قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام ‘اردو مرثیے کی ادبی و ثقافتی روایت’ کے زیر عنوان آن لائن مذاکرہ
نئی دہلی: قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے زیر اہتمام ‘اردو مرثیے کی ادبی و ثقافتی روایت’ کے عنوان سے آن لائن مذاکرہ منعقد کیا گیا جس میں متعدد مشاہیر دانشوران نے شرکت کی اور مرثیے کی ادبی و ثقافتی روایت پر اظہار خیال کیا۔ قومی اردو کونسل کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے تعارفی کلمات پیش کرنے کے بعد کہا کہ اردوکی شعری اصناف میں ‘مرثیہ’ کو مرکزی اہمیت حاصل ہے۔ اس کی خاص بات یہ ہے کہ یہ آج بھی زندہ ہے ، جب کہ کئی اہم اصناف مردہ ہوچکی ہیں یا آخری سانسیں لے رہی ہیں ،مگر مرثیہ کے کل بھی چرچے تھے اور آج بھی وہ زندہ وتابندہ ہے ۔
شیخ عقیل نے مرثیے کی اصل اور روایت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اگر چہ مرثیہ اپنے عمومی معنی میں ہر اس شخصیت پر کہا جاسکتا ہے جو اس دنیا کو الوداع کہہ گئی ہو، تاہم جو مرثیے دوسری شخصیات پر کہے گئے، انھیں ‘شخصی مرثیہ’ کا نام دیا گیا ہے اور اصطلاحی معنوں میں مرثیہ کا اطلاق ان افراد کے لیے کہی جانے والی نظموں پر ہوتا ہے جو امام حسینؓ ، اہل بیت یا ان حضرات کے لیے کہے گئے ہوں جومیدان کربلا میں شہید ہوئے۔مرثیہ کے اجزائے ترکیبی بھی اسی طرف اشارہ کرتے ہیں۔انھوں نے کہا کہ مرثیہ کا ایک اہم پہلو یہ بھی ہے کہ یہ اردو کی ادبی و ثقافتی روایت کا مضبوط حصہ ہے اور اس کے ذریعے اردوزبان و ادب کو غیر معمولی تقویت حاصل ہوئی ہے ۔آج بھی مرثیہ اردوشاعری کو مضبوطی بخش رہا ہے اور اس کے ذریعے اردو پوری دنیا میں پھیل رہی ہے ، اسی وجہ سے قومی اردو کونسل کے زیر اہتمام آج کا یہ آن لائن مذاکرہ منعقد کیا گیا ہے،جس میں مرثیہ سے فنی،عملی،تنقیدی و تحقیقی تعلق رکھنے والے ماہرین شریک ہیں۔ہم ان سب کا تہہِ دل سے استقبال کرتے ہیں۔
پروفیسرشارب ردولوی نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرثیے کے مختلف پہلووں پر بہت ساری کتابیں لکھی گئی ہیں،مگر اس کی ادبی و ثقافتی روایت پر اب تک سیر حاصل گفتگو نہیں ہوئی ہے۔ قومی اردو کونسل اور شیخ عقیل احمد لائق مبارکباد ہیں کہ انھوں نےاس پہلو پر مذاکرے کا اہتمام کیا ہے۔ انھوں نے کہا کہ اپنے تشکیلی دور سے ہی مرثیہ اردو کی ادبی و تہذیبی روایت سے وابستہ رہا ہے ۔ انھوں نے کہا کہ اردو مرثیے میں ادبی روایت فارسی مرثیوں سے آئی اور ایک طویل سفر کرتے ہوئے مرثیہ موجودہ شکل تک پہنچا ہے۔ اردو میں خصوصا سودا نے مرثیے میں اتنے تجربات کیے جتنے ان کے پہلے اور بعد کے شعرا نے نہیں کیے، پھر میر انیس تک پہنچتے پہنچتے مرثیہ اتنا ثروت مند ہوگیا کہ آج اس صنف کے مقابلے میں کوئی شعری صنف نظر نہیں آتی۔
ممتاز دانشور ڈاکٹر سیدہ سیدین حمید نے کہا کہ مجھے مرثیے کے فن اور تاریخ کے بارے میں زیادہ معلومات نہیں،مگر ہماری خاندانی روایت میں مرثیہ خوانی شامل ہے اور سیدین منزل میں ہم پابندی سے ہر سال مرثیہ خوانی کی مجلس منعقد کرتے ہیں۔انھوں نے میر انیس کے مرثیوں سے ابھرنے والی خواتین کی تصویر پر خصوصی گفتگو کی اور مسلم معاشرے میں خواتین کے کردار پر روشنی ڈالی۔
معروف صحافی جناب سعید نقوی نے بھی میر انیس کے مرثیوں کی روشنی میں خواتین کے احترام و تکریم کی منظرکشی کی۔ انھوں نے مرثیہ خوانی سے متعلق اپنی خوب صورت یادیں بھی شیئر کیں۔ مرثیے کی ثقافتی روایت پر گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے متعدد مثالوں کے ذریعے اردو مرثیے کی ادبی و ثقافتی خصوصیات کو واضح کیا۔
پروفیسر سیدہ بلقیس فاطمہ حسینی نے کہا کہ اردو ادب میں مرثیے کا غیر معمولی مقام و مرتبہ ہے جس نے اردو ادب کو سجایا، سنوارا اور نوازا ہے۔ انھوں نے کہا کہ مرثیہ ایک آفاقی صنف ہے کیوں کہ اس کا تعلق حضرت حسینؓ جیسی شحصیت سے ہے۔ الفاظ کی نشست و برخاست ،تشبیہات و استعارات، منظرکشی،سراپا کشی وغیرہ جیسی خصوصیات کے اعتبار سے مرثیے کا کوئی جواب نہیں ہے اوراسی وجہ سے فارسی ادب میں مرثیے کا وہ معیار نہیں ہے جو اردو ادب میں ہے۔
ڈاکٹر تقی عابدی نے کہا کہ اس وقت اردو شاعری کا اٹھارہ سے بیس فیصد حصہ مرثیے پر مشتمل ہے اور یہ قدیم ترین صنف سخن ہے جس کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ موجودہ زمانے میں مرثیے کے افکار و معانی کی پہلے سے زیادہ ضرورت ہے،کیوں کہ مرثیوں میں انسانی تربیت کا عنصر بھی بہت زیادہ ہوتا ہے اور یہ انسان سازی کا شاہکار ہوتے ہیں۔ مرثیہ صرف رونے رلانے والی صنف نہیں ہے،اس میں غزل،قصیدہ،رباعی وغیرہ اصناف کے عناصر بھی بخوبی ملتے ہیں۔ اسی وجہ سے اسے لکھنے والے ایک قوم سے تعلق نہیں رکھتے،مختلف قوموں سے تعلق رکھنے والے لوگوں نے بہترین مرثیے لکھے ہیں۔
اس مذاکرے کی نظامت کے فرائض محترمہ عذرا نقوی نے بحسن و خوبی انجام دیے اور ڈائرکٹر شیخ عقیل احمد کے اظہارِ تشکر کے ساتھ اس کا اختتام عمل میں آیا۔ پروگرام میں کونسل سے ڈاکٹر کلیم اللہ(ریسرچ آفیسر) اوردگر اسٹاف کے علاوہ سیکڑوں دانشوران و اسکالرز آن لائن شریک رہے۔ افضل حسین خان(ریسرچ اسسٹنٹ)، افروز عالم اور نوشاد منظر نے تکنیکی تعاون فراہم کیا۔

