سینٹ الحنیف ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سر سید احمد خان کی یومِ پیدائش کے موقع پربجرڈیہہ علاقے میں ایک کانفرنس ”تعلیم کی اہمیت“ کا انعقاد۔
وارانسی 17/ اکتوبر 2021
تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے سر سید کے جدید تصورِ تعلیم سے استفادہ ضروری ہے۔مسلمانوں کی پسماندگی کی وجہ غربت و افلاس نہیں بلکہ جہالت اور تعلیم سے دوری ہے۔ آج بھی کئی علاقے تعلیم کی اہمیت و افادیت سے نا آشنا ہیں۔ ان خیالات کا اظہارپروفیسرآفتاب احمدآفاقی، صدر شعبہؑ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی نے سینٹ الحنیف ایجوکیشنل سوسائٹی کے زیرِ اہتمام سر سید احمد خان کی یومِ پیدائش کے موقع پر بجرڈیہہ میں واقع ملک گارڈین میں ایک کانفرنس ’تعلیم کی اہمیت‘ میں کیا۔ سر سید کے افکار و نظریات،کارناموں اور خوابوں پر روشنی ڈالنے کے ساتھ انھوں نے مادری زبان اہمیت کو واضح کیا۔ اس ضمن میں انھوں نے کہا کہ مادری زبان اور انسان کا تعلق دودھ کے رشتے کی طرح ہے۔مادری زبان کسی بھی خطے کی تہذیب و ثقافت کی امین ہوتی ہے۔ موجودہ تعلیمی پالیسی پر اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موجودہ تعلیمی پالیسی میں سب سے اچھی بات یہ ہے کہ اس میں مادری زبان کے فروغ کو اہمیت دی گئی ہے۔ زبانِ اردو کے حوالے سے انھوں نے کہا کہ زبان کسی کی میراث یا ملکیت نہیں ہوتی اور نہ ہی اسے کسی قوم، خطے یا گروہ سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔اردو سر زمینِ ہندوستان میں پیدا ہوئی اور یہیں پلی بڑھی ہے۔
پروفیسر آفتاب احمد آفاقی نے مدرسہ تعلیم پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے مزید کہا کہ آج مدرسوں میں صرف اردو، عربی یا فارسی کی تعلیم نہیں جاتی بلکہ دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی، ہندی، تاریخ، جغرافیہ، کمپیوٹر اور سائنس وغیرہ کی تعلیم بھی دی جاتی ہے، جس کی زندہ مثال حاجی وسیم احمد(سربراہ سینٹ الحنیف ایجوکیشنل گروپ) کے تمام تعلیمی ادارے بالخصوص ماڈرن مدرسہ ”اقرا“ اور اس کے طالب علم ہیں۔
اس کانفرنس میں مہمان خصوصی مولانا مفتی باطن (قاضی شہرِ بنارس)، مہمانِ اعزازی ڈاکٹر افتخار جاوید،، ڈاکٹر مشرف علی (استاد شعبۂ اردو بنارس ہندو یونیورسٹی)، مولوی جنید مکی و جامعہ سلفیہ اوردیگر تعلیمی اداروں کے اساتذہ نے بھی سر سید احمد خان کی شخصیت اور تعلیم کی اہمیت پر اپنے اپنے خیالات کے اظہار کیے۔ اس موقع پر مختلف اداروں کے اساتذہ و طلبہ کے ساتھ ساتھ علاقائی افراد کی کثیر تعداد موجود تھی۔حاجی وسیم احمد (سربراہ الحنیف گروپ)نے سبھی مہمانان کا شکریہ ادا کیا۔
رپورٹ:@ پرواز احمد
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

