ، سیاست اور پھر عہدحاضر کے رجحانات ان سب سے آگہی کا ثبوت فراہم کرتے ہوئے حۡسین الحق صاحب نے جو دعوتِ فکر دی ہے وہ فوری طور پر قابلِ قبول نہ ہو مگر قابلِ غور ضرور ہے۔

حۡسین الحق صاحب کے نوۡک قلم سے اب تک تین شاہکار ناولوں کی بھی تخلیق ہو چکی ہے۔(۱) بولو مت چپ رہو۱۹۹۰ء(۲) فرات۱۹۹۲ء(۳) اماوس میں خواب۲۰۱۷ء قابلِ ذکر ہیں۔

ان کا پہلا ناول بولو مت چپ رہو(۱۹۹۰ء)آج کی دنیا میں تعلیم کی اہمیت اور ضرورت کے مسائل پر یہ اردو ادب کو حۡسین الحق صاحب کی فکر انگیز دین ہے۔ ’’بولو مت چپ ر ہو ‘‘ ناول کا بہترین تعارف یہ ہے کہ بولومت چپ رہو !! ناول میں جس فنکارانہ خلوص اور مفکرانہ اسلوب میں ہندوستان کے تعلیمی نظام کا مۡحاکمٰہ کیا ہے وہ بڑا ہی دلچسپ ہے۔ یہ اس موضوع پر اب تک کا سب سے اچھا ناول ہے ، لیکن ان کا شہرہ آفاق ناول ’’فۡرات‘‘ اردو کی عصری ناول نگاری میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ناول ’فرات‘ کو ملک گیرسطح پر مقبولیت حاصل ہے۔حۡسین الحق صاحب نے تاریخی ، تہذیبی ، ثقافتی اور معاشرتی شعور سے اپنا تخلیقی نظام قائم کیا ہے۔ انھوں نے فکشن کے رائج سانچوں کو توڑ کر اظہار کے نئے رویوں کو فروغ دیا ہے۔ ناول فۡرات اس کی واضح مثال ہے جو تشنہ لب انسانیت کا اعلامیہ ہے۔ حۡسین الحق صاحب نے اپنے ناول کے کردار وقار احمد کے توسط سے پانچ نسلوں پر مشتمل ایک کہانی قاری کے سامنے پیش کردی اور سوچنے سمجھنے اور عمل کرنے کے نئے در کھول دیے ۔ اس عبرت ناک کہانی کا مرکزی کردار وقار احمد ہے جن کی پشت پر اباجان اور دادا حضرت کی یادیں، سامنے بیٹے ،بیٹی ،پوتے ،پوتی اور درمیان میں خود وقار احمد اور اۡن کی پچھتّر سالہ زندگی کے نشیب و فراز ہیں۔ ’’ فۡرات‘‘کی کہانی بظاہر ایک خاندان کی کہانی کی طرح ابھرتی ہے لیکن آہستہ آہستہ اس کا کینو س وسیع ہوتا جاتا ہے اور پھر اس میں ماضی کا جبر ، جنریشن گیپ ، مذہبی رویّے ،سیاستِ تہذیب، ثقافت غرض زندگی کے مختلف پہلووں کے در کھلتے چلے جاتے ہیں اور وہ بھی اس تخلیقی خوبی اور فنی چابک دستی کے ساتھ کہ قاری کی دلچسپی ناول کے آخری صفحات تک مسلسل برقرار رہتی ہے۔ ناول اس کرب کا بھی شدت سے احاطہ کرتا ہے جس میں ہندوستانی مسلمان تقسیمِ وطن کے بعد سے آج تک عدم تحفظ کے حالات سے دوچار ہیں۔ فرقہ وارانہ فسادات کس طرح صرف مسلمانوں کو جانی اور مالی نقصان پہنچاتے ہیں اور پولیس اس میں برابر کی شریک رہتی ہے۔یہ ناول اس بات کی نشاندہی کرتا ہے اور لاشعوری طور پر یہ بھی احساس دلاتاہے کہ مسلمانوں کے پاس یاتوعظمت رفتہ کی داستانیں ہیں یا حال کی بدحالیاں اور وہ ان ہی کے وسیلوں سے جی رہیں ہیں۔

حۡسین الحق صاحب کا تیسرا ناول ’’اماوس میں خواب‘‘ جو کہ اکتوبر۲۰۱۷ء میں منظر عام پر آیا۔ انہوں نے ایک شعر کے ذریعہ ہم قارئین سے ناول کی پہچان کرائی ہے۔

نہ ہارا ہے عشق اور نہ دنیا تھکی ہے

دیا جل رہا ہے، ہواچل رہی ہے

ناول تقسیم کی کوکھ سے جنم لینے والے ایسے انسان کی کہانی ہے، جو تہذیب کی شکست و ریخت سے نہیں بلکہ تہذیب کے ہر پل بدلتے منظر نامے سے پریشان ہے۔ اس ناول کا مرکزی کردار اسمٰعیل مرچنٹ نام کا ایک شخص ہے جو بھیونڈی ،مہاراشٹر کے دوسرے علاقوں میں ہونے والے فسادات سے پریشان در بدر بھٹکتا ہوا اپنی آبائی ریاست بہار کا رخ کرتا ہے ، لیکن رفتہ رفتہ یہاں کے حالات بھی خراب ہوتے جاتے ہیں اور ایک دن وہ کسی بم دھماکے کا شکار ہو جاتا ہے۔ اسمٰعیل کی ناگہانی موت کے بعد اسمٰعیل کی اولادوں کو جن حالات سے گزرنا پڑا ان کا بیان یا تو ناول نگار کے اس احساس کی پیداوار کہا جا سکتا ہے کہ نئی نسل بھی کم و بیش پرانے مسائل سے ہی دوچار ہوتی ہے میں نے محسوس کیا ہے کہ عہدحاضر کے چھوٹے چھوٹے واقعات و حادثات پر بھی ناول نگار کی نگاہ ہے۔ناول اماوس میں خواب میں مابعدجدیدتکنیک کازبردست استعمال کیاگیاہے۔اماوس میں خواب بنیادی طورپرمابعدجدیدعہدکانمائندہ ناول ہے۔اس میں بین المتونیت، استعاراتی زبان،شعورکی رواورواقعات کودرج کرنے میں خالص ہندوستانی ذہن کارفرماہے۔حسین الحق کوان کے اسی بہترین ناول پرساہتیہ اکادمی کاایوارڈ دینے کااعلان کیاگیاہے ۔

آج تقریباً دو سو افسانے ، ڈیڑھ سو مضامین ، سات افسانوی مجموعے ،تین عہدساز ناول ، چار نثری کتابیں شائع ہو چکی ہیں، جس میں’ مطلع ‘ کو بہار اردو اکیڈمی نے پہلے انعام اور ناول ’’فۡرات‘‘ کو دوسرے انعام سے نوازا، اور افسانوی مجموعوں ’ پس پردہ شب‘ اور ’صورتِ حال ‘ کو بھی دوسرے انعام کا مستحق سمجھا۔۲۰۱۷میں مغربی بنگال اردو اکاڈمی کی طرف سے ان کو مغربی بنگال اردو اکا دمی ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ حۡسین الحق صاحب کو۲۰۱۸کا غالب ایوارڈبرائے اردو نثر،غالب انسٹی ٹیوٹ کی طرف سے بھی سرفرازکیا گیا ، یہ ایوارڈ۲۱ دسمبر۲۰۱۸ کو بین الاقوامی غالب تقریبات کے افتتاحی جلسے میں عطا کیا گیا۔ انھوں نے تصوّف و روحانیت کے موضوع پر بھی مسلسل مقالات تحریر کئے۔ آپ نے (۱)آثار حضرت وحید تصنیف حضرت سرور اورنگ آبادی (۲) غیاث الطالبین تصنیف حضرت مولانا غیاث الدین اصدقی (۳) فوز و فلاح کی گمشدہ کڑی تصنیف مولانا انوار الحق شہودی (۴) شرفِ آدم کا نقطہ عروج تصنیف مولانا انوار الحق شہودی کی ازسر نو تالیف و تدوین کی۔ برگزیدہ دینی و روحانی شخصیت حضرت وصی کی سوانح اور عظیم مجاہد بزرگ حضرت قاضی علی حق کا تذکرہ ’’آثار بغاوت ‘‘ ان کی مشہورتالیفات ہیں۔ انھوں نے اپنے والد حضرت مولانا انوار الحق شہودی سہسرامی کی دو شعری مجموعے مرتب کرکے شائع کیا۔ انھوں نے قاضی علی حق اکیڈمی کے نام سے باقاعدہ اشاعتی ادارہ ’’ آمڈاری ہاوس‘‘ سہسرام میں قائم کیا ، جہاں سے اپنی اور اپنے والد محترم کی نگارشات کے علاوہ شعراء و ادباء کی معیاری کتابیں بھی شائع کیں۔ان سب کے علاوہ اتحاد ، اساتذہ کی اہمیت ، نثر کی اہمیت ، اور اردو فکشن ہندوستان میں ان کی گراں قدر تنقیدی و تحقیقی تصانیف ہیں۔

درس و تدریس کی اہم ذمہ داریوں کے ساتھ تصنیف و تالیف میں وہ آج تک پورے ذہنی شعوری اور تخلیقی توانائی کے ساتھ مشغول ہیں۔ فی الوقت حۡسین الحق صاحب سر سیّد کالونی ، نیو کریم گنج ، گیا، بہار میں مستقل قیام پذیر ہیں۔ بحیثیت اردو ادب کی ایک ادنیٰ طالبہ کے میں یہ کہہ سکتی ہوں کہ حسین الحق صاحب کے فن اور شخصیت پر یہ باقاعدہ مضمون نہیں یہ محض چند تعارفی جھلکیاں ہیں۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
بری صحبت کا برا انجام – تسنیم فاطمہ
اگلی پوسٹ
” ڈاکٹر ممتاز احمد خاں ادب و تنقید کے حوالے سے ہمیشہ زندہ رہیں گے” : امتیاز احمد کریمی

یہ بھی پڑھیں

حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –...

جنوری 20, 2025

کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

اکتوبر 8, 2024

حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی...

اکتوبر 7, 2024

نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام...

جولائی 23, 2024

مفتی عزیز الرحمن شاہدؔ چمپارنیؒ (یادوں کے چراغ)...

مئی 30, 2024

توقیتِ  علامہ محمد اقبال – پروفیسر محسن خالد...

مئی 29, 2024

تو نے اے خیر البشرؐ انساں کو انساں...

ستمبر 26, 2023

اور سایہ دار درخت کٹ گیا – منہاج الدین...

فروری 22, 2022

ابّو جان (شیخ الحدیث مولانا محمد الیاس بارہ...

فروری 22, 2022

 مولانا عتیق الرحمن سنبھلی – مفتی محمد ثناء الہدیٰ...

فروری 15, 2022

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں