لف لیلہ ولیلہ کہانیوں کا سمندر ہے ۔ سمندر میں کئی دریا گرتے ہیں ؛کئی مخلوقات بستی ہیں اور اسے کناروں میں مقید نہیں کیا جاسکتا۔مسلسل بہاؤ،سفر ، نئی دنیائیں اور بے کرانی ، سمندر کی خصوصیات ہیں۔ الف لیلہ ولیلہ میں ہندوستان ، ایران،مصر اور دوسرے خطوں کی کہانیوں کے دریا شامل ہوئے ہیں۔ یہ کہانی در کہانی کی تیکنیک میں بیان ہوئی ہے ۔ اس بنا پر اس کے صنفی حدود اور کنارے غیر متعین ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ اپنی قرآت و اثر کے لحاظ سے محض عربی زبان بولنے والوںتک محدود نہیں رہی۔اگر ہمیں کہانیوں کی کسی ایک آفاقی کتاب—جس میں نسلی، قومی ، جغرافیائی اور زمانی حدبندیوں کو عبور کرنے کی صلاحیت ہو— کا انتخاب کرنا ہو تو وہ الف لیلہ ولیلہ کے سوا کوئی نہیں ہوسکتی۔ مشرق، مغرب ،افریقا اور لاطینی امریکاکے ادب پر اس کے اثرات ہیں۔ اٹھارویں صدی کے اوائل میں یورپ میں ترجمہ ہونے کے بعد اس کے اثرات بھی کسی ایک عہد تک محدود ہیں نہ کسی مخصوص فکری یا ادبی تحریک کے پابند ہیں۔یہ داستان ،ہمارے اس یقین کو مزید پختہ اور نئے سرے سے تازہ کرتی ہے کہ فن ،اسی فانی دنیا سے متعلق ہونے کے باوجود لافانیت حاصل کرلیتا ہے۔ لافانی فن پارے ہمارے وجود کی سب سے گہری آرزوئوں کی تسکین کرتے ہیں۔ یہی نہیں، انھیں پڑھتے ہوئے ، ہمارے اندر خاص رواداری پیدا ہوجاتی ہے اور ہم ان لافانی فن پاروں کی لسانی وثقافتی شناختوں اور کبھی کبھی تعصبات کو بھی نظر انداز کرنے لگتے ہیں۔ (یہ بھی پڑھیں رشید امجد – ڈاکٹر ناصر عباس نیّر )
الف لیلہ ولیلہ کی اپنی کہانی اور شعریات بھی کم دل چسپ نہیں۔جدید فلسفہ ٔ ادب ، مصنف کی بادشاہت کا فلسفہ ہے۔دنیا، متن ، قاری سب پر اسے مطلق اختیار حاصل ہے۔وہ پڑھنے والوں کو مجبور کرتا ہے کہ متن میں سے مصنف کی اپنی یا اس کی قومی و ثقافتی روح کے سوا کچھ تلاش نہ کریں۔ مابعدجدیدیت،شہنشاہ مصنف کو معزول کرتی ہے اور جمہورِ ادب کو قرآتِ ادب کے اختیارات منتقل کرتی ہے۔ایسے میں الف لیلہ و لیلہ کی شعریات ہمیں مطالعہ ٔادب کے لیے کسی دوسرے طریقے کو منتخب کرنے کی ترغیب دیتی ہے۔اگرچہ اس کے مطالعے میں شہرزاد کو وہی اہمیت دی گئی ہے جو کسی فن پارے کے مصنف کو دی جاتی ہے ، لیکن وہ مصنف نہیں ، اختراع کیا ہواکبیری کردار ہے۔ اس عظیم داستان کا کوئی ایک مصنف ہے نہ کوئی ایک سنانے والا۔ عالمی ادب کی تاریخ کا یہ انوکھا واقعہ ہے کہ الف لیلہ ولیلہ بغیر مصنف کے ہے ،لیکن یہ لوک ادب نہیں ۔اس کی شعریات ،قصہ خوانی اور داستان نویسی کی دو مختلف روایات کی آمیزش سے وجود میں آئی ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ اسے ان داستان گوئوں نے سنایا اور لکھا جو بغداد اور دوسرے شہروں کی گلیوں ،چوکوں اور قہوہ خانوں میں موجود ہواکرتے تھے ۔نہ صرف مشرق میں بلکہ یورپ میں بھی ترجمہ ہونے کے بعد، اسے عوامی جگہوں پر سنا جاتا تھا اور تنہائی میں ، اپنی اپنی خواب گاہوں میں پڑھا بھی جاتا تھا۔ گویا یہ داستان ، انسان کے سماجی اور انفرادی وجودوں سے بہ یک وقت کلام کی صلاحیت رکھتی ہے۔ جدید ادب سے متعلق اس نوع کا دعویٰ محال ہے۔
مسلسل سنائے اور لکھنے جانے کے نتیجے میں اس داستان کی مخصوص شعریات وجود میں آگئی ۔ شعریات ، مصنف سے طاقت ور ہوتی ہے۔ لہٰذا اس کی شعریات میں پیرا ہوا کوئی شخص بھی اس میں کوئی قصہ بڑھادیتا، یہ فرق کرنا مشکل ہوتا کہ کو ن سا قصہ کس نے سنایا یا لکھا ہے اور نہ اس کے قصہ گوووں اور قصہ نویسوں کو اپنے اپنے نام کی فکر تھی۔تب یہ تصور موجود نہیں تھا کہ تحریر،بلا شرکت غیرے واحد مصنف کی مِلک ہے۔ کم لوگوں کو معلو م ہے کہ اس میں الہ دین ، چالیس چور ،ابوالحسن ، خلیفہ ہارون الرشید کی شب گردی اور کچھ دوسرے قصے ،اس کے پہلے یورپی مترجم انتونی گلاں کے مرہون ہیں۔ بورخیس نے الف لیلہ و لیلہ کے مترجموں پر اپنے عالمانہ مضمون میں لکھا ہے کہ یہ قصے گلاں کو حنا (جسے شامی عرب کہا گیا ہے )نے فراہم کیے1۔ یقیناً وہ اس داستان کی شعریات کے رموز میں ڈوبا ہوا شخص تھااور اسے اپنے نام کی فکر نہیں تھی۔
الف لیلہ ولیلہ کی اپنی کہانی دل چسپ ہونے کے ساتھ ساتھ "آئرنی ” کی حامل بھی ہے۔ محمد کاظم کے مطابق الف لیلہ ولیلہ کا ذکر سب سے پہلے المسعودی کی "مروج الذھب ” اور اس کے بعدفہرست نگار ابن الندیم کی "الفہرست "میں۔ آئرنی یہ ہے کہ اس عظیم کتاب کو خود اپنوں یعنی المسعودی نے خرافات پر مبنی قرار دیا اور ابن الندیم کو "بے مزہ اور سپاٹ لگی "2۔باقیوں نے تو خیر اس کا ذکر کرنا بھی پسند نہیں کیا۔ محمد کاظم ہی کے بہ قول پہلوی سے عربی میں ترجمے کاآغاز تیسری صدی ہجر ی میں ہوا اور دسویں صدی ہجری (سولھویں صدی عیسوی ) تک اسے مکمل ہوا۔ پہلوی کاہزار ، عربی میں الف ہےاور اس کے ساتھ ہی عربی کی الف لیلہ ولیلہ اپنے فارسی ماخذ سے بے نیاز ہی نہیں ہوگئی، اس سے کہیں آگے چلی گئی اورایک اپنی پہچان بنانے میں کامیاب ہوگئی۔ آج ہزار افسانہ ، الف لیلہ ولیلہ کے سبب تاریخ کی کتابوں میں مذکور ہوتی ہے۔ تاہم یہ ایک عجب پیراڈاکس ہے کہ عربی زبان کی اس داستان کا مرکزی کردار شہر یارنہ صرف ایرانی ہے بلکہ سب سے زیادہ جس خطے کو اس کہانی میں پیش کیا گیا ہے ،وہ بھی غیر عرب یعنی ہندوستان ، مصر ، ایران ہے۔
الف لیلہ ولیلہ آٹھویں صدی کے بغداد میں کیسے پھیلی ؟ اس کا جواب مارٹن پنشر نے تلاش کیا ہے۔ مقبول عام تاریخوں میں مسلمانوں کی ابتدائی اور وسطی زمانوں کی تہذیب کے مرکزی دھارے کو زبانی روایت سے موسوم کیا جاتا ہے۔ الف لیلہ ولیلہ بھی اسی زبانی روایت سے وابستہ سمجھی جاتی ہے۔اس میں شک نہیں کہ مسلمانوں میں داستان گوموجود رہے ہیں جو گلیوں ، بازاروں ،چوکوں،قہوہ خانوں میں داستانیں سناتے رہے ہیں۔ یہ بھی درست ہے کہ وہ درباروں کی اشرافی ثقافت کی نگاہ میں کھٹکتے رہے ہیں ،کیوں کہ وہ ان خبروں ، واقعات کو پرتخیل زبان میں عوام تک پہنچاتے تھے جنھیں دربار چھپانے کی کوشش کرتا تھا۔ المسعودی اورابن لندیم کو یہ اس لیے بھی پسند نہیں آئی کہ یہ ادب عالیہ کے ان معیارات پر پورا نہیں اترتی تھی ،جنھیں اس زمانے کے امرا اور ان کی قربت رکھنے والے مصنفین نے سینے سے لگایا ہوا تھا۔ مارٹن پنشر کی تحقیق یہ ہے کہ الف لیلہ ولیلہ کی مقبولیت کا راز اس کے تحریری صورت میں دستیاب ہونے کے سبب بھی ہے۔ کاغذ کی ایجاد چینیوں نے کی۔ کئی صدیوں تک انھوں نے اس راز کو خود تک محدود رکھا۔ پنشر کے مطابق 751 میں موجودہ قازقستان کے مقام طلاس میں مسلمانوں اور چینیوں میں جنگ ہوئی ۔ چینیوں نے شکست کھائی ۔ اس جنگ میں کچھ ایسے چینی سپاہی مسلمانوں کے ہاتھ آئے جو کاغذ سازی کا فن جانتے تھے3۔اس جنگ کا سب سے بڑا حاصل یہی لوگ تھے اور اس کا ادراک عباسی خلفا نے کیا۔ انھیں بھی شرو ع میںیہ سوال در پیش ہوا کہ کیا قرآن مجید کو اس کاغذ پر لکھا جاسکتا ہے جسے چینی شہتوت سے بناتے تھے اور انھوں نے مختلف قسم کی دھجیوں سے بنانا شروع کیا تھا ؟ پہلے مقد س کتاب کھجو ر کے پتوں ، پیپرس اور چرمی کاغذ پر لکھی جارہی تھی۔ لیکن جلد ہی کاغذ کی افادیت تسلیم کرلی گئی۔ اس کا ثبوت ہارون الرشید کی بغداد میں قائم کردہ پہلی عوامی لائبریری ہے۔ شہر زادکو اس کے وزیر باپ نے ایک لائبریری کا انتظام سونپاتھا اور یہیں اس نے داستان سمیت متداول علوم سے آگاہی حاصل کی تھی ۔ نیزاس کاغذ کی قدیم ترین یادگار بہ قول پنشر الف لیلہ ولیلہ کا خطی نسخہ ہےجس کا زمانہ آٹھویں صدی ہے۔ الف لیلہ ولیلہ کی داستان سنائی بھی جاتی رہی لیکن مسلسل خطی نسخوں کے ذریعے بھی ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرتی رہی۔ کاغذ اور الف لیلہ ولیلہ ،مسلمانوں کے ساتھ سپین اور یہیں سے پورے یورپ میں پہنچے۔فرانسیسی انتونی گلاں نے1704-1717 کے دوران میں ترجمہ کیا ،جس کے بعد اسے بے انتہا مقبولیت ملی۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس سے پہلے پنشر کے مطابق عربی کے توسط سے اس کے اثر ات چاسر اور بوکیشیو پر نظر آتے ہیں۔ خورخے لوئی بورخیس تو یہ تک کہتے ہیں کہ بولیو (فرانسیسی شاعر، نقاد اور "فن شاعری ” کے مصنف) نے سترھویں صدی کے آخر میں جن اصولوں کویورپی ادب کی اساس قرار دیا تھا ، انھیں الف لیلہ ولیلہ کے تراجم کی یورپ میں مقبولیت نے تہ وبالا کردیا تھا۔ان ادبی اصولوں میں حقیقت نگاری ،فطرت نگاری ،پلاٹ کا مستقیم تصور خاص طور پر اہم تھے ۔ انھی اصولوں کو ادب کے واحد معیاری کینن کے طور پر یورپ اپنی نو آبادیوں میں بھی پھیلا رہا تھا اوران نوآبادیوں کے جدیدیت پسند، اپنے کلاسیکی کینن کو ترک کرنے میں اپنی نجات دیکھ رہے تھے۔ یہ حقیقت ، اب ڈیڑھ صدی بعد کھل رہی ہے کہ خود یورپ کے ادبی کینن کو الف لیلہ ولیلہ پلٹا رہی تھی ۔ الف لیلہ ولیلہ کا یہ پیغام واضح تھا: سامنے کی حقیقت کی عکاسی ادب نہیں ہے۔ نیز ادب کی صنفی حدود حتمی طور پر متعین نہیں کی جاسکتی ہیں اور نہ زندگی کو ادب میں پیش کرنے کے کسی واحد معیاری طریقے پر اصرار کیا جاسکتا ہے۔
ایڈورڈ سعید کی تاریخ ساز کتابOrientalism( 1978)نے مشرق و مغرب کے ثقافتی وادبی روابط کو دیکھنے کا اندازفیصلہ کن انداز میں بدل ڈالا ہے۔اٹھارویں اور انیسویں صدی کے مستشرقین کی نظر میں مشرق ایک ایسی بدروح ہے،جسے مغرب اپنی روشن خیالی،جدیدیت اورترقی کی مدد سے "نیک اور شریف ” بنانے کی سعی کررہا ہے۔سعید نے مستشرقین کی اس "نظر ” کا تجزیہ کیا اور واضح کیا کہ مستشرقین کا "مشرق ” ایک استعماری تشکیل ہے ،جس کا اصل مشرق سے کوئی تعلق نہیں۔سعید کے اثر سے نہ صرف اصل مشرق کی بازیافت کا عمل تیز ہوا ہے ، مغرب کی مشرق سے متعلق نو بہ نو تشکیلات کا مطالعہ کیا گیا ہے بلکہ مشرق سے جو کچھ مغرب میں انھی اٹھارویں اور انیسویں صدیوں میں گیا، اس پر بھی خاصی تحقیق ہوئی ہے۔ اسی تناظر میں الف لیلہ و لیلہ کے مغرب پر اثرات باقاعدہ تحقیق کا موضوع بنے ہیں۔ یہ تسلیم کیا جانے لگا ہے کہ الف لیلہ ولیلہ ایک ایسا عالمی متن ہے جو مسلسل سفر میں رہتا ہے، خود اپنی کہانیوں کی مانند۔ ایلوٹا کولا کے بہ قول :” الف لیلہ ولیلہ کا ایک عالمی متن کے طور پر تصور،تحقیق و تنقید کا غالب موضوع ہے۔بعض اوقات یہ خیال کرنا مشکل لگتا ہے کہ ہ داستان کسی ایک کلچر اور خصوصاً عرب اسلامی کلچر سے تعلق رکھتی ہے”4۔ رچرڈ فان لیوون نے مارسل پرائوسٹ، ولادی میر ناباکوف، ولیم فاکنر اور ٹونی موریسن کے یہاں اس داستان کے اثرات تلاش کیے ہیں۔ مغرب کی مصوری ، فلم ، اوپیرا پر بھی اس کے اثرات دیکھے گئے ہیں۔ فاطمہ مرنیسی نے اپنی کتاب”شہر زاد مغرب میں ” میں مغرب کی مصوری اور اوپیرا میں شہرزاد کی تمثال کا تانیثی تنقیدی جائزہ پیش کیا ہے ۔الف لیلہ ولیلہ کی کہانیوں کے ہیں یا اس کی تیکنیک کے۔ جیسے ناباکوف کے ناول Invitation to Beheading میں ایک قیدی کہانی سنانا شروع کرتا ہے اور اس کی زندگی کی بقا کا انحصار کہانی جاری رکھنے پر ہے۔ اس کی تکنیک جو کہانی در کہانی کی ہے، اس سے جدید مغربی فکشن نے بہت کچھ سیکھا ہے۔مغرب کے راستے سے لاطینی امریکی فکشن پر بھی اس داستان کے اثرات خاصے گہرے ہیں۔ بورخیس کوجب بھی اپنی ادبی یادداشتوں کے اظہار کا موقع ملتا، وہ اس داستان کے سحر اور اپنے فکشن پر اس کے اثر کا ذکر کرتے۔ رچرڈ فان لیوون کے بہ قول گارشیا مارکیز کا ناول "تنہائی کے سو سال "میں برتی جانے والی جادوئی حقیقت نگاری کی تیکنیک ، اسی داستان سے ماخوذ ہے5۔
اردو دنیا الف لیلہ ولیلہ کے عربی متن سے انیسویں صدی کے اوائل میں واقف ہوئی،جب یہ داستان فورٹ ولیم کالج سے شایع ہوئی ۔اردو میں بھی یہ خاصی مقبول ہوئی ۔ اردو میں داستان امیر حمزہ و طلسم ہوشربا، باغ و بہار ، بو ستان خیال ، فسانہ عجائب جیسی داستانیں مقبول تھیں۔اسی نوع کی مقبولیت الف لیلہ و لیلہ کےحصے میں بھی آئی۔ "اردو میں 1836 سے لے کر 1946 تک مختلف مئولفین نے مرتب اور کئی شاعروں نے نظم بھی کیا ہے۔ اردو کے بعض نامور ادیبوں اور انشا پردازوں میں مرزا رجب علی بیگ سرور ، پنڈت رتن ناتھ سرشار اور مرز ا حیرت کے نام خاص طور پر اہم ہیں”6 ۔وقار عظیم نے ابولحسن منصور کا نام شامل نہیں کیا جن کا ترجمہ 1940 سے انجمن ترقی اردو سے شایع ہونا شروع ہوا۔اردو میں ا س کے کئی ایڈیشن مترجم کے نام کے بغیر ،باتصویر بھی شایع ہوتے رہے ۔ان تراجم کے خلاصے بھی شایع ہوئے ہیں۔
اس داستان کی کہانیاں اپنی جگہ ،لیکن شہرزاد نے کیسے کہانی سنانے کے فن کی مدد سے ایک مطلق العنان بادشاہ کی قلب ِ ماہیت کی، یہ بیسویں صدی کے فکشن کا اہم موضوع بنا ہے اور اکثر صورتوں میں شہر زاد کا کردارمرد لکھنے والوں کے لیے خصوصاً ایک چیلنج بنا ہے ۔شہرزاد تانیثیت پسندوں کا اہم سروکار بھی ہے۔ مضمون کا اگلا حصہ اسی سے متعلق ہے۔
O
فکشن میں حدوں کو پہچاننے اور پھران کی شکست کرنےکا ملکہ پایا جاتا ہے۔ سب سے بڑی حد ہمارا مجروح تجربہ ہے۔اس وضع کے تجربے کی اسیری آدمی کوخود نگر و خود پرست ہی نہیں، متشدد بھی بناتی ہے۔ اسےحتمی سچ سمجھ کر دنیا سے معاملہ کرنا حقیقی تشدد اوراسے دنیا کے سامنا لانا علمیاتی تشدد ہے۔”میرا تجربہ یہ ہے” ایک پر تشدد جملہ ہے اوران لوگوں سے ڈرنا چاہیے جو اپنے تجربے کو قانون بنانے کی استطاعت رکھتے ہیں۔ ایک خاص وقت، خاص مقام اور خاص صورتِ حال میں وقوع پذیر ہونے والا تجربہ جب کسی شخص ،قوم یا کسی زمانے کا واحد سچ بنتا ہے تو پامالی و غارت گری کو راہ دیتا ہے۔ ویسے تو ہر طرح کے تجربے کی اسیری ، آدمی کی روح میں جاری اضطراب کا خاتمہ (Closure)ہے ۔اس اضطراب کے بغیر آدمی مٹی کا ڈھیر ہے۔ دوسروںکے راستے کی رکاوٹ اور ان کی ٹھوکروں کا نشانہ۔
"الف لیلہ ولیلہ” مجروح تجربے کی اسیری اور روح میں جاری اضطراب کی داستان ہے۔ایک کی نمائندگی شہریاراور دوسرے کی شہرزاد کرتی ہے۔ یہ داستان آج بھی ہماری یادداشت میں ابدیت کی علامت بن کر موجود ہے ۔اور یہاں "ہم ” سے مراد دنیا بھر میں ادب سے وابستہ اور کہانیوں کا شوق رکھنے والے لوگ ہیں۔اس کی مقبولیت کے اسباب کئی ہیں۔کہانی کو اس طور بیان کرنا کہ سننے (یا پڑھنے) والا ایک تخیلی سفر پر چلنے سے خود کو روک نہ پائے اور سفر بھی ایسا کہ اس میں حیرت، طلسم ، لالچ، بے وفائی، وفا، مہم جوئی، تشدد، انوکھی سرزمینیں ، ناقابل یقین کردار اور ان کے محیر العقول کارنامے۔ غرض انسان کو اس کی اپنی دنیاکے سب ظلمت ونور سے اس طور آگا ہ کرے کہ سننے والا اپنے اندر رفتہ رفتہ اس دنیا کا سامنا کرنے کی ہمت پیدا کرے۔ لیکن بڑ ا سبب یہ ہے کہ شہر زاد نے شہر یار کے مجروح تجربے کی حد کو پہچانااور ایک ہزار ایک راتوں کی صبر آزمائی کے بعد اس حد کو شکست کیا۔ شہر یار یقین کرنے پر مجبور ہوا کہ اس کے تجربے کی حد سے باہر بھی دنیائیں ہیں۔ وہ مطلق العنان بادشاہ ہونے کے اس دعوے پر نظر ثانی پر مجبور ہواجواسے اپنی مملکت کے ہر شہری کی جان کو اپنی ملکیت سمجھنے کی ترغیب دیتا تھا۔اس کی مطلق العنانیت نے اسے ایک بدترین جہالت کا بھی شکار کیا تھا؛ وہ انسانی رشتے کے علم سے یکسر بے خبر تھا۔تکبر اور جہالت کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔
ذرا غور کیجیے۔ شہر یا ر کے دل کو بیوی کی بے وفائی نے مجروح کیا ہے۔ فاطمہ مرنیسی کے خیال میں اس کی بیوی کا یہ عمل ظاہر کرتا ہے کہ مسلمان بادشاہوں کےحرم کی حدیں کمزور اور قابل شکست تھیں7؛ حرم ہی کی حد میں بادشاہ بیگم ایک حبشی غلام سے دن کے وقت ،اپنی کنیزوں کی موجودگی میں اختلاط کر سکتی تھی ۔کیا حبشی غلام کا کردارکہانی میں یہ بتانے کے لیے لایاگیا ہے کہ حرم میں محصوری کی زندگی بسر کرنےو الی عورتیں ،جنس کے ذریعے ایک ایسا سیاسی پیغام دیا کرتی تھیں جسے سننے کی تاب مردوں میں نہیں تھی ؟کیا حرم کی ان عورتوں کو صرف جنسی لذت نہیں ، اپنے بادشاہ شوہر کی طاقت اور نگرانی کے نظام کو ایک کالے غلام (جو طاقت کی سیڑھی پر سب سے نچلے قدم پر موجود تھا)سےتہ وبالا کرنا مقصود تھا؟شہر زاد کی شہرت کی چمک میں وہ غریب بھلا دی گئی۔کیا سب بے وفا عورتوں کی یہی تقدیر ہے؟ قتل اور فراموشی۔
بادشاہ بیگم یہ سلسلہ جاری رکھتیںاگر شہریا ر کا بھائی شاہ زمان اسے نہ دیکھ لیتا۔خود شاہ زمان نے یہی زخم کھایا تھا اور بھائی کے پاس یہی زخم بھلانے کے لیے آیاہوا تھا۔ شہر یار نے شاہ زمان کی سنائی گئی "کہانی ” پر اعتبار کیا ۔ جتنی بڑی انا،اتنا ہی بڑ ازخم ۔اپنے ہی حرم میں ایک طاقت ور ترین بادشاہ کی عملداری کا نہ ہونا،بہ یک وقت سیاسی شکست اور جذباتی صدمہ تھا ۔صرف مردانہ انا کو چوٹ نہیں لگی، شاہانہ اختیار اور وقار بھی مجروح ہوا۔ زخم گہر اتھا اور مسلسل گہرا ہونے کا احتمال رکھتا تھا۔مہاتما بد ھ نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ہمیں زمانہ ایک زخم دیتا ہے ،ہم اسی جگہ اپنی جہالت سے خود ایک نیا تیر پیوست کرتے ہیں اورزخم اور درد کو بڑھاتے جاتے ہیں۔شہر یا رنے ایک زخم میں روز ایک تیر پیوست کرنے کا غیر شعوری فیصلہ کیا۔ وہ بادشاہ بیگم سے ملنےو الے تجربے کا اسیر ہوا۔دن کوشادی، رات بھر کی دلھن ، صبح قتل۔مسلسل شادیاں اور لگاتار اپنے مجروح دل میں انتقام کا ایک نیا تیر۔ یہاں تک کہ وزیر پریشان ہوا کہ اتنی دلھنیں کہاں سے آئیں؟ اس کی بیٹی شہر زاد آگے بڑھی۔کم وبیش سب داستانوں میں بیٹیاں،مشکل وقت میں باپ کا ساتھ دیتی ہیں۔ باغ و بہار میں پہلے بصرہ کی شہزادی اورپھر آزادبخت کے قصے میں وزیر زادی۔( شیکسپیئر کے کنگ لئیر کی کارڈیلیا ، بصرہ کی شہزادی کی مانند باپ کی خوشامد سے انکار کرتی مگر آخر میں وہی سہارابنتی ہے)کم ازکم داستانوں نے بیٹیوں کی بہادری ، علم اور خطرات کا مقابلہ کرنے کی صلاحیت کو پہچاناہے۔ شہرزاد کو اس کے باپ نے کئی کہانیاں سنائیں کہ وہ اپنے ارادے سے باز آجائےمگر اس پر باپ کی کسی کہانی ،کسی فہمائش ،کسی التجا کا اثر نہیں ہوا۔ اس نے لائبریری چاٹی ہوئی تھی۔ متدوال علوم کی کتب پڑھ رکھی تھیں۔اشراف خاندان سے تعلق تھا۔ خود شہر زاد کا لفظی مطلب اشراف نسل سے ہونا ہے ۔ اسے اپنی بات منواناآتا تھا اور اپنی بات اور اردے پر قائم رہنا بھی ۔ وہ شہریار کے حرم میں پہنچ گئی۔اسے یہ سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ شہر یا ر کا مسئلہ جنس نہیںہے ۔ "شہر زاد،مغرب میں ” کی مصنفہ فاطمہ مرنیسی کے خیال میں شہریار اپنے وجود سے کراہت میں مبتلا تھا7۔ایک بے وفا بیوی کے شوہر ہونے کی حقیقت اسے خود سے کراہت میں مبتلا کرتی تھی۔لیکن شہر یار کے کردار میں کچھ اور باتیں بھی توجہ چاہتی ہیں۔مثلاً یہ کہ ایک بادشاہ اس دنیا کے بارے میں کتنا جانتا ہے جس پر وہ حکمران ہے؟کیا اتنا ہی جتنا وہ اپنے حرم کے اندر ہونےو الے واقعات کے بارے میں ؟ وہ براہ راست کچھ نہیں جانتا۔وہ اپنی زیر نگیں دنیا کے علم کے سلسلے میں اپنے ان ماتحت لوگوں کا محتاج ہے جنھیں ہر وقت اپنی زندگی کا خوف لاحق ہوتا ہے یا عہدوں کا لالچ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ حقیقی زندگی سے نہ صرف ا س کا تعلق باقی نہیں رہا تھا بلکہ ناگزیر حقیقتوں کو سمجھنے سے بھی محروم ہوگیا تھا۔لہٰذا شہر یار ان سب حکمرانوں کی نمائندگی کرتا ہے جو اپنی وسیع سلطنتوں کے بارے میں راست کچھ نہیں جانتے ۔ شہر زاد غالباً اسی لیے ہارون الرشید کے وہ قصے سناتی ہے جن میںوہ راتوں کو بھیس بدل کر خود اپنی آنکھوں اور کانوں سے رعایا کا حال جاننے کی کو شش کرتا ہے۔ حقیقی زندگی سے لاتعلق ہونے کے سبب ہی شہریار ایک رات کی دلھنوں سے کوئی جذباتی وابستگی قائم نہیں کرتا تھا ۔ نہ ان سے وصال کی خوشی تھی نہ ان کے قتل کا غم تھا ۔زندگی کی ناگزیر حقیقتوں میں سے ایک بے وفائی بھی ہے؛ مرد اور عورتوں کی ایک دوسرے سے بے وفائی تکلیف دہ سہی ،پر حقیقت ہے۔ دنیا میں چند مرد اور عورتیں گزرے ہیں جنھوں نے ایک دوسرے کی بے وفائی کو حقیقت سمجھ کر قبول کیا۔ ان میں ایک جوڑا سارتر اور سیموںدی بوا تھا۔
شہر زاد نے سمجھا کہ شہر یار کو جنس کی نہیں، اس علاج کی ضرورت ہے جو اسے ناگزیر سچائیوں کو قبول کرنے کے قابل بنائے۔ اس نے شہر یارسے اس کی بیوی کی بے وفائی اور اس کے عورتوں کے مسلسل قتل پر کچھ نہیں کہا۔ کیا شہر زاد مغرب کے ماہرین تحلیل نفسی سے بہتر علم رکھتی تھی کسی نفسی بیماری کے علاج کے لیے ، متعلقہ تجربے کی جڑ تک پہنچنے کی سعی کرتے ہیں؟ (امید ہے خالد سعید یااختر علی سید اس موضوع پر لکھیں گے۔)شہر زاد نے شہریار کی خواب گاہ میں موجود ہونے کے باوجود جنسی وصال کومسلسل معرض التوا میں رکھنے کی تیکنیک اپنائی۔یہ باور کرایا کہ خواب گاہ صرف نیند اور جنس کے لیے مخصوص نہیں۔وہ ایک ہزار ایک راتوں تک کہانیوں کے ذریعے شہر یار کوخود ا س کے محدود تجربے سے باہر لے گئی۔غالباً یہ انسانی تاریخ کا سب سے دل چسپ ،انوکھا اور طویل نفسیاتی علاج تھا۔
شہر زاد کی کہانیاں دیکھیں تو ان میں قسم قسم کی کہانیاں ہیں ۔ محض ان کا دل چسپ ہونا اہم نہیں۔ ان کہانیوں کے ذریعے شہر زاد نے شہر یار کو رفتہ رفتہ باور کرایا کہ ایک تجربے کی اسیر ی ان سب دنیائوں کو دیکھنے کے قابل نہیں رہنے دیتی جو ہمارے اندر اور باہر ہیں۔ہمیں ان دنیاؤں کاخالی علم نہیں چاہیے؛ انھیں دیکھنا بھی ہے۔ کہانیاں انھیں دکھاتی ہیں۔ کہانیوں کے پاس حقیقی دنیا کی نقل یا ا س کی مانند یا اس سے مختلف مگر زیادہ پر اثر دنیا خلق کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ہم کہانیوں میں ان سب چیزوں کو زیادہ قریب سے ، زیادہ وضاحت سے دیکھ لیتے ہیں ،جن کے بارے میں ہمارے خیالات مبہم ہوتے ہیں ۔ شاعری کا ابہام ، اسے معانی سے لبریز بناتا ہے مگر آدمی کے خیالات کا ابہام خطرناک ہے ۔یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر کہانی کا تعلق ہم سے ہے۔ قوم ،نسل ، مذہب، صنف، زبان انسانوں کے مابین دیواریں اٹھاتے ہیں ؛ صرف کہانیاں ہیں جو ہر دیوار عبور کرجاتی ہیں۔ خود الف لیلہ ولیلہ میں دنیا بھر کی کہانیاں جمع ہوگئی ہیں۔کیسا عجیب واقعہ ہے کہ باغ وبہار” میں بصرہ کی کہانی اور کنگ لیئر کی کہانی ایک جیسی ہے۔ کیسے وہ مشرق سے مغرب پہنچی؟ ایسپ کی کتنی کہانیاں ہندوستان سے گئیں۔پانچ ہزار سال پہلے کی گل گامش میں مذکور سیلاب کی کہانی کہاں کہاں نہیں پہنچی۔ شہرزاد نے شہر یا ر کو یہ سب دنیائیں (جن کا اوپر ذکر ہوا)دکھائیں اور اس کی خواب گاہ میں ، فرصتِ شب کے عالم میں دکھائیں ۔ اسے ایک تجربے کی اسیری سے آزادی دلائی۔ اس میں ایک اہم کردار اس کی کہانی کی تیکنیک کا بھی ہے۔ کہانی در کہانی۔غور کریں تو جمالیات اور سیاست کہیں کہیں مل جاتے ہیں۔مثلاً کہانی در کہا نی کا ایک سیاسی پہلو بھی ہے۔ مطلق العنان بادشاہ مرکز پسند ہوتا ہے؛ وہ خود اپنی ذات کو سب سے بڑا مرکز بناتا ہے اور باقی سب کو مرکز سے بعید رکھتا(periphery) ہے ۔ مغربی افسانے کی وحدت ِ تاثر کی شرط ، مطلق العنان بادشاہ کی مرکزیت پسندی کےمماثل ہے ۔شہر زاد نے اس مرکزیت کی نفی کی ہے۔ ایک کہانی کےکرداروں کی آگے طویل کہانیاں لکھی ہیں۔ نہ صرف مرکز کا خاصا ڈھیلا ڈھالاتصور پیش کیا ہے بلکہ سب کہانیوں کو پھر ملا بھی دیا ہے۔الف لیلہ ولیلہ کی کہانیاں تنوع ،تکثیریت اور کثیر آوازیت کی حامل ہیں۔
الف لیلہ ولیلہ کی داستان کا ایک ضمنی سبق دنیا بھر کے مردوں کے لیے ہے۔ یہ کہ مرد کی تباہی اور نجات کے مراکز ان کی خواب گاہیں ہیں۔کبھی کبھی خیال آتا ہے کہ کیا سدھارتھ کی خواب گاہ میں بھی کوئی خاص واقعہ ہوا تھا؟کیوں کہ وہ خواب گاہ ہی سے جنگل کی طرف نکلا تھا۔
شہر زادصرف اپنے ملک کی عورتوں کی نجات دہندہ نہیں۔وہ صرف شہر یار کی مملکت کی باقی ماندہ لڑکیوں کی جان ، اپنی جا ن پر کھیل کر نہیں بچاتی بلکہ آگے کئی صدیوں تک وہ دانشور عورت کی سب سے طاقت ور علامت بنتی ہے۔ایک طرف شہرزاد فکشن کی طلسمی طاقت کی نمائندہ ہے ،دوسری طرف اس نے دنیا بھر کی تانیثی تحریکوں کودانشورانہ قیادت فراہم کی ہے۔ادب کے ذریعے کٹھور ، قاتل پدر شاہی نظام کو بدلنے کا استعارہ شہر زاد کے سوا کوئی نہیں۔فاطمہ مرنیسی کی کتاب ، شہرزاد کے استعارے کو سمجھنے کی بہت عمدہ کوشش ہے ۔ وہ اس بات پر افسوس ظاہر کرتی ہے کہ مغرب کی مصوری اور اوپیرا میں شہر زاد کو دانشور عورت کے طور پر نہیں، جنسی طور پر لبھانے والی حسینہ کے روپ میں پیش کیا گیا ہے۔
مغرب (اور مشرق ) کے کئی مرد لکھنےو الوں کے لیے بھی شہر زاد کا کردار پریشان کن رہا ہے۔وہ شہر زاد کے نجات دہندہ ہونے کے تصور کو قبول کرنے میںدقت محسوس کرتے رہے ہیں۔بعض کے لیے تو شہر زاد آسیب ثابت ہوئی ہے ۔ اس کے لیے انھوں نے ایک ہزار ایک کے بعد کی راتوں کو منتخب کیا ہے ۔ان میں سب سے اہم ایڈ گر ایلن پو ہے۔ اس نے اپنی کہانی”شہرزاد کی ایک ہزاردوسری رات کی کہانی "(1845) میں شہریار کے ہاتھوں اسے مروا دیاہے ۔پو دکھاتے ہیں کہ شہر یار کو اس کی کہانیاں جھوٹ، بکواس اور خرافات لگتی ہیں۔ شہر یارکو پہلے کی مانند مطلق العنان ، متکبر اور سنگدل دکھایا گیا ہے ۔وہ شہر زاد کو حکم دیتا ہے کہ بولنا بند کرے ۔ اس کا سر جھوٹ سن سن کر درد کررہا ہے۔ پو ،شہریار کو یہ کہتے بھی دکھاتے ہیںکہ کیا شہرزاد اسے بے وقوف سمجھتی ہے کہ وہ شہرزاد کی اپنی جان بچانے کی چال کو نہیں سمجھ سکا۔ شہر زاد کے ساتھ پو، بس اتنی ہمدردی دکھاتا ہے کہ شہر زاد اگلی صبح اپنی موت کو وقار کے ساتھ قبول کرتی ہے اور یہ سوچتی ہے کہ بدقسمت شہریار ہے جو کتنے ہی اور ناقابل ِ قیاس مہموں کو(کہانیوں کے ذریعے ) جاننے سے محروم رہا۔یعنی پو مانتا ہے کہ شہر زاد کے پاس ، شہریارسے بڑھ کر کچھ تھا۔ہم کہانیاں پڑھتے ہوئے کرداروں میں خود کو دیکھتے ہیں؛ کچھ کی کامیابی اور کچھ کی تباہی کی آرزو کرتے ہیں۔ پو، شہریار کے ساتھ ہے،شہرزاد کے ساتھ نہیں۔ اس کے لیے یہ قبول کرنا مشکل ہے کہ ایک عورت ،اس بصیرت کی حامل ہوسکتی ہے جو مرد کے دل ودماغ کو بدل سکے۔ دانشور عورتوں کے لیے آج بھی ایڈ گر ایلن پو موجود ہیں۔
انیسویں صدی ہی کے ایک فرانسیسی ادیب Theophile Gautierنے ایڈ گر ایلن پو والا کام ہی کیا۔ شہرزاد کو اپنے ایک ناولٹ میں مار ڈالاکیوں کے اس کے پاس اب کوئی کہانی باقی نہیں رہ گئی تھی۔ایک کو شہرزاد کا بولنا اچھا نہیں لگا ،دوسرے کو خاموشی۔ انتظار حسین ،ان دونوں مغربی مصنفین کی مانند ظالم ثابت نہیں ہوئے،لیکن شہر زاد کا اطمینان سے جینا انھیں بھی پسند نہیںآیا۔ انھوں نے شہر زاد کی موت کو اس کی کہانیوں کی موت سے جوڑ کر دکھادیا۔ افسانے "شہر زاد کی موت” میں دکھایا ہے کہ جب وہ شہریار کی بیوی بن کر نارمل زندگی بسر کرتی ہے تو کہانیاں بھول جاتی ہے۔ اس کی بھول کا مداوا اس کی بہن دنیا زاد کرتی ہے۔شہر یار اس کی چپ اور اداسی کاسبب پوچھتا ہےتو وہ بتاتی ہے کہ "تو نے میری جان تو بخش دی مگر مجھ سے میری کہانیاں چھین لیں۔وہ کہانیاں ختم ہوئیں تو سمجھو میری کہانی بھی ختم ہوگئی”۔کیا انتظار صاحب کہانی اور جان کو لاحق خطرے میں کسی تعلق کو واضح کرنا چاہ رہے ہیں؟کیا واقعی بڑا ادب لازماً کسی بڑے بحران کے وقت جنم لیتا ہےاور امن کا زمانہ ادب کے لیے سازگار نہیں؟کیا موت اور مٹ جانے کا خوف ، بہترین ادب پاروں کی تخلیق کے محرک کا کام کرتا ہے ؟ یا انتظار صاحب خود اپنی کہانی بیان کررہے ہیں؟ "شہر زاد کی موت” ان کا آخری افسانوی مجموعہ تھا جو 2002میں چھپا تھا۔برسبیل تذکرہ ن م راشد نے ایک نظم "وزیرے چنیں ” میں شہرزاد کا ذکرکیا ہے ،لیکن اس پر لکھنے کی بجائے،ا س کی زبانی ایک قصہ منظوم کیا ہے۔
شہر زاد کی علامت اس قدر پیچیدہ اور وسعت کی حامل ہے کہ اسے مرد کا تخیل سنبھالنے میں ڈگمگا جاتا ہے۔ یہ خیال مصری مصنف تو فیق الحکیم کا ڈراما "شہر زاد”(1934) پڑھتے ہوئے آتا ہے۔ سات مناظر پر مشتمل اس ڈرامے میں وہ سب کچھ ہے جس کی توقع ہم مشرق کے کسی بڑے مصنف سے کرسکتے ہیں۔ حقیقت، فنتاسی ، جادو، جنس اور روحانی سفر۔ ان سب کے بیان میں بھی ساحری ہے؛ پڑھنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ وہ پڑھ رہے ہیں یارونما ہوتے دیکھ رہے ہیں۔ توفیق نے صرف ایک تبدیلی کی ہے، ایک وزیر قمر کا کردار متعارف کروایا ہے ۔ شہر زاد کا باپ بھی وزیر تھا ؛ وہ اس ڈرامے میں موجود نہیں۔ ڈرامے کی کہانی یہ ہے کہ شہر زاد کی ایک ہزار ایک راتوں کی کہانیوں کے بعد خود شہر زاد اور شہریار دونوں بدل گئے ہیں۔ شہر زاد ایک وزیر کی باہمت بیٹی نہیں رہی؛ ایک چالاک ، بااختیار ملکہ بن گئی ہے اور شہریار نام کا بادشاہ ہے۔ وہ ایک قابل رحم مخلوق میں بدل گیا ہے ،جس پر شہر زاد کو اختیار حاصل ہوگیا ہے۔ شہر زاد اپنے اختیار کا ستعمال کسی سفاک بادشاہ کی مانند کرتی ہے۔ پہلے اس نے اپنی کہانیوں کی مدد سے شہریار کے دل سے سفاکی کا خاتمہ کیا۔یہ بھی شہر زاد کا اپنے اختیار کا مظاہرہ تھا کہ وہ کراہت ِذات میں مبتلا ، سفاک مطلق العنان کا دل بد ل سکتی ہے۔ لیکن یہ اس کے اختیار کا اوّلین مظاہرہ تھا، اس لیے وہ محتاط تھی ۔جیسے ہی شہر زاد کو یقین آتا ہے کہ شہریار اسی طرح تبدیل ہوا ہے ،جس طرح وہ چاہتی تھی ،وہ شہر یار سے ایک کنواری قتل کرواتی ہے۔ توفیق الحکیم نے شہر زاد کو عورتوں کی نجات دہندہ بنا کر پیش نہیں کیا بلکہ ایک مطلق العنانی کی حد تک بااختیار عورت کے طور پر پیش کیا ہے؛ظاہر ہے ایسے شخص کے دل میں کسی کی محبت ہوتی ہے نہ کسی کے لیے رحم۔ وہ شہر یار ہی کی مانند سفاک ،خود پسند اور بیمار ہوگئی ہے۔ وہ پہلے قمر وزیر کو اپنی طرف مائل کرتی ہے ؛ پھر ایک معمولی غلام کو اپنی خواب گاہ میں لے آتی ہے۔شہر زاد، شہر یار کی پہلی بیوی کی زندگی جیتی ہے،لیکن شہر یار بدل چکا ہے۔ پہلے وہ سفر پر جاتا ہے ۔ اس خیال سے کہ اس نے کہانیوں کے ذریعے جس خیالی اور تخیلی دنیا سے آگاہی حاصل کی تھی ، وہ "حقیقت ” کا متبادل نہیں ہوسکتی ۔ حقیقت کو خود اپنی آنکھوں سے دیکھنا چاہیے۔ اس کا دربار چھوڑ کر سفر پر جانا،ایک حد تک بدھ کے سفر سے ملتا ہے۔ بدھ کو زندگی کے بنیادی معنی کی تلاش تھی ؛ شہریار کو حقیقت کی تلاش ہے ۔ وہ نسوانی جسم سے اکتا چکا ہے۔ وہ اب اس سے بلند سچائیوں تک رسائی چاہتا ہے۔ قمر وزیر ،اس کے ساتھ ہوتا ہے۔ حالاں کہ شہریار اسے بہت منع کرتاہے۔ سفر کے بعد دونوں ابو منصور کے کلال خانے میں آتے ہیں جہاں وہی جلا د موجو دہوتا ہے ،جس نے کنواری کو قتل کیاتھااور اپنی تلوا ر بیچ دی تھی۔ یہ تلوا ر قمر وزیر خرید لیتا ہے۔ ابو منصور کے کلال خانے میں کچھ واقعات طلسمی یا فنتاسی پر مبنی ہیں۔ جلاد کی ٹانگ موجو دہے ،مگر وہ نہیں۔ ٹانگ ، شہر یار اور وزیر تک اس پیغام کو پہنچاتی ہے کہ آپ کے قدم ، درخت کے تنے کی مانند ہیں جس پر اس کی شاخیں ہوتی ہیں۔ مطلب سفر آپ کو تبدیل نہیں کرتا۔ جہاں بھی جاتے ہیں آپ اپنے ساتھ ہی ہوتے ہیں؛اپنی جنت ،جہنم اپنے کاندھوں پر اٹھائے ہوتے ہیں ۔ شہر یار ، قمر سے کہتا ہے کہ تم سفر میں مسلسل شہرزاد کے لیے، ا س کے خوبصورت جسم کے لیے پریشان رہے ہو اور اب تمھیں واپس جانے کی اس لیے جلدی ہے کہ تم اسے دیکھ سکو۔ شہریار خود کو جسم ، حسن ، زمین سب سے بے نیاز رکھنے کا تاثر دینے کی بھرپور کوشش کرتا ہے۔وہ واپس محل جاتے ہیں۔ وہاں شہر زاد اپنے غلام کے ساتھ اپنی خواب گاہ میں موجود ہوتی ہے۔ اسے اپنے اختیار کا یقین ہے۔ اسے یقین ہے کہ شہر یار بدل گیا ہے۔ اب وہ غلام اور اسے قتل نہیں کرے گا۔ جب غلام ڈرتا ہے تو وہ کہتی ہے کہ ڈرو مت ، اگر اس نے قتل کا ارادہ کیا تو دونوں کو کرے گا۔ غلام کو وہ سیاہ پردے کے پیچھے چھپا دیتی ہے اور شہریار کا استقبال کرتی ہے۔ وہ محبت کرنے والی بیوی نہیں، حد سے زیادہ پر اعتماد ملکہ ہے۔ لیکن اس سے بھی بڑھ کر شطرنج کی کھلاڑی ہے جوجان کی بازی لگا کر کھیلنے کا فیصلہ کرچکی ہے۔ غلام کانپتے ہوئے شہر یار کے سامنے آتا ہے؛ شہر یا ر اسے چلے جانے کا حکم دیتا ہے ۔وہ سخت بے یقینی کے عالم میں شہر زاد کی خواب گا ہ سے نکلتا ہے۔ قمر وزیر اس تلوار سے اپنا سر کاٹ ڈالتا ہے جو اس نے ابومنصور کے قہوہ خانے سے خریدی تھی۔شہریار ثابت کرتا ہے کہ وہ واقعی بدل گیا ہے۔ جسم اور اس کی کشش سے نجات پاگیا ہے۔ وہ شہر زاد کو اپنی ملکیت سمجھنے کے خیال سے آزاد ہوگیا ہے اور زندگی کو اس زاویے سے دیکھنے لگا ہے ، جو آدمی کی قلب ماہیت کے بعد حاصل ہوتا ہے اور جس میں چیزوں سے وابستگی باقی نہیں رہتی۔ آدمی چیزوں ، لوگوں ، واقعات کو دیکھتا ہے اور خاموش رہتا ہے۔ وہ اس خاموشی میں کیا کیا معنی دیکھتا ہے، ان کا اظہار بھی کم کم کرتا ہے۔
توفیق الحکیم نے ایک زبردست ڈراما لکھا ہے۔ لیکن ڈراما نگار نے شہر زاد سے وہ سب چھین لیا ہے جو اس نے سخت محنت سے حاصل کیا تھا۔وہ نہ صرف عورتوں کی نجات دہندہ تھی بلکہ بھٹکے ہوئے مردوں کی مسیحا بھی تھی۔ اس نے باور کرایا تھا کہ مرد کی خواب گاہ میں مرد کے سفاک دل کو ایک نرم خو انسان میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ توفیق الحکیم نے شہر زاد کو ایک سفاک ملکہ بنا کر رکھ دیا۔ اسے مسیحا نہیں رہنے دیا، ایک بے وفا، ظالم اور منتقم مزاج عورت بنادیاہے۔ لگتا ہے کہ شہر زاد نے جس سفاکی کو شہر یار کے دل سے نکالا تھا ،اس کو اپنے دل میں بھر لیا۔ وہ شہر یار کے ساتھ سفاکانہ سلوک کرتی ہے؛ اسے اذیت دیتی ہے۔ اپنی خواب گاہ میں اپنے شوہر کے سامنے ، ایک غلام کو لانے کا مطلب اذیت کے سوا کیا ہے؟
کیا توفیق الحکیم کی نظر میں شہر زاد کا نجات دہندہ کا تصور محض مثالی ہے ؟ وہ شہر زاد کو ایک عورت بناکر پیش کرنا چاہتے ہیں؟ مثالی تصور میں بشری خصوصیات کی نفی ہوجاتی ہے۔ وہ شہر زاد کو بندہ بشر بناکر پیش کرنے کی سعی کرتے ہیں؟نیز کیا وہ مطلق العنان بادشاہ کی ساری طاقت کو ایک عورت اور غلام کی مدد سے معزول کرنے کی سعی کرتے ہیں؟ کیا وہ ایک جمہوری ،ترقی پسندانہ نقطہ ء نظر اختیار کرتے ہیں؟ ایک غلام جب کسی بادشاہ کی محبوب ترین بیوی کے حرم میں موجود ہو اور اسے وہ قتل نہ کرسکے تو یہ ایک مطلق العنان بادشاہ کی ساری طاقت کی معزولی کی علامت ہے۔ یہ سب بجالیکن توفیق کا نقطہ ء نظر پدری طاقت سے مملو ہے۔ شہر یار قابل رحم سہی، لیکن وہ علائق سے آزاد ہوا ہے۔یعنی اس نے حقیقت کی تلاش کا سفر کیا ہے ، وہی شہرزاد کو بتاتاہے کہ وہ فطرت کی طرح ہے، لیکن شہر زاد کا دل علائق میں الجھا ہے۔ کیا وہ صرف صنفی کردار بدلنا چاہتے ہیں؟ جو طاقت اور سفاکی مرد کے پاس تھی ، وہ اب عورت کے پاس ہے۔ یہ جمہوری فکر نہیں، اپنی اصل میں آمرانہ ہے۔ سفاکی کا خاتمہ نہیں ہوتا، سفاک کرداروں کی جگہیں بدل جاتی ہیں۔ کیا توفیق یہ بتانا چاہتے ہیں کہ بادشاہت سے جمہوریت کے سفر میں بھی جگہیں ہی تبدیل ہوئی ہیں۔لیکن اس خیال کو پیش کرنے کے لیے بھی شہرزاد کے علامتی قلب ماہیت کی ضرورت کیا تھی؟ کیا ہم توفیق کو بھی ایسا مرد سمجھیں جو عورت کو جنس کے سوا نہیں دیکھ سکتا؟ ان کے ڈرامے کی شہر زاد کے کردا ر کا حاصل جمعی "جنس ” ہی نکلتا ہے۔
"شہر زاد کے خواب”(1946)مصر ہی کے طہ حسین کا مختصر ناول ہے۔ الف لیلہ ولیلہ کی شعریات کا اساسی اصول یہ تھا:ہر کہانی کے اندرایک اور کہانی ہے ،یعنی کوئی کہانی کبھی ختم ہوتی ہے نہ دوسری کہانیوں سے بیگانہ ہوتی ہے ۔اسی اصول سے طہ حسین سمیت سب لکھنے والے فائدہ اٹھاتے ہیں اور ایک ہزار ایک کے بعد کی راتوں کی کہانی لکھتے ہیں۔لیکن وہ عہد وسطیٰ کے عرب داستان گوئوں کے بر عکس شہر زاد کی زبانی کہانیاں سنانے کے بجائے ، خود شہر زاد اور شہر یار کاقصہ لکھتے ہیں۔انھیں مطلق العنان بادشاہ اورپر اعتماد و باعلم وزیر زادی کاباہمی تعلق کہانی کے نقطہ ٔ نظر سے زیادہ زرخیز محسوس ہوتا ہے ۔نہ صرف نفسیاتی ،جنسی اور طبقاتی حوالے سے، بلکہ جدیدسیاسی تصورات کے ضمن میں بھی۔ طہ حسین کے ناول کے پس منظر میں یہ سوا ل موجود ہے کہ کیا الف لیلہ ولیلہ کے قصے میں واقعی شہر زاد، شہر یارکی قلب ماہیت کرنے میں کامیاب ہوگئی ؟ طہ حسین اپنے ناول میں ا س کا جواب دیتے ہیں کہ” نہیں” ۔اگرچہ انھیں اس میں شک نہیں کہ شہر زاد کا مقصود ، شہر یار کی قلب ماہیت ہی تھا ۔
ناول میں ایک ہزار ایک کے بعد کی رات کا منظر دکھایا گیا ہے۔ دونوں کی شادی ہوچکی ہے،لیکن شہر یار اپنی خواب گا ہ میں بے چینی اور بے خوابی کا شکار ہے ۔ ناول بتاتا ہے کہ اس کی قلب ماہیت نہیں ہوئی تھی ،بلکہ وہ شہر زاد اور اس کی کہانیوں پر انحصار کرنے لگ گیا تھا، کہانی کے نشے کا عادی ہوگیا تھا؛اور اب وہ خمارکی اعضا شکنی کا سامنا کررہا ہے۔ چناں چہ وہ شہرزادسے مزید کہانیاں سننے کی خواہش کرتا ہے۔شہر زادکے لیے اس کی حالت کو سمجھنا مشکل نہیں۔ اب وہ وزیر زادی نہیں، ایک کمزور بادشاہ کی بااختیار ملکہ بن کر سوچتی اور عمل کرتی ہے ۔ وہ اسے کہانی نہیں سناتی۔ طہ حسین یہاں جادوئی حقیقت نگاری کی تیکنیک سے کام لیتے ہیں جسے الف لیلہ ولیلہ ہی سے اخذ کیا گیا ہے۔ شہر یار ،خواب میں شہرزاد سے قسط وار کہانی سنتا ہے ۔وہ اپنی آزادی سے یکسر محروم ہوچکا ہے۔ وہ اپنی ہستی کی آخری گہرائیوںمیں بھی ایک غیر یعنی شہر زاد کا محتاج ہوچکا ہے۔ وہ رات کو خواب میں شہر زاد سے کہانی سنتا ہے اور دن کو اس سے باتیں کرتا ہے ۔ وہ شہر زاد سے پوچھتا ہے کہ وہ آخر ہے کون؟ اس کی حقیقت کیا ہے ؟ شہریار کے شہر زاد پرانحصار کی انتہا ملاحظہ کیجیے کہ وہ یہ سوال بھی شہر زاد ہی سے پوچھتا ہے۔ شہر زاد اسے بتاتی ہے کہ وہ اس کی ماں ہے ، بہن ہے، بیٹی ہے ،بیوی ہے ،مالکن ہے اور محبوبہ بھی۔گویا شہر زاد میں عورت کا آفاقی عین مجسم ہوگیا ہے ۔ایک مرد، عورت سے جتنی امیدیں اور توقعات رکھتا ہے ، وہ سب اکیلی شہر زاد پوری کرسکتی ہے ۔ لیکن شہر زاد محسوس کرتی ہے کہ شہر یار کی افسردگی بڑھتی جارہی ہے ۔ وہ اسے امید دلاتے ہوئے کہتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی روح پھونکے گی ،جس سے اس کی سابقہ طاقت اور جاہ وجلال لوٹ آئے گا۔ لیکن وہ بالاآخر اسے اپنا غلام بنا کر چھوڑتی ہے۔ شہر یار اس شہر زاد کو یاد کرتا رہتا ہے جو اسے کہانیاں سنایا کرتی تھی ؛ شہر زاد اپنی کہانیوں کی مانند سمندر ہے جس کی گہرائی کو ناپا نہیں جاسکتا؛ وہ رات ہے جس سے تاریکی کو جدا نہیں کیا جاسکتا ؛ ایک ایسا سربستہ راز ہے جسے کھولا نہیں جاسکتا۔ وہ محسو س کرتا ہے کہ اس کی مطلق العنانی فریب تھی ، ایک بادشاہ اس سے اوپر بھی ہے۔ شہر زاد ،شہر یار کو ” جنت نما جہنم ” میں لے جاتی ہے جہاں وہ سب ایک رات کی دلھنیں موجود ہیں جنھیں شہر یار نے قتل کروایا تھا۔اس منظر کی مدد سے شہر یار اپنے سفاکانہ جرائم کو یاد کرتا ہے اور نادم ہوتا ہے۔طہ حسین نے یہاں مغرب کی جدید تحلیل نفسی سے استفادہ کیا ہے جس کی رو سے، آدمی کی نجات کسی تجربے کی جڑ تک رسائی سے مشروط ہے۔ عیسوی اخلاقیات میں اعتراف کا اصول بھی یہی ہے۔ حالاں کہ شہرزاد حال شناس اور مستقبل بیں تھی ؛ وہ ماضی کے تلخ تجربوں کی قائم کردہ حدوں کو توڑتی تھی اور آگے کی طرف دیکھتی تھی۔
شہر یار خواب میں جس کہانی کو سنتا ہے ،وہ ایک جن بادشاہ اور ا س کی دختر فتنہ کی کہانی ہے۔ یہ کہانی ، فتنہ کی سیاسی جدوجہد سے عبارت ہے۔ وہ جادو اور دوسری چالوں سے باپ کی جگہ لیتی ہے ۔طہ حسین یہ باور کراتے ہیں کہ شہر زاد اور فتنہ کی جدوجہد پرانے سیاسی نظام کو بدلنے کی ہے ۔ طہ حسین ناول میں دکھاتے ہیں کہ شہرزاد کے پاس علم اور محبت ،دونوں طاقتیں ہیں،جن کے استعمال کا ٹھیک وقت بھی وہ جانتی ہے۔ جب شہر یار اپنے جرائم پر ندامت کرلیتا ہے تو وہ اس سے محبت کا اظہار کرتی ہے ۔ "میری روح تمھاری ہے اور تمھاری روح میری ہے ۔تمھارے دل کے گہرے راز مجھ سے لفظوں میں یا خاموشی سے پہنچ سکتے ہیں” شہرزاد کا یہ اظہار ِ عشق ، شہر یار کی روح کو بے کنار کردیتا ہے اور وہ کسی بے کراں جھیل کے اوپر خود کو محو پرواز محسوس کرتا ہے ۔ اب اس کی قلب ِ ماہیت ہوجاتی ہے؛ افسردگی اور اضطراب کی جگہ دل کا اطمینان لے لیتا ہے ۔یہاں طہٰ حسین ایک بار پھر مذکورہ بالا نفسی اور اخلاقی اصول باور کراتے ہیں کہ ماضی کی سیاہ کاریوں کے اعتراف و ندامت (سزا نہیں )کے بغیر آدمی کی نجات ممکن ہے نہ حقیقی محبت اور نہ دلی مسرت۔ ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ طہ حسین نے داستانوں کی مانند اپنے ناول کا دلشاد اختتام کیا ہے۔ طہٰ حسین نے شہر زاد وشہر یار کے اس قصے میں مصرمیں مغربی جدیدیت اور مشرق کی روایت میں ہم آہنگی تلاش کرنے کی سعی کی ہے۔
نجیب محفوظ کو شہر زاد سے زیادہ ، الف لیلہ ولیلہ میں دل چسپی محسوس ہوتی ہے۔ وہ اس داستان کی بیانیہ تیکنیک ، اس کے ثقافتی تنوع، فکشن کی ہیئت کو قائم رکھتے ہوئے مشکل سوالات کو پیش کرنے کی خصوصیت کو اپنے ناول”لیلہ الف لیلہ”(1982) میں بروئے کار لاتے ہیں۔وہ اپنے ہم وطنوں توفیق الحکیم یا طہٰ حسین کی مانندشہر زاداور شہریار کے رشتے کو کلیدی اہمیت دیتے نظر نہیں آتے۔
جاپانی فکشن نگار موراکامی اپنے افسانے "شہرزاد”(2014) میں شہر زاد کوٹوکیو لے گئے ہیں۔موراکامی سے پہلے لیلیٰ صابر (Leila Sebbar) اپنے تین ناولوں کی سیریز میں اسے فرانس لے گئیں تھیں ،جہاں اسے ایک الجزائری خاندان کی سترہ سالہ لڑکی دکھایا گیا ہے جو گھر سے بھاگ کر خانہ بدوشوں کے ساتھ رہنا شروع کرتی ہے اورمختلف ملکوں کے سفر کرتے فلسطین جا پہنچتی ہے تاکہ ژولیاں نام کےایک آدمی کی لکھی ہوئی فلم میں کام کرسکے۔سوائے نام اور مسلسل سفر کے موتیف کے ، اس کا الف لیلہ ولیلہ کی شہرزاد سے کوئی تعلق نہیں۔ موراکامی کی شہر زاداکتیس برس کی ایک شادی شدہ ،نرس ہے ۔ اسے ہفتے میں دودن خود سے چار سال چھوٹے ہبارا کے پاس جانا ہوتا ہے۔ کہانی کا آغاز ہی یہاں سے ہوتا ہے کہ وہ ہر بار جفتی کرتے ہیں اور اس کے بعد نرس ،جسے ہبارا اپنی نوٹ بک میں شہر زاد کا نام دیتا ہے، کہانیاں سناتی ہیں۔ انھیں ہبارا اپنی نوٹ بک میں مرموز زبان میں لکھتا جاتا ہے۔ دو کہانیاں خاص ہیں۔ ہباراکی شہر زاد اپنی سابقہ زندگی میں مورینہ مچھلی ( lamprey) تھی ۔ بغیر جبڑوں کی مچھلی جو سمندری چٹانوں کے پاس رہا کرتی تھی ؛ ایک مکمل خاموشی سے( کہ اس کے کان بھی نہیں تھے ) دوسری مچھلیوں کو دیکھا کرتی تھی۔ اسے اپنے اس سابق جنم کا خیال پہلی بار ایکوریم کے دیکھنے سے آیا تھا۔ مکمل خاموشی کا خیال ، اسے کوکھ کی یادداشت کی طرف بھی لے جاتا ہے اور پھر اس کی زندگی کی دوسری کہا نی کی طرف۔ جب وہ سکول میں تھی تو اپنے ایک ہم جماعت کے عشق میں جنون تک پہنچ گئی۔وہ کسی اور میں دل چسپی رکھتا تھا۔ ہبارا کی شہرزاد ، اس کے گھر ،جب سب باہر تھے ،چوروں کی طرح تالا کھول کر پہنچ گئی۔ وہاں بھی مکمل خاموشی تھی۔وہاں وہ ڈاٹ روئی (tampon) رکھ چھوڑ آئی اور ا س کی استعمال شدہ پنسل لے آئی۔ اس کے بعد وہ اس کی شرٹ چرا کر لائی۔ پنسل کو چومتی اورکاٹتی اور شرٹ کو سونگھتی اور اپنے ساتھ بستر پر رکھتی ۔ ہبارا ، اپنی شہرزاد کی کہانی ہر ملاقات کے جنسی عمل کے بعد سننے کا عادی ہوگیاہے اور کہانی کے بقیہ حصے یا کسی نئی کہانی کا منتظر ہوتا ہے۔ وہ خو دکتابیں پڑھتا ہے ۔ کھانے کی اشیا اس کی شہرزاد لاتی ہے اور کھانا وہ خود بنالیتا ہے۔ وہ اکیلا ہے، اس کی دیکھ بھال یہی نرس کرتی ہے ۔ ہر طرح کی دیکھ بھال۔جنس اور کہانی سنانا دونوں اس کے پیشہ ورانہ فرائض میں داخل ہے، سوائے کہانی کے آخری واقعے کے ،جب وہ اکتیس سال کی ، ڈھلکے جسم والی عورت کی بجائے ،وہی سترہ برس کی لڑکی بنتی ہے جب وہ چوری چھپے اپنے محبوب کی خواب گاہ میں پہنچ جایا کرتی تھی؛ وہ اس وحشت کا مظاہرہ کرتی ہے جیسے اس کے جسم کا ایک ایک عضو جنسی عمل میں دل وجان سےشریک ہو اور لذت یاب ہونے کے علاوہ اپنی ساری یادداشت کھو چکا ہو۔وہ اسی آخری ملاقات میں ہباراکو بتاتی ہے کہ کئی سالوں بعد تقدیر اس ہم جماعت کو اس کے سامنے لائی تھی لیکن وہ سارا قصہ نہیں سناتی ۔ افسانے کا خاتمہ ، کہانی کے نامکمل رہنے پر ہے؛ اس کامطلب یہ ہے کہ شہر زاد کی کہانی ابھی باقی ہے!
پورا افسانہ ایک نازک اور مشکوک صورت حال (precarious condition)کا شکار ہے۔شہر زاد کا نام کہانی سے نکال لیں تو کہانی کے واقعات میں کوئی فرق نہیں پڑے گا ؛ وہ ہبارا کی مرموزی زبان میں شہر زاد ہے، لیکن کہانی بالکل عام سے واقعاتی متن میں بدل جائے گی۔ لیکن مورا کامی نے جو کچھ شہر زاد کے ساتھ کیا ہے ،اس سے کئی سوال پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً کیا ایک جدید مصنف کو ماضی کی علامت کو یکسر بدل دینے کی مکمل آزادی ہے یا اس علامت کی بنیادی معنویت کو توسیع سے ہم کنار کرنے کی ؟یا جس علامت سے لکھنے والے کا ثقافتی تعلق نہ ہو ،کیا وہ اسے لازماً ایک غیر کی نظر ہی سے دیکھے گا؟مورا کامی کا مقصود سولھویں صدی کی شہر زاد کو اکیسویں صدی کی جمہوری دنیا میں دکھانا ہوسکتا ہے۔ لیکن اگر آپ شہر زاد کی علامت سے آگاہی رکھتے ہیں اور اس کے معنی سے آپ کو کچھ ہمدردی بھی تو پھر نوبیل انعام سے سرفراز ہونے والے اس ناول نگار کی یہ مختصر کہانی پڑھ کر شاید آپ کا بھی یہی تاثر ہو کہ موراکامی نے شہر زاد سے وہ سب خصوصیات ایک خود پسند مصنف بن کر الگ کردی ہیں، جو بغداد کے گم نام ذہین مصنفین نے اسے دی تھیں ۔مصری ادیبوں نے شہر زاد کی علامت میں خالی جگہیں تلاش کیں ؛انھوں نے بھی شہرزاد کی علامت کوfluid سمجھا،لیکن ہر سیال علامت اپنی معنویت کا مخصوص بہائو اور رخ رکھتی ہے، ا س کا خیال مصریوں نے کیا۔ شہر زادنے شہر یا ر کے علاج کا یہ طریقہ اختیار کیاتھا کہ اسے زندگی کے کڑے حقائق سے رفتہ رفتہ آشنا کیا جائے، وہ بھی دل چسپ حیرت انگیز کہانیوں کے ذریعے۔ مورا کامی ، اپنی شہر زاد سے ایک مرد کا علاج تو کرواتے ہیں مگر دیکھیے کہ وہ اسے ایک ایسی نرس(نرس ہونے میں کوئی برائی نہیں) کی سطح پر لے آئے ہیں جو خود اپنے ایک ناکام عشقیہ تجربے سے آخر دم تک نہیں نکل سکی اور ہبارا کی خواب گاہ میں آکر بھی اپنے ٹوٹے دل کے پھپھولے توڑتی ہے۔الف لیلہ ولیلہ کی شہرزاد نے جنس کو معرض التوا میں رکھا۔مورا کامی کی شہرزاد اس کی قائل نہیں۔ وہ کہانی اور جنس کو ساتھ ساتھ رکھنے کی قائل ہے ۔یہی وجہ ہے کہ ہبارا بے چارہ آخر میں افسردہ ہے ۔ مورا کا می کی شہر زاد خود جنسی صحت مندی سے بھی دور ہے۔ وہ فیٹیشسٹ ہے؛ چیزوں سے جنسی لذت حاصل کرتی ہے۔شہر زاد کے ساتھ اس سے زیادہ ستم کسی مصنف نے نہیں کیا۔کیا ہم یہ نتیجہ اخذ کرنے میں حق بجانب نہیں کہ مورا کامی کو شہر زاد کی ذہانت قبول نہیں۔ نیز اس کے لیے جنسی عمل ، پیشہ ورانہ فرائض کا حصہ ہے۔ اصل یہ ہے کہ جاپانی مورا کامی نے شہر زاد کواس مغربی نظر سے دیکھا ہے ، جو شہرزاد کو ایک صاحب نظر شخص کے بجائے، ایک پر لذت جسم کی مالک عورت سمجھتی ہے۔ عورت کے ساتھ جنس کے تصور میں اصولاً کوئی حرج ہے نہ قباحت۔ قباحت وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں ترازو کا پلڑا یک طرف جھک جاتا ہے۔جنس کا پلڑا بھاری اور بہ طور شخص عورت کی دوسری خصوصیات کا پلڑا دوسری جانب جھک جائے۔
حوالے :
1 خورخے لوئی بورخیس،The Translators of The Thousand and One Nights، پنگوئین ، انگلینڈ، 1999،ص92
2 محمد کاظم ، عربی ادب میں مطالعے، سنگ میل پبلی کیشنز، لاہور، 2001،ص 24-25
3۔ مارٹن پنشر،The Written World، گرانٹاپبلی کیشنز، 2017، ص 137
4۔ فلپ ایف کنیڈی و مرینا وارنر،،Scheherazade’s Children: Global Encounters with the Arabian Nights،نیوریار ک یونیورسٹی پریس، 2013،ص 90
5۔ رچرڈ فان لیون ( Richard Van Leeuwen)،The Thousand and One Nights and Twentieth-Century Fiction: Intertextual Readings ، 2018، ص
6۔ وقار عظیم ، ہماری داستانیں، شیخ غلام علی اینڈ سنز، 1980 ، ص 487
7۔ فاطمہ مرنیسی، شہر زاد مغرب میں (ترجمہ زاہدہ حنا)، مشعل بکس، لاہور، 2001، ص27
8۔ ایضآً57
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

