فراق گورکھپوری (۱۸۹۶ تا ۱۹۸۲) کی عام شہرت اور مقبولیت گرچہ غزل سے عبارت ہے لیکن نظموں اور رباعیات میں انھوں نے جس فنی ہنر مندی اور شعری دانش کے نقوش ثبت کیے ہیں وہ اپنی مثال آپ ہیں ۔فراق نے اپنی شاعری میں عام شعری مضامین کے ساتھ ساتھ ہندو دیومالا اور ہندستانی تہذیب وثقافت کو بھی نمایاں کیا ہے جس کا اعتراف بیشتر نقاد وں نے کیا ہے ۔یعنی فراق نے جس طرح ہندوستانی فضا اور تہذیب کوپیش کیا ہے اس سے ان کے خالص ہندوستانی ہونے اور یہاں کے تہذیبی مرقع نگار ہونے سے کس کو انکار ہوسکتا ہے ۔
بنیادی طور پر فراق غزل کے شاعر ہیں۔ لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسری اصناف میں انھیں کوئی خاص مرتبہ نہیں ہے ۔درحقیقت فراق نئے عہد کے ایسے شاعر ہیں جنھوں نے غزل ،نظم ،رباعی اور غزل کی تنقید ہر جگہ اپنی اہمیت کا احساس دلایا ہے انھیں بآسانی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا یہ الگ بات کہ جو تخلیق زیادہ تجربے کرتا ہے اور نت نئی دنیاوئں کو دریافت کرتا ہے اس کے یہاں کسی خامی یا کمی کا ہونا تعجب خیز نہیں جو لوگ فراق کے ذرا کم قائل ہیں وہ بھی فراق کے اثرات کے منکر نہیں ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں سیماب اکبر آبادی : بحیثیتِ نعت گو – محمد طفیل احمد مصباحی )
فراق کی نظموں اور رباعیوںکا اگر مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگاہے کہ نظموںکے پیرائے میں انھوں نے ہندوستانی تہذیب ،ثقافت اور معاشرت کوجس خوبی اور انداز سے پیش کیا ہے وہ قابل فخر ہے ۔فراق کی تہذیبی پرورش میں جن آدرشوں اور تہذیبی و مذہبی رویوں کا دخل رہا ہے وہ سب پر عیاں ہے لیکن انھوں نے اس مذہبی رویے اور تہذیبی پس منظر کو جب شعری پیکر عطا کیا تو اردو زبان کی عظیم روایت اور پس منظر کو نظر انداز نہیں کیا ۔فراق کی یہی ذہنی بالیدگی باعث کشش بھی ہے اور عوامی رسائی کا ذریعہ بھی ۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ انھی رویوں نے فراق کو فطرت سے قریب کردیا تھا اور ان کی نظموں میں تہذیب و فطرت کے مضامین گلے ملتے دکھائی دیتے ہیں ۔ اس لیے ان کے یہاں ایک قسم کی فطرت پرستی پیدا ہوگئی ہے۔
فراق نے عورتوں کو اسی نظریے سے دیکھا ہے ، جس نظریے سے قدیم (بالخصوص ہندی )شاعروں نے دیکھا ہے۔ فراق کی رباعیوں اور نظموں میں عورت کو مرکزی کردار حاصل ہے ۔بیشتر مضامین اسی کے گرد پھلتے پھولتے دکھائی دیتے ہیں،’’روپ کی رباعیاں‘‘اسم بامسمی قرار دی جاسکتی ہیںکیونکہ ا ن میں بہن اورماں کے کئی روپ سامنے آتے ہیں ۔ لیکن بحیثیت مجموعی یہ تصویریں بہت ہلکی ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ محبوبہ اور بیوی کا رنگ اس قدر گاڑھا ہے کہ دیگرحیثیتیں بلکہ روپ دب گئے ہیں۔ لیکن سب سے بڑی بات یہ ہے کہ فراق نے عورت کے ہر روپ کو خالص ہندوستانی تہذیب میں دیکھا ہے۔ فراق کے یہاں عورت چاہے جس روپ میں ہو ہندستان کی ہی لگتی ہے کسی اور ملک اور تہذیب کی نہیں ۔
غزل کا جادو ہمیشہ سرچڑھ کر بولتا ہے معمولی شاعر بھی غزل کے ایک دواچھے شعر کہہ کر نام پیدا کرلیتا ہے اس میں زیادہ کمال غزل کا بطور صنف ہے اس تناظر میں فراق کی غزلیہ شاعری کے سامنے ان کی اور دوسری حیثیتیں بہت زیادہ نمایاں نہیں ہوسکیں ۔جیسا کہ ان کا حق تھا لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ فراق کی نظموں اورر باعیوں کا ذکر چاہے کم ہی سہی لیکن عموماً ہوتا رہا ہے اور ان کی رباعیوں کا مجموعہ ’’روپ کی رباعیاں ‘‘فراق کی مشہور کتابوں میں سے ایک ہے ۔فراق کی نظمیں بالخصوص ، نغمۂ حقیقت ، شام عبادت، ترانۂ خزاں،حسن کی دیوی، رقص شباب، جدائی، آدھی رات ، پرچھائیاں، دھرتی کی کروٹ، داستان آدم، روٹیوں، جگنو، ہنڈولہ، انقلاب چین، قیدی، دھرتی اور سنگیت وغیرہ کا شمار معرکۃ الآرا نظموں میں کیا جاتا ہے ۔
مثال کے طور پر نظم ’’ہنڈولہ‘‘ کے اس حصے کو ملاحظہ کریں جس میں ہندستانی تہذیب ،تاریخ اور مشترکہ کلچر کے بعض عناصر کو پیش کیا گیا ہے ۔یہ صرف تاریخ نہیں بلکہ ہندستانی ثقافت اور تہذیب کا ایک نمایاں باب ہے جس کو بعض لوگ ایک عرصہ سے مسخ کرنے کی کوشش کررہے ہیں ۔
اسی زمین پہ کھیلا ہے رام کا بچپن
اسی زمین پہ ان ننھے ننھے ہاتھوں نے
کسی سمے میں دھنش بان کو سنبھالا تھا
اسی دیار میں دیکھی ہے کرشن کی لیلا
یہیں گھروندوں میں سیتا، سلوچنا، رادھا
اسی زمانے میں گڑیوں سے کھیلتی ہوں گی
یہی زمیں، یہی دریا، پہاڑ، جنگل، باغ
یہی ہوائیں، یہی صبح و شام، سورج، چاند
یہی گھٹائیں، یہی برق و رعد و قوس و قزح
یہیں کے گیت، روایات، موسموں کے جلوس
ہوا زمانہ کہ سدھارتھ کے تھے گہوارے
ان ہی میں آنکھ کھلی تھی اشوک اعظم کی
ان ہی نظاروں میں بچپن کٹا تھا وکرم کا
سنا ہے بھرترہری بھی انہیں سے کھیلا تھا
بھرت، اگست، کپل، ویاس، پاشی، کوٹلیہ
جنک وششٹ، منو، والمیک، وشوامتر
کناد، گوتم و راما انج، کمارل بھٹ
مہنجوداڑو، ہڑپا کے اور اجنتا کے
بنانے والے یہیں بلموں سے کھیلے تھے
اسی ہنڈولے میں بھوبھوت و کالی داس کبھی
ہمک ہمک کے جو تتلا کے گنگنائے تھے
۱؎
گل نغمہ: فراق گورکھپوری، ترتیب جدید: ڈاکٹر جعفر رضا، ادارہ انیس اردو الہ آباد، ایڈیشن چہارم، ۱۹۷۷، ص:۲۵۶۔۲۵۵
نظم کے ان مصرعوں سے ہندوستان کی تہذیبی وراثت اورگوناگوں تاریخی حیثیت سے جہاںواقفیت ہوتی ہے، وہیں یہ احساس بھی ہوتا ہے کہ نظم کے پیرائے میں فراق نے ہندوستان کی قدیم تاریخ کوکس سلیقے سے ڈھالا ہے۔یہ تاریخی تسلسل نثر ی بیانیہ میں تو عام ہے مگر کے قالب میں شعر و تاریخ کے پورے شعور کے ساتھ فراق نے پیش کیا اور غالباً اسی لیے اس کا ذکر ہمارے اکثر ناقدین نے کیا ہے ۔ڈاکٹر ندیم احمد نے نظم کے تاریخی کردار(اشخاص)کے حوالے سے لکھا ہے کہ ؛
’’یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے برصغیر کی اخلاقی ، معاشرتی، ادبی ، تہذیبی اور سیاسی تاریخ کو اپنی غیر معمولی صلاحیتوں سے متاثر کیا۔ اس طرح اور بھی بہت سارے رشیوں اور منیوں کا ذکر اس نظم میں آتا ہے۔ ان تمام لوگوں کے تذکرے کا مقصد ہندوستان کی عظمت و حقیقت کو نمایاں کرنا ہے۔ ہندوستان سیکڑوں برسوں سے علم وفن اور تہذیب و تمدن کا گہوارہ رہا ہے۔‘‘ ۲؎
(فراق اور نئی نسل، مرتب: پروفیسر امیر عارفی، ناشر، ساقی بک ڈپو، اردو بازار دہلی، ۱۹۹۷، ص۔۷۶)
اس نظم کے ذریعہ فراق نے ہندو مذہب کے مذہبی پیشواؤں کو متعارف کرایا ہے اور مذہب کو ادب و شعر کا حصہ بنا کر پیش کیا ہے لیکن اسی کے ساتھ ساتھ تاریخی حیثیت کے حامل موہن جوداڑو اور ہڑپا جو کہ ہندوستان کے عہد قدیم کا ثقافتی ورثہ ہیں انھیں بھی نظم کا حصہ بنایا ہے اور قدیم ہندوستان کی ایک اہم یادگار جو ہندوستان کی ثقافت ،فن تعمیراور طرز معاشرت کی خوب صورت نمائندہ اور شناخت اجنتا الورا کا بھی ذکر کیا ہے۔ یہ نظم ہندوستان کی ثقافت، تاریخ اور تہذیب کو نمایاںکرتی ہے۔اس نظم سے فراق کے ذہنی رویے اور تہذیبی میلان کا بھی خاطر خواہ اندازہ کیا جاسکتا ہے ۔نظم سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ ان کے یہاں ہندو دیومالا اور قدیم تاریخ و تہذیب اور مذہبی عقائد کا زور زیادہ ہے بلکہ وہ اسی کے پروردہ ہیں ۔
فراق کی رباعیوں میں بھی یہی ماحول اور منظرنامہ ہے ۔ہندوستان اور فطرت سے قربت اور عورت کاجلال و جمال اور یہاں کی دیگر رسمیں اور طرز معاشرت کو دیکھا جاسکتا ہے ۔یہاں کے رسم و رواج ، گنگا جمنی تہذیب ، شادی بیاہ کی رسمیں، غرض کہ سب کچھ وہی ہے جو یہاں کی تہذیب میں صدیوں سے جاری و ساری ہے۔کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کنواری لڑکیاں اس احساس کے تحت گنے کے کھیتوں میں اچھلتی کودتی تھیں کہ جو جتنی اونچی چھلانگ لگا لے گی گنا اتنی ہی بڑا ہوگا ۔ کنواری لڑکیوں کے لیے یہ پاکیزہ خیال ہمیں ہندوستان کے علاوہ اور کہیں نہیں ملتا اس سلسلے کی رباعی ملاحظہ ہو:
یہ ایکھ کے کھیتوں کی چمکتی سطحیں
معصوم کنواریوں کے دلکش دوڑ میں
کھیتوں کے بیچ میں لگاتی ہیں چھلانگ
ایکھ اتنی اگے گی جتنا اونچا کودیں ۳؎
(روپ، مرتبہ: مطرب نظامی، فرید بک ڈپو، پرائیوٹ لمیٹیڈ، نئی دہلی، ص۔۴۷۰)
اسی طرح سے جب وہ پنگھٹ پہ گگریوں کے چھلکنے کا نقشہ کھینچتے ہیں ۔
پنگھٹ پر گگریاں چھلکنے کا یہ رنگ
پانی ہچکولے لے کے بھرتا ہے ترنگ
کاندھوں پہ سروں پہ، دونوں باہوں میں کلس
مدا مکھڑیوں میں سینوں میں بھرپور امنگ ۴؎
۴؎ (ایضاً)
دیہات کی منظر کشی بھی قابل ستائش ہیں۔دیہات میں عورتیں گائو ں سے باہر کنویںسے پانی لینے کے لئے گگری لے کر جاتی ہیں اور وہ پانی لے کر ہی واپس آتی ہیں چاہے اس کے لیے جو بھی مشقت برداشت کرنی پڑے ۔پانی ہمیشہ سے ایک مسئلہ رہا ہے ان رباعیوں سے یہ بھی اندازہ ہوتا ہے کہ گاؤں دیہات میں پانی کے لیے کیا کیا مشقت اٹھانی پڑتی تھی ۔فراق نے بڑی خوبصورتی سے اسے چند لفظوں میں بیان کر دیا ہے۔اسی طرح جب شوہر بیمار ہوتا ہے اور اس وقت بیوی کی جو کیفیت ہوتی ہے اس کی منظر کشی بھی قابل داد ہے ۔یہ ہندستانی عورت کی شوہر سے بے پناہ محبت کا اشاریہ بھی ہے ۔
پریمی کو بخار ،اٹھ نہیں سکتی ہے پلک
بیٹھی ہے سرھانے ،ماند مکھڑے کی دمک
جلتی ہوئی پیشانی پہ رکھ دیتی ہے ہاتھ
پڑ جاتی ہے بیمار کے دل میں ٹھنڈک ۵؎
۵؎ (ایضا۔۴۶۹)
اس رباعی کو پڑھ کر گائوں کی طرف دل خود بخود مائل ہو جاتا ہے۔اور وہاں کی خاموش فضا میں چھپی ہوئی محبت ،اس کا تصور وہی کر سکتا ہے جس نے کبھی اس طرح کی چیزیں دیکھی ہوں ۔اس وقت بھی عورت اپنی حیا ء وشرم میں اس طرح ڈوبی ہوئی ہوتی ہے کہ،وہ بیمار شوہر کے پاس ا س کے سرھانے بیٹھی ہے ۔اور بڑی ہمت سے بخار کی حالت میں پیشانی پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔ اس طرح سے ہاتھ رکھنا ،گویا مرض کیلئے اکسیر ثابت ہوتی ہے ۔
اسی طرح سے جب شوہر کہیں باہرچلا جاتا ہے تو چاندنی رات بیوی کے لئے قیامت سے کم نہیں ہوتی ہے۔اور ایسا لگتا ہے جیسے چاندنی رات اسے ناگن کی طرح ڈس رہی ہے۔اس کی حالت کا اندازہ نہیں کیاجاسکتا ۔سب کچھ ہوتے ہوئے بھی کمی کا احساس اسی کو کہا جاتا ہے ۔ایسی نازک کیفیات اور دلی جذبات کو فراق نے نہایت کامیانی کے ساتھ پیش کیا ہے ۔فراق کی رباعی ہے :
چہرے پہ ہوائیاں نگاہوں میں ہراس
ساجن کے برہ میں روپ کتنا ہے اداس
مکھڑے پہ دھواں دھواں لٹاؤں کی طرح
بکھرے ہوئے بال ہیں کہ سیتا بن باس ۶؎
۶؎ (ایضا۴۷۰)
اسی طرح جب ماں اپنے بچے سے غصہ ہوتی ہے اس کا غصہ جیسا کہ سب کو معلوم ہے ظاہری ہوتا ہے ایک فوری ردعمل ہوتا ہے بچے کی کسی حرکت پر ان سے زیادہ بچے سے محبت کرنے والا اور ان کے لیے اپنا سب کچھ نثار کرنے والا کوئی دوسرا نہیں ہوتا ۔یہ غصہ عارضی اور وقتی ہوتا ہے کیونکہ بچے کی سب سے محفوظ پناہ گاہ ماں کی گود ہوتی ہے اور ماںخود بھی اسے ہر طرح کی آفات سے محفوظ رکھنے کی پوری کوشش کرتی ہے اس وقتی اور عارضی غصے کا بیان فراق کی زبان سے ملاحظہ فرمائیں۔
کس پیار سے ہوتی ہے خفا بچے سے
کچھ تیوری چڑھائے ہوئے منھ پھیرے ہوئے
اس روٹھنے پر پریم کا سنسار نثار
کہتی ہے کہ جا تجھ سے نہیں بولیں گے ۷؎
۷؎ (ایضا۴۶۰)
فراق کی ان رباعیوں سے ہندوستان کی تہذیبی اورو ثقافتی تاریخ کے بعض عناصر کو مجتمع کیا جاسکتا ہے ۔ ادیبوں کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بہت حساس اور دور رس ہوتاہے۔ فراق کی رباعیاں اسی بات کی مصداق ہیں کیونکہ انھوں نے بالعموم منظر کشی میں احساس و ادراک کے پہلو ؤں کا بھی خیال رکھا ہے جس کی وجہ سے یہ منظر نہ صرف قابل توجہ ہوگئے بلکہ ان کی اہمیت بھی دو چند ہوگئی ہے ۔
فراق نے رباعیوں میں تیوہاروں کاذکر بھی بڑے اہتمام سے کیا ہے ہمارا ملک تیوہاروں کا ملک ہے ،بعض علاقائی تہذیبی اور ثقافتی مظاہر بھی مقبول خاص و عام ہیں ۔تیوہاروں سے ملک کے اندر اخوت و محبت کی جو عام فضا قائم ہوتی ہے وہ قابل رشک ہے ۔
رکشا بندھن سے متعلق ان کی رباعی ملاحظہ کیجیے
رکشا بندھن کی صبح رس کی پتلی
چھائی ہے گھٹا گگن پہ ہلکی ہلکی
بجلی کی طرح لچک رہے ہیں لچھے
بھائی کے ہے باندھتی چمکتی راکھی ۸؎
۸؎ (ایضاً)
شادی کے منڈپ کا منظر ملاحظہ ہو:
منڈپ کے تلے کھڑی ہے رس کی پتلی
جیوں ساتھی سے پریم کی گانٹھ بندھی
مہکے شعلے کے گرد بھاونر کے سمے
مکھڑے پر نرم چھوٹ سی پڑتی ہے ۹؎
۹؎ (ایضاً۲:۴۶۱)
چنتن رخصتی کے موقع پر گھرکی عورتوں کا بابل گانے کا منظر ملاحظہ فرمائیں
آنکھوں میں سرشک جگمگاتا مکھڑا
وہ جشن رخصتی سہانا تڑکا
جھرمٹ میں سہیلیوں کے اٹھتے ہیں قدم
وہ گھر کی عورتوں کا بابل گانا ۱۰؎
۱۰؎ (ایضاً)
یہ سب ہندو گھرانے کی جیتی جاگتی تصویریں ہیں جن سے عام ہندوستانی معاشرہ واقف ہے ۔ ایسا نہیں ہے کہ ان رباعیوں میں فراق نے صرف قدیم روایت پرست عورت کی تصویر ابھاری ہے بلکہ بعض چیزیں ایسی ہیںجس کا رواج اب بھی پہلے کی طرح قائم و دائم ہے کیونکہ وہ تہذیب کا ایک ایسا حصہ ہے جس کے بغیر وہ تقریب مکمل ہی نہیں ہوتی۔دیوالی کی منظر کشی ملاحظہ ہو:
دیوالی کی شام گھومتے اور سجے
چینی کے کھلونے جگمگاتے لاے
وہ روپ وتی مکھڑے پر اک نرم دمک
بچے کے گھروندے میں جلاتی ہے دئیے ۱۱؎
۱۱؎ (ایضاً۴۵۹)
موسم کا بھی ذکر فراق نے اپنی ربارعیوں میں کیا ہے۔ سخت ٹھنڈک اور کہرے کا ذکر اس طرح سے کرتے ہیں؛
جاڑوں میں منھ اندھیریس سنگم کا سماں
جلوے گنگ و جمن کے کہرے میں نہاں
مکھڑے پر جھٹپٹے میں تاروں کی وہ چھاؤں
وہ گیسوئے خم بہ خم کی خوشبو کا دھواں ۱۲؎
۱۲؎ (ایضاً۴۵۷)
فراق ہندوستانی کلچر سے اس طرح واقف تھے اور ایک ایک چیز کو اتنے قریب سے دیکھا ہے جس کا اندازہ کرنا مشکل ہوتا ہے ۔ صرف خوشیوں کے پل، تیوہاروں کے دن بھیڑبھاڑ کے بعد جو ایک سناٹا چھا جاتا ہے اس کا بھی ذکر انھوں نے کیا ہے۔
کتنا بھر پور دن تھا تو تھا جب پاس
گاتے ہوئے لمحوں کا وہ رنگین احساس
جاتے ہی ترے ہوا وہ عالم جیسے
تہوار کے بعد شام سونی اور اداس ۱۳؎
۱۳؎ (ایضاً۴۴۷)
جب ساون کے موسم میں باغوں میں لڑکیاں یا گھر کی دوسری عورتیں جھولا جھولتی ہیں اور اس وقت کن کن چیزوں سے دوچار ہوتی ہیں اس کا منظر بھی دیدنی ہے ۔
جب جھولا جھولنے ہیں ساون وہ گائے
کروٹ قوس قزح کو رہ رہ کر دلائے
وہ پینگ بڑھانے میں لچکتا ہوا وہ جسم
آئینہ نیلگوں میں بجلی لیرائے ۱۴؎
۱۴؎ (ایضاً۴۶۵)
غرض کہ فرا ق کی رباعیوں میں جہاں حسن فطرت اور حسن انسانی کے نرم ترین اور شدید ترین احساسات ملتے ہیں وہیں ان کی رباعیوں اور نظموں میں ہندستان کی وہ تہذینی اور ثقافتی زندگی بھی جلوہ گر دکھائی دیتی ہے جو مختلف مذہب ،زبان اور علاقہ کے باوجود سب کو جوڑے ہوئے تھی ۔بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کی چمک اب بھی کسی نہ کسی صورت میں برقرار ہے۔
اردو شاعری میں وطنیت اور ہندوستان دوستی کا جذبہ ہمیشہ پایا گیا ہے۔قدیم شعراء سے جدید شعراء تک۔لیکن یہ تشبیہیں ،تلمیحات ،الفاظ جس طرح فراق کے یہاں ملتے ہیں اس حد تک کسی اور کے یہاں کم ہی ملتے ہیں۔اس کی بنیادی وجہ وہی ہے کہ فراق ہند قدیم کے ادب ،روایات اور فلسفے سے بہت متاثر تھے۔اس ملک کی مشترکہ تہذیب اور اس کی جیتی جاگتی مثالـ’’اردو‘‘ہے۔اورفراقاسزبانکےسچےشیدائی تھے۔ایسے عاشق کی جسے اردو نہ اًتی ہو اسے پوری طرح مہذب نہیں مانتے تھے۔
فراق کی رباعیوں میں اگر ایک طرف روپ، دیوی، لوچ، دھج، سنگیت، چنچل جیسے میٹھے اور سریلے الفاظ ملتے ہیں تو ہیں دوسری طرف شام مستی، زندان حیات، پیکر نازنین، شفق دوشیزہ سحر اور قوس قزح جیسی خوبصورت ترکیبیں ملتی ہیں۔ فراق نے جن زاویوں سے ہندوستانی تہذیب کو اپنی رباعیوں میں پیش کیا ہے اس کے متعلق مجیب رضوی لکھتے ہیں:
’’جس کلچر کو ہم قبول کرلیتے ہیں اس کلچر کی آنکھوں، ہاتھوں، کانوں اور ناک سے یہ سب کرتے ہیں ۔وہ کلچر کے لیے یہ کائنات کے لیے خفیہ حواس و خفیہ زبان پیدا کرلیتا ہے۔ فراق صاحب جدید ذہن کے شاعر سمجھے جاتے ہیں لیکن روپ کی رباعیوں میں ان کا خفیہ حواس و خفیہ زبان اسی عہد وسطی کے کلچر کی ہے جس میں کعبے کا نوراور بت خانے کی جیوتی ایک دوسرے میں خلط ملط ہو گئیں تھیں۔ جسے ہم گنگا جمنی تہذیب بھی کہتے ہیں۔۔۔۔۔۔فراق نے اپنی رباعیوں سے اس کی آبیاری کی، باوجود اس کے کہ فراق کی نظران رباعیوں میں پیچھے کی طرف ہے لیکن حالات زمانہ کے تحت یہ ان کا ترقی پسند انہ قدم تھا اور قومی یکجہتی میں تسلسل پیدا کرنے کی زبردست کوشش تھی۔ ان رباعیوں کے حسن و قبح پر رائے زنی کی جاسکتی ہے لیکن ان کی صحت مند تہذیبی بازیافت سے انکار ناممکن ہے ۔‘‘ ۱۵؎
۱۵؎ (فراق:شاعر اور شخص، م: شمیم حنفی، لبرٹی آرٹ پریس دریا گنج، ۱۹۸۳۔۲۔۱۰۱)
غزل کے ساتھ ساتھ فراق کی رباعیوںکاذکر کثرت سے کیا گیا ہے ۔فراق بالعموم مشاعروںمیں ان رباعیوں کو بھی پیش کرتے تھے جن کی خاطر خواہ پذیرائی ہوئی چونکہ یہ گوناگوں احساس کی حامل ہیں اور اس پورے رویے کی غمازی کرتی ہیں جو ہماری تہذیبی میراث ہے ۔یہ کہنا شاید غلط نہ ہو کہ ان رباعیوں میں ہندو گھرانوں کی تصویروں کے ساتھ آفاقی کلچر اور عالمی فکر کی پرچھائیاں بھی ہیں۔ فراق غلامی کے دور میں بھی اس ملک کی عظمت اور قدروں کے مغنی رہے ۔ا س سے یہ اندازہ بڑی آسانی سے کیا جاسکتاہے کہ ان کا محبوب ہندوستان ہی ہے۔ اس پر دوسروں کے اثرات نہیں ہیں۔ فراق نے اپنے اشعار خاص طور پر رباعیوں میں ہندوستانیت کو شعری پیکر عطا کیا ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

