اردو کاسوال: باسی بھات میں خدا کا ساجھا – مترجم:ڈاکٹر رغبت شمیم ملک

by adbimiras
0 comment

اردو جہاد کا ابھی یک فارمولائی لائحہ عمل ہے:اتر پردیش میں اردو کو ”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ دلانا،بہار میں یہ درجہ 1981ء میں ہی مل گیا۔آندھرا پردیش نے بھی یہ درجہ دے دیا لیکن اتر پردیش کی بات اور ہے۔یہ اردو کی جائے پیدائش ہے۔جائے پیدائش ہی نہیں گڑھ بھی اور گڑھ کی جیت ہی اصل جیت ہے۔خود کانگریس نے اپنے انتخابی منشور میں اردو کو ”دوسری ریاستی زبان“ کی حیثیت سے قبول کیا ہے اور وعدہ کیا ہے کہ بہار ریاستی زبان قانون میں اردو کو جو مقام دیا گیا ہے وہی اتر پردیش میں بھی دیا جائے گا۔اتر پردیش کی حکومت نے اس ضمن میں قانون بھی بنا رکھی ہے۔غرض کہ:

دل کا اک کام جو برسوں سے پڑا رکھا ہے

تم  ذرا  ہاتھ  لگا  دو  تو  ہُوا  رکھا  ہے

دہلی اور لکھنؤ کی سیاسی ہوا کا جو رُخ ہے اُسے دیکھتے ہوئے اِس بات کا پورا امکان ہے کہ آجکل میں اردو کو اتر پردیش میں ”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ مل جائے گالیکن مسئلے کا یہ حل نہیں ہے کیوں کہ اردو کا سوال صرف زبان کا سوال نہیں ہے۔سوال مسلمانوں کی شناخت کا ہے اور وہ سوال بنیادی طور پر سیاسی ہے،جس کی جڑیں تاریخ میں پیوست ہیں۔غیر ِ اردو داں لوگ زبان اُس تاریخ کو آج بھلے ہی فراموش کر بیٹھے ہوں لیکن اردو جہاد میں اُس کی یاد ترو تازہ ہے۔اِس لئے اُس یاد کو کریدنا ضروری ہے،چاہے یہ کام ناپسندیدہ ہی کیوں نہ ہوں۔

1837ء میں انگریزوں نے فارسی کو ہٹا کر عدالت اور دفتر میں جدید ہندوستانی زبانوں کو جگہ دی،توبہار،اتر پردیش وغیرہ ہندی لسانی ریاستوں میں وہ مقام اُردو کو ملا۔طویل جدوجہد کے بعد 1881ء میں بہار میں اور مغرب اتر پردیش میں ہندی کو بھی اردو کے برابر جگہ دے دی گئی۔یہ  صورت حال1947ء تک رہی۔ہندی لسانی ریاستیں دفتری کام کاج اور تعلیم کے معاملے میں ذو لسانی رہیں۔اردو اور ہندی دونوں کو برابری کا درجہ حاصل تھا، علاوہ ازیں ایک ریاست ایسی بھی تھی جو تنہا اردو کی بڑی ریاست تھی اور وہ تھی پنجاب۔اردو زبان اور فارسی رسم خط کو انگریزی حکومت میں یہ درجہ اس لئے نہیں ملا تھا کہ اردو جاننے والوں کی تعداد سب سے زیادہ تھی۔اردو کو یہ درجہ اس لئے بھی نہیں ملا تھا کہ وہ سب سے ترقی یافتہ اور متمول زبان تھی۔ ( یہ بھی پڑھیں ذوق کی قصیدہ نگاری – امیر حمزہ  )

اردو کی شناخت کا بحران سمجھ میں آتا ہے لیکن شناخت کا حصول خاص رجحان سے الگاؤ نہیں،لگاؤ میں ہے۔سماج سے کٹ کر اگر کوئی فرد اپنی شناخت حاصل نہیں کرسکتا،تو پھر کوئی زبان یا ادب بھی الگاؤ کے سبب نقصان میں ہی رہے گا۔دوسری ریاستی زبان کا درجہ جس اقلیتی ثقافت کے تحفظ کے لئے حاصل کیا جارہا ہے وہ اقلیتی فرقہ کو اور بھی اقلیتی بنانے کا عمل ہے۔آج جو مذہب، زبان کے لئے کارآمد معلوم ہورہا ہے وہ آگے چل کر کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے،اس کا اندازہ اردو جہادیوں کو پوری طرح نہیں ہے۔

فارسی نے اگر چھ سو سالوں تک شمالی ہندوستان کی زبانوں کو دبانے کی کوشش کی تو یہی کام اردو نے انگریزوں کے ساتھ مل کر سو برسوں تک کیا۔یہی وہ وراثت ہے جس کے زور پر جہد آزادی کے دوران اردو نے ہندی کے ساتھ پورے ہندوستان کے لئے قومی زبان کا دعویٰ پیش کیا تھا۔1945ء میں ایک طرف ڈاکٹر سجاد ظہیر جیسے ترقی پسند ادیب کہتے تھے کہ ہندوستان کی قومی زبان ہندی اور اردو دونوں ہوں،دوسری طرف مہاتما گاندھی اردو اور ہندی دونوں رسم الخطوں میں لکھی جانے والی’ہندوستانی‘ کو بطور قومی زبان تسلیم کرنے کی اپیل کر رہے تھے۔

حیران کُن بات  تو یہ ہے کہ جن دنوں اردو انگریزی حکومت میں اتنا اونچا درجہ رکھتی تھی اُن دنوں بھی ”انجمنِ حمایت اردو“ جیسے ادارے قائم کئے گئے تھے۔انیسویں صدی کے آخری دنوں میں جب ہندی والے اپنے حق کے لئے حکومت کے پاس عرضیاں دے رہے تھے تو اردو کو خطرہ محسوس ہونے لگا تھا اور سرسید احمد خاں نے علی گڑھ میں Urdu Defence Associationقائم کیا تھا۔جب ۰۰۹۱ میں اتر پردیش(متحدہ صوبہ) کے گورنر میکڈانل نے ہندی کو اردو کے برابر درجہ دینے کا اعلان کیا تو سرسید احمد خان کے جانشین نواب محسن الملک نے مخالفت کی۔اردو کو اُس وقت کون سا خطرہ تھا جس کے تحفظ کے لئے یہ مہم چلائی جارہی تھی؟

اس تحریک کی رہنمائی ”علی گڑھ“ کررہا تھا جو خصوصاً ہندوستان کے مسلم نوابوں،تعلقہ داروں، زمینداروں اور سرکاری افسروں کی منظم کوشش کا نتیجہ تھا۔یہ ایک من گڑھت کہانی ہے کہ شمالی ہند کے مسلمان بچھڑے ہوئے تھے۔پال آر براس نے اپنی کتاب(Language,Religion and Politics in North India (1974  میں حقائق اور اعدادوشمار کے ساتھ پیش کیا ہے کہ اتر پردیش میں کم از کم 1859ء سے 1931ء کے دوران مسلمان ہندوؤں سے کسی بھی طرح پس ماندہ نہیں تھے؛یہی نہیں بلکہ شہری زندگی،خواندگی،انگریزی تعلیم،سرکاری ملازمت وغیرہ میں وہ کہیں زیادہ بہتر حالت میں تھے۔ دراصل یہ مسلم جاگیردار طبقہ ممکنہ طور پر اپنی سہولیات اور حقوق کے تحفظ کے لئے فکر مند تھا۔مسلم علاحدگی پسندی ان حقوق کے تحفظ کی فطری مظہر تھی۔فارسی سے زیادہ اردو کی حفاظت علاحدگی پسندی کا ایک حصہ تھا۔نامناسب نہیں ہے کہ جس علی گڑھ تحریک نے1906ء میں مسلم لیگ کو جنم دیا،وہی اردو کی حمایت میں بھی پیش پیش تھی۔اس لئے آگے چل کر مسلم لیگ نے اسلام اور پاکستان کے ساتھ ساتھ اردو کو بھی اپنے نعرے کا حصہ بنالیا۔اس تناظر میں بابائے اردو ڈاکٹر عبدالحق کا وہ خطبہ خاص اہمیت رکھتا ہے کہ 1961ء کی 15فروری کو غالبؔ کے 92ویں جنم دن پر کراچی میں اُنھوں نے دیا تھا۔اُس خطبہ میں اُنھوں نے پاکستان میں اردو کو نظر انداز کرنے پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہا تھا کہ”پاکستان کو نہ جناح نے بنایا،نہ اقبال نے،پاکستان بنایا اردو نے۔مسلمانوں اور ہندوؤں کی مخاصمت اصل وجہ اردو تھی۔دو قومی نظریہ اور اس طرح کے تمام تنازعات اردو سے پیدا ہوئے تھے۔

اس تناظر میں یہ نکتہ بھی قابل ذکر ہے کہ گاندھی جی نے جب ”ہندوستانی“ تحریک کے ذریعہ ہندی اور اردو کو قریب لانے کی کوشش کی اور اِس قومی عمل میں مولوی عبدالق کی مدد مانگی تو اُنھوں نے صاف انکار کردیا کیوں کہ اُن کی نظر میں اردو اور ہندی کا قریب آنا ناممکن تھا۔مسلم جاگیرداروں اور مولویوں نے اردو کو الگ اس لئے نہیں کیا تھا کہ آگے چل کر اُسے ہندی کے ساتھ ملا دیا جائے۔بول چال کی ایک ہی کھڑی بولی سے پیدا ہوکر بھی ادب میں اردو اور ہندی دو الگ زبانیں کیسے بن گئیں یا بنادی گئیں؟اِس کا مفصل اور حقیقت پر مبنی ذکر امرت رائے کی کتابA house divided:The origin and development of hindi/hindvi(Oxford,1984)میں ملتاہے۔یہاں اُن باتوں کو دہرانے کی ضرورت نہیں ہے۔کہنے کا مطلب صرف یہ ہے کہ 1947ء سے قبل اردو کی مانگ مسلم علاحدگی پسندی کی سیاست کا حصہ تھی۔یہ مانگ کتنی غیر دانش مندانہ تھی اِس کا اندازہ صرف اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ اردو صرف شمالی ہندوستان کی ہندی لسانی ریاستوں میں ہی نہیں بلکہ پورے ہندوستان کی ریاستی زبان ہونے کا دعویٰ کرتی تھی اور اس دعوے کے چلتے اردو کے حمایتی اتنے اندھے ہو گئے تھے کہ وہ ہندوستان کی دیگر زبانوں کے وجود سے بھی بے خبر تھے۔یہاں تک کہ اردو اور ہندی کا مسئلہ پورے ہندوستان کا لسانی مسئلہ بن گیا اور ہندوستان جیسی ایک کثیراللسان لسانی ملک کے لسان کا مسئلے کی پے چیدگی پر غور کرنے کی طرف دھیان نہیں گیا۔

1947ء میں پاکستان بن جانے کے بعد بھی اگر سیاسی مسئلہ پوری طرح حل نہیں ہوا تو لسانی مسئلہ ہی کیسے حل ہوتا!تقسیم کا المیہ یہ ہے کہ ہندوستان کے جو حصے پاکستان کو ملے اُن میں کسی پردیش کی زبان اردو نہیں ہے،نہ پنجاب کی،نہ سندھ کی،نہ بلوچستان کی،نہ سرحدی علاقے کی اور نہ مشرقی بنگال کی۔الگاؤ کی مانگ کرنے والے زیادہ تر مسلمانوں کو ہندوستان میں ہی رہ جانا پڑا۔یقیناً اس عمل میں وہ کچھ اور اقلیتی ہوگئے۔آزاد ہندوستان میں مسلم شناخت کا بحران اور بڑھ گیا۔لیکن تبدیل شدہ حالت میں سیاسی سطح پر مسلم شناخت کے مسائل کو اٹھانے کی گنجائش نہیں تھی مذہبی غیر جانبداری یا سیکولرزم کے آئینی قراردادکو دیکھتے ہوئے ”اسلام خطرے میں“ کا نعرہ لگانابھی خطرناک تھا۔ایک زبان کا راستہ ہی سیکولرزم کو بچائے رکھنے کا راستہ بچ جاتا ہے جس کے سہارے ثقافتی یک جہتی کی آواز اٹھائی جاسکتی تھی۔ابتدا پارلیمنٹ ہاؤس کے تشکیلی عہد سے ہی ہوگئی یعنی تقسیم کے ٹھیک بعد ہی 1950ء سے تسلیم شدہ آئین ہند(Constitution of India) میں بالآخر ہندوستان کی چودہ زبانوں میں اردو کو بھی جگہ ملی۔لیکن سوال تو اردو کے لئے ایک علاقائی بنیاد کا تھا اس بنیاد کے لئے جدوجہد کا موقع بھی جلد ہی آیا۔

1951ء میں جب ”اتر پردیش ریاستی زبان کا قانون پاس ہوا تو ہندی کو ریاستی زبان بنانے کے ساتھ ہی اُس میں یہ تجویز پیش گئی کہ ”اردو زبان بولنے والوں کو تمام مکمل سہولیات دی جائیں گی“ لیکن پرانے اردو جہادیوں کو اِس سے اطمینان حاصل نہیں ہوا۔انجمن ترقی اردو نے فوراً ایک علاقائی زبان کمیٹی بنادی جس کے صدر ڈاکٹر ذاکر حسین ہوئے۔ذاکر صاحب اُن دنوں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے وائس چانسلر تھے۔ دیگرممبران میں پنڈت کُنجرو جیسے کچھ اہم اردو دوست ہندو بھی رکھے گئے تاکہ اردو کی تحریک کو براہ راست مسلم فرقہ واریت نہ جوڑ ا جائے۔مانگ یہ تھی کہ اردو کو اتر پردیش کی علاقائی زبان کا درجہ دیاجائے۔ثبوت کے لئے اردو کثیر لسانی علاقوں سے دستخط کرائے گئے۔

یہ کہنے کی ضرورت نہیں کہ علاقائی زبان کی مانگ،بالکل غیر فرقہ وارانہ تو ہے ہی  ہے،ساتھ ہی آئینی بھی لیکن اسی دوران ریاست جموں اور کشمیر میں اردو کو ریاستی زبان کا درجہ دینے کا اعلان کردیا گیا۔اگر علاقائیت کے نظریہ کو مانیں تو کشمیر کی ریاستی زبان کشمیری ہونی چاہئے تھی؛ویسے کشمیری زبان پارلیمان کی چودہ اہم زبانوں میں سے ایک زبان کی شکل میں منظور شدہ بھی ہے۔تاہم اگر اردو کو جموں اور کشمیر کی ریاستی زبان بنائی گئی تو اس کی بنیاد مسلم اکثریت کے علاوہ اور کیا ہوسکتی ہے؟ایک طرح سے دیکھیں تو اس میں کوئی خاص قباحت بھی نہیں۔اگر صرف سات فیصدی اردو بولنے والوں کے باوجود پاکستان کی زبان اردو ہوسکتی ہے،صرف اس لئے کہ زیادہ تر شہری مسلمان ہیں تو کشمیر کی ریاستی زبان اردو کیوں نہیں ہوسکتی؟ریاستی زبان ہونے کے لئے ایک جگہ علاقائی بنیاد تو دوسری جگہ مذہب!اب اس پر کسی کو تضاد نظر آئے تو آئے!سوال وجود کے تحفظ کا ہے!وجود بحران میں ہوتو منطق اور غیر منطق نہیں دیکھا جاتا۔ویسے بھی زبان کے مسائل صرف دلائل سے طے ہوتے بھی نہیں۔

مسلم فرقہ کے وجود کے لئے بحران یہ تھا کہ آزادی کے حصول کے ساتھ پرانی زمینداری نظام ختم کردیا گئی۔جس کا گہرا اثر بہار،اتر پردیش کے مسلمان زمینداروں اور تعلقہ داروں پر پڑا۔ریاستیں تحلیل ہوئیں تو بادشاہوں کے ساتھ نواب بھی اجڑے۔اردو زبان اور ادب کے سرپرستوں ذمہ داری آگئی۔سرکاری اور غیر سرکاری ملازمتوں اور روزگاروں کے دیگر شعبوں میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کو بھی یقیناً مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔کسی منظم سیاسی پارٹی کے فقدان میں سیاسی نمائندگی بھی کم ہوگئی۔1900ء میں اتر پردیش میں ہندی کے برابر آجانے پر اردو کے لئے معاشی اور ثقافتی خطرے کا اندیشہ پیداہوگیا تھا اب تو ہندی،کئی ریاستوں کے ساتھ ساتھ مرکز کی بھی سرکاری زبان ہوگئی تھی۔اردو بولنے والوں کے معاشی اور ثقافتی بحران کا اندازہ لگانا مشکل نہیں، اندیشے تصوراتی نہیں حقیقی ہیں۔

اس دوران ہندی کا غلبہ جتنا بڑھا،اُس سے زیادہ ہندو فرقہ واریت میں اضافہ ہوا۔1964ء میں تقسیم کے بعد پہلی بار مشرقی ہندوستان میں واضح طور پر بھیانک فسادات ہوئے۔سال بھر بعد ہندپاک جنگ ہوئی۔اس کے بعد تو تھوڑے تھوڑے وقفے سے فسادات کا سلسلہ ہی چل پڑا۔جواہر لال نہرو کے بعد کانگریس پارٹی تو کمزور ہوئی ہی،بایاں بازو پارٹیاں اور طاقتیں بھی پھوٹ کا شکار ہوئیں۔مسلم فرقہ اب صرف لسانی اور ثقافتی مانگوں سے مطمئن نہ ہوسکتا تھا،اس دوران سیدھے فرقہ واریت کی بنیاد پر مسلم تنظیموں کے دوبارہ زندہ ہونے کا عمل شروع ہوا،ساتھ ہی مسلمانوں کی کچھ نئی سیاسی تنظیم بھی بنیں۔نئے نئے مسلم لیڈر سامنے آئے اس سلسلے میں اردو کی مانگ میں امتیازی تبدیلی آئی۔پہلے جہاں علاقائی زبان کی مانگ کی جارہی تھی،اب اُس کی جگہ پر ”دوسری ریاستی زبان“ کی مانگ سامنے آئی۔

1967ء کا عام انتخاب پہلا موقع ہے جب خصوصاً اتر پردیش اور بہار میں اردو کو ”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ دلانے کی مانگ اٹھی اور یہ مانگ سیاسی مدعا بن گیا۔متعدد سیاسی پارٹیوں نے،خصوصاً دونوں کمیونسٹ پارٹیوں نے اِس مانگ کو اپنے انتخابی منشور میں شامل کیا۔انتخاب کے نتیجے میں بہار،اتر پردیش،مدھیہ پردیش وغیرہ متعدد ہندی لسانی ریاستوں میں کانگریس کا گڑھ ٹوٹ گیا اور غیر کانگریس پاٹیوں کی ملی جلی مخلوط سرکاریں بنیں۔اردو کو”دوسری ریاستی زبان“بنانے کا مسئلہ سب سے پہلے بہار میں اٹھا اور 1968ء میں رانچی میں بھیانک فرقہ وارانہ فساد ہوا۔گٹھ جوڑ سرکار ختم ہوگئی۔”دوسری ریاستی زبان“کا مسئلہ دھرا رہ گیا۔اس کے کچھ عرصے بعد بہار اور اتر پردیش میں کانگریس دوبارہ ِ اقتدار میں آئی لیکن ”اردو کودوسری ریاستی زبان“ بنانے کے سلسلے میں عرصہ تک کوئی پہل نہ کی گئی۔چودہ سال بعد بہار کے ایک کانگریسی وزیر اعلیٰ ہی نے بالآخر اردو کو ”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ دے دیا۔

1967ء کا سال اس نقطہئ نظر سے بھی قابل ذکر ہے کہ اُس  سال پارلیامنٹ نے ”ترمیم شدہ ریاستی زبان کا قانون“ پاس کیا اور سرکار کی طرف سے  غیرہندی  ریاستوں کو یقین دلایا گیا کہ اُن کی خواہش کے خلاف ہندی اُن پر ”تھوپی“ نہیں جائے گی۔واضح طور پر یہ زمانہ ہندوستان کے مختلف علاقوں میں لسانی شناخت کے بکھراؤکا زمانہ ہے۔اردو والوں کی طرف سے ”دوسری ریاستی زبان“ کا سوال عین ایسے وقت پر اٹھایا گیا جب کُل ہند سطح پر ہندی کی بنیاد ڈانواڈول ہورہی تھی۔کہاں تو مسئلہ انگریزی کے غلبہ کو ہٹانے کا تھا اور کہاں بحث ہورہی ہے ہندی کے ”تھوپے“ جانے کی۔”تھوپی ہوئی“انگریزی پر کوئی اعتراض نہیں لیکن تھوپی جانے والی ہندی پر اتنا ہنگامہ کیوں!الٹے ہندی کو جو تھوڑی بہت سہولت ملی ہے اُسی میں حصہ مانگنے کے لئے اردو سر پر سوار!باسی بھات میں خدا کا ساجھا؟

اس دوران اردو کے حق کی مانگ کرنے والوں کی دلیل میں ایک اہم تبدیلی آئی۔پہلے اردو کی سیکولربنیاد اور خدوخال پر زور رہتا تھا۔کہا جاتا تھا کہ اس کے بولنے والوں میں ہندو اور مسلمان دونوں ہیں،اردو شاعروں اور ادیبوں کے نام گنتے وقت ہندو ادیبوں کا ذکر بطورِ خاص کیا جاتا تھا اور گنگا جمنی تہذیب کے نام پر اردو کا حق مانگا جاتا تھا۔اب سیدھے سیدھے مسلم اقلیتوں کی زبان کی حیثیت سے اردو کے حق کی مانگ کی جارہی ہے۔ایک وقت زبان کو مذہب سے الگ کر کے دیکھنے کی بات کی جاتی تھی،اب زبان مذہب کے ساتھ اس طرح گڈمڈ ہو گئی ہے کہ زبان خود مذہب بن گئی ہے۔1935ء میں ترقی پسند انجمن کا جو منشور لندن میں تیار کیا گیا تھا،اُس میں ہندوستان کے لئے ایک مشترکہ زبان کے طور پر ”ہندوستانی“ کا ذکر تھا اور ایک مشترکہ رسم خط کے طور پر ”انڈورومن“کا۔یہ دوسری بات ہے کہ 1936ء کی لکھنو کانفرنس میں جو منشور منظور ہوا اُس میں یہ جملہ نکال دیا گیا لیکن اس بات سے یہ پتہ چلتا ہے کہ ایک وقت اردو کے ترقی پسند ادیب اردو رسم خط ترک کرنے کے لئے تیار تھے اور اُس رسم خط کو دین ایمان نہیں سمجھتے تھے۔یہ ضرور ہے کہ اردو کے ساتھ ناگری رسم خط کو بھی چھوڑنے کے حق میں تھے۔شاید ناگری رسم خط سے گریز کی وجہ سے ہی اردو رسم خط کو بھی چھوڑنا گوراہ تھا۔کیسا المیہ ہے کہ ”انڈورومن“ کہہ کر ”رسم خط کو تو اپنا لینا چاہتے ہیں لیکن ایک ہندوستانی رسم خط گلے کے نیچے نہیں اترتی۔یہ وہ نفسیات ہے جو انگریزی کو تو گلے لگا سکتی ہے لیکن ہندی کوبرداشت کرنے کے لئے تیار نہیں۔

بہر حال اتر پردیش نہ سہی،بہار میں تو اردو ”دوسری ریاستی زبان“بن گئی ہے۔دیکھنا چاہئے کہ اس اعزاز سے مسلم اقلیت کو کتنی سہولتیں حاصل گئیں۔اور بالآخر مسلم شناخت کو کتنی طاقت ملی؟کچھ اردو کے تعلیم یافتہ لوگوں کو چھوٹی موٹی ملازمت ملنے کے سوا عام مسلم عوام کو کیا ملا؟ہو سکتا ہے،اردو کے تعلیم یافتہ مسلم اقلیتی طبقہ کے لئے یہ بہت ہو، لیکن اس سے صاف ظاہر ہو تاہے کہ اردو جہاد بنیادی طور پر ایسی تہذیبی اقلیت کی تحریک ہے جو اپنی تہذیب و ثقافت کے تحفظ کے نام پر موجودہ حکومت میں کچھ سہولتیں حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ریاستی زبان ہندی کے لئے شور مچانے والے”ہائے ہندی ہائے ہندی“کرنے والے چند لوگوں سے یہ لوگ کسی طرح مختلف نہیں ہے۔ریاستی زبان ہو کر بھی ہندی جس طرح عام عوام سے کٹتی ہوئی اپنی تخلیقیت کھو رہی ہے۔اس سے اردو کو سبق لینا چاہئے۔اردو تو پہلے ہی سے ایکParasiteتہذیبی گروہ کے سایہ میں طویل عرصے تک رہنے کی وجہ سے اپنی سہج عوامی قوت کافی  حد تک کھو چکی ہے،اس نئی ہوڑ میں تو اُس کے وجود پر ہی بن آئے گی۔

غور سے دیکھیں تو”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ ایک فریب ہے۔دل کے بہلانے کو ایک اچھا خیال!حقیقت جہاد چھیڑنے والے لیڈر بھی جانتے ہیں اور حکومت کے طرفدار وہ لیڈر بھی جنھوں نے فیاضی سے یہ مانگ تسلیم کی۔ایسی انوکھی جدوجہد جس میں دونوں طرفدار اپنے آپ کو فاتح سمجھ رہے ہیں۔اصلی فتح کا پتہ تب چلے گا جب انتخاب ہوگا۔

لیکن یہ ”عوامی تفریح“(populist)کھیل بالآخر کتنا خطرناک ہے۔اس کا پتہ تب چلے گا جب ایک ایک کر کے ہندوستان کی دوسری ریاستوں میں بھی”دوسری ریاستی زبان“ کے دعویدار کھڑے ہوں گے۔ہندوستان کا لسانی نقشہ ہی کچھ ایسا ہے کہ کم و بیش سبھی لوگ تمام دوسری ذو لسانی اور کثیر اللسانی ہیں؛اس لئے اگر ایک جگہ ”دوسری ریاستی زبان“ کا نظریہ تسلیم کر لیا گیا کی تو پھر اس کا سلسلہ کہاں جا کر ختم ہوگا،اندازہ لگایا جاکیا جاسکتا ہے۔

اردو کی شناخت کا بحران سمجھ میں آتا ہے لیکن شناخت کا حصول اصل دھارے(Main Stream) سے الگاؤ میں نہیں،لگاؤ  میں ہے۔سماج سے کٹ کر اگر کوئی فرد اپنی شناخت حاصل نہیں کرسکتا،تو پھر کوئی زبان یا ادب بھی ’الگاؤ‘سے خسارے میں ہی رہے گا۔”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ جس اقلیتی ثقافت کے تحفظ کے لئے حاصل کیا جارہا ہے وہ اقلیتی فرقہ کو اور بھی اقلیتی بنانے کا عمل ہے۔آج جو مذہب زبان کے لئے کارآمد معلوم ہورہا ہے،وہ آگے چل کر کتنا نقصان دہ ثابت ہوسکتا ہے،اس کا اندازہ ابھی اردو جہادیوں کو پوری طرح نہیں ہے،جس زبان کا ادب فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد کی شاندار دستاویز ہو،وہ اردو خود فرقہ وارانہ عناصر کے ہاتھوں میں کھیل  بن جائے،اس سے بڑا المیہ اور کیا ہوگا؟

اردو کے وجود کا سوال تاریخ کو یاد کرنے اور کرانے سے حل نہیں ہوگا۔تاریخ اتنی ہی مدد کرسکتی ہے کہ وہ اپنے آپ کو دہرانے سے روکیں۔مسئلہ کا حل مستقبل سے روبرو ہونے میں ہی ہے۔صرف اپنے مستقبل کا نہیں بلکہ اُن کے مستقبل کا جو 1947سے قبل کی تاریخ سے ناآشنا ہیں جو فارسی زدہ زبان کی تربیت میں پلے اور فارسی رسم خط سے وابستہ رہے اُنھیں یہ حق نہیں کہ نئی نسل کو اِسی ثقافت سے باندھے رکھیں۔مستقبل جانے کتنے غیر متوقع متبادلات سے پُر ہے۔اس مستقبل کے چیلنجز سماج کی جن طاقتوں کو یکجا ہونے کے لئے للکار رہی ہیں اُن سے وابستہ ہو کر آگے بڑھنے میں اگر زبان یا رسم خط بھی دیوار بنتی ہے تو اُسے توڑنے کا حوصلہ ہونا چاہئے۔یہ بات اردو کے لئے اتنی ہی سچ ہے جتنی ہندی کے لئے۔”خود کا تحفظ“ لڑائی میں نہیں،اس حوصلہ مند مہم میں ہے جس کا مقصد مستقبل کی فتح ہے۔اس عظیم مقصد کے سامنے ”دوسری ریاستی زبان“ کا درجہ محض ایک جُھنجھناہے۔

(ہنس 14 مارچ1987)

٭٭٭

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

You may also like

Leave a Comment