Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

کشمیر میں اردو غزل – پروفیسر قدوس جاوید

by adbimiras ستمبر 2, 2021
by adbimiras ستمبر 2, 2021 0 comment

طبعی آمد اوربے محابہ اظہار کی سب سے زیادہ گنجائش رکھنے والی صنف غزل میں یوں تو ہر شعر خود اپنے وجود کا منفرد جواز رکھتا ہے لیکن بحیثیت مجموعی بھی کسی غزل کے تمام اشعار غزل کے فنی اور جمالیاتی تقاضوں ( مطلع و مقطع، ردیف و قافیہ بحر ووزن ، رمز و کنایہ ، مضمون و معنی آفرینی ، اور الفاظ کے انتخاب اور برتاو کی زائیدہ شعریت اور غنائیت وغیرہ) کے حوالے سے ایک دوسرے کے شعری وجود کی حمایت بھی کرتے ہیں، تصدیق بھی اور توسیع بھی۔ چنانچہ یہی وجہ ہے کہ غزل کے اشعار میں معنی و مفہوم ، کیفیت و تاثر کا ظاہری’ التوا‘ اور ’انتشار‘ تو ہو سکتا ہے۔ ہوتا بھی ہے لیکن غزل میں انتشار یا ارتباط سے ماورا ایک منزل ، کیفیت و معنی اور نغمہ و موسیقی کی داخلی یکتائی کی بھی ہوتی ہے جو کسی بھی طرح کے ابعاد اور تضادات(Dimentions and Contradictions) سے قطع نظر صرف غزل کے مجموعی تاثر سے عبارت ہے ۔ اسی کا ایک نام تغزل ہے۔

غزل سے متعلق یہ پیش بندی محض اس لیے ہے کہ مجھے جموںو کشمیر میں اردو غزل کا تحقیقی و تنقیدی جائزہ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے ۔ لیکن موضوع پر براہ راست گفتگو سے پہلے یہ یاد دہانی ضروری ہے کہ شعر و ادب میں کوئی بھی تنقیدی رائے نہ تو حتمی ہوتی ہے نہ مستقل پھر بھی اتنا تو ماننا ہی ہو گا کہ اردو کے دوسرے مراکز کی طرح دبستان کشمیر کی اردو غزل بھی ، صنف غزل کے مذکورہ بالا امتیازات کے ساتھ ہی اپنا ارتقائی سفر طے کرتی رہی ہے اور کررہی ہے ۔لیکن کشمیر میں اردو غزل کا سفر کب سے، کہاں سے اور کس سے شروع ہوا۔ کشمیر میں اردو غزل کا یہ ورق اک ذرا سا دیمک زدہ ہے پھر بھی کشمیر کے ابتدائی غزل گوشعرا میں ریختہ کے حوالے سے ، ملا محسن فانی، میر کمال الدین حسین رسوا ، مرزا عبدالغنی قبول، محمد حشمت اور مرزا علی نقی محشر وغیرہ کے نام اکثر لوگوں نے لیے ہیں۔ یہ سبھی شعرا کشمیری الاصل تھے ان سب نے کشمیر سے باہر رہ کر اصلاً فارسی میں مہارت دکھائی ہے ریختہ میں کبھی کبھار محض شوقیہ منھ مار لیا ہے۔ ان میں سے اکثر شاعروں کے ایک ایک دو دو ہی ریختہ کے اشعار ملتے ہیں لیکن پروفیسر محمد ابراہیم نے اپنے ایک مضمون ’کشمیر کے ریختہ گو شعرا‘ (مطبوعہ ’ہمارا ادب 1967‘) کلچرل اکیڈمی سرینگر) میں رسوا کی پانچ ریختہ اور اردو کی غزلیں نقل کی ہیں ۔ ان غزلوں کے چند اشعار اس طرح ہیں۔

.1      دِل وجاں اس لٹک اوپر فدا ہے ستم گر بے وفا  یہ کیا  ادا  ہے

.2      محبت پیت معشوقوں میں کم ہے          نہ ازعشاق پروا ہے نہ غم  ہے

.3      ارے کوئی جہاں میں یار کم ہے اگر ہے یار بے  آزار کم ہے

.4      امشب صنم کے واسطے جان و  تنم  در جنگ ہے

اندر سرائے تارمن شب جوش راگ و سنگ ہے

.5      خدا سیں ڈر، خدا سیں ڈر،  خدا سیں

کہ گفتہ من دِ ل از جا ناں گرفتم

رسوا کے ان غزلیہ اشعار میں امیر خسرو کے ریختہ سے لے کر دکنی اردو کے شعرا تک کے اثرات ہیں ہندوی کے ساتھ فارسی مصرعوں کے پیوند اور ’سیں‘ پیت ’کوں‘ جیسے متروک الفاظ کے استعمال سے یہی ظاہر ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ رسوا کی غزلوں میں ایہام گو شعرا، آبرو ، مضمون ، یکرنگ وغیرہ کی طرح، سنگ ، من ، چاہ ، جیسے الفاظ ایہام کے طور پر استعمال ہوئے ہیں۔ رسوا اٹھارہویں صدی کے شاعر ہیں۔ ا س زمانے میں میرو سودا اردو غزل کو کنگھی چوٹی کے مضامین سے آزاد اور غزل کی لسانی ساخت کو معتبر بنا چکے تھے۔ لیکن رسوا کے اکادکا اشعار ہی میر وسودا کی زبان سے قریب نظر آتے ہیں پھر بھی بعض اشعار میں میر کی طرح روانی ہے اور تغزل کی دھیمی دھیمی چاشنی بھی ہے اور دِل میں اتر جانے والی اثر آفرینی بھی۔ رسوا آخری عمر میں کشمیر واپس لوٹ آئے تھے۔ اس لیے رُسوا کو ریختہ یا اردو کا پہلا کشمیری غزل گو تسلیم کرنے پر غور کیا جا سکتا ہے۔ فانی اور رسوا کے علاوہ اورنگ زیب عالمیگر کے زمانے کے ایک کشمیری الاصل فارسی شاعر مرزا عبدالغنی قبول کا ایک اردو شعر ، میر غلام علی آزاد نے اپنی کتاب ’سر و آزاد‘ میں مصحفی نے ’تذکرہ ہندی ‘میں قاسم نے ’مجموعہ نغز ‘میں اور شیفتہ نے ’گلشن بے خار‘ میں در ج کیا ہے۔

دِل یوں خیال زلف میں پھرتا ہے نعرہ زن

تاریک شب میں  جیسے کوئی  پاسباں پھرے

صرف ایک شعر کی بنیاد پر کسی کی غزل گوئی کے بارے میں کوئی رائے قائم نہیں کی جا سکتی ۔ دوئم یہ کہ جمیل جالبی نے تاریخ ادب اردو جلد دوئم حصہ اول کے صفحہ 127 پر اس شعر کے زبان و بیان کی بنا پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ یہ شعر قبول کا ہے اس طرح فانی کی طرح قبول کو بھی اردو کا پہلا غزل گو شاعر قرار دینا مناسب نہیں۔ اسی طرح مرزا قبول کے فرزند محمد علی حشمت کے بھی صرف دو شعر دستیاب ہیں۔ ایک شعر سطحی ہے۔ (یہ بھی پڑھیں شاکر کریمی کی غزلیہ شاعری – ڈاکٹر نوشاد منظر )

خط نے ترا حسن سب اڑایا

یہ سبز قدم کہاں سے آیا

لیکن دوسرا شعر حسن بیان اور حسن خیال ہر اعتبار سے معیاری ہے ۔ شعر دیکھیے۔

جب آخزاں چمن میں ہوئی آشنائے گُل

تب عندلیب رو کے پکاری کہ ہائے گل

حشمت یہ شعرا ٹھارہویں صدی کے وسط میں کہہ رہے ہیں ۔ لیکن یہ شعر پڑھتے ہی ذہن میں غالب کا یہ شعر انگڑائیاں لینے لگتا ہے۔

آعندلیب مِل کے کریں آہ  و زاریاں

میں ہائے دِل پکاروں تو چلّائے ہائے گل

حشمت کایہ شعر الحاقی معلوم ہوتا ہے کیوں کہ حشمت اٹھارہویں صدی کے وسط میں تھے مرزا انیسویں صدی کے وسط میں’ انداز بیاں اور ‘کا دعویٰ کررہے تھے ۔ لہٰذا حشمت پر سرقہ یا تو ارد کا الزام دھرنا غیر منطقی ہو گا۔ اور مرزا (غالب) پر سرقہ کا الزام لگایا جائے یہ زیب نہیں دے گا ّلیکن سچ تو یہ ہے کہ مرزا ، محض غالب نہ تھے چچا بھی تھے اور یہ ثابت ہو چکا ہے کہ چچا نے بڑی دیدہ دلیری کے ساتھ غنی کاشمیری کے کئی فارسی اشعار کا چربہ اپنے اردو اشعار میں اتار اہے اس کا ذکر برسوں پہلے میں اپنے ایک مضمون ’غالب اور آزاد‘ ( مطبوعہ بازیافت ۔ مجلہ شعبہ اردو کشمیر یونیورسٹی ) میں کر چکا ہوں ۔ بہر حال حشمت کے بعد چند اور کشمیری الاصل یا کشمیری نژاد شعر ا کے نام سامنے آتے ہیں جن کے یہاں ریختہ نہیں بلکہ معیاری اردو کے غزلیہ اشعار مختلف تذکروں میں ملتے ہیں۔ مثلاً خواجہ محمد امین ، امین ، سیتا رام عمدہ ، مرزا علی خاں محشر ، خواجہ پینگا شیدا، طالب حسین طالب اور شیخ نصیر الدین غریب وغیرہ ،ان شاعروں کے یہ اشعار دیکھیے۔

جاں منتظر ہے آنکھوں میں وقت رحیل ہے

جلدی پہنچ کہ تیرے ہی آنے کی ڈھیل ہے

دور میں اس چشم کے گردوں کو  آسائش نہیں

کس گھڑی ، کس دم ، نئے فتنے کی عکاسی نہیں

(مرزا علی محشر)

اور طالب حسین طالب کے اشعار ہیں۔

اشک یوں جم گئے ہیں اپنے بھی مژگاں سے لپٹ

اور جیسے کہ رہے خار مغیلاں سے لپٹ

دشت میں آہ مرے یار جو طالب نے بھری

ایک شعلہ گیا، خاشاک بیاباں سے لپٹ

(طالب حسین طالب)

غریب کا رنگ دیکھیے۔

جس جاگہ قدم رکھتے ہی سرتن سے جدا ہو

جاتے ہیں اوسی کوچہ میں ہم دیکھیے کیا ہو

مت چھیڑ تو اس زلف سیہ فام کوں ناداں

دیکھا نہیں کاٹا کوئی کالے کا جیا ہو

(شیخ  نصیر الدین غریب)

مذکورہ بالا غزلیہ اشعار پر غور کیجیے ۔ اٹھارہویں صدی کے ان کشمیری الاصل شعرا کی غزلوں میں ریختہ کے بجائے کلاسیکی اردو غزل کا لسانی نظام ، موضوعاتی تنوع اور شعر میں جمالیاتی خوبیاں پیدا کرنے کے لیے، تشبیہہ واستعارہ اور الفاظ و تراکیب کی تراش خراش کا عمل بھی نمایاں ہے ۔ لیکن حشمت، محشر ، طالب، اورغریب وغیرہ کی غزلیں ، بیرون کشمیر مقیم کشمیری الاصل شعرا کی غزل گوئی کی ارتقائی صورتیں ہیں۔ لیکن کشمیر کے کس شاعر کو اردو کا پہلا شاعر قرار دیا جائے اس ضمن میں محسن فانی کا نام نہیں لیا جا سکتا کیونکہ فانی کا اردو کیا ریختہ کا بھی کوئی غزلیہ شعرا بھی تک دستیاب نہیں ہو سکا ہے ۔ بادشاہ شاہجہاں کے نام اپنے قصیدے میں فانی نے ایک آدھ شعر میں بسنت ، بیلا ، چنبلی جیسے دو چار ہندوی الفاظ ضرور استعمال کیے ہیں لیکن ایسا اس لیے ہے کہ1700 میں ولی کے ساتھ جب اردو غزل بھی دلی پہنچتی ہے تو فارسی کے سبک ہندی کے شعرا نے جن میں فانی بھی شامل تھے اپنی فارسی شاعری میں ہندوی الفاظ و تراکیب کے برتاو کا وطیرہ اختیار کیا تھا۔چنانچہ فانی نے بھی محض اسی روایت کی پیروی کی تھی لہٰذا اس بنا پر عبدالقادر سروری اور پروفیسر ابراہیم کا فانی کو ریختہ گو شاعر قرار دینا بھی غلط ہے کیونکہ فانی کے یہاں کوئی ایک شعر بھی ایسا نہیں ملتا جو ریختہ کی تعریف پر پورا اترتا ہو۔ فانی سے زیادہ ہندوی الفاظ تو محمود گامی کی اس غزل میںاستعمال ہوئے ہیں جسے غلام نبی خیال نے اپنے مقالے میں پیش کیا ہے گیارہ اشعار پر مشتمل محمود گامی کی اس غزل کا صرف مطلع دیکھیے۔

المنتہ لِلّلہ کہ مرا یار اچھا ہے

وزماہ رُخان ماہِ من بسیار اچھا ہے

اور اگردیکھا جائے تو محمود گامی کے علاوہ رسول میر کے یہاں بھی ریختہ کے اس طرح کے اشعار ملتے ہیں۔

جب آیا تو نے گھبرایا ہمارے من الا جانو

دیا دِل تو پرائے ساتھ رلائے  تن الاجانو

بلکہ یوسف ٹینگ نے تو یہاں تک لکھا ہے کہ اس قسم کے ریختے رسول میر سے پہلے بھی کشمیری زبان میں ملتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ فانی کو اردو کا پہلا کشمیری غزل گو شاعر قرار نہیں دیا جا سکتا۔ التبہ کمال الدین حسینی رُسوا جو اورنگ زیب عالمگیر کے فرزند شہزادہ محمد اکبرکے حلقہ مقربین میں شامل تھے ۔ اورجو مغل شہزادوں کی آپسی رسہ کشی کے سبب کشمیرلوٹ آئے تھے ۔ ان کی پانچ اردو غزلیں دستیاب ہیں ۔ اس لیے سترہویں صدی کے آخیر اور اٹھارہویں صدی کے اوائل کے کشمیری الاصل شاعر رسوا کو کشمیر میں اردو کا پہلا غزل گو شاعر قرار دیا جائے تو غلط نہ ہو گا ۔ لیکن یہاں پر ایک پیچ بھی ہے۔ وہ یہ کہ کشمیر کے مستند محقق اور نقاد محمد یوسف ٹینگ نے ’گلدستہ کشمیر‘ کو کشمیر کی پہلی باضابطہ اردو تصنیف ماننے سے اس بنیاد پر انکار کیا ہے کہ پنڈت ہرگوپال خستہ نے’ گلدستہ کشمیر‘کو تصنیف کشمیر سے باہر لاہور میں قیام کے دوران 1873 میں مکمل کی تھی اور جو1883 میں پہلی بار شائع ہوئی۔ محمد یوسف ٹینگ کی دلیل میں وزن ہے ۔ لیکن یہاں معاملہ اس زمین کا ہے جس میں درخت کی جڑیں پیوست ہیں۔ درخت کی ان شاخوں کا نہیں جو چہار دیواری سے باہر نکل جاتی ہیں،۔ لہٰذا ادب کا کوئی طالب علم یہ سوال کر سکتا ہے کہ جب ہم اقبال سیالکوٹی اور برج نارائن چکبست فیض آبادی کو نہ صرف کشمیری مانتے ہیں اور ان کے ادبی کارناموں پر فخر کرتے ہیں ۔ ساتھ ہی میر و مومن ، غالب ، اور سرسید سے لے کر منٹو ، میراجی اور ساحر لدھیانوی تک کی جڑوں کی تلاش ارض کشمیر میں کرتے ہیں تو پھر ہرگوپال خستہ کی طرح اگر میر کمال الدین حسینی رسوا کو اردو کا پہلا غزل گو ماننے سے انکار کردیں تو کشمیر میں اردو کے اولین غزل گو شاعر کا مسئلہ الجھا ہی رہ جائے گا اور پھر بیسویں صدی کے اوائل تک آکر شاعر کشمیر میر مہجور کو ہی کشمیر میں اردو کا پہلا باضابطہ غزل گو ماننے کے سوا کوئی دوسرا چارہ نہیں رہ جائے گا۔ عبدالا حد آزاد نے ’کشمیری زبان اور شاعری ‘ میں لکھا بھی ہے  : (یہ بھی پڑھیں کٹورے میں چاند – حقانی القاسمی )

’’ مہجور نے 1912 سے 1924 تک صرف اردو کو ہی اپنے شاعرانہ اظہار کا ذریعہ بنایا۔ لیکن اس قلیل مدت میں ہی مہجور نے اپنی غیر معمولی صلاحتیوں سے کام لے کر ریاست جموں و کشمیر میں اردو غزل کی بنیادیں مضبوط اور مستحکم کر دیں۔‘‘

مہجور نے لدھیانے میں آفت لدھیانوی کی’ انجمن ادب ‘میں جو اردو غزل پڑھی اس سے ہر شخص واقف ہے ۔اوراس غزل کا مطلع سب کو یاد ہے۔

دِل درد آشنا میرا کسی کا ہم زباں کیوں ہو

عیاں انجام ہو جس کا وہ میری داستاں کیوں ہو

شیرازہ کے مہجور نمبر میں اور غلام نبی خیال کی ذاتی لائبریری میں مہجور کی متعدد غزلیں محفوظ ہیں ۔ ابدال مہجور کہتے توہیں کہ ان کے پاس مہجور کی سو سے زائد اردو غزلیں ہیں لیکن نہ تو وہ انھیں کسی کودکھاتے ہیں نہ شائع کرتے ہیں۔ پھر بھی یہ بات طے ہے کہ مہجور کے زمانے تک آتے آتے کشمیر میں اردو غزل کا ڈنکابجنے لگا تھا۔ مہجور کی غزلوں میں روایتی واردات و کیفیات کے بجائے موضوعی جدت ہے لیکن ساتھ ہی تغزل کے ماہرانہ برتاو کے اعلیٰ نمونے بھی ہیں۔ ان کی غزل یہ احساس دِلاتی ہے کہ غزل سے بھی انسانی سوچ فکر اور نفسیات کو خوبصورت تعمیری موڑ دیا جا سکتا ہے۔ اگر دیکھا جائے تو مہجور نے کشمیر میں اردو غزل کو ایسے باوقار فنی و فکری ، لسانی اور جمالیاتی امتیازات سے مالا مال کیا کہ بعد میں بہت دور تک ، اردو کے دوسرے مراکز کی طرح کشمیر کی غزل ، کسی بھی زاویے سے بے راہ روی کا شکار نہیں ہوئی یہ صحیح ہے کہ مہجور کے بعد آنے والے غزل گو شعرا کو جو زمانہ ملا وہ علامہ اقبال کی شاعری کے سحراور حکمت کا زمانہ تھا۔ اورریاست میں تحریک آزادی کا سورج طلوع ہو رہا تھا۔ چنانچہ اس دور میں کشمیر کے غزل گو شاعروں پر بھی اقبال کی ملی ، انقلابی اور حکیمانہ شاعری کا اثر رہا لیکن ساتھ ہی حسرت اور جگر کی رومانی شاعری کے اثرات بھی نمایاں رہے  1936 تک ، غلام رسول نازکی ، رساجاودانی ، شہ زور کاشمیری ، نند لال کول طالب ، تنہا انصاری اور مہندر رینہ وغیرہ اپنی شناخت قائم کر چکے تھے۔ ان میں ، رسا جاودانی اقبال کے برعکس غالب کے طرف دار تھے اس لیے رسا جاودانی کی غزلوں میں غالب کی طرح آزادہ روی ملتی ہے ۔ محمد یوسف ٹینگ کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے رساجاودانی نے غالب سے اپنی ذہنی وابستگی کا اعتراف خود کیا ہے ۔ غلام رسول نازکی کی غزل گوئی ہی نہیں بحیثیت مجموعی ان کے شاعرانہ اور دانشورانہ مقام و مرتبہ کا اندازہ شیرازہ کے غلام رسول نازکی نمبر سے بڑی حدتک لگایا جا سکتا ہے1930-32 سے لے کر 1947 تک کا زمانہ سیاسی ہی نہیں ادبی سرگرمیوں کی بھی شدت کا زمانہ ہے ۔1947 سے قبل ریاست میں بھی ترقی پسند تحریک کا آغاز ہو چکا تھا شفیع شوق کے مطابق کشمیر میں ترقی پسندی کا آغاز عبدالا حد آزاد سے ہوتا ہے جو کشمیر کے سیاسی انقلاب کا رُخ سوشلزم کی طرف موڑنا چاہتے تھے ۔ اردو میں شہ زور کاشمیری اور مہندر رینہ وغیرہ پرویز شاہدی ، معین احسن جذبی اور مجروح کی طرح رجائی اشعار کہتے نظر آتے ہیں ۔ مہندر رینہ کی ایک غزل کے اشعار دیکھیے۔

چھوڑو بھی خزاں کے یہ قصے ،تعمیر چمن کی بات کریں

کچھ لالہ و گل کا ذکر کریں کچھ سرو سمن کی بات کریں

آجائے گا آخر موسم گل، اکسیر بنے گی خاک چمن

ہر شاخ سے نغمے پھوٹیں گے اک ایسے قرن کی بات کریں

(مہندر رینہ)

اور شہ زور فیض احمد فیض کی طرح کلاسیکی اسلوب اور استعاراتی زبان میں اپنے ترقی پسند خیالات کا اظہار اس طرح کرتے ہیں۔

ہیں بلند اتنے عزائم ترے دیوانوں کے

خود جنوں سیتا ہے چاک ان کے گریبانوں کے

شمع ہی کو نہیں محفل کو بھی گرماتے ہیں

رات بھر بڑھتے ہوئے حوصلے ارمانوں کے

ترقی پسند غزلیں رساجاودانی، قیصر قلندر ، اور تنہا انصاری وغیرہ کے یہاں بھی ملتی ہیں لیکن خاص طور پر مہندر رینہ نے ترقی پسند غزل کو بڑے خلوص اور سچے جذبات کے ساتھ برتا ہے ۔ مہندر رینہ شاعری میں روایت پسندی کے خلاف ہیں اور کشمیر کے شاعروں کو اپنی شاعری میں ارضیت اور حقیقت پسندی سے کام لینے کا درس بھی دیتے ہیں کہتے ہیں۔

اے دوست تعجب ہوتا ہے ان لوگوں کی بدذوقی پر

کشمیر کے شاعر ہو کر بھی جو نجدوختن کی بات کریں

رحمن راہی کا شمار اردو کے دوستوں میں نہیں ہوتا لیکن ابتدائی دور میں انھوں نے اردو میںبڑی پرُ جوش ترقی پسند غزلیں کہی تھیں ۔ چنداشعار دیکھیے۔

نہ بجھ سکے گا کبھی آندھیوں سے اب یہ چراغ

حیات نے نئی منزل کا پالیا ہے سراغ

گلوں کو مِل ہی گئی آخرش نوید بہار

خزاں کے لاکھ  جتن پر بھی لہلہائیں گے باغ

قیصر قلندر کشمیر کے جمال پرست شاعروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں ۔ لیکن انھوں نے انقلابی نظمیں بھی لکھی ہیں ان کی ایک طویل نظم ’لال چوک ‘، شاہکار ہے، لیکن انھوں نے جو غزلیں لکھی ہیں ان میں ترقی پسندی جذبہ عشق اور احساس حسن کو پہلو میں لے کر نمایاں ہوتی ہے مثلاً ان کایہ غزلیہ شعر۔ (یہ بھی پڑھیں تحریکِ آزادی اور اردو غزل – پروفیسر کوثر مظہری )

جب درد کی شمعیں جلتی ہیں ۔ احساس کے نازک سینے میں

اک حسن سا شامل ہوتا ہے پھر تنہاتنہا جینے میں

اسی طرح غ۔م۔ طاوس ،بلبل کاشمیری، امین کامل اور عرش صہبائی وغیرہ کے یہاںبھی عمدہ ترقی پسند غزلیں ملتی ہیں ۔ عرش ، کہنہ مشق زبان داں شاعر ہیں ۔ ان کی ترقی پسندی کے نمونے ان اشعار میں دیکھیے۔

بدلنا ہے مجھے اے عرش زندگی کا نظام

بلا سے لاکھ رسوم کہن کے پردے ہوں

اے جذبہ خودداری، اے حسرت مختاری

انسان در انسان ہو فریاد کناں کب تک

اے اہل ستم تم بھی یہ بات ذرا سوچو

رہتے ہیں ستم خوردہ محروم زبان کب تک

کشمیر کی ترقی پسند غزل میں حسن کا معیار بدلنے کی بات بھی کی گئی ہے ۔ اندر جیت لطف کے یہ اشعار دیکھیے۔

اے رہ نورد آبلہ پائی کا ذکر چھوڑ

راہ طلب میں ہمت مرداں کی بات کر

تنگ آگیا ہوں ، حسن وجوانی کے ذکر سے

لِلّلہ اب  نہ   خواب   پریشان   کی  بات  کر

کشمیری کے مشہور شاعر اور تنقید نگار امین کامل نے بھی 1947 کے آس پاس جوش ملیح آبادی کے انداز میں گھن گرج اور للکار سے بھری نظمیں لکھیں لیکن چند ایک غزلوں میں فکر مرگ وہستی سے اوپر اٹھ کر تغیرات کا مردانہ وار مقابلہ کرنے کا پیغام بھی دیا ہے ایک شعر دیکھیے۔

مرگ وہستی کے تسلسل کا تغیر نام ہے

اس تغیر سے نہیں بچنے کی ہے کوئی بھی شے

1947 کے بعد کشمیر میں تبدیلیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوتا ہے اور کشمیر کا شاعرا پنی غزلوں میں اُمید و بیم ، محرومی و نارسائی کا اظہار سیفی سوپوری کی زبان میں اس طرح کرتا ہے۔

خامشی میری بہ انداز فغاں ہے کہ نہیں

دل کی ہربات نگاہوں سے عیاں ہے کہ نہیں

تیرے ہونٹوں پہ تبسم کی دمکتی تحریر

ایک منھ بولتا منشور اماں ہے کہ نہیں

1947 کے بعد کے نئے سماجی ، سیاسی ، تہذیبی اور ادبی منظر نامے میں جو نئے رنگ ابھرے ان کی عکاسی غلام رسول نازکی ، رساجاودانی ، شہ زور کاشمیری ، شوریدہ اور قیصر قلندر سے لے کر حکیم منظور ، یٰسین بیگ ، حامدی کاشمیری میکش کاشمیری اور عرش صہبائی تک کی غزلوں میں جس پختگی کے ساتھ ہوئی اس کی بنا پر کشمیر کی اردو غزل میں وہ لسانی ، فکری اور اسلوبیاتی تازہ کاری پیدا ہوئی جسے فلسفہ وجودیت ، مشینی زندگی اور انسان اور انسانی قدروں کی پامالی کے حوالے سے1960 کے آس پاس جدیدیت کا نام دیا گیا۔ اس دور میں کشمیر کی اردو غزل میں عصری حِسیت مسائل اور اقدار کو ابتدا میں فاروق نازکی ، یٰسین بیگ ، حکیم منظور اور حامدی کاشمیری وغیرہ نے اپنے اپنے طور پر برتا۔ بعد میں ہمدم کاشمیری ، ایاز رسول نازکی ، پرتپال سنگھ بیتاب اور رفیق راز وغیرہ کے یہاں جدید غزل کی بہترین مثالیں ملتی ہیں۔ لیکن یہاں یہ بات یاد رہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے بڑے ادبی مراکز کی اردو غزل میں جس مشینی زندگی ، فرد کی تنہائی ، ذات کی شکستگی ، وجود کے عدم تحفظ اور تشکیک کی باتیں عام تھیں کشمیر کی جدید غزل میں بھی ان کا اظہار ہوا ہے لیکن توازن و اعتدال کے ساتھ کیونکہ دِلی اور ممبئی لاہور اور کراچی جیسی سماجی و ثقافتی صورت حال کشمیر میں نہ تو  1960-65 کے آس پاس تھی اور نہ آج ہے ۔ پھر بھی کشمیر ی ذہن اور تخلیقی شعور تازہ ہوا کے ہر جھونکے کو اپناتا جھیلتااور برتتا رہا ہے اس لیے کشمیر کے غزل گو شعرانے بھی جدیدیت کے رجحان کے تحت تازہ ترین موضوعات اور اسالیب اپنائے لیکن اپنے ثقافتی اقدار کو ذہن میں رکھتے ہوئے ۔ ریاست جموں سے باہر جدید غزل کا آغاز اس طرح کے اشعار سے ہوتا ہے۔

سورج کو چونچ میں لیے مرغا کھڑا رہا

کھڑکی کے پردے کھینچ دئے رات ہو گئی

(ندا فاضلی)

بدن بوند جب تک چمکتی رہی

مسہر سے باہر نہ نکلا وہ مچھر

(ظفر اقبال )

کھڑا تھا پاس جوبرگد کا پیڑ برسوں سے

ندی کے پاس وہ ٹانگیں اُٹھا کے لیٹ گیا

(مظفر حنفی )

کشمیر کی غزل میں جدیدیت کیا کسی بھی دور میں ایسی بد ذوقی کی مثال نہیں ملتی ۔ کشمیر میںموروثی ارضیت اور معصومیت کے ساتھ جدید غزل اپنی شناخت کس طرح سامنے لاتی ہے۔ اس کا اندازہ لگانے کے لیے حکیم منظور کے دو چار اشعار ہی کافی ہیں۔

دھواں کہیں سے اٹھے میں سوچوں، جلا ہے کوئی چنار میرا

یہ خوف میراث میں مِلا ہے یہی ہے اب اعتبار میرا

بکے ہیں کس لیے اخروٹ میرے سنگ کے بھاو

بس ایک بات فقط یہ، میں پختہ کار نہ تھا

(حکیم منظور )

’خودرو‘ اور ’شام سے پہلے‘ کے شاعر ایاز رسول نازکی ، بہ انداز دگر جیتے بھی ہیں اوران کی شاعری بھی معاصر شعرا سے مختلف ہوتی ہے ۔ جذبات و محسوسات کی لسانی تشکیل جس سادہ بیانی کے ساتھ کرتے ہیں اس کی وجہ سے ان کی غزلیں اکثر جدیدیت سے مابعد جدیدیت کی جانب جست لگاتی نظر آتی ہیں۔ چنداشعار دیکھیے۔

تم پہ ایسا کبھی سماں گذرا

سانس لینا بھی جب گراں گذرا

راستے میں پڑا ہوں مدت سے

وہ گذرتا مگر کہاں گذرا

……

ان کے جذبے سیاستوں کی طرح

پیار کرنے عداوتوں کی طرح

اب تو صدیاں گذرتی جاتی ہیں

غیر محسوس ساعتوں کی طرح

ہر سچا شاعر غزل میں استعاراتی نظام کو اپنے زاویے سے برت کرہی انفراد و امتیاز کے منصب پرفائز ہو سکتا ہے ۔ یہ صفت صرف غالب اور انیس کے یہاں ہی نہیں کشمیر کے غزل گویوں کے یہاں بھی تمام تر تازہ کاریوں کے ساتھ نمایاں ہے ۔ خالد بشیر کے دو شعر دیکھیے۔

خوابوں سے کبھی آنکھ کے دو گھر نہیں بھرتے

بارش کے برسنے سے سمندر نہیں بھرتے

الفاظ کبھی زخم کا مرہم بھی ہوئے ہیں

دریاؤں کی گہرائی کو کنکر نہیں بھرتے

(خالد بشیر)

اور رفیق راز کی طلسم سازی ان اشعار میں دیکھیے۔

گہرائیوں میں ہاپنتے منظر کے رنگ دیکھ

چپ چاپ ہو لناک سمندر کے رنگ دیکھ

سیل سیہ کی زد میں ہے باہر ہر ایک شے

مژگاں نہ کھول غور سے اندر کے رنگ دیکھ

(رفیق راز )

اسی قبیل کے اشعار ، احمد شناس کی غزلوں میں بھی ملتے ہیں ۔ احمد شناس کی غزل گوئی پر میں ان کے شعری مجموعوں ’پس آشکار‘ اور ’صلصال‘ کے حوالے سے تفصیل سے لکھ چکا ہوں ۔ بترکاً احمد شناس کے یہ اشعار سنتے چلیں۔

گھر سے جب نکلا تھا میں سر سبز تھیں پگڈنڈیاں

اب مرے گھر کی طرف جاتی ہیں سب راہیں اداس

سہمگیں راتیں بتانے کے لیے جائیں کہاں

دستکیں خاموش، گھر ویران، درگاہیں اُداس

ان کے ساتھ ہی فرید پربتی ، شفق سوپوری،رخسانہ جبیں، اور نذیر آزاد سے لے کر پرویز مانوس اور لیاقت جعفری تک کی غزلوں کے اندر داخل ہوں تو معلوم ہو گا کہ کشمیر کی اُردو غزل میں مابعد جدیدیت کے عناصر کی بھی کمی نہیں مثالیں دی جا سکتی ہیں ۔ لیکن ریاست ابھی جدیدیت کے ہی ابتدائی مرحلے میں ہے اورگائتری دیوی اسپائیواک اور اِحب حسن وغیرہ کے مطابق مابعد جدید تصور ادب کے فروغ کے لیے سلی کون سوسائٹی Clicom Society کنزیومر کلچراور تماشا سوسائٹی کے جس ڈسکورس کو بنیادی شرط مانا جاتا ہے وہ ڈسکورس ابھی ممبئی ، چنئی، دلی اور کولکتہ کے بھی گنے چنے علاقوں میں ہی نظر آئے گا۔ اس کے علاوہ جدیدیت کے فلسفہ وجودیت کی طرح مابعد جدیدیت کے بنیادی تھیوریز (Theories)، سوسئیر کے نظریہ لسان، رولاں بارتھ کے ساختیات اور دریدا کے ردتشکیل وغیرہ ابھی تک ریاست جموں و کشمیر کے Episteme یعنی علم و آگہی اور ثقافت کے دائروں کے مرکز میں نہیں حاشیے پرہی ہیں ۔ اسی لیے کشمیر کی اردو غزل میں مابعدجدیدیت کے عناصر عالمی ادب کے اثر و نفوذ کی وجہ سے مل توجاتے ہیں۔ لیکن مابعد جدیدیت کا نمو، کشمیر کی اُردو غزل کے اندر سے فی الوقت نہیں ہو پارہا ہے ۔ ریاست جموں وکشمیر کا ڈسکورس ، جبر محرومی اور نارسائیوں کی زائیدہ ایک مخصوص ڈسکورس ہے جس کا اظہار ریاست کے ہر شاعر کی غزل میں محسوس یا نامحسوس ، شعوری یا لاشعوری طور پر لازماًہو رہا ہے اسے آپ احتیاطاً ارضیت کہہ سکتے ہیں اور غور کریں تو کشمیر کے پہلے اردوغزل گو شاعر میر کمال الدین حسین رسوا سے لے کرپرویز مانوس اور لیاقت جعفری تک ریاست کی اردو غزل ، الگ الگ انداز میں اس ’ارضیت‘ کے زیر سایہ ہی تمام ترفنی و جمالیاتی تازہ کاریوں کے ساتھ بلندیوں کو چوم رہی ہے ۔ فاروق نازکی کا یہ شعر پڑھیے ریاست اور ریاست کی اردو غزل کا پورا سچ سامنے آجائے گا۔ (یہ بھی پڑھیں وحید الہ آبادی کی غزلوں میں حسن و عشق – مہر فاطمہ )

اپنی غزل کو خون کا سیلاب لے گیا

آنکھیں رہیں کھلی کی کھلی خواب لے گیا

 

Prof. Quddus Jawaid

27,Green Hills Colony

Near Govt. Sec. School Bhatindi

Jammu 181152, Mob: 09419010472

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

قدوس جاویدکشمیر میں غزل
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
اردو ادب کو ثروت مند بنانے میں مرثیے کا اہم کردار ہے :شیخ عقیل احمد
اگلی پوسٹ
شعبۂ اردو میں یک روزہ عالمی ویبینار و سیمینار کا انعقاد

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,049)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (407)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (218)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں