انسانی بستیوں نے کئی بار ظلم و بربریت کو اپنی گلیوں میں خون کی شکل میں بہتے دیکھا ہے۔کبھی کشمیر میں انصاف کو مرتے دیکھا ہے ، کبھی فلسطین میں جبر و ظلم کی انتہا دیکھی ہے تو کبھی برما میں معصوم جسموں پر چھریاں چلتی دیکھی ہیں۔غرض کرہ ارض پرایساکوئی قطعہ نظر نہیں آتا جہاں اسلام اپنی آن بان اور شان کے ساتھ قائم ہو۔وہ اسلام جو امن و سکون کا درس دیتا ہو اسی کے نام پر دہشت گردی کرنا ظالموں کا شیوہ بن چکا ہے۔بات صرف وطنِ عزیز کی سرحدوں میں سمٹ کر کی جائے تو وہی جابر اقتدار ہمارے سامنے ہے جس نے اپنی فرعونیت کو چھپانے کے لیے جمہوریت کا لبادہ اوڑھ رکھاہے ،اور نشانہ ستم بننے والی یہ نحیف و ناتواں قوم جس کی قابل رحم حالت کو دیکھ کر بےساختہ زبان رواں ہوجاتی ہے کہ
رلاتا ہے تیرا نظارہ اے ہندوستان مجھ کو
کہ عبرت خیز ہے تیرا فسانہ سب فسانوں میں
چھپا کر آستیں میں بجلیاں رکھی ہے گردوں نے
عنادل باغ کے غافل نہ بیٹھے آشیانوں میں
یہاں اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ یہ حالت صرف باطل کی یلغار کا نہیں بلکہ قوم کی اپنی غفلت و دین سے دوری کا بھی نتیجہ ہے ۔
بقول شاعر۔۔۔۔
چاک کردی ترک ناداں نے خلافت کی قبا
سادگی اپنوں کی دیکھ اوروں کی عیاری بھی دیکھ۔۔۔
حسن البناّشہید کے الفاظ میں۔۔۔۔
"یہ قوم سیاسی اعتبار سے بھی روگی ہےاور اندرونی طور پر بھی باہمی عداوت و انتشار کی شکار ہے،یہ تعلیم و تربیت کے اعتبار سے بھی پچھڑی معلوم ہوتی ہے اور کہیں تعلیم ہے بھی تو وہ اس میں بہت آزاد روی و کج روی کا شکار ہے جس کی وجہ سے اس کی نسلیں تباہ و برباد ہورہی ہیں جو کل کے سیاہ وسپید کی مالک اور تعمیرِ قوم و تاسیسِ ملت کی ذمہ دار ہوگی،یہ ذہینی اور نفسیاتی حیثیت سے بھی روگی ہے اور انتہائی مہلک ناامیدی اور تباہ کن دوہمتی کا شکار ہے یہ ایسی بے مروتی و حرص و انابت میں مبتلا ہے کہ بس اللہ کی پناہ،نہ ایثار و قربانی سے کوئی واسطہ نہ ذوق عمل، جہد و مشقت سے گریزاں،عیش و عشرت کی دلدادہ”
. . . . ( مجاہدکی اذاں)
یقیناً ملکی اور عالمی سطح پر یہ سارے عوارض ہمارے جسمِ نحیف سے چمٹے ہوئے ہیں اور ہر کوئی اپنی عقل کے مطابق نسخے تجویز کرتے نظر آتے ہیں۔کوئی تعلیمی میدان کا آدمی تعلیم سے دوری کو حالات کی پستی کی وجہ قرار دیتا ہے، تو کوئی ماہر معاشیات معاشی کمزوری کو ام المرض بتاتا ہے۔سیاست کو جاننے والا شخص سیاسی شعور کی کمی کو اہم مسئلہ قرار دیتا ہے۔
یہاں ان کے افکار و خلوص پر کوئی شک نہیں کیونکہ حقیقتاً قوم کو یہ سارے مسائل بیک وقت درپیش ہیں
لیکن جب اس مسئلہ کو لے کر غور و فکر کی دنیا میں قدم رکھا جائے تو ذہن یہی جواب دیتا ہے کہ۔۔۔۔
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی عظمت پہ زوال آتا ہے
حقیقت یہی ہے کہ ہماری قوتِ فکر و عمل کی کمزوری اور افکار و خیالات کی پراگندگی ہی ان تمام مسائل کی جڑ ہے۔افسوس کا مقام یہ ہے کہ ہم نے بیچارگی کا لبادہ اوڑھ کر خود کو مظلوم کہلوانا ہی اپنی بقا کے لیے کافی سمجھ رکھا ہے
وہ قوم جسے خیر امت و امت وسط جیسے القابات سے نوازا گیا اس کا اغیار کے سامنے کاسئہ گدائی دراز کرنا انتہائی شرمندگی کا مقام ہے۔بھلا اس قوم کا آئے دن غیروں کے ہاتھوں پٹنے اور بوقتِ مقابلہ بھاگنے کا کیا سوال جس کی کتابِ مقدس نے اسے ہر وقت تیار رہنے اور بوقتِ مقابلہ ڈٹ جانے کا حکم دیا ہو۔ اس قوم کی تعلیم سے دوری کیوں ہوں جسے سب سے پہلے” اقرا بسمِ ربک الذی خلق” کا درس دیا گیا ہو،اس قوم کا سیاست سے تغافل کیوں جس نے ماضی میں انصاف کے الم لہرائے۔اسلام کی سیاست تو وہ سیاست ہے جس کے محل سے دائمی فلاح و سعادت کی صبح نمودار ہوتی ہے۔المیہ یہ ہے کہ ہم نے تصور دین کو بہت محدود کر رکھا ہے دین و سیاست کی تفریق،مسجد اور پارلیمنٹ کی جدائی،قانونِ شریعت کا کتابی اوراق تک محدود رہنا،مخصوص مراسم عبادت کی ادائگی پر اکتفا ہی ہمارے لیے سمِ قاتل ہے۔
اقلیمِ تخیلات کا شہنشاہ بھی ہمیں یہی پیغام دیتا ہے کہ
نظام پادشاہی ہو کہ جمہورہی تماشاہو
جدا ہو دیں سیاست سے تو رہ جاتی ہے چنگیزی
اسلام جس کی انسانیت نوازی اور رحم پروری سارے عالم میں ضرب المثل ہے اسی کے سانچے میں وہ کرادار پروان چڑھے ہیں جنہوں نے باطل کی ہواوں کا رخ موڑ دیا۔
آج کہاں ہے وہ ابوبکرؓ کی صداقت جس نے جھوٹوں کو بھی اپنا گرویدہ بنایا
کہاں ہے عمر فاروقؓ کی عدالت جس نے کبھی انصاف کو شرمندہ نہیں کیا
کہاں ہے وہ سعد بن ابی وقاص کا کردار جس نے بحر ظلمات میں گھوڑے دوڑائے
یہ ایمانی قوت سے لبریز عزائم تھے جنہوں نے باطل کے تخت و تاج الٹ دیے اور انقلاب کو اپنا مقدر بنایا ۔موجودہ حالات ہم سے اسی کردار کامطالبہ کرتے ہیں جو قرونِ اولی کا تھا۔ہمیں اپنی ذندگی کو اسلامی اصولوں پر استوار کرنا ہوگا ہم اس خزاں دیدہ ماحول سے ناامید نہیں ہوسکتے۔۔۔اس لیے کہ نوامیدی زوالِ علم وعرفاں ہے۔یقیناً ہمارے مخالف جابر و متکبر ہیں لیکن ہمیں اللہ کی ذات سے بھرپور امید ہے کہ اگر ہم نے اپنے احوال کی اصلاح کر لی تو ضرور کتاب فطرت کا صفحہ الٹے گا اور ہماری تقدیر کے فیصلے ہمارے حق میں ہوں گے ان شاء اللہ۔
بنی اسرائل کے حق میں گونجنے والی شہنشاہ حق کی پر جلال آواز پھر سے کائنات میں گونجے گی کہ "قد انجیکم من عدوکم”
(بیشک ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی)
یہ سب کچھ دوبارہ ممکن ہے
و انتم الاعلون ان کنتم مومینین”
( بشرطیکہ تم مومن ہو)
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

