اردو لسانیات / علی رفاد فتیحی – ڈاکٹر امتیاز احمد علیمی
اردو لسانیات کے حوالے سے علی رفاد فتیحی کانام انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ان کا شمار ماہرین لسانیات میں ہوتا ہے۔ان کی متعدد تصانیف میں ’اسلوبیاتی تنقید‘ ’ساخت اور اسلوب:نظریہ و تجزیہ‘ اور’ لفظ سازی‘ کے علاوہ زیر تبصرہ کتاب ’اردو لسانیات‘ لسانیاتی اور اسلوبیاتی نقطۂ نظر سے بہت ہی اہم کتاب ہے۔یہ مصنف کی تازہ ترین تصنیف ہے جسے قومی کونسل نے 2018 میں اس کی اہمیت اور افادیت کے پیش نظر شائع کی ہے۔اس کتاب میں کل تیرہ ابواب ہیں جو اردو زبان اور اس کی لسانی تشکیل کے مختلف پہلوئوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔پہلے باب سے ساتویں باب تک میں مصنف نے اردو زبان کے نحوی ، صرفی اور معنیاتی متعلقات پر تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی ہے۔پہلا باب جو ’علم صوتیات‘ پر مشتمل ہے اس میں مصنف نے علم صوتیات اور صوتیات کی مختلف اصطلاحوں کی تعریف کرتے ہوئے اس کے جتنے انسلاکات ہو سکتے ہیں ان کو مدلل انداز میں پیش کرنے کی کامیاب سعی کی ہے اور صوتیات کی مختلف شاخوں مثلاً تلفظی صوتیات،سمعی صوتیات، اور سمعیاتی صوتیات وغیرہ کو مثالوں کے ذریعہ بہت ہی واضح انداز میں سمجھانے کی کوشش کی ہے۔ساتھ ہی اعضائے تکلم اور مخارج کا بھی تفصیل سے احاطہ کیا ہے جسے پڑھتے ہوئے اندازہ ہوتا ہے کہ لسانیات کے نقطہ نظر سے یہ باب بہت اہم ہے۔دوسرا باب’اصول فونیمیات‘ ہے۔جیسا کہ آپ جانتے ہیں کہ فونیمیات کی اصطلاح لسانیات کی اس شاخ کے لئے استعمال ہوتی ہے جو کسی زبان خاص کے صوتی نظام کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔اسی لئے کسی بھی صوتی نظام کو جاننے کے لئے اصول فونیمیات سے واقفیت بے حد ضروری ہے۔اس باب میں فونیمیات کا تفصیلی تعارف پیش کرکے اس کو مثالوں کے ساتھ بہت ہی جامع اور معروضی انداز میں بیان کیا ہے جسے پڑھتے ہوئے تفہیم کا مسئلہ در پیش نہیں ہوتا ہے۔ساتھ ہی فونیمیات میں جن اصولوں اور تکنیکوں سے بحث ہوتی ہے اور جن کے اطلاق سے کسی زبان میں استعمال ہونے والی امتیازی اصوات یا صوتیوں کی نشاندہی کی جاتی ہے اس پر تفصیلی بحث کرتے ہوئے فونیمیات کے اصولوں کی روشنی میں سمجھانے کی بہترین کوشش کی ہے۔تیسرا باب ’اردو فونیمیات‘ ہے۔اس میں اردو کے تقریباً 37مصمتی فونیم کا ذکر مع مثال کیا گیا ہے ۔اس کے علاوہ اردو میں عربی، فارسی، انگریزی اور دوسری زبانوں سے مستعار آوازوں کی نشاندہی بھی کی گئی ہے۔چوتھا باب’ اردو حروف تہجی‘ کے عنوان سے ہے۔اس میں مصنف نے اردو حروف تہجی کی مختلف شکلوں اور آوازوں اور یکسانیت کی بنیاد پر متعدد گروہوں میں تقسیم کرکے اس کو تفصیل سے بیان کرتے ہوئے اردو مصوتوں کی فونیمی ہجائی مطابقت پر بھر پور انداز میں روشنی ڈالی ہے ۔ پانچواں باب’اردو صرف‘ اور چھٹا باب ’ اردو نحو‘ہے۔جیسا کی آپ کو معلوم ہے کہ لسانیات میں علم صرف اور علم نحو کا شعبہ انتہائی اہم شعبہ ہے ۔ علم صرف جہاں لفظ کی ساخت کا مطالعہ پیش کرتا ہے وہیں علم نحو جملے کی ساخت کو موضوع بناتا ہے۔ان دونوں کے بغیرلسانیات کی تفہیم نامکمل تصور کی جاتی ہے۔مصنف نے اردو صرف کے تمام تر پہلوئوں کا مکمل احاطہ کیا ہے۔ ساتواں باب ’اردو معنیات‘ ہے۔جس کے بارے میں مصنف نے لکھا ہے کہ معنیات لسانیات کا ایک اہم نواحی شعبہ ہے۔معنیات کے نقطہ نظر سے سلسلہ کلام کو جن اکائیوں میں بانٹا جاتا ہے وہ ’لفظ‘ ہے۔یعنی معنیات لفظ کا مطالعہ پیش کرتا ہے۔معنیات لفظ کا مطالعہ کن کن طریقوں سے کرتا ہے مصنف نے اس کو تفصیل سے بیان کیا ہے ۔ آٹھواں باب ’ ہندوستان کا لسانی پس منظر‘ ہے۔اس میں مصنف نے ہندوستان کے لسانی پس منظر کا جائزہ لیتے ہوئے اس بات کا ذکر کیا ہے کہ یہاں چار لسانی خاندانوں کی زبانیں بولی جاتی ہیںجن میں ہند آریائی خاندان کی زبانوں کا تناسب74.13فیصد ہے۔دراوڑی خاندان کی زبانوں کا تناسب24.07فی صد ہے۔آسٹرک خاندان کی زبانوں کا تناسب1.20فی صد ہے اور تبّتی برمی خاندان کی زبانوں کا تناسب 0.60فی صد ہے۔حالانکہ ہندوستان میں کوہ ہمالہ کی کچھ زبانیں ایسی ہیں جن کی درجہ بندی اب تک نہیں کی گئی ہے ایسی زبانیں unclassifiedزبانیں کہلاتی ہیں۔اس باب میں انھیں تمام باتوں اور حقائق کا تحقیقی و تنقیدی تجزیہ پیش کیا گیا ہے۔نواں باب’ہندوستان کی لسانی تہذیبیں ‘ہے۔اس میں قدیم دراویدی تہذیب جس کی ابتدا موہن جوداڑو،سندھ اور پنجاب کی قبل آریائی تہذیب اور قدیم تم ادب سے ہوتی ہے ،اس کو بیان کرتے ہوئے آسٹرک تہذیب ، تبّتی برمی تہذیب،ہند آریائی تہذیب، آریائوں کی آمد، ہند آریائی بولیاںوغیرہ کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے جس سے ہندوستان کی لسانی تہذیب کی تکثیریت کو سمجھا جا سکتا ہے۔دسواں باب ’ہند آریائی زبان کی لسانی خصوصیات‘ پر مشتمل ہے۔اس میں قدیم ہند آریائی دورکا جائزہ لیتے ہوئے اس عہد میں ویدی ادبی زبان اور عوامی بولیوں کی نشو ونما کس طرح ہوئی اس کا اجمالی خاکہ پیش کرتے ہوئے ادیچیہ علاقے کی زبان،پراچیہ علاقے کی زبان،مدھیہ دیشہ کی زبان کی صوتی و لسانی خصوصیات کا جائزہ لیا گیاہے۔اس کے علاوہ وسط ہند آریائی دور کی زبانوں اور اس کی لسانی خصوصیات کو پیش کرتے ہوئے جدید ہند آریائی دور کی لسانی خصوصیات کا تفصیل سے احاطہ کیا گیا ہے۔گیارہواں باب’زبان اردو‘ ہے۔اس میں اردو کی قانونی حیثیت اور اس کی ابتدا و ارتقا پر تحقیقی انداز میں روشنی ڈالی گئی ہے۔کتاب میں شامل بارہواں باب’ اردو کے آغاز و ارتقا کے نظریے: ایک تنقیدی جائزہ‘ کے عنوان پر مشتمل ہے۔اس میں مصنف نے اردو کے آغاز و ارتقا کا سامی نظریہ،دکن میں اردو، سندھ میں اردو ، پنجاب میں اردو، پالی سے اردو، پروفیسر مسعود حسین خاں کا نظریہ، اردو اور کھڑی بولی وغیرہ کی روشنی میں اردو کے آغاز کے سلسلے میں مذکورہ نظریات کو استدلالی انداز میں پیش کیا گیا ہے۔اس کے علاوہ تیرہواں اور آخری باب’ دکنی اردو‘ کے عنوان سے شامل ہے۔اس میں دکنی اردو کی لسانی و صوتی خصوصیات کو پیش کرتے ہوئے دکنی میں ہکاریت،طویل مصوتے،دکنی کی صرفی و نحوی خصوصیات،دکن کی لفظیات،رسم الخط اور اوزان و بحورکو بہت ہی واضح انداز میں بیان کیا ہے۔یہ کتاب طلبا و اساتذہ دونوں کے لئے انتہائی مفید اور کار آمد ہے کیونکہ اس میں منصبوبہ سبق کی طرح ہر بات کو بہت ہی منظم انداز میں پیش کیا گیا ہے ۔طلبا کو لسانیات کے اصولوں اور اس کے طریقہ کار کو سمجھنے کے لئے اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔کم قیمت پرقومی کونسل نے لسانیات پر مبنی اس اہم کتاب کو شائع کرکے طلبا و اساتذہ دونوں کی مشکلیں آسان کردی ہیں ۔ یہ کتاب ہر اعتبار سے اچھی ہے ۔امید ہے علمی حلقو ں کی اس کی مزید پزیرائی ہوگی۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

