ملک زادہ منظور احمد(1929-2016)کی عام شہرت و مقبولیت ایک ناظم مشاعرہ کی ہے۔ لیکن جو سرمایہ انھوں نے نثر میں چھوڑا ہے، وہ اردو ادب میں ایک اضافہ کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کا انداز بیان اردو نثر نگاری میں انھیں منفرد بناتا ہے۔لیکن نظامت نے ان کے سارے کارنامے کو پس پشت ڈال دیا،کیونکہ اس کے لیے انھوں نے خود کو اتنا مصروف کر لیا کہ شاید تخلیقی صلاحیت کے ہوتے ہوئے بھی اسے اس طرح وقت نہیں دے سکے ،جس کی وہ متقاضی تھی۔ ’رقص شرر‘ ان کی خود نوشت ہے ۔ جس نے ملک زادہ منظور کوعوام یا قارئین کی سطح پر نظامت کی دنیا سے نکال کر، ایک نئے روپ میں پیش کیا۔بلاشبہ وہ ایک تخلیق کار تھے۔ ان کی نثر اور شاعری اس کی واضح مثال ہے۔ انھوں نے فکشن(ناول، افسانے)میں اپنی غیر معمولی تخلیقی صلاحیت کا ثبوت دیا ہے۔ لیکن یہ سلسلہ بہت دنوں تک قائم نہیں رہ سکا۔ان کی اصل پہچان ایک ناظم مشاعرہ کے علاوہ ایک اعلی پائے کے شاعر کے طور پربھی ہے۔ انھوں نے غزلیہ شاعری کا بہترین نمونہ پیش کیا ہے۔اس مضمون میں اسی حوالے سے گفتگو کرنا میرا مقصد ہے۔ ( یہ بھی پڑھیں شاعری کا کوہِ آتش فشاں : راحت اندوری- ڈاکٹر خالد مبشر )
ملک زادہ منظور کی غزلیہ شاعری کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے سماجی صورت حال کا بغور مشاہدہ کیاہے ۔انھوں نے جو کچھ محسوس کیا اسے بے کم و کاست شاعری کے پیکر میں ڈھال کر قارئین کے سامنے پیش کر دیا۔ ان کی غزلوں کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے اپنے ذہنی کرب سے کبھی فرار کی راہ اختیار نہیںکی۔ بلکہ اس کا سامنا کیا۔ اس کی جھلک نہ صرف ان کی شاعری میں دیکھنے کو ملتی ہے، بلکہ عملی طور پر ان کی زندگی میں پیش آنے والے حالات و واقعات سے اس کی غمازی ہوتی ہے۔انھوں نے زندگی اور متعلقات زندگی کو بہت خوبصورتی سے اپنی شاعری میں برتا ہے۔ملک زادہ منظور کی شاعری عموماً اپنے دور کے حالات کی ترجمانی کہی جاسکتی ہے ۔ جس کی معنویت سے انکار نہیں کیا جا سکتا ۔انھوں نے ایسے دور میں آنکھیں کھولیں جس میں ہندوستان کی حیثیت ایک غلام ملک کی تھی۔ اس وقت ہندوستانیوں کے لیے حالات سازگار نہیں تھے۔ جس کا بھر پور احساس ان کی شاعری کے مطالعہ سے ہوتا ہے۔ لیکن انھوں نے کبھی خود کوحالات کے سپرد نہیں کیا،بلکہ ان کے سامنے سینہ سپر رہے۔ان کی شاعری میں کلاسیکی شاعری کی گونج سنائی دیتی ہے ، انھوں نے سستی اورعوامی شاعری کے بجائے اپنی شاعری میں کلاسیک کے ان اوصاف کو باقی رکھا ، جو شاعری کو معیاری بناتے ہیں اور اسے معنویت عطا کرتے ہیں۔ انھوں نے شاعری کے مختلف تلازموں کو نئے انداز میں پیش کیا ہے ، جو نہ صرف مطالعہ کے دوران ذہن کو تازگی بخشتے ہیں ،بلکہ قاری کو اس طرف متوجہ بھی کرتے ہیں۔ انھوں نے اپنی شاعری میں کیا اورکس رنگ سے پیش کیا ہے، اس کا انھیں بخوبی اندازہ تھا۔ان کی شاعری کے چند نمونے ملاحظہ ہوں:
سب نے سنی ہے جس میں عصر رواں کی دھڑکن
منظور ہم نے ایسا ساز غزل دیا ہے
پڑھ چکا اپنی غزل منظور تو ایسا لگا
مرثیہ تھا دور حاضر کا ،غزل خوانی نہ تھی
درج بالا اشعار میں شاعر یعنی ملک زادہ منظور احمد خود یہ اعتراف کرتے نظر آتے ہیں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں عاشق و معشوق جو کہ ایک قت تک شاعری کا پسندیدہ موضوع سمجھا جاتارہا ہے، اور آج بھی بہت سے شعرا اس کو ترجیح دیتے ہیں ،اس کے بجائے زمانے کی گردش کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا ہے۔ جس کا انداز بیان روکھا نہیں، بلکہ نغمگی سے بھر پور ہے۔ ہاں کہیں کہیں عشقیہ رنگ بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔لیکن زیادہ تر ایسے اشعار وسیع معنوں میں اپنے عہد کی ترجمانی کرتے نظر آتے ہیں۔ ان کے یہاں یہ رنگ دوسرے تمام رنگوں پر تو حاوی ہے ،لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ انھوں نے اپنی شاعری میں دوسرے موضوعات کو نہیں برتا۔ چند اشعار اس ضمن میں بھی ملاحظہ ہوں:
تعلق ان سے ٹوٹا تھا ، نہ ٹوٹا ہے ، نہ ٹوٹے گا
بہت مضبوط زنجیر وفاداری بھی ہوتی ہے
جب ترا غم مری پلکوں پہ سنور جاتا ہے
چہرۂ گردش ایام ا تر جاتا ہے
تری پاکیزہ نگاہی کا تصرف توبہ
درد کا کوئی بھی لمحہ ہو گزرجاتا ہے
تار ہے باقی متاع سوز و ساز زندگی
عاشقی میں اک رقیب رو سیہ پیدا کرو
عرض طلب پر اس کی چپ سے ظاہر ہے انکار مگر
شاید وہ کچھ سوچ رہ ہو ایسا بھی ہو سکتا ہے
کاش دولت غم ہی اپنے پاس بچ رہتی
وہ بھی ان کو دے بیٹھے ایسی مات کھائی ہے
مانع دید نہیں تابش رخسار جمال
عشق خود شدت جذبات سے ڈر جاتا ہے
زندگی کتنی ہے وابستۂ نیرنگ جمال
وہ سنورتے ہیں تو احساس سنور جاتا ہے
حسن ہے ان میں ترا میرے جنوں کا انداز
پھول بھی لے کے عجب شکل و شباہت آئے
درج بالا اشعار کے مطالعہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے اشعار زندگی میں پائے جانے والے لطیف احساسات سے مملو ہیں۔ زندگی میں پائی جانے والی وہی حقیقت ان میں موجود ہے، جو اصل زندگی کا خاصہ ہوتی ہے ۔ان موضوعات کو دوسرے شعرا نے بھی اپنے کلام میں برتا ہے، لیکن ملک زادہ منظور نے دوسرے شعرا کی تقلید کرنے کے بجائے اپنا منفرد اندا ز بیان وضع کیا۔آخری شعر میں عاشق معشوق کی تعریف کے ساتھ ساتھ اپنی بھی خصوصیت بیان کردیتا ہے کہ پھول میں عجب حسن ہے جو تیری شباہت رکھتا ہے اور دوسری خصوصیت میرا جنوںہے ، جس سے مراد اس کی خوشبو سے ہے ،یعنی کہ اس کی خوشبو جو شکل و صورت سے زیادہ معنی رکھتی ہے۔ یہاں شاعر نے معشوق پر عاشق کو فوقیت دی ہے۔ اس شعر کو نظر میں رکھتے ہوئے ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اردو شاعری کی روایت میں ہمارے کلاسیکی شعرا نے معشوق کی شان میں قصیدے کہے ہیں اور یہ روایت اب بھی باقی ہے ،لیکن ملک زادہ منظور کا انداز یہاں منفرد ہے۔ انھوں نے عشقیہ موضوع سے زیادہ ایسے موضوع کو اہمیت دی جو اس عہد کی ضرورت تھی ۔ ایک شعر ملاحظہ ہو:
تپتے ہوئے صحرا میں بھی کچھ پھول کھلائیں
کب تک لب و رخسار کا افسانہ کہا جائے
اس شعر کے الفاظ اس طرف صاف طور سے اشارہ کرتے ہیں کہ اب یہ وقت نہیں کہ لب و رخسار کے قصیدے پڑھے جائیں، بلکہ یہ وقت صحرا میں پھول کھلانے کا ہے، یعنی اپنی قوم و ملت کے استحکام کے لیے سعی کرنے کا ہے۔ان کے دل میں اپنے ملک اور قوم سے درد مندی تھی ، یہی وجہ ہے کہ ان کا زیادہ تر شعری سرمایہ اسی کے ارد گرد گھومتا نظر آتا ہے۔انسانی درد مندی کی زیریں لہریں ان کے یہاں دیکھی جا سکتی ہیں ۔ موجودہ سماج میں انسانی قدروں کو بھی انھوں نے اپنی شاعری کاموضو ع بنا یا ہے ۔ان کے یہاں انسانی قدروں کی پامالی پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔اس ضمن میں چند اشعار قابل غور ہیں،ملاحظہ ہو:
وہی قاتل ، وہی منصف عدالت اس کی وہ شاہد
بہت سے فیصلوں میں اب طرفداری بھی ہوتی ہے
وہ میرا دوست ہے منظور لیکن جب بھی ملتا ہے
خلوص دل میں شامل کچھ ریا کاری بھی ہوتی ہے
بستی بستی ظلم فراواں کل بھی تھا اور آج بھی ہے
امن و سکوں اک خواب پریشاں کل بھی تھا اورآج بھی ہے
درج بالا تمام اشعار میں انسانی اقدار کی عدم موجودگی کو موضوع بحث بنایاگیا ہے۔ان میں وقت کے ساتھ پیدا ہونے والے زمانے کے وہ مسائل موجو د ہیں، جو اب عام ہو چکے ہیں ، اور عام طو ر پرانسان ان کی عدم موجودگی کا عادی ہو گیا ہے ۔بہر کیف ملک زادہ منظور ان اقدار کی اہمیت کو ضروری خیال کرتے ہیں ۔ بغیر اخلاقی اقدار اور انسانیت کے انسان پستی کی طرف مائل ہوتا جارہا ہے ۔اس لیے ضروری ہے کہ انسانی اقدار کا پاس رکھا جائے۔اگرچہ ملک زادہ منظور انسانیت کے حامی ہیں ،اسی طرح وہ نئے زمانے کے تمام حالات کو بھی دیکھتے اور پرکھتے ہیں اور ان سے ہم آہنگی کی کوشش کرتے ہیں۔ انھوں نے اس دور کاسامنا کیا ،جو ہندوستان کی تاریخ کا سخت اور تاریک دور تھا ، انھوں نے آزادہندوستان میں بھی اپنی زندگی کا ایک طویل عر صہ گزارا۔ یہی سبب ہے کہ وہ نہ صرف غلام ،بلکہ آزاد ہندوستان کی رگ و پے سے واقف تھے ۔اس متعلق انھیں نہ صرف حالات و واقعات سے واقفیت تھی ،بلکہ انسان کی پرکھ بھی تھی ۔وہ انسانیت کے خوگر تھے۔ ان کے اشعارانسان کے دونوں پہلوؤں(منفی اور مثبت پہلو) کی طرف متوجہ کرتے ہیں۔ یہی سبب ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے اشعار میں یہ کہنے پرآ مادہ ہوئے ہوں :
کر سکیں کس پر بھروسہ ایک بھی ایسا نہیں!
یوں تو ہیں منظور یاں اپنے بھی صد ہا آشنا
عجیب درد کا رشتہ ہے ساری دنیا میں
کہیں ہو جلتا مکاں اپنا گھر لگے ہے مجھے
آئینہ سامنے آئے گا تو سچ بولے گا
آپ چہرے جو بدلتے ہیں بدلتے رہیے
قصۂ مہر ووفا ، وہم و گماں نکلا ہے
دوست سمجھے تھے جسے دشمن جاں نکلا ہے
میکدہ کا اسی ساقی پہ بھرم ہے منظور
تشنہ لب رہ کے جو ارورں کو پلا دیتا ہے
ملک زادہ منظور وقت کے ہاتھوں مجبور نہیں ہوئے، بلکہ وہ تمام تبدیلیوں او ر ملک کے غلام ہونے کے باوجود زندگی کو اپنے طور سے گزارنے کے قائل تھے، وہ غلامی انگریزوں کے ذریعے ہو یا پھر اپنوں کے منفی سلوک کی بنا پر ، انھوں نے کبھی مصلحت پسندی سے کام نہیں لیا۔اس کا واضح ثبوت رقص شرر کے مطالعے سے بخوبی ہوتا ہے۔اس حوالے سے وہ اپنے خیالات کو شعری پیکر عطا کرتے ہوئے کہتے ہیں:
ہر قدم مرحلۂ مرگ تمنا ہے مگر
زندگی پھر بھی ترا ساتھ نہ چھوڑا جائے
محمل ظلمت کے تارو،یہ بھی سوچا ہے کبھی
کاروانِ لیلۂ شب صبح کی منزل میں ہے
گر کبھی میں نے جلائی ہے یقیں کی قندیل
نار نمرود میں بھی پھول کھلائے میں نے
موم کی طرح پگھل جائے گا شب کا فولاد
دست داؤد کی توفیق خدا سے مانگو
درج بالا اشعار کے مطالعے سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ وہ حالات سے مایوس نہیں ہیں، بلکہ وہ زندگی گزارنے کے نئے نئے طریقے پیش کرتے ہیں۔ لیکن ان کے کلام میں ہمیں کہیں کہیں ایسے اشارے ملتے ہیں جس میں درد کی لہریں نمودار ہوتی ہیں ۔گر چہ اسے نا امیدی سے تعبیر نہیں کیاجا سکتا، لیکن یہ حالات کے جبر کا نتیجہ ضرور کہے جا سکتے ہیں۔ اشعار ملاحظہ ہوں:
چارہ گران دہر مسیحا نفس ہیں جب
کیوں ڈوبتی ہے نبض جہاں کچھ جواب دو
میں نے کشتی چھوڑ دی طوفاں کی زد پر دوستو
تم بتاؤ امن کتنا دامن ساحل میں ہے
کشکول چشم لے کے پھرو تم نہ در بدر
منظور قحط جنس وفا کا یہ سال ہے
درج بالا اشعار میں ایک ڈوبتی ابھرتی امید کی کیفیت کا علام نظر آتا ہے ، کیونکہ اس میں سوا ل قائم کیا گیا ہے ۔آخری دونوں اشعار میں دو لفظوں ’کشکول چشم اور کشکول ذات‘کے خوبصورت امتزاج کو بہترین طریقہ سے پیش کیا گیا ہے۔’ کشکول ‘دراصل وہ شے ہے، جسے لے کر فقیر بھیک مانگتے ہیں اور بھیک مانگنا باعث ننگ ہے۔جسے کوئی بھی با ضمیر انسان کبھی گوارا نہیں کرے گا ۔ اس لحا ظ سے ان کے نزدیک انسان کی عزت نفس ضروری ہے ۔یہی نہیں ان کے یہاں حالات پر قابو رکھنے کا حوصلہ ملتا ہے ، کیونکہ وہ حالات کے سامنے سرنگوں ہونے کے قائل نہیں ہیں ،بلکہ مردانہ وار مقابلہ کو فوقیت دیتے ہیں۔شعر ملاحظہ ہو:
مت بنائو ید بیضا کو گدا کا کشکول
وقت فرعون ہو جب ضرب عصا سے مانگو
جلائیں دل کہ سمٹ جائے تیرگی شب کی
نہ جانے کب ہو سحر کون انتظار کرے
ملک زادہ منظور آزادی سے قبل اور اس کے بعد کے حالات سے متاثر تھے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ ان حالات پر بھی اپنے خیالات کااظہار کرتے ہیں۔خاص طور سے دلی سے متعلق لکھتے ہیں کہ:
چہرے پہ سارے شہر کے گرد ملال ہے
جو دل کا حال ہے وہی دلی کا حال ہے
اب خون کو مئے قلب کو پیمانہ کہا جائے
اس دور میں مقتل کو بھی مے خانہ کہا جائے
صحن گلشن میں چلی ایسی ہوا اب کے برس
گل تو گل چاک ہے گلچیں کی قبا اب کے برس
غرض اس ضمن میں انھوں نے مختلف اشعار کہے ہیں، جن کی معنویت اس لیے بھی مسلم ہے کہ ان میں نہ صرف ایک صدی کی گونج سنائی دیتی ہے، بلکہ حالات حاضرہ کا بھی عکس دکھائی دیتا ہے۔آج کی سیاسی زندگی پر ان کا یہ شعر ملاحظہ ہو:
وقت شاہد ہے کہ ہر دور میں عیسیٰ کی طرح
ہم صلیبوں پہ لیے اپنی صداقت آئے
ملک زادہ منظور نے اپنی شاعری کو جدید دور کے حالات سے ہم آہنگ رکھا ہے ۔ انھوں نے اپنی شاعری میں لوازمات ِ شاعری یعنی تلمیح ، استعارہ اورتشبیہہ جیسے فنی لوازمات کو نئی جہتوں کے ساتھ برتنے اور کامیاب بنانے کی سعی کی ہے۔انھوں نے زبان و بیان کے مسئلے پر بھی زور دیا ہے ، لیکن وہ زبان پر مسئلے یا موضوع کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور لکھتے ہیں:
منظور ہے حیات کی تفسیر شعر میں
لائیں کہاں سے لطف زباں کچھ جواب دو
اس شعر میں موضوع کو زیادہ اہمیت حاصل ہے ، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ملک زادہ منظور زبان کی اہمیت کو تسلیم نہیں کرتے ۔ ان کی شاعری کی زبان شستہ ،عام اور سادہ ہے۔ان کے کلام کے مطالعے سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے غزل کے موضوعات کو معشوق کی زلفوںکی اسیری سے نکال کر، حالات حاضرہ کے موضوعات کو پرونے کی بھر پور کوشش کی ہے۔ اسی لیے ہمیں ان کی شاعری میں عشقیہ موضوع کے ساتھ ساتھ سماجی اورسیاسی سطح پر جو کچھ ہو رہا ہے، اس کی گونج بھی سنائی دیتی ہے۔ملک زادہ کی غزلیہ شاعری کسی خاص معنی میں مقید نہیں ہے، بلکہ ان کے موضوعات اتنے متنوع ہیں کہ پورا سماج نظر آتا ہے۔اپنی انھیں خصوصیات کی بنا پر وہ نہ صرف خواص میں مقبول ہیں، بلکہ انھیں قبول عام بھی حاصل ہے۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

