اکیسویں صدی انفارمیشن اور ٹیکنالوجی کے فروغ کی صدی ہے۔ جس نے روز مرہ زندگی کے ہر شعبے پر بہت گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ تعلیم، کاروبار، بینکنگ، آمدورفت، تفریح۔ ہر شعبے کو ان سہولیات نے بدل کر رکھا دیا ہے۔ ٹیکنالوجی کی اس ترقی نے ساری دنیا کو ایک گلوبل ویلیج میں تبدیل کردیا ہے۔ جہاں سائنس نے انسان کی زندگی کو حیرت میں ڈال دیا وہیں ٹیکنالوجی کی وجہ سے زندگی بہت تیز رفتاری کیے ساتھ ترقی کے منازل طے کررہی ہیں۔ یا اگر یہ کہا جائے کہ عہد حاضر کی بیشتر ترقیات کا انحصار ٹیکنالوجی پر ہے تو برا نہ ہوگا، کیونکہ اب اس ٹیکنالوجی کے انحصار کی نوعیت یہ ہوئی ہے کہ یہ انسانی زندگی کے تمام شعبے حیات کے لیے بھی ناگزیر ہے۔ ڈاکٹر اصغر علی ٹیکنالوجی اور اس کی ضرورتیات کے بارے میں یوں لکھتے ہیں:
’’انفارمیشن ٹیکنالوجی کی دنیا موجودہ عہد کے انسان کے لیے آکسیجن کی حیثیت اختیار کر گئی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر ایک منٹ کے لیے انٹرنیٹ تعطلی کا شکار ہو جائے تو اندازاً اکیس کروڑ پیغامات کی ترسیل جمود کی شکار ہو جائے گی۔ زمینی، فضائی اور سمندری سفر متاثر ہونے کے ساتھ ساتھ اربوں روپے کا کاروباری نقصان ہوگا۔ گویا انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انٹرنیٹ آج کی روحِ عصر ہے۔ انٹرنیٹ موجودہ عہد کے دل کی دھڑکن ہے ادھر دل نے دھڑکنا بند کیا اُدھر موت واقع ہوئی۔‘‘
بحوالہ: اردو دنیا، این سی پی یو ایل، 2020، صفحہ:40
اکیسویں صدی کو جہاں انفارمیشن ٹیکنالوجی کی صدی کہا جاتا ہے۔ وہیں ذرائع ابلاغ نے دنیا کی ترقی کو چار چاند لگا دیا ہے۔ پرنٹ میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا نے دوسرے شعبوں کی طرح اردو زبان کے فروغ میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔ کل تک جو زبان قلمی کتابت کے ذریعے اخباروں اور کتابوں تک پہنچتی تھی اب ٹیکنالوجی کی وجہ سے الیکٹرانک ذرائع سے ہم آہنگ ہو کر ترقی کرتے ہوئے ای ذرائع سے ہم تک پہنچتے رہی ہے۔ جو پیشنگوئی مشہور کمپیوٹنگ سیمورپیپرٹ Seymore Papurt نے کی تھی کہ ’’مستقبل میں کوئی اسکول نہیں ہوگا۔ کمپیوٹر کا استعمال اسکولوں کا خاتمہ کردے گا۔‘‘ غلط ہوئی ہوئی اور ہوا اس کے برعکس کیونکہ اس وقت وہی طلبہ اسکولوں اور کالجوں میں کامیاب ہیں جنھیں کمپیوٹر کی خاطر خواہ رسائی ہو۔ اردو زبان جو کہ برصغیر کی پہچان ہے اس ٹیکنالوجی کی سہولت سے برصغیر کے حدود سے نکل کر دنیا کے دوسرے ممالک میں اپنے جلوے دکھانے میں کامیاب ہوئی ہیں۔ جناب ظفر صاحب اپنے ماہنامے عاکف کی محفل (فروری 2004) کے شمارے میں رقمطراز ہیں کہ:
’’ یہ (اردو) وہ زبان ہے جس کے بولنے اور سمجھنے والے نہ صرف ہندوستان بلکہ دنیا کے بیشتر ممالک میں پائے جاتے ہیں۔ دنیا میں صرف تین ایسی زبانیں ہیں کہ جن میں اگر کوئی تحریر لکھ دی جائے تو پوری دنیا کے ہر شخص تک پہنچائی جاسکتی ہے۔ وہ زبانیں ہیں عربی، اردو اور انگریزی۔‘‘
ماہنامہ، عاکف کی محفل، فروری 2004
اگر دیکھا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوتا ہے کہ ابتدا میں ٹیکنالوجی کا استعمال اردو زبان وادب کی تعلیم کے لیے ریڈیو اور ٹیلی ویژن تک ہی محدود تھی لیکن ان دنوں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے سہارے اس دائرہ کا ورلڈ وائیڈ ویب WWW کے ذریعے پوری دنیا پر چھا گیا ہے۔ ای-ٹیوشن، ای-لرننگ، ای-ایجوکیشن، ای -بکس کمپیوٹر یا موبائل کے ننھے چیپس(Micro Chips)، ایجوکیشنل آڈیو ویڈیو سی ڈیز، ای میل، کمپیوٹر کانفرنسنگ اور وائس ای میل، تصاویر گرافکس وغیرہ کے ذریعے انسان نے دنیا کو مٹھی میں بند کرلیا ہے۔ انٹرنیٹ کی مختلف ویب سائٹوں کے ذریعے کتابوں، ناولوں، ادبی جرائد اور خصوصی شماروں کو محفوظ کرنے کا کام تیزی سے جاری و ساری ہے جس سے اردو کی نئی بستیاں آباد ہورہی ہیں۔ ایک زندہ زبان کے لیے یہ ضروری بھی ہے کہ وہ عصر حاضر کے تقاضوں کو پورا کریں۔ یہ بھی ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ فلمی گانے، غزلوں، مکالموں، سیاسی و سماجی تقریروں، اخبارات، ریڈیو، ٹی وی، اشتہارات و دیگر ایجنسیوں وغیرہ کی وجہ سے بھی عوام میں اردو مقبولیت کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن آج کل کے ترقی یافتہ دور میں کسی بھی زبان کی بقا اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تعلیم و تربیت کے لیے اسکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی توجہ دی جائے۔ خاص کر اردو کی تدریس کے لیے استادوں کو یہ چاہئے کہ اعلیٰ درجے تک ان تمام چیزوں کو اردو نصاب میں شامل کیا جائے جو زمبانہ تقاضہ کررہا ہے۔ مثلاً ماس میڈیا کی تربیت اردو میں دی جائے، ترجمے کے کورس کروایا جائے، بچوں کو کمپیوٹر کی تعلیم پہلے ہی درجوں سے دی جائے۔ اس سے پہلے اردو کی تدریس کے سلسلے میں سب سے بڑا جو مسئلہ سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ استادوں کو جدید ٹیکنالوجی کی تعلیم سے پوری واقفیت ہونی چاہئے۔ تبھی وہ اس سے استفادہ کرسکتے ہیں۔ مرکزی سرکار، ادبی اداروں اور انجمنوں کو چاہئے کہ اردو استادوں کے لیے خصوصی ٹیکنالوجی کے حوالے سے پروگرام کریں۔ اگرچہ اردو کی ترقی کے لیے ہندو پاک میں کافی ادارے قائم کیے گئے جن میں ہندوستان میں ساہتیہ اکیڈمی، اردو اکادمی یوپی، اردو اکیڈمی ہریانہ، اردو اکیڈمی بنگال، اردو اکیڈمی آندھرا پردیش وغیرہ اور سب سے فعال ادارہ قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان NCPULہے اور پاکستان میں مجلس ترقی ادب لاہور، انجمن ترقی اردو کراچی، مقتدرہ قومی زبان اسلام آباد، اقبال اکیڈمی، سائنٹفک سوسائٹی آف پاکستان کراچی وغیرہ شامل ہے جو اردو کی ترقی کے لیے ہر وقت گامزن رہتے ہیں لیکن اردو تدریس میں ٹیکنالوجی کا استعمال کے حوالے سے بھی پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔
دیکھا جائے تو اس ٹیکنالوجی کے دور میں تدریس کے دوران اردو والوں کو بھی یہ اندازہ ہونا چاہئے کہ انٹرنیٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی سے استفادہ کرنے سے جہاں تک اردو زبان و ادب کے تحفظ کا سوال ہے تو انٹرنیٹ نے یہ نہ صرف اس کے تحفظ کو یقینی بنایا ہے بلکہ اس کے فروغ میں کلیدی کردار بھی ادا کیا ہے۔ بچوں کو اردو کیلی گرافی کو ان پیج کے متنوع اور دیگر سافٹ ویئر نے نئے آفاق سے بھی روشناس کرانا چاہئے۔ بچوں کو فوٹوشاپ، پیج میکر سافٹ ویئر نے گرافک ڈیزائننگ اور تصاویر کی تعلیم دے کر یہ بتانا چاہئے کہ ان کو صفحے کے مطابق ڈھالنے جیسے مشکل کاموں کو سہل بنایا ہے۔ انٹرنینٹ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کو اردو صحافت نے بڑی خوش اسلوبی اور مہارت سے استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آج کل یہی کام اردو جرائد اور کتب کی اساعت کے لیے بروئے کار لایا جارہا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جہاں کتب خانوں میں کتب بینی کی روایت نے دم توڑا ہے وہاں اب انٹرنیٹ اس کمی کو پورا کرنے میں بنیادی کردار ادا کررہا ہے۔ اس طرح عصر حاضر میں انٹرنیٹ اور کمپیوٹر ہماری زندگی کا بنیادی جز بن چکا ہے۔ بچوں کو یہ بھی بتانا چاہئے کہ آج کے جدید دور میں اب قلم کے بدلے کی بورڈ، کتاب کے بدلے ای کتاب اور خط کے بدلے ای میل تک کا سفر شروع ہوگیا ہے۔ دیکھا جائے تو یہ انٹرنیٹ ہی ہے جس کی بدولت فاصلاتی تعلیم و تدریس گھر بیٹھ کر حاصل کی جاسکتی ہے۔ اسباق کی تیاری طلبہ تک کی رسائی اور طلبہ سے اس کے ردعمل کو اس ٹیکنالوجی کی مدد سے جانا جاسکتا ہے اور ان کی ضرورت اور تقاضے کے مدنظر تدریسی مواد تیار کیا جاسکتا ہے۔
اردو تدریس کے لیے استادوں کو ٹیکنالوجی سے واقفیت کے لیے پاک اردو انسٹالر کمپیوٹر پر اردو لکھنے کے لیے ایک سافٹ ویئر کی بھی جانکاری ہونی چاہئے اس کے علاوہ ان پیج کا بھی بول بالا ہے۔ لیکن ان پیج میں تحریر کردو مواد کو انٹرنیٹ کے سرچ انجن سے تلاش نہیں کیا جاسکتا ہے اس کے برعکس پاک اردو انسٹالر ایک یونیکوڈ سافٹ ویئر کی حیثیت رکھتا ہے جس کی مدد سے سرچ انجن میں اردو میں اپنی پسند کے مواد تک رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ یونی کوڈ کی خاصیت یہ ہے کہ یہ ایم ایس ورڈ میں بھی کام کرتا ہے۔ اس کے علاوہ استادوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہئے کہ کمپیوٹر سافٹ ویئر اور انٹرنیٹ کے استعمال سے اردو تحقیق میں بھی کافی آسانیاں پیدا ہوئیں۔ تاہم لسانی تحقیق اور تدریس میں مزید استفادہ کی گنجائش موجود ہے۔ عام طور پر اردو زبان وادب کے محققین کو مقالے کی تفویض سے لے کر اعاشریہ سازی کتاب اور مواد تک رسائی میں جو مسائل درپیش تھے۔ اس ٹیکنالوجی نے کافی حد تک ان مسائل پر قابو پاتے ہوئے اردو میں ادبی، لسانی اور علمی تحقیق کے لیے راہیں ہموار کردی ہیں۔ معلم سوشل میڈیا کی ویب سائٹوں جیسے فیس بک، واٹس ایپ، ٹوئیٹر، انسٹاگرام اور دیگر سیکڑوں سوشل سائٹس کا بھی استعمال اردو کی ترقی میں لاسکتے ہیں۔ اردو تعلیم وتدریس کا مسئلہ دراصل اردو اساتذہ طلبہ اور نصابی کتابوں کے مسائل کا مرکب ہے۔ اس کے علاوہ سماجی بحران، تعصب، تنگ نظری، تعلیمی اداروں میں نظم وضبط کی بدحالی نے اردو کے تعلیمی مسائل کو اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔
مختصر تعلیم کا مقصد طلبہ کی انفرادی شخصیت کی نشونما میں مدد لینا، ان کی سماجی، جسمانی، دماغی اور جذباتی صلاحیتوں کو صحیح سمت عطا کرنا اور علم وعقل کو صحیح طور پر استعمال کرنے کی صلاحیت پیدا کرنا ہے اور اول درجوں سے ہی اس میں ٹیکنالوجی کا استعمال کیا جائے تو اس کی وجہ سے بچوں کی ذہانت بڑھ جائیں گی اور تدریس کے سلسلے میں کافی معاون ومددگار ثابت ہوگی۔ لہٰذا ہمیں چاہئے کہ اردو کو عصر حاضر کے تقاضوں سے جوڑنے کے لیے اس کی تدریس میں ٹیکنالوجی کا بھرپور استعمال کرنا چاہئے تاکہ نئی نسل اس کی خوبیوں اور خامیوں سے پوری طرح واقف ہو۔
ڈاکٹر تبسم خان
شعبۂ اردو، گورنمنٹ پی جی کالج شیوپور، ایم پی
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

