Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
ناول شناسی

ارضی حقیقت اور ثقافت کا ناول: تخم خوں – پروفیسر علی احمد فاطمی 

by adbimiras مارچ 6, 2021
by adbimiras مارچ 6, 2021 0 comment

پریم چند پر مضمون لکھتے ہوئے ممتاز افسانہ نگار قاضی عبدا لستار نے ایک جگہ لکھا ہے:

”اردو شہری زبان ہے۔1880ء میں ہندوستان کے بڑے بڑے شہر اردو کے معشوق یااردو کے مرکز کہلائے۔ دہلی ہو کہ لکھنؤ،لاہور ہو یا حیدر آباد، رام پور ہو یا عظیم آباد، سب اردو بولتے ہیں لیکن ان شہروں سے دس میل اندر چلے جائیے تو اردو زبان کے بیٹے اپنی تمام روز مرہ کی ضرورت برج، اودھی یا پنجابی میں بول کر پوری کرتے ہوئے ملتے ہیں یعنی اردومہذب اور شہری زندگی کی زبان رہی ہے۔“  (پریم چند کی ہجرت)

یہی وجہ ہے کہ اپنے افسانوں ناولوں میں دیہات لے کر آئے اور بجائے لہلہاتے کھیت باغ، پنگھٹ اور گوریوں کے غریب و نادار کسان، بوسیدہ کرتا اور پھٹی ساری اور پسینے میں ڈوبے پھچپھچاتے بدن دکھائے تو اردو کا وہ ماحول جہاں صرف چاندی کی نہر بہتی تھی، حسن و جمال، عارض و رخسار کی باتیں ہوتی تھیں، گل و بلبل کے تذکرے ہوتے تھے، پریم چند نے ان سب کا نشہ توڑا تو وہ سب بے چین ہو اٹھے۔ ان کی یہ بے چینی فطری تھی۔ اس لیے کہ جہاں عرصہ سے گھنگھرو، پازیب، چار جامہ،سر و سنبل، گل و بلبل کا ذکر چل رہا ہو وہاں اچانک گاؤں، چوپال، اوسارا، گائے بھینس، گوبر وغیرہ کا ذکر ہونے لگے، جادو سونے لگے، عقل جاگنے لگے تو اردو کے تعیش پسند اور بے خبر قاری کی بے چینی فطری تھی لیکن جمالیات کے بدلتے ہوئے تصوارت اورحقیقت نگاری کے تازہ رحجانات نے یہ ثابت کر دیا کہ حق اور صداقت کی اپنی جمالیات ہوا کرتی ہے۔استحصال کی اپنی ایک گرامر۔دونوں نے مل کر ایک نئی شعریات کو جنم دیا اور دیکھتے دیکھتے پریم چند نہ صرف قبول کیے گئے بلکہ ایک دبستان بن گئے۔پہلی بار اردو کہانیوں میں نسرین، نسترن کی جگہ دھنیا، سکھوا،بدھیا، منی،جیسے نسوانی کردار آئے دوسری طرف ہوری، ہلکو، گھسو جیسے کرداروں نے امٹ چھاپ چھوڑی۔ معمولی صورت والے غریب و کمزور کردار اچانک اردو فکشن کا کردار بن گئے۔پریم چند نے ان کرداروں کو کچھ اس درد مندانہ و فن کارانہ انداز میں پیش کیا کہ اس نوع کے کرداروں کو پیش کرنا لازمی سا بن گیا۔ غور کیجئے اگر گھیسو ہوری وغیرہ نہ ہوتے تو کیا کالو بھنگی، منگو کوچوان، جگا، پرمیشر سنگھ وغیرہ کا جنم ہو پاتا۔ اسی طرح دھنیا، بدھیا وغیرہ نہ ہوتیں تو کیاتائی ایسری،رانو، ننھی کی نانی، موذیل جیسے کردار جنم لے پاتے۔شاید نہیں۔ان سب تاریخی کارناموں کے باوجود مخصوص دلت ادیبوں کی طرف سے یہی الزام لگتے رہے کہ پریم چند دلت حمایتی کم تھے، مخالف زیادہ۔ خیر یہ الگ بحث ہے لیکن یہ تو سچ ہے کہ اردو ادب میں دلت مسائل پر کچھ کہانیاں ضرور لکھی گئیں لیکن ناول کم سے کم لکھے گئے۔ اس کے پیچھے بھی اردو کا وہی اشرافیہ مزاج، تہذیب پرستی یا حسن وعشق کی مستی کام کرتی رہی اور حقیقت پسندی کو طرح طرح کا نام دے کر گمراہ کیا جاتارہا۔ جدیدیت کے دور میں بطور خاص۔ دور بدلا، وقت نے کروٹ لی تو ناول نگاری کا ایک نیا دور آیا جسے آنا ہی تھا۔ایک نیا سماجی شعور بیدار ہوا تو ہمشیرہ زبانوں میں دلت ڈسکورس اور تانیثی ڈسکورس پر کھلے عام بحثیں ہونے لگیں۔کہانیاں اور ناول لکھے جانے لگے لیکن اردو میں یہ عناصر پھر بھی کم تھے۔تانیثیت پر تو کچھ نہ کچھ لکھا گیا لیکن باضابطہ دلت مسئلہ پر غضنفر کے ناول ’دویہ بانی‘کے علاوہ مجھے کوئی اور نظر نہیں آتا۔ ’دویہ بانی‘ اچھا ناول تو ہے لیکن اس میں مطالعہ زیادہ ہے اور مشاہدہ کم۔ اس لیے کہیں کہیں لاؤڈ (Loud) ہو گیا ہے، ویسے ایسے موضوعات کے ناول کا لاؤڈ ہو جانا کبھی کبھی ضروری بھی ہو جاتا ہے۔یہ الزام تو پریم چند پر بھی تھا اور اس سے زیادہ کرشن چندر پر جب انہوں نے ’کالو بھنگی‘جیسا افسانہ ’اور جب کھیت جاگے‘جیسا ناول لکھا لیکن صغیر رحمانی کا ناول ’تخم خوں‘جس پر گفتگو کرنے کے لیے میں نے یہ تمہید قائم کی ہے، ان معنوں میں اس سے آگے کا سفر ہے۔مشاہدہ و مجاہدہ سے پُر اور سب سے بڑی بات یہ کہ تخلیقی کیفیات سے آراستہ و پیراستہ۔ہر چند کہ اس ناول میں بھی کچھ مقامات ایسے آتے ہیں جہاں اس نوعیت کے الزامات لگائے جا سکتے ہیں لیکن دلت ڈسکورس نے ان سب الزامات کو خارج کر دیا ہے۔انہوں نے اپنی ایک الگ شعریات قائم کر لی ہے۔یہ شعریات کتنی درست اور کتنی صحیح ہو سکتی ہے اس پر بحث ہو سکتی ہے لیکن اس حقیقت کو بھی فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ اس نوع کے خصوصا ًدلت مسئلہ کے ناولوں کو ہم عشقیہ اور رومانی شعریات سے جانچ پرکھ نہیں کر سکتے لیکن مشکل یہی رہی کہ ہم ایسا ہی کرتے آئے اور غلط قسم کے فیصلے کرتے رہے۔ ترقی پسند ادب میں علی سردار جعفری نے پریم چند کے ہی حوالے سے ایک جگہ لکھا ہے:

”ناول نگاری محض واقعہ نگاری نہیں ہے بلکہ سماجی اور معاشی رشتوں کی تبدیلی کی داستان ہے اور فکر و شعور کا سفر بھی۔“

رال فاکس نے بھی کہا تھا:

”ناول میں جیون سنگھرش دکھائی دیتا ہے۔جیون کے سنگھرش پر ہی ناول لکھے جاتے ہیں۔“

’تخم خوں‘میں بھی جیون سنگرام ہے۔نچلے طبقے کا سنگرام۔ صرف ذات پات کا نہیں،سماج کا، جائداد کا، اولاد کا، بعد میں احتجاج کا، کئی درد سمٹ آئے ہیں اس ناول میں۔

ناول کی ابتدا ٹینگررام کے تھالی بجانے سے ہوتی ہے۔اومیشور دت پاٹھک کے گھر میں کافی مدت کے بعد لڑکا پیدا ہوا ہے۔ٹینگر خود لا ولد ہے بلکہ نامرد ہے۔دل اداس ہے لیکن پاٹھک کی خوشی میں شریک ہے یا شریک ہونا اس کی مجبوری ہے۔بلایتی کی کوکھ سونی ہے۔خود ماں بننے سے محروم ہے لیکن دوسروں کی زچگی میں ماہر ہے۔بقول مصنف۔  ”شکم کی ساخت اور چہرے کی رنگت دیکھ کر بتا دیتی تھی کہ بچہ کس دن اور کس وقت پیدا ہوگا۔“کبھی کبھی تو ایسے لمحے بھی آئے کہ بچہ پاٹھک کی بیگم کا، گود کلبلائی بلایتی کی،پستان نم ہوئے لیکن پھر سوکھ گئے اس لیے کہ اس کی زمین ہی سوکھ گئی تھی۔پنڈت جی کھیت کے اُپجاؤ ہونے کی ترکیبیں بتاتے ہیں کیونکہ ان کا خیال ہے کہ جہاں سمسیا ہوتی ہے وہیں انکی پسند کا سمدھان بھی ہوتا ہے۔درمیان میں دو ایک مقام پر ٹینگر اور بلایتی کے رومانی مناظر بھی ہیں لیکن وہ خوش کم کرتے ہیں رنجیدہ زیادہ۔دونوں کی علاقائی زبانیں، لب و لہجہ اور پھر ایسے منظر:

”شام کو دھرچن کی دکان پر بھا بھرا کی بکری خوب ہوتی تھی۔بغل کی پان کی دکان پر پولی تھین کی شراب ملتی تھی۔بھا بھرا کے ساتھ پولی تھین کا سواد چوکھا ہو جاتا تھا۔لوگ دھیرے سے لنگی یا دھوتی میں پولی تھین دبا کر دھرچن کی دکان پر چلے آتے۔ وہیں بیٹھ کر دانت سے پولی تھین کا کونا نوچتے پھر چائے کے گلاس میں انڈیل کر حلق میں غٹک جاتے۔دارو گلے کے اندر جاتے ہی کڑواہٹ بھر جاتی جسے وہ بھا بھرے کے سواد سے دور کرتے۔“

لیکن ان سب سے وقتی سکون حاصل ہوتا۔زندگی کی تلخی تو کچھ اور تھی جسے پنڈت جی بار بار دہراتے۔”تیرے اور میرے بیچ جو انتر ہے میں اسے نہیں مٹا سکتا۔اسکی اجازت نہ یہ سماج دیتا ہے اور نہ ہی دھرم۔“

عورت کا تو ایک دھرم ہو سکتا ہے لیکن ماں کا نہیں اس لیے کہ ماں تو اپنے آپ میں دھرم ہوتی ہے۔ماں چاہے پنڈتاین بنے یا ٹھاکراین، زچگی کے وقت بلا یتی کو ایسا محسوس ہوتا کہ وہ خود ماں بن گئی ہے۔خوبصورت احساسات سے پر یہ جملہ دیکھیے۔

”بلا یتی جب جب کسی کی زچگی کرا کر لوٹتی اسے محسوس ہوتا وہ خود ماں بن کر لوٹی ہے۔اس پر گہرے سکون کے تاثرات مرتب ہوتے تھے۔ اس کے ہونٹوں پر لوریاں ہوتی تھیں۔چھاتیوں میں دودھ بھرے ہوتے تھے اور آنکھوں میں ست رنگے پھول کھلے رہتے تھا۔“  ( یہ بھی پڑھیں قرۃ العین حیدر : چاندنی بیگم – پروفیسر شمیم حنفی )

مرد ناول نگار ہو کر عورت کی اس نازک نفسیات کو سمجھنا اور اسے تخلیقی انداز میں پیش کرنا نہ صرف کیفیت میں اضافہ کرتے ہیں بلکہ تخلیقیت میں بھی۔ یہ کیفیت تو پھر بھی نرم و نازک ہے لیکن اس منظر کو آپ کس خانہ میں رکھیں گے جب پرشو رام سنگھ کا ایک بیل مر جاتا ہے اور ٹینگر اور اس کے تین ساتھی اس مرے ہوئے بیل کو  ٹانگتے ہیں۔پہلے تو اس منظر کو دیکھئے۔

”انہوں نے سب سے پہلے مرے ہوئے بیل کو سیدھا کیا پھر اسکے چاروں پیروں کو ایک ساتھ کر کے رسی سے با ندھا۔ اس کے بعد پیروں کے درمیان بانس لگا کردو آگے ہو گئے اور دو پیچھے۔اب انہوں نے زور لگا کر بانس کو اٹھایا اور کندھے پر رکھ لیا۔بیل بیچ میں جھولنے لگا اور اس کی گردن ایک سمت کو لٹک گئی۔وہ لوگ اسے لے کر ڈگمگاتے قدموں سے گاؤں کے پچھواڑے نہر کی طرف بڑھ گئے۔“

اور اب یہ کریہہ منظر بھی ملاحظہ کیجئے۔

”نہر کے کنارے جہاں مرے ہوئے جانوروں کو پھینکنے کی جگہ تھی، وہاں پہلے سے ہی سڑی ہوئی لید، ہڈیاں اور کھوپڑیاں بکھری پڑی تھیں اور ان کے تعفن کا بھبھکا اٹھ رہا تھا۔ بسگتیا،رم رجوا،بھیکنا پر تو عفونت کا کوئی اثر نہیں دکھا مگر ٹینگر کو ابکائی آنے لگی۔اس نے اپنی ناک کے گرد گمچھا لپیٹ لیا۔کوے کھوپڑیوں کو کھود رہے تھے اور کتے چیتھڑوں میں منھ پھنسا ئے رسا کشی کر رہے تھے۔ذرا فاصلے پر گدھوں کا ایک غول سست بیٹھا اونگھ رہا تھا۔“

اردو کا رومانی اور گلابی مزاج ان مکروہ منظروں کو کس طرح قبول کرے گا۔یہاں تو پھر بھی جانور ہے،پریم چند کی کہانی "نجات” میں انسان ہے لیکن چمار جو لکڑی چیرتے چیرتے دم توڑ دیتا ہے اور رات کے اندھیرے میں پنڈت جی اس کی لاش کو مردہ جانور کی طرح گھسیٹ رہے ہیں اور گاؤں کے باہر پھینک رہے ہیں۔یہ بد صورت اور مکروہ مناظر اردو میں پسند نہیں کیے گئے لیکن اگر یہ زندگی کی حقیقت ہے اور یقینا ہے تو پھر ادب کی حقیقت کیوں نہیں ہو سکتے؟کیا منظر نگاری صرف سرمئی ماحول کو پیش کرنے کا نام ہے؟کیا خوب صورت مناظر صرف کشمیر میں ہوتے ہیں؟ اگر یہ سچ ہے تو پھر ریگستان، راجستھان وغیرہ کہاں جائیں گے؟ یہاں بھی تو انسان ہی رہتے ہیں۔جیتے مرتے ہیں۔پریم چند نے غلط تو نہیں کہا تھا کہ اب ہمیں حسن کا معیار بدلنا ہوگا۔پریم چند نے یہ بھی کہا تھا کہ۔”ناول کو اپنا مواد الماری میں رکھی کتابوں سے نہیں بلکہ ان انسانوں سے لینا چاہیے جو چاروں طرف پھیلے ہوئے ہیں۔“چاروں طرف میں گاؤں، دیہات، قصبات بھی آتے ہیں۔منظروں میں خارجی قسم کی خوب صورتی ہوتی ہے لیکن انسان کے ذاتی رویوں، نظریوں اور ویوہاروں میں باطنی خوبصورتی ہوتی ہے۔خارجی مناظر آنکھوں کے ذریعہ دل و دماغ میں نہیں اترتے تو ان میں تضاد و تصادم رہتا ہے اور ناول اسی تصادم کا المیہ بھی ہے اور رزمیہ بھی۔گورکی نے کہا تھا کہ” عوام کی زندگی اور ان کے حالت کی سچی اور ملمع کاری سے پاک تصویر کشی حقیقت نگاری ہے۔“

منظروں اور مکالموں سے ناول آگے بڑھتا ہے اور یہی کارگر ذرائع ہوتے ہیں لیکن اگر مکالمے کردار کے فطری لہجہ سے نہ نکل کر ناول نگار کے قلم سے نکلنے لگتے ہیں تو وہ غیر فطری ہی نہیں غیر تخلیقی بھی لگنے لگتے ہیں۔اس کی بھی مثال دیکھئے جب دیہات کا بے خبر پنڈت یہ کہتا ہے۔”یہ سب لال جھنڈین کروا رہے ہیں۔“ یا مصنف یہ کہتا ہے:

”ہمارا سماج مرے ہوئے ہاتھی کی قیمت بھی سوا لاکھ لگاتا ہے۔برہمن پتر خواہ سارے عیبوں سے بھرا ہو مگر سماج میں اس کا مقام دیوتا کا ہی ہوتا ہے۔“

بات اگرچہ درست ہے لیکن یہ ایک سماجی حقیقت تو ہو سکتی ہے لیکن تخلیقی حقیقت نہیں۔حقیقت کو تخلیق کے بطن سے جنم لینا چاہیے۔کردار کی نوک زبان سے نہ کہ مصنف کی نوک قلم سے۔اسی سے ناول کی تخلیقیت مجروح ہوتی ہے اور ناول سپاٹ بیانی کا شکار ہونے لگتا ہے۔

گاؤں بہار کا ہو یا یو پی کا، اس کی تقسیم جتنی جغرافیائی ہوتی ہے اس سے زیادہ مذہبی اور ذات پات کی۔ اسی لیے اکثر چمروٹی یالپیانہ گاؤں سے الگ تھلگ باہر ہوتے ہیں۔ اس ناول میں جس گاؤں کا ذکر ہے وہ ببوان یعنی راجپوت اور بھومی ہاروں کے درمیان بنٹا ہوا ہے لیکن یہاں پچھڑوں کی تعداد بھی کم نہ تھی۔پچھڑوں میں خاص طور پر چمار اور دسادھ کی آبادی تھی۔ پھر اچانک لال جھنڈے کی لہر آئی تو بھومی ہار کمزور پڑنے لگے اور یادوؤں کی بن آئی۔ وہ کھیتوں کے مالک بن گئے اور بھومی ہار۔”کھیت مال گزاری پر لگا کر شہر چلے گئے اور بالوں میں مہکتے ہوئے تیل لگا کر مہین بننے لگے۔“

ٹینگر رام،بلا یتی اور کانا تیواری اسی گاؤں کے تھے۔ٹینگر اپنی غریبی سے، بلا یتی اپنی سونی کوکھ سے اور تیواری گاؤں کی بدلتی ہوئی سیاست سے پریشان تھے، خاص طور سے ریزرویشن پالیسی سے۔تبھی تو بی۔ڈی۔او۔صاحب سے کہتے ہیں۔”آپ لوگ تو افسر بننے لگے ہیں۔ہر بڑی پوسٹ پر آپ ہی قبضہ کیے ہوئے ہیں۔ جہاں دیکھئے کوئی پاسوان،کوئی رام،کوئی مینا۔ایک بھی جگہ آپ سے خالی نہیں بچی ہے۔”یہ صورت آج کی ضرور ہے لیکن صدیوں سے برہمنوں نے اس زمینی نظام کو آسمانی نظام کے طور پر پیش کیا،حکومت کی، ظلم کیا۔بدلتی ہوئی صورتوں کے باوجود وہ آج بھی شکست و ہزیمت اٹھانے کو تیار نہیں۔شکلیں بدلی ہیں تو پیترے بھی بدلے ہیں جس کی ایک جھلک اسی جملہ میں دیکھی جا سکتی ہے۔

”جس طرح برہمن دیوتا کا روپ ہوتا ہے اسی طرح حاکم لوگ بھی بھگوان کا روپ ہوتے ہیں۔“

ایک بھگوان دوسرے بھگوان سے ہڈیوں کا وہ سودا کرتا ہے جو گزشتہ اوراق میں مرے ہوئے بیل کے روپ میں چمار کر چکا تھا۔تعفن اور گندگی سے بھرا سودا اس لیے کہ روزی اور روٹی کے لیے کچھ تو سہارا چاہیے۔”اور پھر اس یگ میں لکشمی ہی سب کچھ ہے۔لکشمی۔“

لکشمی ان بھگوانوں کی بھگوان ہے جو دونوں دیوتاؤں کی اوقات بتا دیتی ہے اور کھیل شروع ہوتا ہے سماجی اور سیاسی سازشوں کا جس میں سب برابر سے شریک ہیں۔خواہ اگڑے خواہ پچھڑے۔خواہ دفتر خواہ افسر۔پاپ پنیہ کا کھیل شروع ہوتا ہے مردوں سے لیکن شکار ہوتی ہے ایک کمزور ہریجن عورت بلایتی جو ماں بننے سے محروم ہے۔ممتا سے بھرا ایک اضطراب ہے۔اسی کمزوری کا فائدہ اٹھاتا ہے پنڈت تیواری۔اُسے بی۔ڈی۔او۔کو خوش کرنے کے لیے راضی کرتا ہے۔جب وہ کہتی ہے کہ ”مالک ای پاپ ہے۔“ تو پنڈت اپنی پوری پنڈتائی کے ساتھ سمجھاتے ہیں۔

”پاپ پنیہ تو مت دیکھ۔یہ مجھ پر چھوڑ دے۔آخر میں تجھ سے کہہ رہا ہوں۔ایک برہمن تجھ سے کہہ رہا ہے اور میرے آدیش سے اگر کوئی پاپ ہوتا بھی ہے تو وہ پاپ نہیں کہلائے گا، پنیہ میں بدل جائے گا۔“

ایک طرف دنیاوی فائدے کے لیے اوپر طبقہ میں پاپ اور پنیہ کا یہ کھیل، دوسری طرف کمزور طبقہ کا یہ کمزور احساس۔

”یہ ہمارے مالک ہیں۔پالن ہار ہیں۔ہم تو ان کے ٹکڑوں پر پلنے والے ہیں۔ان ہی کی دیا کرپا سے ہمارا جیون ہے۔ان کی بات ٹالنے سے نرک میں بھی جگہ نہیں ملے گی۔“

ایک طرف پچھڑی ذات کے افسر کو پچھڑی ذات کی عورت کے ذریعہ خوش کرنے کا خیال،دوسری طرف پچھڑی ذات کے ذریعہ پچھڑی ذات کا ہی استعمال و استحصال اور کھیل ایک اگڑی ذات کا۔ایک غیر معمولی انسانی و اخلاقی کشمکش جو لمحہ بھر کے لیے میاں بیوی کی روحانی کشمکش میں تبدیل ہوتی ہے اور مصنف نے اس کیفیت کو اچھے انداز میں پیش کیا ہے۔

”رات ان میں دھیرے دھیرے اتر رہی تھی۔بلا یتی الٹا ہاتھ پیشانی پر رکھے چھپر کو گھور رہی تھی۔“

سونی گود اور ویران جھونپڑی میں گھورنے کے علاوہ اور تھا بھی کیا۔قسمت و حالات کا جبر و قہر شوہر سے یہ کہلوانے پر مجبور ہی کر دیتا ہے۔”کل تجھے بی۔ڈی۔او۔صاحب کے پاس جانا ہے۔“یہ ہے جبر و قہر کا کراس (Cross) کہ شوہر جس تانگے پر اپنی دلہن کو وداع کر کے لایا تھا،اسی تانگے پر وہ کسی اور کو سونپنے جا رہا تھا۔یہ ہے سماج کی ستم ظریفی (Irony of Society) جو ناول کو صرف غور و فکر ہی نہیں بے چینی کی منزل تک لے جاتی ہے جہاں اس کا اپنا رکھوالا کسی اور کے حوالے کر رہا ہے۔جذبات و احساسات کا یہ مد و جزر ان جملوں سے ادا ہوئے ہیں۔

”بلا یتی اونچے نیچے راستوں پر ہچکولے کھا رہی تھی۔وہ اندر ہی اندر الجھ رہی تھی۔“

بے بسی اور بے حسی کی یہ دنیا پریم چند کے کرداروں میں بھی تھی۔گھیسو اور مادھو میں بھی لیکن ان کی بے بسی اور ان کا استحصال گاؤں کی سرحد تک محدود تھا لیکن اب یہ سرحدیں ٹوٹ گئی ہیں۔ہوری تو شہر جانے والی سڑک پر ہی دم توڑ گیا لیکن ٹینگر اُسے شہر کے آفس تک لے گیا جہاں شہیدوں کے مزار تھے اور شنکر بھگوان کا مندر بھی،یہ سب بہت معنی خیز ہے۔جبر و استحصال کی محدود دنیا اب لا محدود ہو چکی ہے اور یہ بھی کہ استحصال کی نوعیت بدل چکی ہے۔اب صرف اگڑے اور پچھڑے کا مسئلہ نہیں ہے بلکہ حاکم و محکوم، مختار و مجبور کا بھی ہے۔ان حالات میں کون کس کا استعمال اور استحصال کر رہا ہے یہ کہہ پانا مشکل ہے۔اس لیے کہ استحصال کا دائرہ نہ صرف بڑا ہو گیا ہے بلکہ کئی رخا اور نکیلا بھی ہو گیا ہے۔ناول نگار اگر بے رحم پیچیدگی اور سفاک زندگی کی گہرایوں اور نزاکتوں کو سمجھ اور پورے تخلیقی انداز میں پیش کر رہا ہے تو یہ اس کے گہرے مشاہدے اور تخلیقی تجربے کا ثبوت ہے ورنہ موجودہ دور کی پیچیدگی بلکہ ژولیدگی کی تعریف و توضیح کر پانا مشکل ہے۔اسی لیے ناول رزمیہ ہوتا ہے تو ساتھ میں رمزیہ بھی۔ وہ تمام آڑی ترچھی حقیقتوں کو تخلیقی وجدان میں ڈھال کر اس طرح پیش کرتا ہے کہ اس کے بطن سے ایک نئی حقیقت کا ظہور ہوتا ہے خواہ وہ تخلیقی حقیقت ہی کیوں نہ ہو۔ اس لیے کہ فکشن میں اندیشے اور امکانات کا بڑا دخل رہتا ہے۔فکشن میں جیسا کچھ ہے صرف ویسا کچھ نہیں ہوتا بلکہ جیسا ہونا چاہیے یا جیسا ہوسکتا ہے اس کے بلیغ و عمیق اشارے ہوا کرتے ہیں۔اسی لیے کہا جاتا ہے کہ ناول صرف تصویر حیات نہیں ہوتا، تعبیر حیات بلکہ تنقید حیات بھی ہوتا ہے۔اس لیے اس کو اسی زاویہ سے لینا چاہیے۔ مکتبی و نصابی قسم کا ناقد گنتی اور پہاڑے میں ناول کو قید کرنے لگتا ہے اور بھول جاتا ہے کہ ناول میں صرف زندگی کا سکوت نہیں ہوتا بلکہ ارتعاش ہوتا ہے جسے لارنس نے ایتھنزکہا ہے۔ پورا سچ نہیں ہوتا،کبھی کبھی آدھا جھوٹ بھی ہوتا ہے جو سچ سے بھی بڑا ہوتا ہے یا ہو جایا کرتا ہے۔اسی لیے اس کو آج بھی فکشن کہتے ہیں۔ٹینگر کا اپنی بیوی کو سجا کر اپنے ہی تانگے پر بیٹھا کر ایک افسر کے حوالے کرنا آج بھی ناقابل یقین سا لگتا ہے لیکن فکشن یقین دہانی کے لیے نہیں لکھا جاتا ہے بلکہ سماج کی انتہا پر پہنچی ہوئی ستم ظریفی اور بے حسی کے کچھ نازک اشارے ہوتے ہیں جو بے شرمی کی دبازت کے باوجود اپنی نزاکت اور بلاغت کے ساتھ پیش کیے جاتے ہیں اور ایک ماہر ناول نگار کو یہ بھی ملحوظ رکھنا ہے کہ وہ ناول لکھ رہا ہے سماجیات کی کتاب نہیں۔ پریم چند نے بھی کہا تھا۔”انسان فطرتا ًدیوتاؤں کی طرح ہے۔زمانے کے جال و فریب یا حالات سے مجبور ہوکر وہ اپنا تقدس کھو بیٹھتا ہے۔“شمس الرحمن فاروقی نے بھی ایک تازہ مضمون (فکشن کی سچائیاں) میں کہا ہے۔”فکشن کی بنا حقیقت پر نہیں ہوتی۔فکشن کو مبنی بر حقیقت نہیں کہا جاتا کیوں کہ اس میں جو واقعات بیان ہوتے ہیں ان کے بارے میں یہ دعوی نہیں ہوتا کہ وہ حقیقی دنیا میں پیش آ چکے ہیں۔“ اس سفاک اور پیچیدہ حقیقت کو کس طرح سمجھا یا سمجھایا جائے کہ ادب کا تقدس اس کی بے تقدسی اور اس کی عدم پاکیزگی میں پاکیزگی ہے۔جہاں اپنی مری ہوئی بیوی کا کفن بیچ کر شراب پی جاتی ہے۔عصمت کے”دو ہاتھ“میں رام اوتار ناجائز بچے کو اس لیے خوشی خوشی قبول کر لیتا ہے کہ اس کے دو ہاتھ تو ہوں جو ملبہ اٹھانے کے کام آئیں گے۔کم و بیش یہی درد اور احساس ٹینگر کا بھی ہے کہ بچہ کسی کا ہو لیکن اس کے بڑھاپے میں ایک لوٹا پانی تو دے سکے گا۔مادھو،رام اوتار اور ٹینگر کی معصومیت اور مظلومیت میں زیادہ فرق نہیں ہے۔اس کی واضح یہ ہے کہ ان میں باہم قربت ہوتی ہے۔یہاں مسئلہ الگ الگ کرداروں کا نہیں ہے بلکہ اس انسانی نفسیات کا ہے۔انتہا پر پہنچی ہوئی اس کیفیت کا ہے جہاں انسان اور جانور کے درمیان فاصلہ کم سے کم رہ جاتا ہے بلکہ کبھی کبھی تو انسان سے زیادہ جانور رفیق ہو جاتا ہے جیسے ”پوس کی رات“میں ہلکو اور کتا اور اس ناول میں ٹینگر اور شیرا۔جو ناول اس نازک اور پیچیدہ کیفیت کو گرفت میں لے لیتا ہے اس کی تخلیقیت و معنویت دوبالا ہو جاتی ہے۔

صغیر رحمانی کے اس ناول میں اکثر مقام آتے ہیں جہاں یہ کھیل بڑے شاطرانہ انداز میں کھیلے جاتے ہیں اور ہمیشہ سے کھیلے جاتے رہے ہیں۔مُہرے بنتے ہیں مادھو،اوتار،ٹینگر جیسے مجبور اور نادار لوگ۔ اس لیے کہ یہ سب موت نہیں زندگی کے مارے ہوئے ہیں۔بے پڑھے ہیں۔ٹینگر بھی کہتا ہے”آپ تو جانتے ہیں میں لکھ لوڑھا اور پڑھ پتھر ہوں __“ لوڑھا ہونا اتنا نقصان نہیں ہوتا جتنا پتھر ہونا اور ٹینگر پتھر ہو چکا ہے اسی لیے تو اس کا اندھ وشواس اس حد تک پہنچ چکا ہے __”اس کے لیے اوپر ایک بھگوان اور نیچے مالک ہی تو ہیں بلکہ بھگوان بعد میں پہلے اس کے مالک ہیں۔ ایسے مالک کے اشارے پر تو وہ جان بھی قربان کردے گا۔مالک۔مالک او مالک __“بظاہر فرمانی اور قربانی میں جو پتھاس ہے جو اُداسی اور غم زدگی کالہجہ ہے وہ صرف لہجہ نہیں ہے‘ زندگی کا فلسفہ ہے۔ فلسفہئ جبرو قہر __فکشن اسی مقام سے فلسفہ بننے لگتا ہے اور لارنس نے کہا تھا کہ فکشن جب تک فلسفہ نہ بن جائے بڑا فکشن نہیں ہوتا۔ لوکاچ نے بھی ایسی ہی غیر اخلاقی وغیر انسانی کیفیت کے پیش نظر کہاتھا کہ ناول ایک مہا رزمیہ ہے جو خدا کے بغیر ہی فلسفہئ وجود میں آتا ہے اور یہ بھی کہاتھا کہ اس کا ہیرو خوبیوں سے بھرا انسان نہیں بلکہ وہ کمزوریوں سے گھرا ہوتا ہے۔ اس کی کمزوری وبے بسی ہی وہ مضبوطی ہے جو ناول کو مرکز میں لے آتی ہے۔سماج اور تہذیب کے سنگھرش میں جو لوگ حاشیے پر کھڑے ہوتے ہیں ناول میں وہی مرکز میں آجاتے ہیں۔ ناول کا بڑا مقصد ہی انسان کا انسان کے ٹکراؤ کے توسط سے سماج کی تنقید ہواکرتی ہے اس لیے کہ بڑی تخلیق حرف تفریح نہیں ہوا کرتی۔ اس کی تنقید کی مختلف شکلیں اور اشارے ہواکرتے ہیں جہاں اندھ وشواس،روایت پرستی اور جہالت ہوتی ہے جو مری ہوئی بیوی کے پیر میں کیل تک ٹھونکوادیتی ہے تاکہ وہ چڑیل نہ بن جائے۔

بستگیا بہو کی موت اور اس کی چھوٹی بیٹی کا گو د نہ ملنے سے ناول کا ایک نیارخ سامنے آتا ہے۔انکار سے ایک نئی کشمکش شروع ہوتی ہے۔ انتہا پر پہنچی ہوئی کشمکش اسے پھر پنڈت تیواری کے پاس پہنچا دیتی ہے۔پنڈت جی واقعی پنڈت ہیں۔دنیاوی معاملہ میں تو ادھرمی ہیں لیکن سمبھوگ کے معاملہ میں دھرمی۔ باربار کہتے ہیں۔”اپنے کسی کٹمب والے سے اپنا کھیت شدھ کرالے“ تو بلایتی کہتی ہے۔”میرے کٹمب والے سے نہیں ہوگا۔ اوجھا جی نے کہا تھا__کہ کسی بابھن سے……..“جنس چشم کی فطری للک اور ہوس کے پیش نظر اگرچہ دونوں ہی جملوں میں ایک غیر فطری پن محسوس ہوتا ہے لیکن ذات پات کی گہری کھائی اور اس سے زیادہ گہرا احساس رات کی تنہائی میں بھی اُبرنے نہیں دیتا۔یہ ایک دو کردار یاایک دو ماہ وسال کامعاملہ نہیں بلکہ صدیوں کامسئلہ ہے جو جنیوکی طرح پورے برہمن سماج کے گردن میں سانپ کی طرح لپٹا ہے۔بلایتی کے اصرار پر تیواری کی زبان سے جو جملے نکلتے ہیں وہ قابل غور ہیں۔

”ارے تو ٹھہری چرم کی پٹاری۔ تیرے ساتھ سن سرگ کرنے سے جو بوند گرے گی وہ ایک برہمن کی بوند ہوگی نا؟ اور اس سے جو اولاد ہوگی، وہ کیا ہوگی؟ برہمن کی اولاد ہو گی نا؟اگر کنیا ہوئی،وہ کیا ہوگی براہمن پتری نا؟ اس کنیا کا بیاہ تو کرے گی اپنے کسی شودر سے۔ یعنی ایک برہمن کنیا کابھوگ ایک شودر کرے گا۔کرے گانا؟“

کیا سمّسیا ہے،دور رس نظریہ ہے جو جنس کی فطری خواہش اور سمبھوگ سے بالاتر ہوکر ذات پات کے گہرے کنویں  میں ڈوبا ہوا ہے۔جہاں ذات کی بالادستی جنس کی خواہش سے بھی آگے جاکر سماج میں جال پھیلائے ہوئے ہے جسے ناول نگار نے بڑی ہوش مندی اور ہنر مندی کے ساتھ پیش کیا ہے۔ بلایتی کا اصرار اور تیواری کا انکار اگرچہ دونوں غیر فطری سے لگتے ہیں لیکن ناول نگار ان دونوں کے درمیان سے یہ جملہ نکلواتا ہے جب تیواری یہ کہتے ہیں:

”مادر…….میں تم لوگوں کی سازش سمجھتا ہوں۔ سر پر چڑھ کر موتنے لگے ہو۔“

تیواری اُسی بلایتی کو بی۔ ڈی۔ اوکے حوالے کرسکتا ہے محض اپنی دنیا وی ہوس کے لیے لیکن جب وہی بلایتی اس کے پاس آئی تو اسے اپنی مان مریادا،ذات پات اور عزت ومرتبہ کاخیال آتا ہے لیکن وہی عزت دار پنڈت ایک دلت آفیسر کے سامنے ہاتھ جوڑے کھڑے ہیں۔”کرپا ہے حاکم۔دیا ہے حاکم کی“جیسے جملے باربار نکل رہے ہیں۔ ایک برہمن مردہ ہڈی کا کار وبار کرسکتا ہے لیکن زندہ ہڈی کا کلیان نہیں کرسکتا۔ایک خود غرض انسانی گروہ کا یہ کراس (Cross)غور طلب ہے۔یہاں نہ دھرم بھرشٹ ہو رہا ہے اور نہ مان مریادا کو چوٹ پہنچ رہی ہے۔یہ کراس صرف ناول ہی پیش کرسکتا ہے۔ایک عمدہ ناول صرف قصہ خوانی یاسپاٹ بیانی سے بڑا نہیں ہوتا بلکہ حقیقت بیانی اور اس حقیقت میں چھپی پیچیدگی سے بڑا ہوتا ہے۔بشرطیکہ پیچیدگی کو سادگی سے پیش کیا جائے جس کی اعلیٰ ترین مثال تھے پریم چند۔

ناول کے نئے باب میں ٹینگر تانگہ چھوڑ کر تیواری کے ہڈی کے کارو بار میں لگ جاتا ہے۔ دلت سرٹی فیکٹ دلت کے نام کا، کاروبار برہمن کے نام۔ ٹینگر خوش لیکن بے خبر کہ ایک نئے استحصال کاآغاز ہورہا ہے۔ ٹینگر تو یہ سوچ رہا ہے کہ ”سب اپنے ہیں __اپنے جیسے ہیں۔ اپنے بھائی ہیں“لیکن پنڈت جی گرنتھ پڑھ کر یہ سمجھا رہے تھے   ۔

”جنم لیتے ہی براہمن پرتھوی پر شریسٹھ ہے کیوں کہ وہ دھرم کی رکشا کرتاہے اور پرتھوی پر جو کچھ ہے وہ سب کچھ براہمن کاہے۔“

اور یہ بھی لکھتا ہے:

”برہمن کے لیے اُچت ہے کہ وہ شودر کادھن بنا کسی بھئے اور سنکوچ کے لے لے کیوں کہ شودر کا اپناکچھ نہیں ہے۔“

لمحے بھر کے لیے ایک بے نام بے چینی ٹینگر کے دماغ میں ابھری اور اسے بستگیا کے گھر لے گئی اس لیے کہ دکھ سے دکھ کی کاٹ ہوتی ہے۔ ایک طرف یہ صور ت دوسری طرف بلایتی کا تیور کے ساتھ یہ کہنا __”کچھ بھی نہیں، ہمیں بچہ نہیں چاہئے!“

مزاحمت رد عمل کی ایک الگ کہانی بن جاتی ہے۔عور ت ماں بننے کے لیے پہلے ساری گرہیں کھولتی ہے لیکن ناکامی و محرومی نیز ذلت آمیزی سے جو رد عمل ہوتا ہے وہ مردوں سے بھی زیادہ خطرناک ہوتاہے۔نسائی جذبات کی یہ نازک گرہیں ناول نگار نے بڑی ہنر مندی کے ساتھ پیش کی ہیں،کچھ اس انداز سے کہ وہ گراپڑا کمزور کردار ناول کامرکزی کردار بن جاتاہے جیسے دھنیا۔جیسے رانو اور اب بلایتی۔دھنیا اور رانو کی تو اولادیں ہیں لیکن بلایتی بے اولاد ہے اس کی روکھی سوکھی کو کھ پر جب مردانہ ٹھوکر لگتی ہے تو اس کی      ا حمیت جاگ اٹھتی ہے۔غیر یقینی کے سمندر کا اُپھننا، آنگن میں دھوپ کا سرکنا ایسے تخلیقی اشارے ہیں جس سے ناول کی فضا بنتی ہے اور مرکزی خیال کی توسیع بھی ہوتی ہے۔

ادھر دلت حمایتی سرکار ی نظام نے اوپری طبقہ اور سماجی نظام نے نچلے طبقہ کی بے چینی کو بھی ایک کراس (Cross)میں ڈھال دیا۔ یہ کراس کبھی مصلحت بنتا کبھی سیاست کبھی سرگوشی اور کبھی بغاوت __مصنف کا یہ جملہ۔”گرد وغبار پھیلنے لگا“ اپنی اشاریت اور تخلیقیت کے اعتبار سے معنی خیز ہے جس کے پس پردہ ہنگامہ خیزی چھپی ہے۔ چنانچہ سرکاری افسر کی دلتوں کے درمیان غیر مزروعہ زمین کی تقسیم نے گاؤں کے سماج کو دو حصوں میں تقسیم کردیا۔فضا اچانک بدل گئی۔ ایک طرف غصہ اور کھیج تھی تو دوسری طرف خوشی اور جشن کا ماحول تھا۔سماجی نظام کے یہ خارجی عناصر ناول کو آگے بڑھاتے ضرور ہیں لیکن ان میں وہ نفسیاتی گرہیں نہیں دکھائی دیتیں جو باطنی عناصر سے پیدا ہوتی ہیں البتہ ٹینگر کے کردار میں ایک نئی کشمکش پیداہوتی ہے۔ایک طرف اس کی اپنی برادری، دوسری طرف تیواری کی نوکری۔ پھر کچھ یوں ہوتا ہے کہ خارجی دنیا کی سیاست میں پھنس کر ٹینگر جیل چلاجاتا ہے تو جہاں ایک طرف اس کی ذات برادری میں غم وغصہ ہے تو دوسری طرف بلایتی جو اس درمیان غائب سی تھی،اچانک نمو دار ہوتی ہے۔جلسے،مظاہرے اور تفرقے اور ایک لال سنگٹھن غرض یہ کہ سبھی کچھ۔ناول گاؤں سے نکل کر شہر، ٹینگر بلایتی سے نکل کر ذات پات کی گروہی سیاست کے چکر ویو میں پھنس جاتا ہے۔درمیان میں ایسے جملے نکلتے ہیں:

”گریب اور کمجور کا کہیں گجارا نہیں ہے بھائی“

”کوئی کسی کا ادھیکار دینا نہیں چاہتا۔ناجانے دیس کا کاہو گا“

”جب تک دیس کا باگ ڈور گریب اور کمجور کے ہاتھ میں نہیں آئے گا یہ سب اسی طرح کھون چوستا رہے گا“

”ان سبھی پولس والوں کی توند کیوں نکل آتی ہے۔“

تھوڑی دیر کے لیے ناول مثالی عورتوں اور خارجی کیفیتوں میں گڈ مڈ ہوجاتا ہے لیکن یہ تو ہوتا ہی ہے کہ ناول گاؤں سے نکل کر سماج کے کرپٹ سسٹم اور سیاست کے پینچ و خم کی طرف بڑھ جاتا ہے۔ اب اس میں سماجیت اور خارجیت تو آئے گی ہی لیکن یہ بھی ہے کہ اس عمل سے ناول کا سیاق تو بڑا ہوتاہے،مسائل جب بڑے ہوں گے تو احتجاج بھی بڑاہوگااس لیے کہ متاثر ومحروم طبقہ بھی بہت بڑا ہے جو سرکاری اور سامنتی گٹھ جوڑ کا شکار ہے اور جمہوریت وترقی سے محروم ومایوس،اقتدار،انتظامیہ اور اوپری طبقہ کے تثلیثی جنگلی نظام سے عوام کس حد تک مظلوم ومحروم ہیں یہ اردو والوں کا وہ طبقہ سمجھ ہی نہیں سکتا جو رومانی اور گلابی شاعری میں ڈوبا ہوا ہے۔ اب اسے قدرے عدم تحفظ کا احساس تو ہے لیکن اسباب پر غور کرنے کی ضرورت اور ہمت اب بھی نہیں جٹا یا جا رہا ہے۔خیر!یہ الگ بحث ہے __یہ بات بھی غور طلب ہے کہ اس بے سمت احتجاج میں بھی دکھاوا ہے اور جلد بازی بھی۔غرض یہ کہ ناول ایک گاؤں کے چند پُر اثر کرداروں سے نکل کر سماج کے بڑے لیکن بے اثر کرداروں کی طرف بڑھ جاتا ہے جس سے بظاہر وہ کیفیت وہ لطف نہیں رہ جاتا ہے لیکن ناول کا فلک تو بڑا ہوتا ہی ہے۔اس لیے کہ شہر اور دفتر وہ مقامات ہوتے ہیں جہاں کسی بھی ذات کسی بھی طبقہ مذہب کے لوگ سب ایک جیسے تھے۔ برائی کی کوئی اچھائی ہونا ہو لیکن یہ تو ہے کہ برائیاں برے لوگوں کو متحد کردیتی ہیں۔ایک طرف ایک افسر پر یہ جھنجھلاہٹ ہے:

”یہ پھر میرے ہی سر آپڑا___ارے بھائی کیا کروں؟تھانہ کو آپریٹ نہیں کرتا۔میں اکیلے کیا کرسکتا ہوں ___یہ معاملہ کتنا پیچیدہ ہے؟اس زمین پر تم لوگوں کاقبضہ دلوانا معمولی بات نہیں۔یہ لا اینڈ آرڈر کامعاملہ ہے“۔

دوسری طرف دلت عوام میں یہ احساس واضطراب:

ایک تو ہماری جمین نہیں دے رہے ___پرساسن بھی کوئی مدد نہیں کررہا ___اوپر سے اب مار پیٹ ___“

”بس اندھیرا ہی اندھیرا“لوگ دوسرے گاؤں،دوسرے صوبے میں جانے کی سوچنے لگے۔

ٹینگر کی رہائی،اس کی چُپّی جو اداسی میں بدل چکی ہے اور بلایتی بے چینی میں،خارج اور باطن دونوں سطح پر ایک عجیب انتشار واضطراب،یہ سب کچھ ناول کی تخلیقیت کاحصہ بن جاتاہے جو آسا ن کام نہیں اس لیے کہ نازک اور لطیف جذبات و احساسات اور الفاظ نصف سطح پر از خود تخلیقیت پیدا کردیتے ہیں لیکن خارجی سماجی اور کھردرے موضوعات کی پیش کش میں ایسی فکر اور بے چینی بھرنی پڑتی ہے تاکہ تحریر بامعنیٰ،بامقصد لگے اور قاری ہم آہنگ ہوجائے۔پھر بھی کچھ نازک پسند لوگ اس بامقصد معنویت میں بے مقصدیت کی رٹ لگاکر ایسے بڑے ادب کو چھوٹا ادب بنانے میں مصروف رہتے ہیں اور اگر ادب کو نہیں بناپاتے تو ادیب کو تو بناہی دیتے ہیں۔ تنقید اور نقاد کا یہ کارخیر کچھ دنوں تو کافی سرگرم رہا لیکن ان دنوں خاموش ہے۔زمانے کا کرب اور حالات کا جبر انھیں خاموش کیے ہوئے ہے،وہیں صغیر رحمانی کو بولنے اور لکھنے پر مجبور کرتا ہے جب کہ وہ نہ مارکسسٹ ہیں نہ اعلانیہ ترقی پسند ادیب اور نہ ہی انجمن سے وابستگی۔ترقی پسند، حساس اور ذمہ دار ادیب وناول ہونے کے لیے ان سب کی ضرورت نہیں بس ادب کے تئیں سنجیدگی و سپردگی کی ضرورت ہوا کرتی ہے۔ اس انسان اور انسان دوستی کی جو اس کائنات کا مرکز ہے۔اشرف المخلوقات ہے۔لیکن کچھ لوگ اپنے اختیار واقتدار کے لیے دوسروں کوکمزور بے بس کیے رکھتے ہیں لیکن بے بسی اور لاچاری اپنے راستے خود تلاش کرتی ہے جیسا کہ اس ناول میں بھی مزاحمت واحتجاج کا راستہ نکلتا ہے۔ایک جماعت اور ایک لیڈر بھی جو اپنی تقریر میں کہتا ہے:

”سماج میں دو طرح کے لوگ ہوتے ہیں۔اگڑے اور پچھڑے۔ پچھڑوں کو ہمیشہ دبایا جاتا رہے گا،بھائیو __ہمیں اس سامنتی پرورتی کو کچل کر رکھ دینا ہے۔“

ادھر تیواری کی تقریر، ادھر سنگٹھن کے لیڈر کی تقریر۔ درمیان میں کمزور وبھٹکتے ہوئے لوگ جن میں انصاف چاہیے۔ اس لیے کہ زندگی تو انصاف سے چلتی ہے لیکن کچھ لوگ انیائے پسند کرتے ہیں اور المیہ یہ کہ اسی کو نیائے کہتے ہیں۔ٹینگر کو یہ تصادم توپسند نہیں لیکن وہ کرے تو کیا کرے اس کے لیے تو بقول مصنف ”سب طرف اندھیرا ہی اندھیرا ہے“ اور یہ منظر بھی:

”گھر پہنچا تو بلایتی دروازے پر ہی اس کا انتظار کرتی مل گئی۔ اندھیرے میں اس کی بھگ جوگنی جیسی آنکھیں ٹینگر کے چہرے پر پھسلنے لگیں۔ وہ خاموشی سے اندر چلا گیا اور برآمدے کی سیڑھی پر پیر لٹکا کربیٹھ گیا۔ بلایتی اس کے پاس سے گزر کر چولہے تک آئی اور اس کے لیے بھات نکالنے لگی۔ڈھبری کی کالک زدہ لواس کے چہرے پر دائیں بائیں ڈول رہی تھی۔“

ناول کا اگلا باب دونوں فرقوں کی سمجھ اور ناسمجھ،تیاری اور عیاری میں صرف ہوتاہے۔جو قدرے غیر دلچسپ ضرور لگتا ہے لیکن اس علاقہ کایہ ایک بڑا مسئلہ رہا ہے جس کا اظہار طرح طرح سے ہوتا ہے اور جس کا سب سے زیادہ اثر دہائیوں اور صدیوں کی اس مشترکہ تہذیب،رسم ورواج،تیج وتیوہار پر پڑتا ہے جو گاؤں دیہات کی تاریخ اور تہذیب رہی ہے۔ناٹک میں جمنارام کا کردار ادا کرنے سے انکار اور یہ سوال”___آکھر جمنوا ایسے کیسے کہہ سکتا ہے؟یا ایسا کہنے کی اس میں ہمت کہاں سے آئی“؟ لیکن ہمت تو آچکی تھی،لیکن حقیقت یہ بھی تھی:

”اس ٹولے میں سب مجوری کرنے والے ہیں……دن بھر کرلہو کے بیل کی طرح ہڈی کھٹاتے ہیں تو سام کو دو گو روٹی کھاتے ہیں…..کسی کسی کوتو وہ بھی نسیب نہیں ہوتا۔ وہ بے چارے روٹی سبجی کہاں سے لائیں گے؟“

بہت سارے سوال۔خیال اور جلال۔ادھر بھی بے چینی اور ادھر بھی بے چینی۔ظاہر ہے کہ موسم کو تو خراب ہونا ہی تھا۔ ایک طرف مفاد ات اور اختیارات کی جنگ دوسری طرف حیات کی جنگ۔پاپ اور پُنیہ کی جنگ۔ تصادم اور تصادم۔ناول زندگی کے اسی رزمیہ کانام ہے اسی لیے اس کو رزمیہ ہی نہیں مہارزمیہ کہا گیا ہے۔

پنڈت جی کو اقتدار توملا لیکن ساتھ میں بے چینی بھی، اس لیے کہ بلایتی ان کے بیٹے کے ذریعہ حاملہ ہو چکی تھی۔پنڈت اپنی عزت کی بقا کے لیے حمل گروانا چاہتے تھے۔اس عورت کاحمل جس کا ماں بننا زندگی کاایک بہت بڑا خواب تھا۔ لالچ در لالچ لیکن اس کایہ جملہ لاکھوں کی ملکیت پر بھاری تھا___”کھیت بدھار لے کر میں کا کروں گی مالگ، مجھے میری چھاتی میں دودھ چاہیے۔اسے مت چھینئے۔ مت چھینئے۔”اور پھر یہ فیصلہ۔”میں بچہ نہیں گراؤں گی!“ یہاں جذباتی کشمکش اور وہاں بھی جب سنگٹھن اپنے مقصد میں ناکام ہوتا ہے تبھی گاؤں والے کہہ اٹھتے ہیں:

”کرانتی والے….تم کب سے کرانتی کرنے والے ہوگئے……؟کرانتی کا بیسوا کا نتھ ہے جسے کوئی بھی اتارلے___اتنے سالوں میں کھون کھرابا کے علاوہ کوؤن سی کرانتی کر دی ہے تم نے ___کون سا بھلا کردیا ہے تم نے گریبوں کا___تمہاری کرانتی کا راستہ ہی کچھ اور ہے ____چوری چھپے گھات لگا کر کسی کی ہتیا کر دینے کو تم کرانتی کہتے ہو ___“

اور یہ بھی ____        ”کاکروگے __اسے بھی ماردو گے؟جاؤ مارو لیکن ہم لوگ اب اور اس طرح نہیں جی سکتے __ارے کا پھائدا اس ترح جینے کا کہ ناجی رہے ہیں اور نامررہے ہیں ___“

یہ ہے زندگی کا رزمیہ اور یہی ہے المیہ ___جوناکام ہوتا ہے تو اس کی ناکامی میں بھی ایک کہانی ہوتی ہے اگر کوئی تحریک، آندولن، نظریہ وعمل میں کمزور ہو جائے،گمراہ ہوجائے تو اکثر انجام یہی ہوتا ہے لیکن اس کی ناکامی اور گمراہی میں بھی جو غم وغصہ ہے وہ بھی اسی سماج کاحصہ ہے۔لیکن اس کا میابی اور ناکامی کے درمیان مانجھی کا کردار بہر حال متاثرہوتا ہے اور ٹینگر کا کردار یہاں بھی اپنی معصومانہ کشمکش کے اظہار میں متاثر کرتاہے۔کرداروں کی بھیڑ میں ہر کردار کی الگ الگ پیش کش فنکارانہ درک کا مطالبہ کرتی ہے جسے صغیر رحمانی بڑی محنت اور سوجھ بوجھ کے ساتھ پیش کرنے میں کامیاب ہیں جو یہ ثابت کرتا ہے کہ کرداروں اور مکالموں کایہ لوک تنتر آپ کو صرف اور صرف ناول میں ملے گا۔

ناول خاتمہ پر ہے۔بلایتی کانواں مہینہ بھی مکمل ہونے کو ہے۔ناول نے ان کو متوازی طور پر پیش کرکے یہ اشارہ دیا ہے کہ ایک زندگی ختم ہورہی ہے تو دوسری جنم لے رہی ہے۔ان دونوں کے درمیان ایک سیاہ رات باقی ہے اور یہی سیاہی اس ناول کا کلائمکس ہے۔یہ سیاہ رات روشن ہوتی ہے شعاؤں سے۔ آگ کی لپٹوں سے۔گولی بارود سے،جوہونا ہی تھا جس سماج میں انصاف اور مساوات کاخاتمہ ہوجائے وہاں کسی نہ کسی کو شہید ہونا ہی پڑتا ہے لیکن سوال یہ ہے کہ اس شہادت کا کیانام دیاجائے۔دہشت، قتل، جرم یا انتقام۔کیاکیا۔ایسے میں ٹینگر جیسے معصوم انسان اور بلایتی جیسی مجبور عورتیں ظالم کا شکار ہوتی ہیں۔ جس کی زندگی بھر سیوا کی، اس نقطہئ عروج پر پہنچی ہوئی سیوا جو کوئی عزت دار عورت نہیں کرسکتی۔اس کا خاتمہ ان جملوں پر ہوتا ہے:

”مجھے توصرف تجھے ختم کرنا ہے کمینی __سنتان کو جنم دے گی۔ برہمن سنتان کو ___لنکا تباہ کرے گی۔ بانرسینا بنائے گی__؟“

اچھی بات یہ ہوئی کہ ٹینگر نے اپنی بیوی کو بچایا۔کسی طرح بھگاکر ایک محفوظ مقام پر لے گیا۔ ایک شوہر نے اپنی بیوی کو بچایا یہ جانتے ہوئے کہ اس کے پیٹ میں کسی اور کا بچہ ہے اور پنڈت اس لیے مار رہا ہے کہ اس کے پیٹ میں اس کے اپنے بیٹے کابچہ ہے ___بلایتی دردِزہ میں مبتلا ہے پورے سماج کادرد، دردِ زہ میں سمٹ چکا ہے۔درد۔درد۔ درد اور ناول ان جملوں پر ختم ہوتاہے:

”نور کا تڑکا پھیل چکا تھا۔

آسمان کا جنوبی کنارہ سرخی مائل ہونے لگاتھا۔سورج کے طلوع ہونے میں محض چند ساعتوں کی تاخیر تھی۔عین اسی وقت بلایتی نے کیسرملے دودھ کی مانند سرخ اور روئی کے پھاہے جیسے نرم بچے کوجنم دیا۔ ادھر بچے کے پیر زمین پر پڑے،ادھر سورج نے اپنی شعائیں بکھیریں۔ ٹینگر گویا پاگل ہواٹھا۔ زور زور سے پیتل کی تھالی پیٹنے لگا۔

سورج نکل چکا تھا۔

ٹینگر رام پیتل کی تھالی بجارہاتھا اور اس کی آواز ببھن گاؤں کے کانوں تک پہنچ رہی تھی۔“

………………………….

اب یہ آواز پھیل کر پورے ملک کے گاؤں میں پہنچ چکی ہے لیکن یہ بھی ہے کہ ظلم اور ظالم دونوں بڑے شاطر ہوا کرتے ہیں۔ بھیس بدل بدل کر سماج میں داخل ہوتے ہیں۔ طاقت اور اقتدار کی جنگ لڑتے رہتے ہیں۔اسی لیے کہاجاتا ہے کہ زندگی ایک جنگ۔ ہر قدم پر جنگ۔ سیاست کی جنگ۔ اقتدار کی جنگ۔ ذات پات کی جنگ۔ لیکن ان تمام جنگوں کے درمیان کہیں محبت بھی ہے جو ٹینگر کو اپنی بیوی سے ہے۔بیوی کو ہونے والے بچے سے ہے،اپنے گاؤں سے ہے، اپنے ہم وطنوں سے ہے لیکن کچھ لوگوں کو کسی سے محبت نہیں ہے انہیں صرف اپنی ذات سے ہے۔ اپنی اس اونچی ذات کی بلندی قائم رکھنے کے لیے کائنات کو تباہ کرنے کے لیے تیار ہیں۔ افسوس کہ آج کی سیاست،اقتدار، انتظامیہ وغیرہ ان کی ہی حمایت میں کھڑے نظر آتے ہیں۔ اسی لیے غلط یا صحیح سنگٹھن بنتے ہیں۔ احتجاج ہوتے ہیں جواب قتل وخون میں تبدیل ہوتے ہیں لیکن انقلاب کہیں نہیں ہوتا۔شاید بلایتی کا بچہ انقلاب لائے۔ نئی نسل کو سمجھ آئے۔ یہ دعا،یہ خواہش اس لیے کہ اکیسویں صدی بغیر کسی منصوبہ اور تحریک کے گزر رہاہے۔ایسی صورت میں ناول ہی ہے جو ہمیں کچھ نہ کچھ سوچنے پر مجبور کرتا ہے اور ناول بھی وہ جس میں عوام کی آواز سنائی دے، ان کی جدوجہد دکھائی دے۔ عالم کار ی کا سب سے بڑا اثر ہماری مقامیت اور مقامی ثقافت پر پڑا ہے،رشتوں پر پڑا ہے۔انسان کی پہچان ختم ہوتی جا رہی ہے۔ناول کی بڑی خوبی یہ ہوتی ہے کہ وہ مقامیت میں جنم لے اور آفاق میں چھلانگ لگا دے جیسے ’جنگ و امن‘۔جیسے ’گؤ دان‘ وغیرہ۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ صغیر رحمانی کا یہ ناول اسی پایے کا ہے لیکن ایک بڑی سماجی سوچ کا ناول تو ہے ہی جسے ناول نگار کے گہرے مشاہدے،کردار نگاری، مکالمہ نگاری، منظر نگاری وغیرہ کی خصوصیات نے عمدہناول تو بنا ہی دیا ہے۔ اکثر ایسے سجے ہوئے مناظر اور سدھے ہوئے جملے نکلتے ہیں جو قاری کا دل جیتتے ہیں اور ناول کو با معنی اور پر اثر بناتے ہیں۔ مثلاً۔

”وہ منھ اور پیٹ لے کر آئے گا تو دو گوہاتھ بھی تو لے کرآئے گا۔اوپر والا سب کا انتجام کیے ہوا ہے۔“

”براہمن پتر خواہ سارے عیبوں سے بھرا ہومگر سماج میں اس کا مقام دیوتا کاہی ہوتا ہے۔“

”آ پ تو جانتے ہیں میں لکھ لوڑھا پڑھ پتھر ہوں“

جو ر جبردستی سے اجّت اور مان نہیں ملتا۔ اجّت اور مان دینے سے ہی اجت اور مان ملتاہے۔“    وغیرہ

اس طرح کے تجربوں سے بھرے بلکہ عوامی سطح کی زندگی سے بھرے جملوں سے ناول بھر اپڑا ہے۔گاؤں کے مناظر کھیت، باغ،نہر، اوسارا،جھونپڑی اور اسی سے متعلق ثقافتی لوازمات کاخاص التزام رکھا گیا ہے جو ناول نگار کے گہرے مشاہدے کی وکالت کرتا ہے۔بعض مناظر معطر ہیں تو بعض مکروہ بھی لیکن ناول نگار نے بڑی جسارت کے ساتھ ان سب کے ساتھ انصاف کیا ہے جس سے ناول سماجی حقیقت اور تخلیقی بصیرت کا خوبصورت پیکر بن گیاہے۔یہ ایک زمینی لیکن تلخ موضوع پر لکھا گیا کامیاب ناول ہے لیکن مجھے معلوم ہے کہ اردو کے معیار پر ست قاری اور جدیدیت کے معیار پسند ناقدوں کو پسند نہیں آئے گا لیکن ان کی محدود پسند سے

لامحدود قرأت کو کوئی فرق نہیں پڑے گا کہ ناول اپنے قارئین سے زندہ ہوتا ہے،ناقدین سے نہیں۔ آج کی ملکی سیاست، ذات پات کی عصبیت، بدلتے ہوئے انسان اور انسانی اقدار کو سمجھنا ہے تو اس ناول کا پڑھنا لازمی ہے اور اس کا نہ پڑھنا بے خبری اور کم نصیبی اور پڑھ کر خاموش رہنا ایک مجرمانہ خاموشی جسے آج کا ادب معاف نہیں کرے گا۔

 

 

 

 

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

adabi meerasadabi miraasadabi mirasادبی میراثتخم خوںصغیر رحمانیعلی احمد فاطمی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
فکشن تنقید کا سپہ سالار: وارث علوی – ڈاکٹر آس محمد صدیقی
اگلی پوسٹ
سلطنت ادب کا سلیمان :سید سلیمان ندوی – ڈاکٹر فاروق اعظم قاسمی

یہ بھی پڑھیں

ناول ’آنکھ جو سوچتی ہے‘ ایک مبسوط جائزہ...

نومبر 17, 2024

ناول ”مراۃ العُروس “ایک مطالعہ – عمیرؔ یاسرشاہین

جولائی 25, 2024

ڈاکٹر عثمان غنی رعٓد کے ناول "چراغ ساز”...

جون 2, 2024

گرگِ شب : پیش منظر کی کہی سے...

اپریل 7, 2024

حنا جمشید کے ناول ’’ہری یوپیا‘‘  کا تاریخی...

مارچ 12, 2024

طاہرہ اقبال کے ناول ” ہڑپا “ کا...

جنوری 28, 2024

انواسی :انیسویں صدی کے آخری نصف کی کہانی...

جنوری 21, 2024

مرزا اطہر بیگ کے ناولوں کا تعارفی مطالعہ...

دسمبر 10, 2023

اردو ناول: فنی ابعاد و جزئیات – امتیاز...

دسمبر 4, 2023

نئی صدی کے ناولوں میں فکری جہتیں –...

اکتوبر 16, 2023

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں