Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      دو گھنٹے کا مسلمان – ترجمہ: وسیم احمد…

      مئی 24, 2026

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

ملک زادہ منظور کا رنگ تغزل – ڈاکٹر عائشہ پروین

by adbimiras مارچ 11, 2021
by adbimiras مارچ 11, 2021 0 comment

ملک زادہ منظور احمد(1929-2016)کی عام شہرت و مقبولیت ایک ناظم مشاعرہ کی ہے۔ لیکن  جو سرمایہ انھوں نے نثر میں چھوڑا ہے، وہ اردو ادب میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا انداز بیان اردو نثر نگاری میں انھیں منفرد بناتا ہے۔لیکن نظامت نے ان کے سارے کارنامے کو پس پشت ڈال دیا،کیونکہ اس کے لیے انھوں نے خود کو اتنا مصروف کر لیا کہ شاید تخلیقی صلاحیت کے ہوتے ہوئے بھی اسے اس طرح وقت نہیں دے سکے ،جس کی وہ متقاضی تھی۔ ’رقص شرر‘ ان کی  خود نوشت ہے ۔ جس نے ملک زادہ منظور کوعوام یا قارئین کی سطح پر نظامت کی دنیا سے نکال کر، ایک نئے روپ میں پیش کیا۔بلاشبہ وہ ایک تخلیق کار تھے۔ ان کی نثر اور شاعری اس کی واضح مثال ہے۔ انھوں نے فکشن(ناول، افسانے)میں اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن یہ سلسلہ بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکا۔ان کی اصل پہچان ایک ناظم مشاعرہ کے علاوہ ایک اعلی پائے کے شاعر کے طور پربھی ہے۔ انھوں نے غزلیہ شاعری کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔اس مضمون میں اسی حوالے سے گفتگو کرنا میرا مقصد ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شاعری کا کوہِ آتش فشاں : راحت اندوری- ڈاکٹر خالد مبشر )

ملک زادہ منظور کی غزلیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سماجی صورت حال کا بغور مشاہدہ کیاہے ۔انھوں نے جو کچھ محسوس کیا اسے بے کم و کاست شاعری کے پیکر میں ڈھال کر قارئین کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کی غزلوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنی کرب سے کبھی فرار کی راہ اختیار نہیںکی۔ بلکہ اس کا سامنا کیا۔ اس کی جھلک نہ صرف ان کی شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہے، بلکہ عملی طور پر ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے اس کی غمازی ہوتی ہے۔انھوں نے زندگی اور متعلقات زندگی کو بہت خوبصورتی سے اپنی شاعری میں برتا ہے۔ملک زادہ منظور کی شاعری عموماً اپنے دور کے حالات کی ترجمانی کہی جاسکتی ہے ۔ جس کی معنویت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انھوں نے ایسے دور میں آنکھیں کھولیں جس میں ہندوستان کی حیثیت ایک غلام ملک کی تھی۔ اس وقت ہندوستانیوں کے لیے حالات سازگار نہیں تھے۔ جس کا بھر پور احساس ان کی شاعری کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے کبھی خود کوحالات کے سپرد نہیں کیا،بلکہ ان کے سامنے سینہ سپر رہے۔ان کی شاعری میں کلاسیکی شاعری کی گونج سنائی دیتی ہے ، انھوں نے سستی اورعوامی شاعری کے بجائے اپنی شاعری میں کلاسیک کے ان اوصاف کو باقی رکھا ، جو شاعری کو معیاری بناتے ہیں اور اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ انھوں نے شاعری کے مختلف تلازموں کو نئے انداز میں پیش کیا ہے ، جو نہ صرف مطالعہ کے دوران ذہن کو تازگی بخشتے ہیں ،بلکہ قاری کو اس طرف متوجہ بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں کیا اورکس رنگ سے پیش کیا ہے، اس کا انھیں بخوبی اندازہ تھا۔ان کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:

سب نے سنی ہے جس میں عصر رواں کی دھڑکن

منظور ہم نے ایسا ساز غزل دیا ہے

پڑھ چکا اپنی غزل منظور تو ایسا لگا

مرثیہ تھا دور حاضر کا ،غزل خوانی نہ تھی

درج بالا اشعار میں شاعر یعنی ملک زادہ منظور احمد خود یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں عاشق و معشوق جو کہ ایک قت تک شاعری کا پسندیدہ موضوع سمجھا جاتارہا  ہے، اور آج بھی بہت سے شعرا اس کو ترجیح دیتے ہیں ،اس کے بجائے زمانے کی گردش کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ جس کا انداز بیان روکھا نہیں، بلکہ نغمگی سے بھر پور ہے۔ ہاں کہیں کہیں عشقیہ رنگ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔لیکن زیادہ تر ایسے اشعار وسیع معنوں میں اپنے عہد کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں یہ رنگ دوسرے تمام رنگوں پر تو حاوی ہے ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں دوسرے موضوعات کو نہیں برتا۔ چند اشعار اس ضمن میں بھی ملاحظہ ہوں:

تعلق ان سے ٹوٹا تھا ، نہ ٹوٹا ہے ، نہ ٹوٹے گا

بہت مضبوط زنجیر وفاداری بھی ہوتی ہے

جب ترا غم مری پلکوں پہ سنور جاتا ہے

چہرۂ گردش ایام ا تر جاتا ہے

تری پاکیزہ نگاہی کا تصرف توبہ

درد کا کوئی بھی لمحہ ہو گزرجاتا ہے

تار ہے باقی متاع سوز و ساز زندگی

عاشقی میں اک رقیب رو سیہ پیدا کرو

عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر

شاید وہ کچھ سوچ رہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے

کاش دولت غم ہی اپنے پاس بچ رہتی

وہ بھی ان کو دے بیٹھے ایسی مات کھائی ہے

مانع دید نہیں تابش رخسار جمال

عشق خود شدت جذبات سے ڈر جاتا ہے

زندگی کتنی ہے وابستۂ نیرنگ جمال

وہ سنورتے ہیں تو احساس سنور جاتا ہے

حسن ہے ان میں ترا میرے جنوں کا انداز

پھول بھی لے کے عجب شکل و شباہت آئے

درج بالا اشعار کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اشعار زندگی میں پائے جانے والے  لطیف احساسات سے مملو ہیں۔ زندگی میں پائی جانے والی وہی حقیقت ان میں موجود ہے، جو اصل زندگی کا خاصہ ہوتی ہے ۔ان موضوعات کو دوسرے شعرا نے بھی اپنے کلام میں برتا ہے،  لیکن ملک زادہ منظور نے دوسرے شعرا کی تقلید کرنے کے بجائے اپنا منفرد اندا ز بیان وضع کیا۔آخری شعر میں عاشق معشوق کی تعریف کے ساتھ ساتھ اپنی بھی خصوصیت بیان کردیتا ہے کہ پھول میں عجب حسن ہے جو تیری شباہت رکھتا ہے اور دوسری خصوصیت میرا جنوںہے ، جس سے مراد اس کی خوشبو سے ہے ،یعنی کہ اس کی خوشبو جو شکل و صورت سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ یہاں شاعر نے معشوق پر عاشق کو فوقیت دی ہے۔ اس شعر کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو شاعری کی روایت میں ہمارے کلاسیکی شعرا نے معشوق کی شان میں قصیدے کہے ہیں اور یہ روایت اب بھی باقی ہے ،لیکن ملک زادہ منظور کا انداز یہاں منفرد ہے۔ انھوں نے عشقیہ موضوع سے زیادہ ایسے موضوع کو اہمیت دی جو اس عہد کی ضرورت تھی ۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:

تپتے ہوئے صحرا میں بھی کچھ پھول کھلائیں

کب تک لب و رخسار کا افسانہ کہا جائے

اس شعر کے الفاظ اس طرف صاف طور سے اشارہ کرتے ہیں کہ اب یہ وقت نہیں کہ لب و رخسار کے قصیدے پڑھے جائیں، بلکہ یہ وقت صحرا میں پھول کھلانے کا ہے، یعنی اپنی قوم و ملت کے استحکام کے لیے سعی کرنے کا ہے۔ان کے دل میں اپنے ملک اور قوم سے درد مندی تھی ، یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر شعری سرمایہ اسی کے ارد گرد گھومتا نظر آتا ہے۔انسانی درد مندی کی زیریں لہریں ان کے یہاں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ موجودہ سماج میں انسانی قدروں کو بھی انھوں نے اپنی شاعری کاموضو ع بنا یا ہے ۔ان کے یہاں انسانی قدروں کی پامالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔اس ضمن میں چند اشعار قابل غور ہیں،ملاحظہ ہو:

وہی قاتل ، وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد

بہت سے فیصلوں میں اب طرفداری بھی ہوتی ہے

وہ میرا دوست ہے منظور لیکن جب بھی ملتا ہے

خلوص دل میں شامل کچھ ریا کاری بھی ہوتی ہے

بستی بستی ظلم فراواں کل بھی تھا اور آج بھی ہے

امن و سکوں اک خواب پریشاں کل بھی تھا اورآج بھی ہے

درج بالا تمام اشعار میں انسانی اقدار کی عدم موجودگی کو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔ان میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والے زمانے کے وہ مسائل موجو د ہیں، جو اب عام ہو چکے ہیں ، اور عام طو ر پرانسان ان کی عدم موجودگی کا عادی ہو گیا ہے ۔بہر کیف ملک زادہ منظور ان اقدار کی اہمیت کو ضروری خیال کرتے ہیں ۔ بغیر اخلاقی اقدار اور انسانیت کے انسان پستی کی طرف مائل ہوتا جارہا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ انسانی اقدار کا پاس رکھا جائے۔اگرچہ ملک زادہ منظور انسانیت کے حامی ہیں ،اسی طرح وہ نئے زمانے کے تمام حالات کو بھی دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور ان سے ہم آہنگی کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے اس دور کاسامنا کیا ،جو ہندوستان کی تاریخ کا سخت اور تاریک دور تھا ، انھوں نے آزادہندوستان میں بھی اپنی زندگی کا ایک طویل عر صہ گزارا۔ یہی سبب ہے کہ وہ نہ صرف غلام ،بلکہ آزاد ہندوستان کی رگ و پے سے واقف تھے ۔اس متعلق انھیں نہ صرف حالات و واقعات سے واقفیت تھی ،بلکہ انسان کی پرکھ بھی تھی ۔وہ انسانیت کے خوگر تھے۔ ان کے اشعارانسان کے دونوں پہلوؤں(منفی اور مثبت پہلو) کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی سبب ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں یہ کہنے پرآ مادہ ہوئے ہوں :

کر سکیں کس پر بھروسہ ایک بھی ایسا نہیں!

یوں تو ہیں منظور یاں اپنے بھی صد ہا آشنا

عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں

کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے

آئینہ سامنے آئے گا تو سچ بولے گا

آپ چہرے جو بدلتے ہیں بدلتے رہیے

قصۂ مہر ووفا ، وہم و گماں نکلا ہے

دوست سمجھے تھے جسے دشمن جاں نکلا ہے

میکدہ کا اسی ساقی پہ بھرم ہے منظور

تشنہ لب رہ کے جو ارورں کو پلا دیتا ہے

ملک زادہ منظور وقت کے ہاتھوں مجبور نہیں ہوئے، بلکہ وہ تمام تبدیلیوں او ر ملک کے غلام ہونے کے باوجود زندگی کو اپنے طور سے گزارنے کے قائل تھے، وہ غلامی انگریزوں کے ذریعے ہو یا پھر اپنوں کے منفی سلوک کی بنا پر ، انھوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔اس کا واضح ثبوت رقص شرر کے مطالعے سے بخوبی ہوتا ہے۔اس حوالے سے وہ اپنے خیالات کو شعری پیکر عطا کرتے ہوئے کہتے ہیں:

ہر قدم مرحلۂ مرگ تمنا ہے مگر

زندگی پھر بھی ترا ساتھ نہ چھوڑا جائے

محمل ظلمت کے تارو،یہ بھی سوچا ہے کبھی

کاروانِ لیلۂ شب صبح کی منزل میں ہے

گر کبھی میں نے جلائی ہے یقیں کی قندیل

نار نمرود میں بھی پھول کھلائے میں نے

موم کی طرح پگھل جائے گا شب کا فولاد

دست داؤد کی توفیق خدا سے مانگو

درج بالا اشعار کے مطالعے سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حالات سے مایوس نہیں ہیں، بلکہ وہ زندگی گزارنے کے نئے نئے طریقے پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کے کلام میں ہمیں کہیں کہیں ایسے اشارے ملتے ہیں جس میں درد کی لہریں نمودار ہوتی ہیں ۔گر چہ اسے نا امیدی سے تعبیر نہیں کیاجا سکتا، لیکن یہ حالات کے جبر کا نتیجہ ضرور کہے جا سکتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:

چارہ گران دہر مسیحا نفس ہیں جب

کیوں ڈوبتی ہے نبض جہاں کچھ جواب دو

میں نے کشتی چھوڑ دی طوفاں کی زد پر دوستو

تم بتاؤ امن کتنا دامن ساحل میں ہے

کشکول چشم لے کے پھرو تم نہ در بدر

منظور قحط جنس وفا کا یہ سال ہے

درج بالا اشعار میں ایک ڈوبتی ابھرتی امید کی کیفیت کا علام نظر آتا ہے ، کیونکہ اس میں سوا ل قائم کیا گیا ہے ۔آخری دونوں اشعار میں دو لفظوں ’کشکول چشم اور کشکول ذات‘کے خوبصورت امتزاج کو بہترین طریقہ سے پیش کیا گیا ہے۔’ کشکول ‘دراصل وہ شے ہے، جسے لے کر فقیر بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنا باعث ننگ ہے۔جسے کوئی بھی با ضمیر انسان کبھی گوارا نہیں کرے گا ۔ اس لحا ظ سے ان کے نزدیک انسان کی عزت نفس ضروری ہے ۔یہی نہیں ان کے یہاں حالات پر قابو رکھنے کا حوصلہ ملتا ہے ، کیونکہ وہ حالات کے سامنے سرنگوں ہونے کے قائل نہیں ہیں ،بلکہ مردانہ وار مقابلہ کو فوقیت دیتے ہیں۔شعر ملاحظہ ہو:

مت بنائو ید بیضا کو گدا کا کشکول

وقت فرعون ہو جب ضرب عصا سے مانگو

جلائیں دل کہ سمٹ جائے تیرگی شب کی

نہ جانے کب ہو سحر کون انتظار کرے

ملک زادہ منظور آزادی سے قبل اور اس کے بعد کے حالات سے متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان حالات پر بھی اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔خاص طور سے دلی سے متعلق لکھتے ہیں کہ:

چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے

جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے

اب خون کو مئے قلب کو پیمانہ کہا جائے

اس دور میں مقتل کو بھی مے خانہ کہا جائے

صحن گلشن میں چلی ایسی ہوا اب کے برس

گل تو گل چاک ہے گلچیں کی قبا اب کے برس

غرض اس ضمن میں انھوں نے مختلف اشعار کہے ہیں، جن کی معنویت اس لیے بھی مسلم ہے کہ ان میں نہ صرف ایک صدی کی گونج سنائی دیتی ہے، بلکہ حالات حاضرہ کا بھی عکس دکھائی دیتا ہے۔آج کی سیاسی زندگی پر ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:

وقت شاہد ہے کہ ہر دور میں عیسیٰ کی طرح

ہم صلیبوں پہ لیے اپنی صداقت آئے

ملک زادہ منظور نے اپنی شاعری کو جدید دور کے حالات سے ہم آہنگ رکھا ہے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں لوازمات ِ شاعری یعنی تلمیح ، استعارہ اورتشبیہہ جیسے فنی لوازمات کو نئی جہتوں کے ساتھ برتنے اور کامیاب بنانے کی سعی کی ہے۔انھوں نے زبان و بیان کے مسئلے پر بھی زور دیا ہے ، لیکن وہ زبان پر مسئلے یا موضوع کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں:

منظور ہے حیات کی تفسیر شعر میں

لائیں کہاں سے لطف زباں کچھ جواب دو

اس شعر میں موضوع کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک زادہ منظور زبان کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ان کی شاعری کی زبان شستہ ،عام اور سادہ ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے غزل کے موضوعات کو معشوق کی زلفوںکی اسیری سے نکال کر، حالات حاضرہ کے موضوعات کو پرونے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اسی لیے ہمیں ان کی شاعری میں عشقیہ موضوع کے ساتھ ساتھ سماجی اورسیاسی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ملک زادہ کی غزلیہ شاعری کسی خاص معنی میں مقید نہیں ہے، بلکہ ان کے موضوعات اتنے متنوع ہیں کہ پورا سماج نظر آتا ہے۔اپنی انھیں خصوصیات کی بنا پر وہ نہ صرف خواص میں مقبول ہیں، بلکہ انھیں قبول عام بھی حاصل ہے۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

عائشہ پروینملک زادہ منظور
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
فراق:ہندوستانی ثقافت کا شعری پیکر – ڈاکٹر شاہ نواز فیاض
اگلی پوسٹ
اردوشاعری میں جدیدیت کا فکری پس منظر – ڈاکٹر انوارالحق

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,135)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (34)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں