اردوشاعری میں جدیدیت کا فکری پس منظر – ڈاکٹر انوارالحق

by adbimiras
0 comment

اردو میں جتنے بھی فکری دھارے معرض وجود میں آئے تقریباََ سارے کے سارے مغربی ممالک یا غیرممالک سے مستعار ہیں۔ یہاں ’تقریباََ‘لفظ کے استعمال کی بنیادی وجہ محض احتیاط سے کام لینا ہے۔ جس طرح یہ ایک سچائی ہے اسی طرح ایک دوسری سچائی یہ بھی ہے کہ اردو میں جب کوئی رجحان یاتحریک شروع ہوئی تو جب یہ خود اپنی جائے پیدائش میں مرنے لگی یا اس کا زور ٹوٹا تب اردو میں شروع ہوئی۔ چاہے وہ رومانی تحریک ہو یا اردو کی مقبول ترین تحریک ترقی پسند تحریک ہو یا جدیدیت اور ما بعد جدیدیت۔ مابعد جدید یت کے فکری دھارے میں چونکہ اتنی وسعت رہی کہ اس نے تمام انفرادی نظریات کو اپنے اندر ضم کر لیا نتیجتاََ اس تحریک کے زوال پذیر ہونے کے امکانات عنقا ہو گئے الاّیہ کہ مستقبل میں پھر کوئی ایسی تحریک عمل میں آجائے جو اجتماعیت پر مبنی ہوجس کے آثار دور دور تک نظر نہیں آتے۔  انفرادی نظریات کی آزادی کا  ما بعد جدیدیت میں خاص خیال رکھا گیا ہے۔ یہ ایک دوسری بحث ہے کہ اگر ادب کی فکری محرکات میں انفرادی آزاد خیالی کو اہمیت دی جائے تو تحریکات یا نظریات کی ضرورت ہی کیا ہے۔

ہر دور میں ادب کے تقاضے مختلف رہے ہیں ۔ وقت بدلا ، تقاضے بدلے، جینے کا سلیقہ بدلا، محرکات اور تحریکا ت نے ادب پر اثر ڈالا ۔ انسان با شعور ہوا تو ادب محض آلہ تفنن ہونے کے بجائے با مقصد ہوا۔ مقصدیت کا جب غلبہ ہوا اور اس غلبے کی وجہ سے جب فن مجروح ہونے لگا تب ادب کے تجزیے کی ضرورت پڑی ۔ جب یہ تجزیہ کیا گیا کہ مقصدیت فن پر حاوی ہے اور فن مجروح ہو رہا ہے تو فن پر زور صرف کرنے کی ضرورت محسوس ہوئی۔ نتیجہ کے طور پر جدیدت کا وجود عمل میں آیا۔  انیسویں صدی کے اوائل اور بیسویں صدی کے اواخر میں جدیدیت کی شروعات مغرب میں ہوئی لیکن مزے کی بات یہ ہے کہ جب جدیدیت مغرب میں زوال پذیر ہو چکی تب اردو میں اس کے زیرِ اثر ادبی نمونے سامنے آنا شروع ہوئے۔

جدیدیت سب سے پہلے،  فلسفے کی تحریک کے طور پر ابھری پھر ادب میں اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ ادب میں جدیدیت کا وجود روایت سے بغاوت کی بنیاد پرہوا۔ مغرب میں جدیدیت کے خصائص میں مذہب کا انکار اہم عنصر تھا۔ اس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ وہ مذہب میں یقین نہیں رکھتے ، حالانکہ ان کے زیادہ تر پیش رولادین تھے۔ صرف مذہب ہی نہیں بلکہ تمام اخلاقی محرکات کی نفی جدیدیت کا اہم جزو تھا۔ اس کی بنیاد مذہب سے نفرت نہیں تھی بلکہ مذہب کا کوئی طے شدہ اصول نہیں ہونا تھا۔ یعنی ہر مذہب کے لوگ اپنے مطابق اخلاقیات کے اصول مرتب کرتے تھے اور دوسری وجہ یہ تھی کہ انسانی جذبات پر مذہب کا مکمل کنٹرول تھا۔ (یہ بھی پڑھیں فراق کی تین نظمیں— تشریح و تعبیر – پروفیسر کوثر مظہری )

بیسویں صدی کے اوائل میں دنیا میں بڑی تبدیلیاں رونما ہونے لگی تھیں۔ سائنسی ایجادات اورنئی ٹکنالوجی نے دنیا کی تہذیب پر گہرا اثر ڈالا اور سوچنے سمجھنے کا طریقہ بھی بدلنے لگا۔ اب جدیدسوچ رکھنے والوں کو یہ قطعی گوارا نہیں تھا کہ کوئی نظریہ یا کوئی تحریک ان کے خیالات کو مقید کرے۔ یہاں تک کہ کوئی مذہب بھی ان کے احساسات پر قابض ہو ،ان کو منظور نہیںتھا۔ چونکہ یہ معاملہ مغرب کا تھا تو یورپ میں لوگوں کے جذبات پر پوپ کی حکمرانی سے لوگ تنگ آ چکے تھے اور اب لوگوں کو آزادی چاہیے تھی۔ اس میں وہاں کے چھوٹے چھوٹے راجائوں نے جدیدیوں کا ساتھ دیا تاکہ انہیں مکمل آزادی مل سکے۔ اس میں جو سب سے بڑا نام ابھر کر آیا وہ تھا مارٹن لوتھر کنگ جونیر کا۔ جس نے انجیل کو نئے سرے سے سمجھنے پر زور دیا اور پاپائے روم کی مذہبی اجارہ دری کے خلاف آواز اٹھائی۔

اس کا اثر سماج کے ہر شعبے میں پڑا مگر ادب اور فنونِ لطیفہ زیادہ متاثر ہوئے۔ انیسویں صدی کے اواخر میں لوگ اجتماعیت سے تنگ آ چکے اوروہ اس سے چھٹکارا چاہتے تھے۔ اس زمانے میں فلسفیوں نے با ضابطہ سوچنا شروع کیا کہ کیوں نہ ہم بنے بنائے اور فرسودہ روایتی اصولوں سے انحراف کریں اور ایک نئی تحریک کی بنیاد ڈالیں جس میں ہم ادب، سماج، مذہب ، اخلاقیات یہاں تک کہ ادب اور فنونِ لطیفہ کے نئے معیار وضع کریں۔ سب سے پہلے تو انہوں نے بنے بنائے تمام متھ کو نئے سرے سے دیکھنے کی ہمت جٹانی شروع کی جو آسان نہ تھا۔ لیکن پہلی جنگِ عظیم کے بعد پانی سر سے اونچا ہو چکا تھا۔ اب لوگوں میں روایت کی بندشیں مزید برداشت کرنے کی قوت نہیں بچی تھی۔ جارج لوکاکس نے بنجامن فرینکلن کے فلسفے کی بنیا د پر جدیدیت کی تھیوری سازی کی شروعات کی۔ اسی دور میں ایذرا پاونڈ کے مضامیں کا مجموعہ میکسم شائع ہوا جس کا مقصد  کچھ نیا کرناتھا۔ یہ کتاب انیس سو پینتیس میں لندن سے شائع ہوئی۔

آپ ذرا غور فرمائیں یہ تقریباََ وہی زمانہ تھا جب اردو میں ترقی پسندی کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی۔ یعنی جب مغربی دنیا جدیدیت کی شروعات کر رہی تھی اس زمانے میں اردو میں اس کے ما قبل تحریک کی بنیاد ڈالی جا رہی تھی اور ایسا بھلاکیسے نہیں ہوتا۔ جو ٹکنالوجی کا انقلاب مغرب میں آ چکا تھا اردو بولنے والی اس دنیا میں دور دور تک اس کا شائبہ بھی نہیں تھا۔ جدیدیت اردو میں مغرب سے آئی تو ضرور مگر اس کے فکری اساس میں خالص مغربیت بالکل نہیں تھی۔ یہاں اس جدت پسندی میں یہاں کی تہذیب کا گہرا اثر ہونا فطری تھا۔ یہاں بھی شاعری میں نئے نئے تجربات کیے گئے ۔ لیکن ان تجربات نے فن کی حد تک تو اثر ڈالا مگر فکر کی حد تک اس پر جو اثر ہوا وہ مغرب سے مختلف تھا۔ ترقی پسندوں کے دور میں جو نعرے بازی اور نری مقصدیت کی  بنیاد پڑی تھی روایت کے اس انحراف اور جدت پسندی نے  اس کو فن کارانہ بنانے کے چکر میں اس میں ضرورت سے زیادہ ابہام پیدا کر دیا ۔شاید یہی اس کے زوال کی وجہ بھی بنی ۔ جب فن کو معراج دینے کی غرض سے اس کو اتنا مبہم کر دیا گیا کہ ترسیل کا مسئلہ در پیش آنا شروع ہوا اور روایت سے یہ انحراف فکری اور فنی دونوں لحاظ سے حدپار کرنے لگا ۔

جدیدیت کے تعلق سے ایک مضمون میں گوپی چند نارنگ نے لکھا ہے :

’’سر سید تحریک کی سماجی اور اصلاحی  ترجیحات خاصی واضح تھیں۔ ترقی پسندی کا مقابلہ دقیانوسیت سے تھا اور ہندوستان کی آزادی اور عوامی جد وجہد کا تصور بھی خاصا واضح تھا اور تخلیقی ذہنوں کو اس جانب مائل کرنے میں کوئی پیچیدگی یا دقت نہیں تھی۔ جدیدیت اس معنی میں آئڈیولوجیکل نہ تھی جس معنی میں سر سید تحریک آئڈیولوجیکل تھی۔ جدیدیت کا دعویٰ تھا کہ وہ غیر سیاسی ہے، نیز وجودیت یا اجنبیت ALIENATON کا ایجنڈا ہر چند کہ پیچیدہ تھا، لیکن ترقی پسندی کے سیاسی یعنی مارکسی ایجنڈے کی تردید آسان راہ تھی، اس لیے جدیدیت میں سب سے زیادہ زور اسی پر دیا گیا۔ اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اردو میں جدیدیت ترقی پسندی کے ردِّ عمل کے طور پر ابھری اور جدیدیت کو اتنی نظریاتی تقویت  وجودیت یا اجنبیت سے نہیں ملی جتنی ترقی پسندی کے اینٹی ایجنڈے سے ملی، بلکہ وجودیت یا اجنبیت کی نظریاتی بنیادوں کو بھی اس اینٹی ایجنڈے کے ایندھن کے طور پر استعمال کیا گیا۔‘‘

(جدیدیت کے بعد، گوپی چند نارنگ ، صفحہ ۴۳)

مندرجہ بالا اقتباس سے یہ تو پتہ چلتا ہے کہ جدیدیت ترقی پسندی کے ردِ عمل میںآئی ۔ مگر یہ پتہ نہیں چلتا کہ جدیدیت میں وجودیت کو کیا اہمیت حاصل ہے۔ وجودیت کا فلسفہ جو جدیدیت کی فکری اساس تسلیم کی جاتی ہے۔ جدیدیت کو سمجھنے کے لیے وجودیت کو سمجھنا ضروری ہے ۔ آئیے وجودیت کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔

حسن عسکری نے اپنی کتاب ’جدیدیت ‘ میں لکھا ہے :

’’اب تک یہ فلسفے کا مسئلہ تھا کہ جوہر پہلے آتا ہے عرض بعد میں۔ یہ فلسفی کہتے ہیں کہ عرض پہلے ہے  جوہر بعد میں۔ ان لوگوں کے نزدیک انسان میں دو قسم کا وجود ہے۔ ایک وہ وجود(Being) جو پتھروںکو بھی حاصل ہے، یعنی محض جسمانی وجود۔(یہاں یاد رکھنا چاہیے کہ پرانے فلسفے میںBeing کا لفظ وجود مطلق کے معنی میںاستعمال ہوتا تھا، مگر یہ لوگ اسے وجود خارجی اورمادی کے معنی میں استعمال کرتے ہیں۔) دوسرا وجود وہ ہے جس کا ادراک انسان اپنے حسی یا ذہنی شعور کی مدد سے کرتا ہے۔ اس وجود کو یہ لوگ Existence کہتے ہیں۔ اسی دوسرے قسم کے وجود کو یہ لوگ زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔اور اسے انسان کا ملبہ الامتیاز قرار دیتے ہیں۔ان کی رائے ہے کہ انسان کے وجود کا جوہرماہیئت یا اصلیت کوئی پہلے سے متعین چیز نہیں۔ بلکہ ساری انسانیت کے لیے اس کا تعین حتمی اور مستقل طور پر ہو بھی نہیں سکتا۔ یہ سوال تو صرف فرد کے سامنے آتا ہے۔اور اس وقت آتا ہے جب اسے اپنے وجود کا احساس پیدا ہو۔اور یہ احساس اس وقت پیدا ہوتا ہے جب اسے کوئی داخلی یا خارجی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔ ایسے فیصلے انسان کو ہر وقت کرنے پڑتے ہیں، یہاں تک کہ پانی پینے کے لیے گلاس اٹھاتے ہوئے بھی ۔غرض فرد کو ہر لمحے کوئی نہ کوئی فیصلہ کرنا پڑتا ہے۔اور ہر فیصلے کے ساتھ وہ اپنے جوہر اور اپنی ماہیت کا تعین کرتا ہے۔ لیکن چونکہ ہر لمحہ نئی قسم کا فیصلہ کرنا پڑتا ہے، اس لیے ماہیت کا تعین بھی مستقل طور سے نہیں ہو سکتا۔ہر فیصلے اور ہر لمحے کے ساتھ جوہر اور ماہیت کا تعین بھی بدلتا رہتا ہے۔ اس سارے فلسفے کا خلاصہ یہ ہے :

۱۔ اپنی ماہیت کا تعین انسان خود کرتا ہے، خدا نہیں۔

۲۔ اس ماہیت کا تعین عمل کے ذریعہ ہوتا ہے۔

۳۔یہ ماہیت مستقل چیز نہیں بلکہ بدلتی رہتی ہے ‘‘

(جدیدیت، حسن عسکری، صفحہ ۸۹۔۹۰)

مندرجہ بالا اقتباس میں وجودیت کے جس پیچیدہ فلسفے کا ذکر ہے در اصل یہی وجودیت ، جدیدیت کا فلسفہ ہے۔ اس نہایت ہی پیچیدہ فلسفے کو سمجھنا اور اس کو جدیدیت کا محور مان کر شاعری کرنا آسان کام نہیں تھا۔ ایسے میں نارنگ کی یہ بات فطری معلوم ہوتی ہے کہ سب سے آسان کام تھا ترقی پسندوں کی نفی کرنا۔ اور اگر مان لیا جائے کہ نارنگ کی یہ بات صحیح نہیں ہے اور جدیدیت در اصل وجودیت اور اجنبیت کے فلسفے کو لے کر آگے بڑھی ہے تو بھی اردو میں ایسے شعرا انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں جن کو جدیدیت کے اصل فلسفے سے سر وکار تھا۔ زیادہ تر ادبا و شعرا وجودیت کے واو سے بھی علاقہ نہیں رکھتے تھے۔ ان تمام باتوں سے قطعِ نظر ایک مسلم حقیقت یہ ہے کہ ترقی پسندوں کی ہم لاکھ برائیاں کر لیں ، چاہے ہم یہ کہہ لیں کہ انہوں نے شاعری کو سلوگن اور نعرہ بنا کر رکھ دیا تھا، ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ترقی پسندوں کے دور میں شعرا کو اپنے انفرادی جذبات کے اظہار میں مشکلیں ہوئیں ۔ہم کہہ سکتے ہیں کہ ادیب و شاعر اجتماعی سوچ سے الگ نہیں جا سکتا تھا۔ ان تمام الزامات کے باوجود ہم اس حقیقت سے انکار نہیں کرسکتے کہ اردو شاعری میں ترقی پسندوں کی تحریک نے نئی جان پھونک دی۔ بعض ترقی پسندوں نے فن کا اعلی نمونہ پیش کیا۔ ہاں اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا کہ کچھ ترقی پسندی کے دیوانے حد سے تجاوز کر گئے۔ اور اس کا اردو شاعری پر بے حد منفی اثر پڑا۔ اسی طرح اس سے ما قبل سر سید تحریک کے مثبت اثر ات کا بھلا کون انکار کر سکتا ہے۔ لیکن کیا یہ بات درست نہیں کہ یہ وہی زمانہ تھا جس میں اردو کی شان سمجھی جانے والی صنف قصیدہ کا زوال شروع ہو گیا۔علی گڑھ تحریک ہی کی حرارت نے مد وجزرِ اسلام، جیسی نظموں کو وجود بخشا۔ اسی طرح ترقی پسند دور میں بیدار ہو ، بیدار ہو!، انقلاب زندہ باد کی شاعری کے ساتھ ساتھ فیض اور مجاز جیسے لطیف آہنگ کے شعرا کی ادبی خدمات کاکون انکار کر سکتا ہے؟

اسی طرح جدیدیت کا ادب اظہارِ ذات کی آزادی کا خواہاں رہا۔ فن کا تعین قدر فنی لوازمات کی بنا پر ہوا اور اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس طرح کچھ مبہم اور بے تکی نظمیں جدیدیت کے زیرِ اثر منظرِ عام پر آئیں وہیں  خلیل الرحمن اعظمی کی نظمیںـ’میںگوتمنہیںہوں‘اور’لمحےکیموت‘وحیداخترکی’اجنبی‘’کھنڈرآسیباورپھول‘باقرمہدیکینظمیں’ریتاوردرد‘’شام‘’ایکدوپہر‘وزیرآغاکی’ڈھلان‘’بانجھ‘’کوہِندا‘ساقیفاروقیکینظم’شیرامدادعلیکامینڈک‘شمسالرحمن فاروقی کی نظم’ شیشۂ ساعت کا غبار‘ وغیرہ وہ نظمیں ہیں جن کی عظمت کا اردو شاعری  میں کوئی انکار نہیں کر سکتا۔

تو بات در اصل یہ ہے کہ ہر دور میں اچھی بری شاعری ہوئی ہے، آج بھی ہر طرح کی شاعری ہو رہی ہے، اور آئندہ بھی ہوتی رہے گی ۔ مسئلہ ادب کا یہ نہیں کہ کس دور میں یا کس تحریک کے دوران اچھی یا بری شاعری ہوئی ہے۔ معاملہ در اصل یہ ہے کہ اچھی یا بری شاعری کا ہم نے کب، کس دور میں کیا معیار مقرر کیا اور ان معیارات کی تشکیل کے بنیادی عوامل کیا تھے۔ جب ہم ان عوامل پر غور کرتے ہیں تب اس کے فکری اثاثے کی اہمیت کا پتہ چلتا ہے۔ یہ وہ بنیادی عوامل ہیں جن سے تحریکا ت اور رجحانات کو الگ کیا ہی نہیں جا سکتا۔ کسی بھی فن پارے کی پرکھ کر تے وقت ہم ان کو ان کے فکری دھاروں سے الگ نہیں کر سکتے ور نہ ان کا معیار متعین کرنا ناممکن ہو جائے گا۔

دوسر ی مشکل یہ بھی ہے کہ ہر دور کے اپنے تقاضے ہوتے ہیں ان تقاضوں کی بنیاد پر تحریکیں بنتی ہیں، پھر جب تقاضے بدلتے ہیں تو پرانی تحریکیں دم توڑنے لگتی ہیں اور نئی تحریکیں وجود میں آتی ہیں ۔ ایسے میں مسئلہ یہ در پیش ہوتا ہے کہ ہم دو الگ الگ ادوار کی تخلیقات کا تقابلی مطالعہ کیسے کر سکتے ہیں جب کہ دونوں کے فکری پس منظر میں ایک بڑا فرق ہوتا ہے۔ مثلاََ اگر ہم سر سید تحریک کے دور کی شاعری کا موازنہ آج کے دور کی شاعری سے کریں تو ان میں تعینِ قدر کا معیار کیا ہوگا۔ فن کا تقابل تو کسی طور کیا بھی جا سکتا ہے حالانکہ وہ بھی آسان نہیںفکری اعتبار سے موازنے کی تو کوئی گنجائش ہی نہیں۔ معاملہ یہ ہے کہ اگر دو مختلف تخیلق کاروں کا جو ایک ہی عہد کے ہوںتقابل کیا جا ئے تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر دو مختلف ادوار کے شعرا کے کلام کا موازنہ آسان نہیں۔ اگر ایسا ہے تو ایسے میں جدیدیت کے فکری تفاعل کا تقابل کسی اور دور کے فکری تفاعل سے کر کہ یہ طے کرنا کہ کون سے فن پارے کا فکری پس منظر زیادہ کار گر ہے ممکن ہی معلوم نہیں ہوتا۔  ہاں فنی بنیادپر ایسا کر نا کسی حد تک ممکن ہے۔ چونکہ فن کا معیار بھی زمانے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتا رہتا ہے۔ مثال کے طور پر اگر ہم ترقی پسند تحریک کے دورکی تخلیقات کا تنقیدی تجزیہ ان پیمانوں پر کریں جو جدیدیت یا ما بعد جدیدیت کے زمانے میں وجود پزیر ہوئے تو ظاہر ہے ہم وفانہیں کر پائینگے۔ اسی طرح اگر جدیدیت کی شاعری کو پرکھنے کے لیے ترقی پسندوں کے بنائے ہوئے اصول استعمال نہیں کیے جا سکتے۔ تخلیقات کی قدروں کا تعین زمانی و مکانی تقاضوں پر مبنی تنقیدی اصول پر کیا جا سکتا ہے۔ اس سلسلے میں جدیدیت کی فلسفیانہ اساس کے مصنف شمیم حنفی کی رائے ملاحظہ فرمائیں:

’’یہ صحیح ہے کہ ہر فکر ایک مخصوص صورتِ حال سے غذا پاتی ہے لیکن اس صورتِ حالات کے زمانی و مکانی انسلاکات سے آگے بڑھ کراس کے اصل جوہر کی احاطہ بندی اس فکر کو بھی وسیع ترمعنویت سے روشناس کراتی ہے اور لمحاتی صداقتوں میںآفاقی صداقت کا سراغ لگاتی ہے مارکسزم معینہ مفادات کے اثبات سے آگے ہماری رہبری نہیں کر سکتی۔ طبقاتی جد و جہد کوذرائع پیداوار کی ترقی کے عبوری دور ہی کے لیے ناگزیر کہا جا سکتا ہے۔اس دور سے گزرنے کے بعد جد و جہدکی کامیابی کی صورت میںایک غیر طبقاتی معاشرہ وجود میں آ جائے گاجہاں نظریاتی جنگ ہوگی نہ استحصال کے ہنگامے ۔ اس مقام تک پہنچنے کا مطلب یہ ہوگاکہ انسان بالآخر ایک ایسے معاشرے کا خواب پورا کر چکا ہے جہاں اس کی اپنی ذات معاشرے میں گم ہو چکی ہے۔اب وہ ایک سماجی اور اقتصادی وجود کی علامت ہوگا۔‘‘

(جدیدیت کی فلسفیانہ اساس، شمیم حنفی، صفحہ ۱۱۵۔۱۱۶)

اقتباسِ بالا کے مطابق اگر دیکھا جائے تو میری رائے کو تقویت ملتی ہے حالانکہ یہاں شمیم حنفی بات ترقی پسندی کے تعلق سے کر رہے ہیں۔ در اصل یہی امر جدیدیت پر بھی صادق آتا ہے۔ ترقی پسندوں کے فکری میلانات سے کسی کو اتفاق یا اختلاف ہو سکتا ہے،  ان کی خدمات کا اعتراف ناگذیر ہے۔ اسی طرح جدیدیت کے فکری میلانات سے آپ متفق ہوں یا نہ ہوں جدیدیت کے خدمات کا اعتراف لازم ہے۔ اب رہی بات فکری پس منظر کی تو ترقی پسندوں میں معاشرہ یا سماج اہم تھا فرد کو وہ اہمیت حاصل نہیں تھی جب کہ جدیدیت کا فکری میلان یہ تھا کہ اس نے فرد کو سماج سے الگ ایک شناخت دی۔ وجودیت یا اجنبیت کا فلسفہ رائج کیا۔  لیکن افسوس اس بات کا ہے کہ اپنے ما قبل کے اینٹی ڈوٹ کے طور پر ترقی پسند اتنے متشدد ہوئے کہ انتہا پسندی پر اتر آئے ۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح جدیدیت کے متوالوں نے ترقی پسندوں کی مخالفت میںشدت دکھائی۔ بہر حال سب ہی نے بیش بہا خدمات انجام دیں۔ہاں تھوڑے بہت منفی اثرات بھی مرتب ہوئے مگر یہ محض ماقبل کی مخالفت میں انتہا پسندی کی وجہ سے ہوئے۔ جدیدیت کے بعد کی تحریکوں میں، ما بعد جدیدیت میں اس بات کا خاص خیال رکھا گیا کہ ان کا دامن وسیع رہے اور ان کے یہاں ہر طرح کی فکر کے رد و قبول کا دروازہ کھلا رہے تاکہ ان کا حشر ماقبل تحریکوں جیسا نہ ہو۔ مستقبل تو کوئی نہیں جانتا۔ مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ ہر دور کی تحریک خود کو جدید سمجھتی ہے اور اپنے ما قبل کے مقابلے میں جدید ہوتی بھی ہے۔تجدیدہر زندہ ادب کا مقدر ہوتی ہے۔

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment