کثیرآبادی والی و کثیر جہتی ریاست مہاراشٹر جہاں ہمہ وقت گہما گہمی کا سماں ہوتا ہے ۔ ایسی پر رونق ریاست جو بہار یاراں سے زرخیز ہے جہاں انسانوں کا امڈتا سیلاب اس بات کا تاثر دیتا ہے کہ دراصل یہی انسانی آماجگاہ ہے۔ جہاں ایک طرف مفلس باشندے راتوں کی نیند قربان کرکے کسب معاش کر رہے ہوتے ہیں تو دوسری جانب عیش پرست طبقہ یا تو رنگ رلیوں میں مصروف نظر آتا ہے یا خواب خرگوش کے مزے لے رہا ہوتا ہے۔
مگر کبھی کبھی اسی انسانی زندگی میں ویرانی کا دلسوز منظر دلوں کو چھلنی کر دیتا ہے۔
ایسے ہی اسی دلکش ریاست کے شہر آکولہ کی مسجد ابو تراب کے امام کا ویڈیو 9 جون 2021 کو وائرل ہوتا ہے تو دل کو ایک ٹھیس پہنچتی ہے اور طبیعت مضمحل ہو جاتی ہے اور بے اختیار نظروں کے سامنے عذاب الٰہی کے مناظر گردش کرنے لگتے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ امام مسجد جب فجر میں مسجد کو جاتے ہیں جہاں باجماعت نماز کا وقت 5:20 کا ہوتا ہے مگر 5:21 تک امام مسجد کے سوا اللہ کا کوئی بندہ وہاں نہیں پہنچتا جس پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے امام مسجد ویڈیو کلپ جاری کرتے ہیں اور امت مسلمہ کو خواب غفلت سے بیدار ہونے کی اپیل کرتے ہیں۔
یہ دردناک ماحول امت مسلمہ کے لئے ایک جھنجھوڑتا ہوا سبق ہے ۔ کیونکہ نماز ہی وہ پہلی عبادت ہے جس پر دین اسلام کی بنیاد قائم ہے۔ وہ نماز جو بندہ اور معبود کے مابین براہ راست تعلق کی راہ ہموار کرتی ہے۔ وہ نماز جو فحش و منکرات سے دور رکھتی ہے۔ وہ نماز جو نصرت الٰہی کی سبیل پیدا کرتی ہے ۔ وہ نماز جو امت کے درمیان اتحاد و اتفاق کی راہ کھولتی ہے۔ وہ نماز جو خوف میں قلبی سکون کا باعث بنتی ہے۔ وہ نماز جو آقائے نامدار صلی اللہ علیہ وسلم کے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ۔ وہ نماز جو دلوں سے کدورت و منافقت دور کرتی ہے۔ وہ نماز جس کے ذکر سے قرآن کریم مزین ہے ۔ وہ نماز جو جنت کی کنجی ہے۔ وہ نماز جو انسانیت کی معراج ہے۔ وہ نماز جو میزان قیامت میں سب سے پہلے تولی جائے گی۔ وہ نماز جو انسان کے لئے رب کریم کا عظیم ترین تحفہ ہے۔ وہ طلوع فجر کا وقت جب رحمت خداوندی پوری آب و تاب کے ساتھ سایہ فگن ہوتی ہے۔ وہ بابرکت وقت جو رزق کے دروازے کھولتا ہے۔
نماز کی فرضیت اور اس عظیم الشان فضیلت کے باوجود اگر امت مسلمہ خواب غفلت میں پڑی ہوئی ہے تو اس کے لئے عبرت کا مقام ہے ۔ کیونکہ یہی وہ نازک وقت ہوتا ہے جو انسانی کشتی کو طوفانوں کی نذر کردیتا ہے۔ کیا ہم رب کریم کے اس فرمان کو بھول گئے ” افامن اھل القریٰ ان یاتیھم باسنا بیاتاً و ھم نائمون۔ او امن اھل القریٰ ان یاتیھم باسنا ضحی و ھم یلعبون افامنوا مکر اﷲ فلا یامن مکراﷲ الا القوم الخاسرون (الاعراف: ٩٧۔ ٩٩)
(پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آجائے گی جبکہ وہ سوئے پڑے ہوں؟ یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جبکہ وہ کھیل رہے ہوں؟ کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو).
وما اصابکم من مصیبة فبما کسبت ایدیکم ویعفو عن کثیر (الشوریٰ:٨٠)
(تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے تو وہ ویسے ہی درگزر کر جاتا ہے).
ولو ان اھل القری امنوا واتقوا لفتحنا علیھم برکات من السماءوالارض ولکن کذبوا فاخذناھم بما کانوا یکسبون (الاعراف:٩٦)
(اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہٰذا اس بری کمائی کے حساب میں جو وہ سمیٹ رہے تھے ہم نے انہیں پکڑ لیا).
تاریخ شاہد رہی ہے کہ کسی بھی قوم کے عروج کا سورج اسی وقت غروب ہوا جب قوم خواب خرگوش کے مزے لینے میں مصروف تھی کہ یکایک عذاب الٰہی کی چنگاری اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔ چنانچہ قرآن میں قوم عاد و ثمود ، قوم نوح اور قوم لوط وغیرہ کی تباہی کے واقعات بھرے پڑے ہیں۔ مگر افسوس کہ ہم ان خدائی احکامات سے منھ موڑے دنیا کی عیش پرستی میں ڈوبے ہوئے ہیں گویا ہمارے دلوں پر باطل کی مہر لگی ہوئی ہے۔ ایسے ہی لوگوں کے لیے قرآن کا فرمان ہے :” کلا بل ران علی قلوبھم ما کانوا یکسبون ".( المطففین: 14)
( ہرگز نہیں، بلکہ ان کے دلوں پر ان کے باطل اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا ہے)۔
خدائے برتر جگہ جگہ اس بات سے آگاہ کرتا ہے کہ لوگ اپنے اعمال کی وجہ سے اللہ کی جو نعمت اور عافیت ان کو حاصل ہے اس کے پھر جانے کا سبب نہ بنیں اور یہ کہ خدا کی ان پر یکایک کوئی نقمت نہ آپڑے۔
ان معاشروں کے وہ طبقے ذرا دیکھیں تو سہی جو آج نمازیں چھوڑ بیٹھے ہیں۔ محرمات و منکرات کا پاس تک نہیں کرتے۔ لہذا رشوت خوری، شراب نوشی اور ظلم و ستم کا بازار گرم ہے۔ کیا یہ سب خدا کی چال سے بے خوف ہوگئے ہیں ؟ کیا یہ خدا کی اس وعید کی بابت سوچتے تک نہیں؟دلوں میں اگر زندگی کی کوئی رمق باقی ہے تو احساس کرادینے کو یہ سب کیا کافی نہیں؟
موجودہ دور میں مسجدوں کی خوفناک ویرانی پر علامہ اقبال کا یہ شعر صادق آتا ہے :
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
آج ہم اپنی مسجدوں کی تزئین کاری میں مصروف ہیں۔ بلند و بام مینار ، عالیشان عمارت ، سنگ مرمر اور زمرد کے خوبصورت فرش جس کی تعمیر میں کروڑوں روپے خرچ ہوتے ہیں مگر نماز کی ادائیگی کے لیے سرد مہری کا شکار ہیں حتی کہ بعض مخیر حضرات جو مکمل مسجد کی تعمیر میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں مگر ایک وقت کی نماز باجماعت کی فکر نہیں ہوتی۔ ہم اقیموا الصلوة کے مفہوم سے بے خبر زندگی کی شاہراہ پر گامزن ہیں اور پھر شکوہ کناں ہیں کہ ہم ذلت و رسوائی سے دوچار ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب کوئی مصیبت گھیرے میں لے لیتی ہے تو ہم مسجدوں کا رخ کرتے ہیں جیساکہ رواں سال کورونائی وبا کے زمانے میں مشاہدے میں آیا کہ وبا کا سیلاب امڈ آنے کے باوجود ہم مسجد پہنچنے پر مصر رہے جب کہ ایسے وبائی ماحول میں احتیاط برتنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مگر جیسے ہی یہ وبا ٹلتی ہے ہماری مسجدیں ویران ہو جاتی ہیں ۔ گویا ہم بھی اسی فرمان الٰہی کے مصداق ہیں : ” فلما كشفنا عنه ضره مر كأن لم يدعنا إلى ضر مسه ".( سورہ یونس : 12)
( تو جب ہم اس سے اس کی تکلیف کو دور کردیتے ہیں تو ایسے گزرتا ہے کہ گویا اس نے ہم سے اس تکلیف کے وقت دعا ہی نہ کی ہو)
یہ بات اور ہے کہ موحدین کے لئے ایسے مصائب و پریشانی کے بدلے آخرت میں اجر عظیم عطا کیا جاتا ہے اور یہ دنیوی آفات و فتن محض دنیا کے لئے ہی ہوتی ہیں مگر رب کائنات کا فرمان اس بات کی توضیح کرتا ہے کہ یہ آفات و مصائب ، یہ زلزلے و تباہکاریاں غرضیکہ ہر قسم کی پریشانی انسانی بداعمالیوں کا نتیجہ ہیں ۔ فرمان باری تعالیٰ ہے :” ظہر الفساد في البر والبحر بما كسبت ايدى الناس ليذيقهم بما عملوا” ( سورہ الروم :41)
( خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا لوگوں کے اپنے کرتوتوں کی وجہ سے تاکہ وہ انہیں ان کے اعمال کا مزہ چکھائے”.
جب لوگ اخلاقی پستی کی انتہا کو پہنچ جاتے ہیں اور اپنی معاشرتی حالت کو بدتری کی جانب بڑھنے دیتے ہیں تو رحمت خداوندی بھی جو اس پر سایہ فگن ہوتی ہے ، منھ موڑ لیتی ہے ۔ اور پھر اللہ تعالیٰ ان کے امن کو خوف سے، ان کی عزت و رسوخ کو ذلت و رسوائی سے،ان کی ثروت کو تنگ دستی سے ، صحت کو امراض اور وبائوں سے اور سکون و اطمینان کو آفتوں اور مصیبتوں سے بدل دیتا ہے۔
آج پوری دنیا تمام تر ترقی کے باوجود بے بس و بے کس کھڑی نصرت خداوندی کی منتظر ہے ۔ اور ہمارے ملک ہندوستان کی حالت دگرگوں ہے۔ نیز نسل کشی و نسل پرستی کا جذبہ عام ہے ۔ کفار و مشرکین امت مسلمہ کو جڑ سے اکھاڑنے کی کوشش میں ہیں ۔ کیونکہ ہم فرمان خدا بھول گئے اور فرمودات رسول کو پس پشت ڈال دیا۔ یہی ماحول دیکھتے ہوئے دل سے بے اختیار یہ آواز نکلتی ہے۔:”
ہے ابھی وقت سنبھلنے کا سنبھل جاؤ تم
ورنہ دشمن ہیں کھڑے تم کو مٹانے کے لیے
خواب جنت کا اگر دل میں سجاتے ہو تم
آؤ مسجد میں پھر رب کو منانے کے لئے
لہذا یہ وقت ہے بیداری کا تاکہ ذلت و خواری سے محفوظ رہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں قرآنی تعلیمات پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین.
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

