وہاب اشرفی کا نقدالشعر – پروفیسر کوثر مظہری

by adbimiras
0 comment

اردو تنقید کی دنیا اب بہت وسیع ہوچکی ہے۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پوری دنیا میں علوم و فنون کا تناظر بھی خاصا وسیع ہوا ہے۔ کہنا صرف یہ ہے کہ آج کسی بھی زبان کی تنقید اگر دنیا میں آرہی تبدیلیوں اور مختلف علوم کے آفاق سے ہم آمیز نہیں یا ان سے واقف نہیں تو پھر ایسی تنقید محض سطحی قسم کی مضمون نگاری کے زمرے میں آئے گی۔  خدا کاشکر ہے کہ مولانا حالی نے تنقید کی خشت اوّل رکھتے ہوئے اردو والوں کو اس کا احساس دلا دیا تھا کہ صرف اردو یا صرف مشرقی علوم یا Tools کو بروئے کار لاکر ادب پارے کی تعبیر و تفہیم نہیں ہوسکتی۔ لہٰذا بعد میں لوگوں نے اس رویے اور راستے کی پیروی کی۔ البتہ کچھ انگریزی داں اردو نقادوں نے حالی کی شریفانہ تنقید کو ہدف تنقید بھی بنایا۔ ایسے لوگ حالی کی تعلیمی زندگی اور احوال و کوائف سے بے خبر تھے۔ کاش ایسے لوگ حالی کے اجتہادی اقدام کو سمجھ سکتے۔

ادھر گزشتہ پچاس برسوں میں جو نقاد اردو میں آئے ان میں انگریزی ادب یا دوسری زبانوں سے واقفیت زیادہ تھی۔ حالی کے 1893 میں اردو تنقید کے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد آج کم و بیش 120 برس گزر چکے۔ کلیم الدین احمد، حسن عسکری، سید عبداللہ، احتشام حسین، آل احمد سرور، مجنوں گورکھپوری، سلیم احمد، وحید اختر، وزیرآغا، گوپی چند نارنگ، شمس الرحمن فاروقی، سید محمد عقیل رضوی، ممتاز حسین، سجاد باقر رضوی، عبدالمغنی، وہاب اشرفی، شمیم حنفی، لطف الرحمن، ابوالکلام قاسمی وغیرہ نے مشرقی اور مغربی ادبی تنقید کے اصولوں اور نکات سے واقفیت حاصل کی اور اردو تنقید کے دامن کو مالامال کیا۔ یعنی یہ کہ حالی کی پیروی کرتے ہوئے آج کے نقادوں نے اردو تنقید کو خودکفیل بنانے کی کوشش کی۔ ( یہ بھی پڑھیں ارضی حقیقت اور ثقافت کا ناول: تخم خوں – پروفیسر علی احمد فاطمی )

وہاب اشرفی کا تنقیدی کارنامہ ہزاروں صفحات پر مشتمل ہے۔ میں نے اپنی عافیت کے لیے وہاب اشرفی کے چند ایسے مضامین پیش نظر رکھے ہیں جن میں شعر و شاعری کو پرکھنے یا اس کے حسن و قبح تک رسائی حاصل کرنے کی باتیں ملتی ہیں۔ ’نقد الشعر‘ سے میری مراد شاعری کی تنقید ہے۔ اس میں بھی میں نے غزل اور نظم یا ان اصناف شاعری سے متعلق شعرا پر لکھے گئے مضامین کو موضوع بنایا ہے۔ ادھر آٹھ دس برسوں میں ’مباحثہ‘ جاری کرنے کے بعد مختلف شاعروں کا انھوں نے خصوصی مطالعہ بھی پیش کیا ہے۔ پٹنہ میں رہنے والا شاید ہی کوئی شاعر ہو جس پر انھوں نے مضمون نہ لکھا ہو۔ کچھ لوگوں نے ان سے جبراً بھی مضمون لکھوایا ہوگا۔ یوں بھی وہ نئی نسل سے بہت محبت اور شفقت رکھتے ہیں۔ ان مضامین کا چوں کہ حوالہ شاید ہی آسکے اس لیے اتنا عرض کردینا ضروری تھا۔ ہاں، اگر ان میں سے کہیں شعریات یا نظریہ شعر کا حوالہ ہوگا، تو وہ حصہ زیربحث آسکتا ہے۔

وہاب اشرفی نے اپنی کتاب ’حرف حرف آشنا‘ میں غالب، مومن، اقبال، عظیم الدین عظیم، مظہرامام اور 1960 کے بعد کی اردو شاعری کے علامتی پہلو پر جو مضامین تحریر کیے ہیں وہ نہ صرف یہ کہ وقیع اور لائق تحسین ہیں بلکہ وہ بحث انگیز ہیں اور ان میں شاعری اور شعریات کے بعض اہم نکات زیربحث آئے ہیں۔ ’غالب کی بوطیقا اور عصر حاضر میں اس کی معنویت‘ پر وہاب صاحب نے جو مضمون لکھا ہے اس میں انھوں نے جدید تنقیدی رویے کو پیش نظر رکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

1       میرے خیال میں کوئی شاعر اگر الفاظ کے برتاو میں محض Conventional اور Referential رجحان کا پتہ دیتا  ہے تو اس کی حیثیت ایک عمومی اور معمولی خالق کی ہوگی۔

2       شاعری کے الفاظ ہمیشہ اپنے لغوی معنی سے دور رہتے ہیں بلکہ ان کا جامہ اتار کر پھینکتے رہتے ہیں۔ گویا لفظوں کا لغوی استعمال نثر کے غیرتخلیقی دائرے کی چیز ہے جس میں معنی کی تہہ داری نہیں ہوتی ہے، ابہام نہیں ہوتا ہے۔

3       اگر شاعر کو اپنے تجربے کی باطنی وحدت کا آشکار کرنا مقصود ہو تو اس کے لیے متناقض، متضاد اور مبہم باتوں کا ہونا ناگزیر ہے۔

4       غالب کی بوطیقا کی پہلی منزل الفاظ کو ڈکشنری کے معنی سے الگ کرنا ٹھہرا تھا۔

5       ایک زمانے میں انگریزی کے میٹافزیکل شعرا کو مہمل گو کہہ کر ٹالنے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان شعرا کی Conceits کے باعث انھیں نہ صرف عظیم کہا جاتا ہے بلکہ آج کا پورا دور اسی روش کو اپنانے پر تُلا ہوا ہے۔

6       غالب کا یہ شعری رویہ جو پیچیدگی اور ابہام کے شاخسانے پیش کرتا ہے محض تتبع نہیں ہے بلکہ ایک سوچا سمجھا موقف ہے جو آج کے قاری کو بہت متاثر کرتا ہے۔

7       جدید ذہن غالب کے کلام کی جس صفت کی طرف سب سے پہلے متوجہ ہوتا ہے وہ اس کی طلسمی اور اسراری فضا ہے۔ غالب کا کوئی شعر محض کسی ایک مفہوم میں بندنہیں ہے بلکہ مختلف اذہان کے لوگوں کے اپنے اپنے رویے کا امتحان لیتا رہتا ہے۔

مذکورہ بالا نکات کی روشنی میں وہاب اشرفی کی تنقیدی روش کا پتہ چلتا ہے۔ انھوں نے ایک سچے خالق اور فنکار کے لیے اس بات پر زور دیا ہے کہ الفاظ کے برتاؤ میں محض Conventional اور Referential رجحان کا ہونا شاعر یا خالق کی حیثیت کو کم کرتا ہے۔ میرا موقف یہ ہے کہ ہر شعر کا ایک Conventionalمعنی تو ہوتا ہی ہے، آگے چل کر وہاب صاحب یہ کہتے ہیں کہ شاعری کے الفاظ ہمیشہ اپنے لغوی معانی سے دور رہتے ہیں بلکہ ان کا جامہ اتار کر پھینکتے رہتے ہیں۔ بلاشبہ شاعری میں استعمال ہونے والے الفاظ اپنے لغوی معانی سے دور ہوتے ہیں۔ شعری نظام میں اس کی بڑی اہمیت ہے۔ ایسے میں کبھی کبھی دورازکار تشبیہات و استعارات سے شاعری بوجھل ہوجاتی ہے۔

اس میں آگے لکھتے ہیں کہ لفظوں کا لغوی استعمال نثر کے غیرتخلیقی دائرے کی چیز ہے جس میں معنی کی تہہ داری نہیں ہوتی ابہام نہیں ہوتا۔ مجھے وہاب صاحب کے اس نقطۂ نظر سے قدرے اختلاف ہے۔ تخلیقی نثر میں بھی کم و بیش وہ ساری صنعتیں استعمال ہوتی رہی ہیں جو شاعری کے لیے مختص تصور کی جاتی ہیں اور یہ بھی کہ تخلیقی نثر میں معنی کی تہہ داری بھی ہوتی ہے۔ جہاں تک ابہام کا سوال ہے وہ تو کبھی کبھی تخلیقی نثر میں شاعری سے بھی زیادہ ہوتا ہے۔ جس کی دبیز پرت میں کہانی کا دم گھٹنے لگتا ہے۔ آخر جدیدیت کے زیراثر لکھی جانے والی بیشتر کہانیاں ابہام و علامت سے کب خالی رہی ہیں۔ یہاں  تک کہ اس ابہام کا سرا Absurdity سے جاملتا ہے۔ پھر یہ کہ ابہام کوئی ایسی بڑی چیز نہیں کہ شاعری کو تہہ دار بنا دے۔ اس کے لیے دوسرے فنی رموز سے واقفیت بھی ضروری ہے۔ سرسید کا مضمون /کہانی گزرا ہوا زانہ بھی نثر میں تخلیقیت اور ابہام کی مثال ہے۔ لیکن ان کی معنوی جہتیں آخرکار کھُلتی ہیں۔ میں یہاں دو ناول سے دو چھوٹے چھوٹے اقتباسات پیش کرنا چاہتا ہوں جو نثر ہونے کے باوجود اپنی تخلیقی شان رکھتے ہیں۔ یہاں مقصد صرف ترسیل نہیں ہے:

1       آج شام سورج کی ٹکیہ بہت ہی لال تھی۔ آج آسمان کے کوٹلے میں کسی بے گناہ کا قتل ہوگیا تھا اور اس کے خون کے چھینٹے نیچے بکائن پر پڑتے ہوئے نیچے تلوکے کے صحن میں ٹپک رہے تھے۔ ٹوٹی پھوٹی کچی دیوار کے پاس جہاں گھر کے لوگ کوڑا پھینکتے تھے، ڈبّو منہ اٹھا اٹھا کر رورہا تھا۔

(ایک چادر میلی سے، باب1 کا پہلا پیراگراف)

2       گیند اچھل کر دیوار پر لگی— پلاسٹر آف پیرس پر بنی پینٹنگ سے ٹکرائی۔ پینٹنگ ایک چھناکے کے ساتھ زمین پر گری اور چکناچور ہوگئی۔ پینٹنگ کا عنوان تھا— آدمی!!       (فُرات از حسین الحق، باب 16، ص 119)

ان اقتباسات سے آگے بڑھتے ہوئے وہاب صاحب کے نقد شعر کو اسی تناظر میں مزید پرکھنے کی کوشش کی جائے گی۔

وہاب صاحب نے الفاظ کے تخلیقی استعمال اور اس کے لغوی معانی سے دور جاپڑنے کا ذکر متعدد بار متعدد مقام پر کیا ہے۔ ’معنی کی تلاش‘ میں نثری نظم پر جو مضمون ہے اس میں بھی انھوں نے لکھا ہے:

’’الفاظ کوئی جامد شے نہیں بلکہ سیال مادہ ہے۔ اسی سیال مادے سے جیسی شکل وہ چاہتا ہے، بنا ڈالتا ہے۔ لیکن نثرنگار الفاظ کو کوئی نئی جہت نہیں دیتا، وہ ان کے بندھے ٹکے لغوی معنی سے دور بھی نہیں لے جانا چاہتا۔ اس لیے کہ اس کا رویہ تخلیقی نہیں بلکہ ترسیلی ہوتا ہے۔‘‘                              ( ص 28)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ نثر میں الفاظ اکہرے معنی یا لغوی معنی میں استعمال ہوکر اپنی ترسیلی ذمہ داریوں سے تقریباً آزاد ہوجاتے ہیں حالاں کہ مجھے تخلیقی نثر کے حوالے سے اس مفروضے کو بالکلیہ تسلیم کرتے ہوئے اب بھی توقف و تامل ہے۔ اوپر وہاب صاحب نے الفاظ کو سیال مادہ کہا ہے۔ اگر پانی سیال ہے تو کیا اس سے کوئی شکل بن سکتی ہے۔ سائنس میں ہم نے پڑھا ہے کہ سیال مادّے کو جس ظرف میں رکھا جاتا ہے وہ اُسی کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ البتہ معنی کے سیال ہونے میں مجھے تردد نہیں یوں بھی وہاب صاحب نے کہیں کہیں الفاظ کو گیلی مٹی بھی کہا ہے جو میرے نزدیک زیادہ موزوں اور منطقی ہے۔ اپنی کتاب ’نئی سمت کی آواز‘ میں سلطان اختر پر مضمون تحریر کرتے ہوئے الفاظ کے تئیں وہاب صاحب کا یہ موقف سامنے آتا ہے:

’’لفظ ایک اچھے فنکار کے یہاں گیلی مٹی ہے جسے وہ اپنے شعور اور وجدان کے مطابق اپنی خواہش کے ہیولے بنا سکتا ہے۔‘‘                           (ص 37)

یہاں اس اقتباس میں لفظ ’گیلی‘ مٹی ہے جب کہ اوپر والے اقتباس میں لفظ کو ’سیال مادہ‘ کہا گیا ہے۔ دونوں میں جو تضاد معنوی ہے، وہ اظہر من الشمس ہے۔

اسی طرح انھوں نے فرحت احساس کو بھی گیلی مٹی کا شاعر کہا ہے۔

بہرحال یہ بات صاف ہوجاتی ہے کہ وہاب اشرفی شاعری میں الفاظ کے تخلیقی اور جدلیاتی استعمال پر زور دیتے ہیں اور ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں الفاظ کے لغوی معانی القط ہوجاتے ہیں۔ اسی لیے انھوں نے ’معنی کی تلاش‘ کے جمیل مظہری والے مضمون میں اس بات پر زور دیا ہے کہ خلاقانہ طریقۂ کار Abstract کو کنکریٹ اور کنکریٹ کو Abstract بنا دیتا ہے۔ (ص 87) اسی مضمون میں ص 86 پر وہ لکھتے ہیں کہ شعر جب لفظوں کا لبادہ اوڑھ لیتا ہے تو ان کی معنوی سطح بدل جاتی ہے۔ لفظوں کا لبادہ شعر نہیں اوڑھتا۔ لفظوں کا لبادہ تو معنی یا خیال اوڑھتا ہے اور اس عمل کے بعد ہی شعر معرضِ وجود میں آتا ہے۔ شاید وہ کہنا یہ چاہتے ہیں کہ شعر میں جب الفاظ برتے جاتے ہیں تو ان کی معنوی سطح بدل جاتی ہے۔

اردو تنقید میں وہاب اشرفی کا اختصاص یہ ہے کہ فن پارے کے جائزے میں وہ نظریاتی نقطۂ نظر کے اطلاقی پہلو پر نظر رکھتے ہیں، جس کے سبب ان کی نگارشات عملی تنقید کے زمرے میں آجاتی ہیں۔ انھوں نے جدید تنقید کے اہم رجحانات Formalism سے بہت استفادہ کیا ہے۔ پروفیسر گوپی چند نارنگ اور شمس الرحمن فاروقی کی تنقیدی  نگارشات میں بھی روسی ہیئت پسندی کے واضح نشانات ملتے ہیں۔ فاروقی نے تو اپنے مضمون ’لفظ و معنی‘ میں نظم کو لفظی کاریگری (Verbal Artifact) کہا ہے۔ نارنگ صاحب نے اپنی کتاب ’ساختیات پس ساختیات اور مشرقی شعریات‘ میں ’روسی ہیئت پسند تحریک‘ کے عنوان سے ایک باب بھی قائم کیا ہے۔ بہرحال عرض یہ کرنا ہے کہ وہاب اشرفی نے بھی فن پارے کے معنیاتی نظام تک رسائی حاصل کرنے کے لیے ہیئتی تنقید کے Tools کو استعمال کیا ہے۔ جمیل مظہری پر لکھتے ہوئے اپنا موقف وہ اس طرح ظاہر کرتے ہیں:

’’میں نے دیکھا ہے کہ بڑے شاعروں کے یہاں تخلیق کے مرحلے میں اشیا اپنی معلوم اور واضح خوبو ترک کردیتی ہیں اور بالکل متضاد فطرت اختیار کرلیتی ہیں۔‘‘

(معنی کی تلاش: ص 89)

وہاب اشرفی کو اس بات میں یقین ہے کہ جب تک اشیا تخلیق کے مرحلے میں اپنی واضح خوبو ترک نہ کردیں، اس وقت تک اس کی فنی حیثیت مستحکم نہیں ہوسکتی۔ دراصل اس تخلیقی عمل میں اشیا کے اجنبیائے جانے کو اہمیت حاصل ہے۔ پراگ لنگوسٹک سرکل کے مشہور ماہر لسانیات اور نقاد وکٹر شوکولووسکی (Viktor Shklovsky) سے اردو میں کافی لوگ متاثر ہوئے۔ اس نے 1917 میں ایک مضمون  Art as technique لکھا تھا جس میں Defamiliarizationپر زور دیا۔ وہ لکھتا ہے:

The purpose of art is to impart the sensation of things as they are perceived and not as they are known. The technique of art is to make objects ‘unfamiliar’, to make forms difficult, to increase the difficulty and length of perception because the process of perception is aesthetic end in itself and must be prolonged.

——

Art is a way of experiencing the artfulness of an object; the object in not important.

ظاہر ہے کہ وہاب صاحب بھی اُسی ہیئتی دبستان کے خوشہ چیں رہے ہیں۔ انھوں نے اپنے مضمون ’ساختیات پس ساختیات‘ میں ماسکو لنگوسٹک سرکل اور پراگ لنگوسٹک سرکل کے حوالے سے رومن جیکب سن اور شوکلووسکی اور دوسرے ساختیاتیوں (Structuralists) جیسے رولاں بارت، اینی جیفرسن، سوسیور، جوناتھن کلر، لوئی آلتھوسے، میخائل باختن،  لیوی اسٹراس، پیرے ماشیرے وغیرہ کے کئی اہم حوالے پیش کیے ہیں۔ اس مضمون میں انھوں نے Signifier، Signified، Differance، Skilled Reader، Lange & parole اور Logocentricism وغیرہ پر بھی اظہارِ خیال کیا ہے۔ عرض یہ کرنا ہے کہ وہاب اشرفی کسی بھی فن پارے کی تشریح و تعبیر کے لیے مختلف نظریات اور مغرب کے مختلف فکری زاویوں کو بھی پیش نظر رکھتے ہیں۔ لیکن ان کے مختلف شاعروں کے حوالے سے لکھے گئے مضامین سے اندازہ ہوتا ہے کہ انھوں نے تخلیقی ہنرمندی میں علامتوں، استعاروں، تشبیہوں وغیرہ کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ میرے اس موقف کی توثیق میں ان کے کئی مضامین پیش کیے جاسکتے ہیں جیسے: شعر اقبال کا علامتی پہلو، غالب کی بوطیقا اور عصرحاضر میں اس کی معنویت، مومن کی غزل گوئی، عظیم الدین عظیم کی نظم نگاری، مظہر امام رشتہ گونگے سفر کا، 1960 کے بعد کی اردو شاعری کا علامتی پہلو (اس میں صرف نظموں کے حوالے ہیں)، لمحوں کا سفر (نرمدیشور پرشاد کی نثری نظموں کا مجموعہ)، جمیل مظہری کا تخلیقی رویہ، ظہیر صدیقی: ایک جدید شاعر، نثری نظم، اردو کی عشقیہ شاعری کے علائم وغیرہ۔

وہاب اشرفی کے طرزِ تنقید میں شاعری کی خوبیوں اور خامیوں کے بیان کرنے کا جواز ملتا ہے۔ جیسا کہ میں نے عرض کیا، وہ تخلیقی ہنرمندی میں فنی جواز کے متلاشی رہے ہیں۔ انھوں نے پروفیسر لطف الرحمن کے شعری مجموعے ’بوسۂ نم‘ کے حوالے سے ایک مضمون تحریر کیا ہے جو ان کی کتاب ’نئی سمت کی آواز‘ میں شامل ہے۔ اس شعری مجموعے میں شاعر کا ایک تفصیلی دیباچہ شامل ہے جس میں بقول وہاب اشرفی— ’’اپنی شعری بوطیقا کے ضمن میں چند ایسے نکات سامنے لائے ہیں جن سے ان کے شعری رویے کی تفہیم کلی طور پر ممکن ہے۔ شعریات اور اپنی شعریات کے ضمن میں موصوف نے جو کچھ لکھا ہے اُسے پڑھنے والوں کی نگاہ میں ہونا چاہیے۔‘‘ (ص 23)

اس ضمن میں ایک سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا کسی کی شاعری کو سمجھنے کے لیے شاعر کے ذریعہ پیش کی گئی شعریات کو سمجھنا ضروری ہے۔ کیا شاعر دیباچے میں جو کچھ کہہ رہا ہوتا ہے، اسی کے فریم میں اس کی شاعری کی تفہیم ہوسکتی ہے یا کی جانی چاہیے۔ کیا شاعر واقعی اپنے تخلیقی عمل کی صحیح عکاسی کرسکتا ہے؟ شعری محرکات کا بیان تو ہوسکتا ہے لیکن تخلیقی عمل تو ایک پُراسرار عمل ہوتا ہے جہاں  تک خود تخلیق کار کی رسائی یقینی طور پر نہیں ہوسکتی۔ لطف الرحمن نے جو بھی نکات پیش کیے ہیں وہ عام شعریات (Poetics) کے زمرے میں آتے ہیں۔ کوئی ضروری نہیں کہ یہ نکات ان کی شاعری کو سمجھنے میں کوئی کلیدی رول بھی ادا کریں۔ وہاب صاحب کا یہ کہنا کہ ’’اپنی شعریات کے ضمن میں موصوف نے جو کچھ لکھا ہے اُسے پڑھنے والوں کی نگاہ میں ہونا چاہیے۔‘‘ قارئین کے لیے آزادانہ طور پر معنی یابی کا راستہ محدود و مسدود کردیتا ہے جب کہ مابعد جدید تصور نقد اسی بات پر زور دیتا ہے۔ ایسے میں متن کی حیثیت کم ہوجاتی ہے اور شاعر کا نثری بیان اہم ہوجاتا ہے۔  ایک سوال یہ بھی پیدا ہوتا ہے کہ جو شاعر اپنے مجموعے میں کچھ نہیں لکھتا اس کی شاعری یا شعری رویے کی تفہیم و تعبیر کے لیے کیا کرنا ہوگا؟

تخلیق اور تخلیقی عمل کے حوالے سے بہت کچھ لکھا گیا ہے۔ اس موضوع پر اردو میں وزیرآغا کی کتاب موجود ہے۔ میں یہاں جناب محمود ہاشمی (مرحوم) کا حوالہ دینا چاہتا ہوں۔ لکھتے ہیں:

’’تخلیقی تجربہ کا کوئی ایسا پیمانہ بھی نہیں جسے ہم کسی خاص آلہ کے ذریعہ ماپ سکتے ہیں۔ یہ تو ممکن ہے کہ آپ پوئٹک گرامر کے ذریعے یا صرف و نحو کے ذریعے یا پھر حدائق البلاغہ کے ذریعہ شمس الرحمن فاروقی کی طرح اوزان کو شمار کرلیں لیکن اُس روح کا، اُس مفہوم کا یا اُس لفظ کا کیا ہوگا جسے تخلیق کار نے برتا ہی نہیں اور دو آوازوں کے درمیان محض ایک خلا کے طور پر چھوڑ دیا۔‘‘

(کتاب: انبوہ زوال پرستاں، مضمون: سچویشن 2، سارتر کے گریز کے ساتھ، ص 48)

کسی بھی شاعر کے لیے اپنے ثقافتی تناظر سے آگاہ ہونا لازمی ہے۔ ہر تخلیق اپنے ثقافتی تناظر ہی کی زائیدہ ہوتی ہے۔ مابعد تصور ادب اسی پر زور دیتا رہا ہے اور وہاب صاحب اسی کے ہم نوا بھی ہیں۔ جگہ جگہ انھوں نے اس پر روشنی بھی ڈالی ہے۔ اپنی کتاب معنیٰ سے مصافحہ میں مظہرامام پر لکھتے ہوئے وہ اپنا موقف یوں ظاہر کرتے ہیں:

1       ایک طرف تو شاعر کا یہ کام ہوا کہ وہ اپنے کلچر کے حدود میں شعر یوں تخلیق کرے کہ لفظ نئی معنویت سے بھی آشکار ہو اور اس کی شناخت ثقافتی پہلو بھی رکھے۔ چوں کہ ثقافت اکہری نہیں ہوتی اس لیے کسی لفظ کی معنویت کی وسعت پر اس انداز فکر سے کوئی اثر نہیں پڑتا۔‘‘ (ص 110)

2       مظہر امام اپنی تہذیبی و ثقافتی دنیا کی پوری خبر رکھتے ہیں۔

3       مظہرامام کی غزلوں میں جدلیاتی الفاظ کی کثرت ہے، اس لیے مفاہیم تہہ دار بن کر ابھرتے ہیں۔

مظہرامام اور دوسرے شاعروں کے حوالے سے بھی اور کئی خالص تنقیدی نگارشات میں بھی وہاب اشرفی نے رولاں بارت کے ثقافتی تناظر کا ذکر کیا ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ بارت (Barthes) کے مضمون The Death of the author یعنی مصنف کی موت کی دہشت بہت رہی ہے۔ وہاب صاحب نے جو باتیں کہی ہیں وہ بامعنی اور درست ہیں کہ ہر تخلیق اپنی شناخت کے لیے ثقافتی پہلو ضرور رکھے۔ یہ بھی درست ہے کہ ثقافت اکہری نہیں ہوتی۔ پھر یہ کہ اس میں بھی شبہ نہیں کہ تخلیق شعر میں اگر جدلیاتی الفاظ ہوں تو معانی و مفاہیم تہہ دار بن کر ابھرتے ہیں۔ مابعد جدید تصور یہ کہتا ہے کہ ہم کچھ بھی نیا تخلیق نہیں کرتے یعنی یہ کہ رولاں بارت اور اس کے ہم نواؤں کو تسلیم کیا جاچکا ہے۔ وہ اپنے مذکورہ بالا مضمون میں لکھتا ہے:

"The text is a tissue of quotations drawn from the innumerable centres of culture. The writer can only  imitate a gesture that is always anterior, never original. His only power is to mix writings, to counter the ones with the others, in such a way as never to rest on any one of them.”

وہاب صاحب نے اپنے مضمون ’’ساختیات و پس ساختیات‘‘ (کتاب: حرف حرف آشنا، 1996) میں اس بابت تفصیلی روشنی ڈالی ہے۔ میرا معروضہ یہ ہے کہ تخلیق کار کو اس قدر اپنے متن کے تئیں بے دست و پا قرار دینا یا یہ کہنا کہ تخلیق محض نقالی یا Imitation ہے، درست نہیں۔ آخر یہ تخلیق کار بھی تو اُس ثقافتی تناظر کا جزو لاینفک ہے۔ (یہ بھی پڑھیں ذوق کی قصیدہ نگاری – امیر حمزہ )

وہاب اشرفی شاعری کی تفہیم کے لیے زیادہ تر استعاروں اور علامتوں کا سہارا لیتے ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ شاعری اور بالخصوص بڑی شاعری کی تفہیم کے لیے جس علمیاتی تناظر (Epistemological Context) کی ضرورت ہوتی ہے، وہ وہاب صاحب کے پاس موجود ہے۔ انھوں نے غالب، مومن، اقبال، اکبر، فراق وغیرہ پر لکھتے ہوئے ہمیشہ جدید تنقیدی اصول اور Parameters کو اپنے سامنے رکھا ہے۔ اقبال پر ’حرف حرف آشنا‘ میں تین مضامین ملتے ہیں جس میں سے ایک کا عنوان ہے’ شعر اقبال کا علامتی پہلو‘ جس میں انھوں نے اقبال کو علامت نگار کے بجائے علامت پسند بتایا ہے۔ ساتھ ہی تفصیل سے اس کے نکات پیش کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں:

1       علامتی نظم کی پوری بحث ادعائی موضوع پر مبنی ہوتی ہے جو اپنی پیچیدگی اور ابہام کے باعث اپنے اندر معنی کا ایک سیلاب رکھتی ہو اور ایک خاص تصور کی طرف قاری کا ذہن بھی منتقل کرتی ہو۔

2       اقبال کی بیشتر نظموں میں عضویاتی تکمیل، خوبصورت استعاراتی نظام اور غیرمعمولی قوت حاسّہ کے حامل پیکروں کے باوجود وہ سرّیت اور ابہام نہیں جو علامتی نظموں کو معنی کے ایک سیلاب کی زد میں لاکھڑا کرتا ہے۔

3       وہ بودلیئر، ملارمے یا ورلن کی طرح علامت نگار نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی شاعری کا ایک بڑا حصہ مخصوص ذاتی علائم کے استعمال کے باوجود سرّیت اور ابہام سے کوسوں دور ہے۔

4       اقبال کی تمام تر علامتی کیفیات کو مثبت یا منفی خانے ہی میں رکھ کر سمجھا جاسکتا ہے۔ اس لیے کہ وہ اپنی فکر کی وضاحت اور ترسیل کی تمام تر علامتوں اور ان کے تلازموں کو Positive اور Negative اوصاف سے بہرہ ور کردیتے ہیں۔

5       اگر یہ علامتیں اتنی Fluid ہوتیں کہ تکرار کے باوجود اور معنی کے کلیدی تصور کی طرف پرواز کے بعد بھی مبہم ہی رہتیں تو پھر ان کا رشتہ فرانسیسی یا انگریزی علامت نگاروں سے جوڑا جاسکتا تھا۔                                 (ص 37-42)

اقبال کی شاعری کے علامتی پہلوؤں پر بہت کچھ لکھا گیا ہے لیکن وہاب صاحب نے تقریباً اِس تصور کو ایک طرح سے Challenge بھی کیا ہے۔ وہ یہ سمجھتے ہیں کہ استعاراتی نظام کے باوجود اقبال کے کلام میں وہ سریت اور ابہام نہیں جو علامتی نظموں کو معنی کے ایک سیلاب کی زد میں لاکھڑا کرتا ہے۔ معنی کے سیلاب سے وہاب صاحب متن کی تکثیر معنی مراد لیتے ہیں اور یہ بالکل درست ہے۔  یعنی علامتی شاعری ابہام کے باوجود معانی و مفاہیم کی ایک دنیا تو رکھتی ہی ہے۔

وہ اپنے ایک مضمون ’اردو کی عشقیہ شاعری کے علائم‘ (مشمولہ: معنی کی جبلّت 2008) میں لکھتے ہیں:

’’میری مراد اس Creative ذہن سے ہے جو علامت خود تخلیق کرتا ہے اور پرانی علامتوں کو اس طرح استعمال کرتا ہے کہ ان میں نئی روح پیدا ہوجاتی ہے اور تکثیر معانی سے ایک نئی دنیا آباد ہوجاتی ہے۔‘‘      (ص 22)

لیکن اوپر پیش کیے گئے آخری نکتہ میں ان کا یہ کہنا کہ اگر یہ علامتیں اتنی Fluid ہوتیں کہ تکرار کے باوجود اور معنی کے کلیدی تصور کی طرف پرواز کے بعد بھی مبہم ہی رہتیں تو ان کا یعنی اقبال کا رشتہ فرانسیسی یا انگریزی علامت نگاروں سے جوڑا جاسکتا تھا۔ اس کا مفہوم یہ نکالا جاسکتا ہے کہ علامتی شاعری قرأت سے پہلے اور قرأت کے بعد بھی مبہم ہی رہتی ہے اور یہ بھی کہ جتنے بھی فرانسیسی اور انگریزی علامت نگار شعراہوئے ہیں ان کے Text سے معنی یابی ممکن ہی نہیں۔ ایسے میں تو علامتی شاعری کا سرمایہ مبہم ہونے کے سبب ازکار رفتہ قرار پائے گا۔

ایک بات سمجھ میں نہیں آتی کہ وہاب صاحب ایسی علامتی شاعری جس کے معانی قرأت کے بعد کھل جاتے ہوں اُسے علامتی شاعری تسلیم کرنے سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ انھوں نے اس کی بھی وضاحت کی ہے کہ علامت نگاری اور چیز ہے  اور علامت پسندی اور چیز۔ اقبال کو بھی انھوں نے علامت پسند ہی کہا ہے۔ اسی طرح ن۔ م راشد کے حوالے سے وہ اپنے مضمون ‘1960 کے بعد کی اردو شاعری کا علامتی پہلو‘ میں لکھتے ہیں:

’’راشد کے یہاں بھی مفہوم Fluid نہیں رہتا، اکثر معروف نظمیں اپنے واضح انسلاکات کے سبب اپنے معنی حتمی طور پر اُگل دیتی ہیں جو علامت نگاری کی نفی ہے۔ ابہام کا پردہ اس طرح سرکتا ہے کہ مفہوم آئینے کی طرح چمک جاتا ہے۔

(ص 110)

مفہوم کا Fluid رہنا یا نہیں رہنا، یہ ایک ذاتی زاویۂ قرأت کا نتیجہ ہوسکتا ہے ورنہ معنی و مفہوم یا پھر اسے موضوع یا Content کہہ لیں، وہ تو سیال ہوتا ہی ہے۔ پھر یہ کہ ابہام کا پردہ سرکتے ہی مفہوم آئینے کی طرح چمک جاتا ہے، اور یہی عیب ہے یا نفی ہے علامت کی۔ میں نہیںسمجھتا کہ ملارمے یا بودلیئر کے یہاں معنی کھلتے نہیں ہوں گے۔ اگر الفاظ کو قاری Decode ہی نہیں کرسکتا تو قرأت بھی بے معنی  ہوکررہ جائے گی۔ کوئی بھی قاری ایسا متن پڑھنا پسند نہیں کرے گا جس سے کوئی معنی اخذ کرنا آخر تک ممکن ہی نہ ہو بلکہ کوئی فنکار بھی یہ پسند نہیں کرے گا کہ اس کا علامتی فن پارہ آخر تک مبہم ہی رہے۔ ابہام شمس الرحمن فاروقی کا پسندیدہ وظیفہ ہے لیکن انھوں نے بھی شاعری کا ابتدائی سبق حصہ 3 میں لکھا ہے: ’’مبہم شعر کے معنی بہرحال نسبتاً لامحدود ہوتے ہیں۔ شعر میں معنی آفرینی سے مراد یہ ہے کہ کلام ایسا بنایا جائے جس میں ایک سے زیادہ معنی نکل سکیں۔ شعر میں کثیر معنی صاف نظر آئیں، یا کثیر معنی کا احتمال ہو، دونوں خوب ہیں۔ (تنقیدی افکار، ص 321)۔ عتیق اللہ نے بھی لکھا ہے کہ جدیدیت میں ابہام کے دوسرے معنی تکثیر معنی ہی کے تھے۔‘‘ (ترجیحات، ص 115)

خود وہاب اشرفی نے ظہیر صدیقی پر لکھتے ہوئے (معنی کی تلاش) ان کی علامتی نظموں کا تجزیہ پیش کیا ہے۔ اس مضمون میں انھوں نے ملارمے کے ایک سانیٹ Le Vierge   (Vivace Et Legal Angourd) کا تقابل ظہیر صدیقی کی ایک نظم ’برف کی سِل‘ سے کیا ہے اور دونوں نظموں کے معنوی ابعاد و جہات پر گفتگو کی ہے یعنی یہ کہ علامتی شاعری میں ابہام کے باوجود معانی ہوتے ہیں۔ یہاں فٹ نوٹ میں وہ لکھتے ہیں:

’’علامتی نظمیں اپنے ابہام کے لحاظ سے خواب کی سی کیفیت رکھتی ہیں۔ لہٰذا جس طرح کسی خواب کی تعبیر مختلف ہوسکتی ہے، اُسی طرح کسی علامتی نظم کے مفہوم میں اختلاف کی بڑی گنجائش ہے۔‘‘                        (معنی کی تلاش: ص 138)

میرا ماننا یہ ہے کہ علامتوں اور استعاروں کا استعمال کم یا زیادہ اس لیے ہوتا ہے کہ فن پارے میں پیش کیے گئے حقائق کی پوشیدگی (concealment) برقرار رہے۔ کیوں کہ بغیر اس کے ادبیت پیدا نہیں ہوتی اور ہم سب جانتے ہیں کہ راست بیانی سے اچھا فن پارہ وجود پذیر نہیں ہوتا۔وہاب اشرفی نے البتہ تکرار سے ان کے معانی کھُل جانے کی بات کی ہے جو درست ہے او رایسا اس لیے ہے کہ اقبال قارئین کو بہت دیر تک تخلیقی عمل کے بھول بھلیوں میں رکھنا نہیں چاہتے کیوں کہ انھیں پیغام بھی دینا تھا۔ اگر آخر تک ابہام باقی رہتا تو اقبال کا مقصد بھی فوت ہوجاتا۔ وہاب صاحب نے یہ بھی درست فرمایا ہے کہ اقبال کے یہاں جو علامتی کیفیات ہیں انھیں دو خانوں یعنی Negative اور Positive میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ پھر اس کے حوالے سے انھوں نے ساحل اور موج کی مثال بھی پیش کی ہے۔ یہ کام ایک بڑا تخلیق کار ہی کرسکتا ہے۔ وہ اقبال کے حوالے سے ایک دوسرے مضمون ’اقبال کا عہد اور ان کی رومانیت‘ میں لکھتے ہیں:

’’اقبال نے اپنے علائم کو اتنے تواتر کے ساتھ برتا ہے اور اسی طرح ان میں مفاہیم کی ایک دنیا آباد کی ہے کہ ایک نئی اساطیری فضا پیدا ہوگئی ہے اور یہ اقبال کی رومانیت کی دنیا ہے۔ ورنہ بڑی واقعیت نگاری تو ابلیس کو شیطان محض، عشق کو عقل کے مقابلہ میں خللِ محض، شاہین کو محض ایک بے مایہ پرند، خودی کو کبرِ محض اور مرد مومن کو محض ایک مسلمان سمجھنے پر مجبور کرتی ہے۔‘‘  (حرف حرف آشنا، ص 56)

اس اقتباس میں وہاب اشرفی نے اس بات کی وضاحت کردی ہے کہ نری واقعیت نگاری علامت کی راہ میں روڑے اٹکاتی ہے اور معانی کو محدود بھی کرتی ہے۔ادبی تنقید میں جیسے Tools کی ضرورت ہوتی ہے، وہاب اشرفی ان کا استعمال بڑی خوش اسلوبی سے کرتے ہیں۔ وہاب صاحب نے نری واقعیت نگاری کو شاعری کے لیے مضر بتایا ہے۔ اس کے پیچھے مشرقی شعریات کی روشنی بھی کام کرتی نظر آتی ہے۔ یعنی یہ کہ واقعہ اہم نہیں بلکہ انداز پیش کش اور تفحص الفاظ کی اہمیت ہوتی ہے۔ حالی نے بھی یہی بات کہی تھی کہ معنی کیسے ہی بلند اور لطیف ہوں اگر عمدہ الفاظ میں بیان نہ کیے جائیں  تو ہرگز دلوں میں گھر نہیں کرسکتے۔ جاحظ اور قدامہ بن جعفر طرز بیان اور صنعت پر زور دیتے ہیں۔ جاحظ لکھتا ہے:

’’معانی تو پیش پا افتادہ ہوا کرتے ہیں، اُسے تو عربی،عجمی، دیہاتی، شہری سب جانتے ہیں دراصل اہمیت اچھے الفاظ کے استعمال کی ہے۔‘‘

(البیان، والتبیین بحوالہ: مشرقی شعریات اور اردو تنقید: ابوالکلام قاسمی، ص 358)

عرض یہ کرنا ہے کہ پروفیسر وہاب اشرفی نے شاعری پر جو تنقیدی روشنی ڈالی ہے اس میں ان کا نقد الشعر اپنے ماقبل نقد الشعر کی روشنی میں خلق ہوا ہے۔ خوش آئند پہلو یہ ہے کہ وہاب اشرفی نظریات کی جگالی نہیں کرتے بلکہ فن پر ان کی اطلاقی صورتِ حال سے ہمیں واقف کراتے ہیں۔ مغربی نظریات میں دل چسپی رکھنے والے نقادوں میں بہت کم ایسے ہیں جن میں یہ خوبی پائی جاتی ہو۔ پروفیسر عتیق اللہ نے وہاب اشرفی کی تنقیدی بصیرت کا جائزہ لیتے ہوئے بجا طور پر لکھا ہے کہ:

’’وہاب اشرفی کی تنقید، اطلاقی تنقید کا ایک بے حد جامع تصور مہیا کرتی ہے۔ مجھے ان کی تنقید کی قوت کا بہترین (جوہر) صرف ان کے طریق اطلاق ہی میں دکھائی دیتا ہے۔‘‘    (ترجیحات، ص 116)

وہاب اشرفی کا ایک مضمون ’کلام اقبال کے نثری معانی‘ بہت اہم اور لائق توجہ ہے۔ لیکن اس کی گونج کم سنائی دیتی ہے۔ وہاب صاحب اپنے بیشتر مضامین میں یہ کوشش کرتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ سوالات قائم ہوسکیں۔ کئی بار قارئین کی آزمائش بھی ہوتی ہے لیکن اس سے ان کے ذہن کے ابعاد اور فعالیت دونوں کا پتہ چلتا ہے۔ اس مضمون کا پورا پیراگراف ہی سوال ہے۔ آگے بھی سوال اٹھائے گئے ہیں۔ دو تین سوال سنیے:

’’کیا شعر یا اچھے شعر کی نثر ممکن ہے اور اگر ممکن ہے بھی تو نثری معانی کی بنیاد پر کسی چھوٹے یا بڑے شاعر کی شناخت بھی ہوسکتی ہے یا نہیں۔‘‘

آگے لکھتے ہیں:

’’میرا خیال ہے کہ شاعری کے نثری معانی تک پہنچنے کی کوشش ایک فعل عبث ہے اور نثری معانی کی بنیادوں پر کسی شاعر کی عظمت کا فیصلہ غیرمستحسن بھی ہے اور غلط بھی۔‘‘    (حرف حرف آشنا، ص 44)

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ شاعری کے نثری معانی سے کسی شاعر کی عظمت کا پتہ نہیں چلتا۔ معانی کی اہمیت بے شک ہوتی ہے۔ شعر کے معانی ہمیشہ نثری ہی ہوتے ہیں۔ وہاب اشرفی نے اقبال کے حوالے سے بہت صحیح سوالات قائم کیے ہیں۔ جہاں تک اقبال کی شاعری کا سوال ہے تو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان کے فکر و فلسفے کو سمجھنے کے لیے شاعری کے نثری معانی تک پہنچنا ضروری ہے۔ وہاب صاحب نے بجا طور پر اس بات کی شکایت کی ہے کہ ایسے میں اقبال کی شاعرانہ حیثیت سامنے نہیں آپاتی۔ انھوں نے اپنے اس مضمون میں کلیم الدین احمد کی کتاب ’اقبال- ایک مطالعہ‘ سے اقتباسات پیش کیے ہیں۔ کلیم الدین احمد بھی شکایت کرتے ہیں کہ اقبال کے خیالات کی تشریح زیادہ کی جاتی ہے اور شعری خوبیوں اور خامیوں کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے لیکن خود کلیم الدین احمد جب قلم اٹھاتے ہیں تو یہی کام کرتے ہیں، جس کی گرفت وہاب صاحب نے کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں:

’’لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ کلیم صاحب کا پہلا مضمون ہی دانتے اور اقبال ہے اور تقریباً ڈیڑھ سو صفحات پر محیط ہے اور اس میں دونوں شعرا کے اشعار کی خوبیوں اور خامیوں کو فنی نکات سے زیادہ خیالات کی تشریح ہی کے ذریعہ واضح کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔‘‘    (حرف حرف آشنا، ص 48)

اس کتاب ’حرف حرف آشنا‘ میں وہاب صاحب نے ’دانتے اور اقبال کلیم الدین احمد کی نگاہ میں‘ کے عنوان سے 35 صفحات پر مشتمل ایک طویل مضمون تحریر کیا ہے۔ جاوید نامہ اور ڈوائن کامیڈی کے تقابل کو بڑے ہی منطقی انداز میں نامناسب قرار دیا ہے۔ موازنہ کرنے کے بھی کچھ تقاضے ہوتے ہیں۔ دانتے کا شعری سرمایہ اقبال کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ وہاب صاحب اس حوالے سے لکھتے ہیں:

’’اقبال کی شاعری کی دنیا بہت وسیع ہے، کیا کوئی بھی دیانت دار نقاد یہ محسوس کیے بغیر رہ سکتا ہے کہ دانتے کی پونجی بس ڈوائن کامیڈی اور حیات نو (Vita Nouva) پر مشتمل ہے اور حیات نو میں پچیس سانیٹ، پانچ کنیزونی (Canzoni) اور ایک بیلاتا (Ballata) ہیں۔ پھر یہ ہر شخص کو معلوم ہے کہ ’حیات نو‘ بہت اعلیٰ شاعری کا نمونہ نہیں۔‘‘      (حرف حرف آشنا، ص 58)

لیکن میری ناقص رائے میں موازنہ کے لیے یہ ضروری نہیں کہ دونوں شاعروں کا تخلیقی سرمایہ تعداد اور وزن میں برابر ہو۔ کلیم الدین احمد نے بھی یا جس نے بھی اقبال کا موازنہ دانتے سے کیا ہے، اس کی بنیاد موضوع اور خیال کی یکسانیت رہی ہے۔ چوں کہ جاوید نامہ اور ڈوائن کامیڈی میں موضوع اور خیال کے لحاظ سے مماثلت پائی جاتی ہے اس لیے یہ موازنہ غلط نہیں ہے۔ یہاں نہ اقبال کے بانگ درا یا ضرب کلیم کی ضرورت ہے اور نہ ہی دانتے کے Vita Nouva اور Canzoni کی۔ یہاں دونوں شعرا کے خیالات کی تشریح و توضیح سے ہی مماثلت اور افتراق کا پتہ چل سکتا ہے۔ہاں کلیم الدین احمد نے چو ں کہ اس حوالے سے متضاد باتیں کی ہیں کہ اقبال کی شاعرانہ خوبیوں اور خامیوں کے بجائے بیشتر لوگوں نے ان کے خیالات کی تشریح کی ہے اور خود بھی آخر یہی کام کیا ہے، اس لیے ان کی گرفت ہوسکتی ہے۔ اس میں ذرا بھی شک نہیں ہونا چاہیے کہ اقبال کی عظمت کا راز شعری و فنی رموز میں کم اور فکر و فلسفے میں زیادہ ہے، اور ایسے میں ان کی شاعری کے نثری معانی کی اہمیت بھی بڑھ جاتی ہے۔ ہمارے ذہن کے پردے پر شعر سے زیادہ اس کا معنی و مفہوم ہی چمکتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہم اس کی مناسبت سے کوئی شعر تلاش کرلیتے ہیں۔ سرور الہدیٰ نے وہاب اشرفی پر لکھتے ہوئے بجا طور پر اشارہ کیا ہے کہ:

’’نثری معانی شاعری کا حصہ ہو یا نہ ہو یا ہم اُسے شاعری میں تلاش نہ کریں مگر یہ ہمارے علم اور شعور کا حصہ تو ہے ہی۔ اسی نثری معانی سے ہم شاعری کے پُراسرار عالم تک پہنچتے ہیں۔‘‘

(وہاب اشرفی: منفرد نقاد اور دانشور: ہمایوں اشرف، 2006، ص 376)

بہرحال وہاب اشرفی نے علامہ اقبال کی شاعری کے نثری معانی کی جستجو کو غیرضروری تصور کیا ہے۔ شاعری میں جو الفاظ خلاقانہ طور پر استعمال ہوتے ہیں وہ بطور Codes کے ہوتے ہیں جنھیں Decode کرنے کا کام قاری یا نقاد کرتا ہے۔ اگر نثری معانی کے غیاب میں یا التوا میں ہونے کی بات کی جاتی ہے جس پر خود وہاب صاحب نے Barthes کے حوالے سے اپنے کئی مضامین میں تفصیلی روشنی ڈالی ہے، تواس سے کیا مراد لیا جانا چاہیے؟ کم سے کم مابعد جدید تنقیدی تصور ہمیں معانی سے دور رہنا تو نہیں سکھاتی۔  اگر ایسا ہوتا تو تکثیر معانی یا تانیثی اور دلت ڈسکورس کے مباحث آج ہمارے ادب کے لیے ازکار رفتہ ہوچکے ہوتے۔

وہاب اشرفی نے اپنی تنقیدی تحریروں میں شاعری کا تجزیہ کرتے ہوئے ہمیشہ ہیئتی طرزِ تنقید سے کام لیا ہے۔ انھوں نے اس بات کا کھل کر اظہارکیا ہے کہ انھیں اس بات سے کوئی مطلب نہیں کہ کسی متن میں کیا پیش کیا گیا ہے، ہاں کسی متن میں انداز پیش کش کیا رہا ہے، اس سے انھیں ضرور مطلب ہے۔ یعنی یہ کہ موضوع سے زیادہ انھیں لفظیات اور طرز ادا سے سروکار ہے۔ حالاں کہ دوران تجزیہ جب وہ Binaries یا Differance پر گفتگو کرنے لگتے ہیں تو بہرحال موضوع اور معنی کسی نہ کسی طرح آہی جاتے ہیں۔ بلکہ معنی سے ان کی دل چسپی کا اندازہ ان کی کئی کتابوں کے نام سے بھی ہوجاتا ہے جیسے: معنی کی تلاش، معنی سے مصافحہ، شناخت اور ادراک معنی وغیرہ۔ وہاب اشرفی نے شاعری کی تنقید میں تاثراتی طرزِ تنقید سے ہمیشہ انحراف کیا ہے۔ انھو ںنے شاعری کی پرکھ کے لیے استعاروں، علامتوں، تناقضات (Paradoxes) وغیرہ سے خوب بحث کی ہے۔ میں نے جہاں تک ان کی شاعری کی تنقید کا مطالعہ کیا ہے، یہ محسوس کیا ہے کہ دوران تجزیہ تنقیدی Tools کے طور پر Symbols اور Paradox کی تلاش انھوں نے زیادہ کی ہے۔ انھوں نے جو بھی شاعری کی تنقید پیش کی ہے، وہ بحث انگیز ہے اور Passive کے بجائے Active ہے۔ میں اپنی بات پروفیسر لطف الرحمن کی اس رائے پر ختم کرتا ہوں کہ:

’’وہاب اشرفی کی تنقیدی بصیرت نئی Poetics کے تمام تر دروازے پر دستک دیتی ہے۔ ایسے میں شعرا اور ادبا کے سلسلے میں ان کا تجزیہ انتہائی تازہ بامعنی، بصیرت افروز اور عملی بن جاتا ہے۔‘‘

(وہاب اشرفی: منفرد نقاد اور دانشور، ص 125)

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment