Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تنقید اور عملی تنقید – سید احتشام حسین

      مئی 20, 2026

      تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
غزل شناسی

وحیدالہ آبادی کی شاعری میں تصوف – مہر فاطمہ

by adbimiras اگست 15, 2020
by adbimiras اگست 15, 2020 0 comment

 

 

وحید الہ آبادی اردو کے واحد ایسے شاعر ہیں جنھوں نے اپنے دیوان کی حفاظت کے لیے اپنی جان کا نذرانہ پیش کرکے عظمت سخن کا نیا باب رقم کیا۔انھوں نے اپنے کلام کو بچانے کے لیے موت کو گلے لگالیا، دیوان تو محفوظ رہا لیکن صاحب دیوان نہ رہا۔ بقول مصحفی:

 

دنیا سے ہم چلے گئے ناچار مصحفی

ایک یادگار اپنا دیوان رہ گیا

وحید الہ آبادی انیسویں صدی کے اس سنہرے دور سے تعلق رکھتے ہیں جس میں با کمال اور استاد شعرا کی ایک کہکشاں موجود تھی مثلاً شاہ نصیر، ناسخ،آتش،ذوق،غالب،مومن،ظفر اور داغ وغیرہ۔جہاں یہ شعرا اردو غزل کو اپنی مشاقی، تخیل اور شاعرانہ صلاحیت سے چارچاندلگا رہے تھے وہیں وحید الہ آبادی کا نام شہرت کی بلندی کو چھو رہا تھا۔وحید الہ آبادی نے ابتدا  میں مرزا حیدر علی آتش اور بعد میں بشیرعلی بشیر سے مشورہ سخن کیا۔   وحید الہ آبادی خو د بھی کثیرالتلامذہ استاد فن تھے۔اکبر الہ آبادی نے بھی ان سے ہی اصلاح لی:

 

استادی وحید میں جس کو کلام ہو

تیار اس سے بحث کو اکبر ہے آج کل

وحید الہ آبادی کی غزلوں کے مطالعے سے یہ بات سامنے آتی ہے کہ ان کے موضوعات روایتی تو ہیں لیکن اس میں خاصا تنوع ہے۔ان کے غالب موضوعات میں حسن و عشق کی باتیں، معشوق کے جور و ستم اور معشوق کا سراپا وغیرہ خاص ہیں۔ اس کے علاوہ تصوف، زندگی کی بے ثباتی، سفر، حب الوطنی، ہنگامہئ غدر، وحشت اور خمریات وغیرہ سے متعلق اشعار بھی ان کے کلام میں وافر تعداد میں موجود ہیں۔ظاہر ہے،یہ روایتی موضوعات ہیں،لیکن انھیں وحید الہٰ آبادی نے جس خوبی اور تازگی کے ساتھ بیان کیا ہے، اسے دیکھ کر یہی کہنا پڑتا ہے کہ وہ غیرمعمولی خلاقانہ صلاحیت کے مالک تھے۔ ان موضوعات کو انھوں نے بخوبی نبھایا بھی ہے اور ہر جگہ قادر الکلامی کا ثبوت بھی دیا ہے۔

صنف غزل صرف حسن وعشق اور ان کے معاملات وکیفیات کی ترجمانی ہی تک محدود نہیں رہی ہے، بلکہ اس میں دیگرموضوعات بھی شامل رہے ہیں۔ ان میں سے ایک اہم موضوع تصوف ہے۔ تصوف کی اگر تعریف کی جائے تویہ کہاجاسکتاہے کہ تصوف ایک نظام حیات ہے جو انسانی قلوب واذہان کو دنیاوی آلائشوں سے پاک کرکے اخوت ومحبت اورعمل و رواداری کو جنم دیتا ہے۔دوسرے لفظوں میں تصوف تزکیہئ نفس اور باطنی تطہیر کانام ہے۔ چونکہ تصوف کا بنیادی مقصد تزکیہ نفس اور قرب خداوندی ہے۔ چنانچہ یہ ہر زمانے میں کسی نہ کسی شکل میں موجود رہا ہے۔ تصوف کو کسی نے افلاطونیت سے ماخوذ بتایا تو کسی نے بدھ مت سے۔ کسی نے یونانی فلسفہ کو اس کی بنیاد قرار دیا تو کسی نے اسے رہبانیت کا پیش خیمہ بتایا اور کسی نے اسلام کو اس کا سرچشمہ قرار دیا۔ اس سے قطع نظر دنیا کے تمام مذاہب نے اس کو اپنے اپنے طور پر اپنایا اورانسان کو اخوت ومحبت اورعمل ورواداری کا درس دیا اور قلب ونظر کی آلودگی سے پاک کرکے بندے کو خدا سے ملایا۔ ( یہ بھی پڑھیں ذوق کی قصیدہ نگاری – امیر حمزہ  )

عربی وفارسی میں تصوف کی ایک عظیم روایت رہی ہے۔ تصور عشق نے فنا وبقا، تسلیم ورضا، صبر وشکر، ہجر ووصال کو معنویت بخشی۔ فارسی شعرا نے تصوف کو اپنا موضوع سخن بنایا۔ فارسی کے پہلے شاعر سعید ابوالخیر سے لے کر سنائی، اوحدی، عطار، رومی، سعدی اور حافظ جیسے عظیم المرتبت شعرا نے ایک صحت مند روایت کی بنیاد ڈالی۔فارسی شاعری نے مئے تصوف کو دو آتشہ بنادیا۔فارسی کے زیر اثر اردو شاعر ی کی ابتداسے ہی تصوف شاعری کا اہم موضوع رہا۔ صنف غزل میں تصوف نے موضوعات کا تنوع اور خیال کی رنگا رنگی پیدا کی۔اس کو گہرائی اور سنجیدگی سے آشنا کیا۔ رفتہ رفتہ تصوف کے مختلف مسائل اردو غزل کا اہم جز و بن گئے۔ تصوف کے مسائل کی ترجمانی غزل میں نئی زندگی پیدا کرتی گئی۔ اس کے سہارے اس میں نئی امنگوں اور ولولوں کے چراغ روشن ہوئے اور تصوف کے متعلق کہاگیا کہ ”برائے شعر گفتن خوب است“۔ یہ کہنا کہ برائے شعر گفتن خوب است کہیں سے بھی غلط نہیں۔ تصوف نے غزل کی صحیح فنی اور جمالیاتی اہمیت ذہن نشین کرائی اور اس میں اپنے آپ کو پانے، اپنی حیثیت کو پہچاننے اور اپنے قدموں پر کھڑے ہونے کا احساس وشعور پیدا کیا۔ اس نے غزل کی صنف کو حیات وکائنات کے مسائل سے آشنا کیا اور اس طرح اس میں ایک فلسفیانہ مزاج پیدا ہوا۔ چنانچہ ابتدا سے آج تک غزل کے ہر شاعر نے کسی نہ کسی حد تک اس کو اپنا موضوع بنایا۔ مثلاً ابتدا سے دیکھیں:

ولیؔ جن کو اردو شاعری کا ”باوا آدم“کہاجاتاہے۔ ان کی شاعری کا غالب رجحان تصوف نہ سہی مگر ایک اہم رجحان ضرور ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی شاعری میں تصوف کی وہ تمام روایتیں موجود ہیں جن کی کڑیاں فارسی کے متصوفانہ اشعار سے جاملتی ہیں:

 

تجھ حسنِ عالم تاب کا جو عاشق وشیدا ہوا

ہر خوبرو کے حسن کے جلوے سوں بے وا ہوا

 

ہرذرہ عالم میں ہے خورشید حقیقی

یوں بوجھ کر بلبل ہوں ہر ایک غنچہ دہاں کا

 

مسند گل منزل شبنم ہوئی

دیکھ رتبہ دیدہئ بیدار کا

 

ولی عشق مجازی کو عشق حقیقی کا اول زینہ قرار دیتے ہیں:

 

شغل بہتر ہے عشق بازی کا

کیا حقیقی و کیا مجازی کا

 

ولی کے ہم عصر سراج اورنگ آبادی کے یہاں تصوف سے زیادہ گہرا رنگ نظر آتا ہے۔ سراج کے نہاں خانہ دل میں جو ہنگامہ برپا تھا وہی عشق و سرمستی کا بے قرار نغمہ بن کر ان کی شاعری میں ظاہر ہوا۔ جذب وسرمستی کے عالم میں جو راگ الاپا وہ نغمۂ سرمدی بن گیا:

 

خبر تحیر عشق سن نہ جنوں رہا نہ پری رہی

نہ تو تو رہا نہ تو میں رہا جو رہی سو بے خبری رہی

 

شہ بے خودی نے عطا کیا مجھے اب لباس برہنگی

نہ خرد کی بخیہ گری رہی نہ جنوں کی پردہ دری رہی

 

میر کے بارے میں یہ تو نہیں کہاجاسکتا کہ وہ صوفیوں ے زیادہ قریب تھے لیکن یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ میرؔ کے یہاں بھی متصوفانہ خیالات بہ کثرت ملتے ہیں۔ ان کی شاعری میں درد وغم، رنج والم اور عشق ومحبت کا ذخیرہ ہے۔ ان کو عشق کے سوا کچھ نظر نہیں آتا:

 

عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو

سارے عالم میں بھر گیا ہے عشق

میرؔ کی شاعری کے حوالے سے ڈاکٹر عبادت بریلوی لکھتے ہیں:

میر کے احساس کی شدت اور اس کے ساتھ گہرے انسانی شعور نے ان میں ایک آفاقی اور کائناتی رنگ پیدا کردیا ہے۔ اس لیے ان کا اثر ہمہ گیر ولازوال ہے، عشق وعاشقی کی مختلف کیفیات اور جذبات واحساسات کی ترجمانی کے ساتھ ساتھ میرؔ کی غزل میں تصوف اوراس کے مسائل کی ترجمانی بھی کم نہیں ہے۔

(غزل اور مطالعہ غزل،عبادت بریلوی،ص273)

چند شعر   ؎

تھا مستعار حسن سے اس کے جو نور تھا

خورشید میں بھی اس ہی کا ذرہ ظہور تھا

 

اس کے فروغ حسن سے جھمکے ہے سب میں نور

شمع حرم ہو یا کہ دیا سومنات کا

 

تھا وہ تو رشک بہشتی ہمیں میں میرؔ

سمجھے نہ ہم تو فہم کا اپنی قصور تھا

 

دل پر خوں کی اک گلابی سے

عمر بھر ہم رہے شرابی سے

خواجہ میر دردؔ متصوفانہ شاعری کی اس روایت کے امین ہیں جو فارسی شاعر عطار، رومی اورجامی کے ذریعہ اردو میں منتقل ہوئی۔ شاعری دردؔ کے نزدیک ذریعہ معاش تھی نہ باعث عزت، بلکہ دلی جذبات وکیفیات کا برملا اظہار شاعری کا سبب بنا۔

درد نے جس طرح مضامین معرفت وسلوک وتصوف کو شاعری میں سمویا اس کی مثال اردو شاعری میں تو کم سے کم نہیں مل سکتی۔

(خواجہ میر درد تصوف اور شاعری،وحید اختر،ص229)

یہ قول مبالغہ آمیز ضرور ہے لیکن کسی حد تک صحیح بھی ہے۔ دردؔ نے عام لفظوں اور سادہ انداز میں تصوف کے پیچیدہ سے پیچیدہ مسائل کو بہ آسانی سمودیا ہے  ؎

 

ارض و سما کہاں تری وسعت کو پاسکے

میرا ہی دل ہے وہ کہ جہاں تو سماسکے

 

غافل خدا کی یاد پہ مت بھول زینہار

اپنے تئیں بھلا دے اگر تو بھلا سکے

 

غالب کے یہاں مسائل تصوف کو جس قدر فلسفیانہ رنگ میں پیش کیاگیا اس کی مثال اردو شاعری میں نایاب ہے۔ غالب کی  بادہ خواری نے انھیں ولی بننے سے باز رکھا۔ کہتے ہیں:

 

یہ مسائل تصوف یہ ترا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

غالب مسائل تصوف کو قرآن وحدیث کی روشنی میں دیکھتے ہیں   ؎

 

دہر جز جلوۂ یکتائی معشوق نہیں

ہم کہاں ہوتے اگر حسن نہ ہوتا خود بیں

بلاشبہ کلام غالب میں جو معنویت اور تہہ داری ہے وہ کسی اور کے یہاں موجود نہیں۔غالب کے یہاں متصوفانہ مباحث کو دیکھتے ہوئے بعض نے انھیں صوفی ثابت کرنے کی بھی کوشش کی ہے۔ مصطفی صابری لکھتے ہیں:

غالبؔ کے صوفیانہ اشعار فی ا لحقیقت گنجینہ معنی کا طلسم ہیں۔

(غالب اور تصوف،سید محمدمصطفی صابری،ص12)

اشعار دیکھیے:

کثرت آرائی وحدت ہے پرستاری وہم

کردیا کافر ان اصنام خیالی نے مجھے

 

جب کہ تجھ بن نہیں کوئی موجود

پھر یہ ہنگامہ اے خدا کیا ہے

خواجہ حیدر علی آتش نے لکھنؤ کی رنگین فضا میں رہ کر بھی صوفیانہ زندگی بسر کی۔ آتش کو تصوف سے قلبی لگاؤ تھا اور صاحب حال صوفی تھے۔ کلام میں جگہ جگہ تصوف کے مسائل کو بڑی خوبصورتی سے پرویا ہے:

کون عالم میں ہے ایسا جو نہیں سر بسجود

کس کی گردن کو جھکاتا نہیں احساس ترا

 

ماسوا تیرے نہیں رہنے کو کچھ یاں باقی

جو ہے فانی ہے تیری ذات الا باقی

وحید الہٰ آبادی کا کلام دیکھنے کے بعد یہ اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے یہاں دو قسم کے رنگ زیادہ غالب ہیں۔ ایک صوفیانہ اور دوسرا عاشقانہ، وحیدؔ الہٰ آبادی کو آتشؔ سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ وحیدؔ کو ناقدین نے سلسلۂ آتش کی اہم کڑی قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر ابوسعید نورالدین لکھتے ہیں:

سادگی اور صفائی، جو آتش اور سلسلہئ آتش کی خاص خصوصیت ہے، وہ  وحید الہٰ آبادی کے کلام کا بھی جوہر ہے اس لیے وحید الہ آبادی کو سلسلہئ آتش کی ایک اہم اورنمایاں کڑی تسلیم کرنا چاہیے۔

(مضمون:وحید الہ آبادی ایک تعارف،ابو سعید نوروالدین،مشمولہ: وحید العصر حضرت وحید الہ آبادی، ص165)

وحید صوفی منش اور نہایت متقی پرہیز گا ر شخص تھے۔ جیسا کہ پہلے  ذکر ہو چکا ہے کہ وہ ایک بزرگ سے بیعت بھی تھے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے کلام میں تصوف کے تمام مسائل واشگاف نظر آتے ہیں۔نثار احمد فاروقی کچھ اس طرح اظہار خیال کرتے ہیں:

وحید کی شاعری مصحفیؔ کے رنگ میں درد واثر سے خالی نہیں اور ان کی اندرونی کیفیات واحساسات کا آئینہ ہے۔ مصحفیؔ کے طرز کی یہ خصوصیت کہ اس میں ایک داخلی فضا رچی ہوئی اور لہجے کی متانت بھی غیر متوازن نہیں ہوتی، وحیدکی شاعری میں بھی نمایاں ہے۔ وحیدپر تصوف کا بھی غلبہ ہے وہ ایک درد مند دل رکھتے تھے اور صاحب حال بزرگ تھے۔ ان کی شاعری میں جگہ جگہ حقیقت کے جلوے بکھرے ہوئے ہیں۔

(مضمون:وحید الہ آبادی،نثار احمد فاروقی،مشمولہ:آج کل، مارچ1957)

اسی طرف اشارہ کرتے ہوئے افسر امروہوی رقمطراز ہیں:

اردو شعرا میں بہت کم ایسے ہیں جن کے کلام میں تصوف کا گہرا رنگ موجود نہ ہو، خصوصاً وہ بزرگ جن کو مبدا ء فیض سے چشم بینا ودل بیدار عطا ہوا ہے، ہرذرے میں آفتاب اور ہر قطرے میں دریا کا تماشا دیکھتے ہیں۔ ان کی نگاہ میں تمام ظاہر علوم جو صورتاً مختلف ومتبائن نظر آتے ہیں درحقیقت ان کا سر چشمہ ایک ہی ہے۔ وحید نے اس مسئلے کو بڑے ہی سلیس اندازمیں بیان ہے۔

وحیدالہٰ آبادی کی شاعری معرفت سے بھرپور ہے۔ ان کے اشعار میں عشق حقیقی کی چاشنی موجود ہے۔  بیشتر اشعار میں تصوف کے معاملات کو بیان کیاگیا ہے۔مثالیں دیکھیے:

ہر جگہ جب وہی ہے خود موجود

پوچھنا کیا ہے اور کہنا کیا

سب خودی کے لیے ہیں اتنے حجاب

بے خودوں سے ہے اس کو پردہ کیا

ان اشعار سے اندازہ ہوتا ہے کہ وحیدا لہ آبادی تصوف کے عقیدہئ”وحدت الوجود“ کی طرف مائل تھے جو عام طور پر فارسی اور اردو شاعری میں مروج رہا ہے۔ وحدت الوجود کے ماننے والوں کا نظریہ ہے کہ ہر شے میں خدا ہی کاجلوہ ہے اور وہ ہر شے میں جاری وساری اور ہر شے پر حاوی ہے۔ وہ ذرہ ذرہ میں جلوہ نما ہے ظاہر میں بھی اور باطن میں بھی۔ رنگ، بو اور نور کی شکل میں وہی اور صرف وہی ہے۔ اس کاظہور مکان میں بھی ہے اورلامکان میں بھی۔ وحیدکو ہر شے مظہر ذات خداوندی نظرآتی ہے  ؎

یہ آئینہ خانہ ہے کس کا کہتے ہیں جسے سب لوگ جہاں

آتا ہے نظر ہر سمت وہی ہوتا ہے جو معلوم ایک طرف

وحید الہ آبادی کے یہاں متعدد ایسی غزلیں ہیں جن میں تسلسل مضمون پایاجاتا ہے۔ ان میں سے بعض تصوف کے رنگ میں ہیں مثلاً:

ترا طرۂ  مشک سا بھی ہمیں ہیں

تری نگہت جانفزا بھی ہمیں ہیں

 

یہ دل بھی ہمیں دلربا بھی ہمیں ہیں

نگہ بھی ہمیں ہیں ادا بھی ہمیں ہیں

یہ غزل تصوف کے رنگ میں ہے۔ اس میں نہایت خوبصورتی کے ساتھ سادہ اور سلیس انداز میں اس کی ترجمانی کی گئی ہے۔ پوری غزل ایک بے خودی کی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہے۔ جگہ جگہ ایسے اشعار مل جاتے ہیں۔

پاتا ہوں اسی کا میں نشاں دل میں بھی اپنے

جس نور سے دیر وحرم آباد ہوئے ہیں

 

راستہ اس نے اپنے گھر کا وحیدؔ

سچ ہے ہر رہگزر میں رکھا تھا

خودی کی تلاش اور محبوب حقیقی کو خود میں پالینے کا درس یوں دیتے ہیں    ؎

اسے تو آپ ہی میں ڈھونڈھ اگر اے دل طلب ہے کچھ

اسی انساں میں سب کچھ تھا اسی انساں میں سب کچھ ہے

آگے کہتے ہیں  ؎

لیے پھرتی تھی جب دیر وحرم میں دل کی بے تابی

تجھی کو ہر جگہ پر جلوہ فرما دیکھتے تھے ہم

اصغر گونڈوی بھی شراب معرفت سے سرشار تھے۔ ان کے نزدیک ماسوا کی کوئی اہمیت نہیں تھی   ؎

جو نقش ہے ہستی کا دھوکا نظر آتا ہے

پردے پہ مصور ہی تنہا نظر آتا ہے

جبکہ وحید کو ہر شئے میں مظہر ذات خداوندی ہی نظر آتا ہے  ؎

یہ آئینہ خانہ ہے کس کا کہتے ہیں جسے سب لوگ جہاں

آتا ہے نظر ہر سمت وہی ہوتا ہے جو معلوم ایک طرف

یا

رنگ و نقاش ہی ہر جا نظر آیا آخر

نقش اول ہی نے ہر نقش مٹایا آخر

اس طرح وحیدالہٰ آبادی کے کلام میں جگہ جگہ تصوف کی چاشنی موجود ہے اور شراب معرفت کی سرشاری اس طرح بیان کرتے ہیں:

وہ جام ہوں کہ لبالب شراب عشق سے ہوں

وہ شیشہ ہوں کہ مئے شوق سے بھرا ہوں میں

وحیدالہٰ آبادی پر آج تک جتنا بھی لکھاگیا ہے اس میں اس طرف ضرور اشارہ ہے کہ وہ صوفی منش آدمی تھے جس کی وجہ سے ان کے یہاں تصوف کا غلبہ ہے۔ کلام کے مطالعے سے یہ بات بالکل صحیح ثابت ہوتی ہے۔ خود کہتے ہیں:

 

نظر نہ جائے گی اب اپنی ماسوا کی طرف

خراب ہوکے بہت آئے ہیں خدا کی طرف

 

 

 

 

 

 

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

 

تصوفمہر فاطمہوحیدوحید الہ آبادی
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
رسائل اورخواتین کی خدمات-مہرین قادر حسین
اگلی پوسٹ
اردو شاعری کی ماہِ تمام: پروین شاکر-نایاب حسن

یہ بھی پڑھیں

برگِ سخن کی بات ہے دل تھام لیجیے...

جنوری 31, 2026

نوجوان شعراء کی نئی نسل: سفر، سفیر اور...

اکتوبر 11, 2025

صاحب ذوق قاری اور شعر کی سمجھ –...

مئی 5, 2025

 ایک اسلوب ساز شاعر اور نثر نگار شمیم...

جنوری 20, 2025

حسرت کی سیاسی شاعری – پروفیسر شمیم حنفی

جنوری 15, 2025

غالب اور تشکیک – باقر مہدی

جنوری 15, 2025

غالب: شخصیت اور شاعری: نئے مطالعے کے امکانات...

دسمبر 17, 2024

غالب اور جدید فکر – پروفیسر شمیم حنفی

دسمبر 9, 2024

اردو شاعری میں تصوف کی روایت – آل...

دسمبر 5, 2024

غالب کی شاعری کی معنویت – آل احمد...

دسمبر 5, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (120)
  • تخلیقی ادب (596)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (20)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,048)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (537)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (219)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (406)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (217)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (25)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں