یوں تو دنیا میں روز لاکھوں لوگوں کی پیدائش ہوتی ہے اور بہت سے اپنی عمر تمام کرکے ہمیشہ کے لئے دنیا کو الوداع کہتے ہیں۔ ان میں سے بیشتر ایسے افراد ہوتے ہیں کہ صرف اپنا کام ختم کرکے دنیا کو خیر آباد کہہ دیتے ہیں اور دنیا میں ان کا نام لیوا تک کوئی نہیں ہوتا مگر انہی گزرنے والی شخصیتوں میں کچھ ایسی بھی ہستیاں ہوتی ہیں جو کہ دنیا کو تو چھوڑ جاتی ہیں لیکن ہمیشہ لوگوںکے دلوں پر اپنے عظیم کارنامہ ا ور یادگار کی وجہ سے نام و سکہ بٹھائے رہتی ہیں۔ چنانچہ وہ کسی بھی میدان کا شہسوار ہوا پنی فنی ظرافت، تقریر و خطابت ، قیادت و نقابت ، سیادت و نظامت ، شستہ بیانی، سنجیدگی و عمدگی اور سیاسی و سماجی زندگی سے ہر ایک کے دل کو موہ لیتی ہیں اور بلاتامل و فرق رفیق ورقیب سے اپنے نام کویادکراتی اور تذکرہ کرواتی ہے۔چنانچہ انہی عظیم شخصیتوں میں ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم، زور بیان و زور آور خطیب و مقرر، عظیم سیاستداں مولانا ابوالکلام آزاد کی شخصیت بھی ہے۔خود مولانا ابوالکلام آزاد اپنی پیدائش اور نام کے متعلق یوں رقمطراز ہیں
’’یہ غریب الدیار عہدووفا آشنائے عصر و بے گانۂ خویش و نمک پروردۂ ریش معمورۂ تمنا و خرابۂ حسرت کہ موسوم بہ احمد و مدعوبابی الکلام ہے 1888 مطابق ذوالحجہ ۱۳۰۵ھ میں ہستی عدم سے اس عدم ہستی نمامیں وارد ہوا، اور تہمت حیات سے مہتمم‘‘۔
(تذکرہ مرتبہ مالک رام بحوالہ یادگار آزاد،ص۱۳)
مولانا کی پوری دنیا، تعلیم، کھیل کود اور سیر وتفریح، تمام کی تمام ان کا مکان اور والد کا حلقہ ٔ تربیت تھی۔ گھر پر فلسفہ ، اقلیدس، ریاضی اور الجبرا کے لئے الگ الگ مدرسین کا انتظام کیا گیا تھا اور بہت جلد انہوںنے ان مضامین پر مہارت بھی حاصل کرلی تھی۔ ابتدائی عمر میں ہی انہیں کتابیں پڑھنے کا شوق ہوگیا تھا ۔ تیرہ چودہ سال کی عمرکو پہنچنے تک انہوں نے اسلامی علوم اور فلسفہ کی تعلیم حاصل کرلی تھی۔ عربی، فارسی اور ترکی ادب کے مطالعہ کے علاوہ علم کیمیا اور علم فلکیات پڑھ چکے تھے۔ علم منطق اور طب کی تعلیم حاصل کرلی تھی۔1903ئ میں درس نظامی کی تکمیل کی جبکہ ان کی عمرصرف پندرہ سال تھی،جس کے لئے عام طورپر لوگوں کو تیرہ چودہ سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔مولانا نے یہ کام صرف چاربرس میں کردکھایاتھا۔ انہوں نے انگریزی کے علاوہ فرانسیسی زبان بھی سیکھی۔ ان زبانوں کے سیکھنے میں ان کی ذاتی دلچسپی اور محنت کو بڑا دخل تھا۔ اس کے علاوہ انہوں نے دیگر زبانوں سے اردو میں ترجمہ کرنے کی مہارت بھی حاصل کی۔مولانا ابولکلام آزاد مقاصد حسنہ کے حصول و یافت اوراپنے ارادہ و عزم مصمم سے لوگوں کو باخبر کرکے اپنا ہمنوا وہم خیال بنانے کے لئے ’’ الہلال اور البلاغ‘‘جیسا اصلاح پسنداور نظریات سازی کے پیش نظر رسالہ جاری کیا جو ان کی فکری و فنی اور صحافتی خدمات کے لئے جانا جاتا ہے۔ مولانا آزاد ہندوستان کی آزادی کے سلسلے میں ایک بار نظر بند اور کئی بار جیل کی چہاردیواروں میں محصور کردئیے گئے اورانہیں طرح طرح کے مصائب و مشکلات کا سامنا کرنا پڑا مگر انہوں نے کبھی بھی شکست وہار تسلیم نہیں کی اور’’ قوت مرداں مددے خدا ‘‘کے مصداق جہدمسلسل اور محنت وکوشش کرتے رہے اور اپنے کو وطن عزیز کے لئے بڑی سے بڑی قربانی دینے اوراذیت و مشقت اٹھانے میں خوشی و شادمانی محسوس کرتے رہے۔
بلاکسی تردد اور مبالغہ کے یہ کہا جاسکتا ہے کہ آزاد کی زندگی کا ہر حصہ ہندوستانیوں اورہندوستان کے لئے کسی شجر مثمرہ سے کم نہیں جو ہمارے لئے آئیڈیل اور باعث فخر و انبساط اور لائق نمونۂ عمل بھی ہیں۔خطیب الہند کی زندگی کے ہر ہرگوشے اور ان کی خدمتوں ، محنتوں ، محبتوں اور ان کے عظیم کارناموں سے ہر ہندوستانی اور محب وطن کو باخبر ہونا چاہئے اور حتی الامکان ان کے نقش قدم پر چل کر اس ملک عظیم و قدیم کے لئے اپنی خدمات پیش کر نے کے لئے تیار رہنا چاہیے تاکہ وطن میں حب الوطنی ،دیش بھگتی اورترقی و خوشحالی کے شجر ہمیشہ سرسبزو شاداب اور پھل دارر ہیں۔
ملک میں جو عصری صورتحال ہے ان کو ہم اس طرح بتانے کی سعی کرسکتے ہیں کہ(۱) تعصب و تنگ نظری (۲) فرقہ وارانہ ہم آہنگی کا فقدان (۳) تعلیم میں اخلاقیات کا نہ ہونا (۴) مساوی حقوق دینے سے گریز (۵) اپنے اقدار سے بے تعلقی (۶) انسان دوستی اور رواداری کا فقدان (۷)نکسلزم (۸) بے روزگاری و معاشی حالات (۹) بڑھتے کرپشن (۱۰)اشیا کی قیمتوں میں بے تحاشہ اضافہ اور دہشت گردی کاچیلنج وغیرہ اورخاص طور سے سب کے لئے تعلیم کی سہولت کانہ پایاجانا یہ سب ایسے حالات ہیں جن سے بچ نکلنے اورمحفوظ ہو جانے کا واحد راستہ تعلیم ہے ! اگر تعلیم پر مکمل دھیان دیا جائے اوراس کو خوب فروغ دیا جائے تو یقینی انقلاب عظیم لایا جاسکتا ہے اور ہندوستان کو بھی ترقی یافتہ ممالک میں شمار کرایا جاسکتاہے اوراسی کی طرف ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم نے زور بھی دیا تھا، اقبالؔ نے کہا ہے:
قوت فکر و عمل پہلے فنا ہوتی ہے
پھر کسی قوم کی شوکت پہ زوال آتا ہے
مولانا آزادوزیر تعلیم بننے کے بعدفکری اور عملی طور پر وزارت کے کاز کی اہم خدمات انجام دیں۔ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم نے اپنی ذمہ داریاں کس طرح انجام دیں شمیم حنفی صاحب (مرحوم ) کے مضمون میں اس کو بخوبی دیکھا جاسکتا ہے :
’’ملک کے پہلے وزیر تعلیم کی ذمہ داریاں سنبھالنے کے ساتھ ہی سب سے بڑا اور دور رس کام یہ کیا کہ ہندوستان کی مشترکہ ثقافت کو فروغ دینے کی غرض سے تین اکادمیوں کی بنیاد ڈالی ساہتیہ اکادمی،سنگیت ناٹک اکادمی، للت کلااکادمی، انڈین کونسل فارکلچرل ریلیشنز یہ تمام سر سبز کھیتیاں اور ان کے بیج مولانا کے شعور کی سرزمین پر پھوٹے ہیں۔مزید یوں تحریر فرماتے ہیں کہ’’ مولانا آزاد نے آزاد ہندوستان کے ساتھ ساتھ ایک ہمہ جہت ، وسیع المشرب روشن و ترقی پسند اور منظم ہندوستان کا خواب دیکھا تھا۔ ایک سیکولر اور روادارانہ تعلیمی نظام کے قیام سے ،ان کا مقصد یہی تھا کہ ایک ایسے ہندوستان کی تعمیر ممکن ہو سکے جو فرقہ پرستی اور ظلمت پسندی کے سایے سے یکسر محفوظ ہو، جو اقوام عالم میں عزت کی نظر سے دیکھا جائے او ر جو ایک صحت مند ماضی کے ساتھ ساتھ ایک صحت مندمستقبل کا ترجمان بھی ہو۔ماضی کے مریضانہ تصور نے ہماری ثقافت اور سیاست کو بھی صدمے پہنچائے ہیں۔ بقول آندرے’’ ہر شئے پست ہوجاتی ہے جب سیاست اسے اپنے ہاتھ میں لیتی ہے‘‘۔ظاہر ہے کہ تعلیم، تہذیب ، ثقافت اورعلمی و فکری روایتیں بھی سیاست کا کھیل بن جائیں تو اپنے بنیادی مقاصد سے دور ہوجاتی ہیں۔مولانا نے ماضی میں ہمیں اسی رمز کی خبر دی تھی اور ہمارے قومی مستقبل کے لئے بھی یہی ان کاسندیسہ ہے‘‘۔
( مولاناآزاد ،ایک ہمہ جہت شخصیت)
مولانا آزاد نے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا کہ اب سے کھدریعنی کھادی کپڑا ہی زیب تن کیا جائے اور غیر ملکی لباس کو اپنے تن سے ہمیشہ کے لئے الگ کردیا جائے۔ اس طرح یہ کپڑا ملبوس کرکے مسلمان مردوعورت محب وطن کہلانے کے ساتھ ساتھ ہندوستان کی معاشی ترقی میں بھی خود بخود شامل ہوجائیں گے۔وہ ابتدائ سے ہی اصلاح پسندی کے حامی تھے وہ ظاہری اصلاح کے ساتھ باطنی اصلاح میں بھی پیش پیش تھے۔ آزاددنیاوی امور کی شفافیت ، انسانی خدمت اور اقتصادی ومعاشی اور سیاسی ترقی کے بھی خواہاں تھے۔ یہ وہ عظیم خوبی ہے جو اک ماہر تعلیم اور معلم میں ہوتی ہیں۔وہ صرف مفکرہی نہیں بلکہ اپنے دانشورانہ تعلیمی تصورات کو عملی حیثیت دے کر قوم کی فلاح وبہبود چاہتے تھے۔ مولانا تعلیمی ، اقتصادی، معاشی اور سماجی صورت حال کو بغور ملاحظہ کرکے اس طرح کی رائے دیتے ہیں کہ جہاں تک عام مسلم معاشرے کا سوال ہے مسلمانوں میں تعلیمی ترقی کے ساتھ ساتھ سیاسی شعور کی بلندی اور فکر میں گہرائی و گیرائی اور مسلمانوں کو ایک قوم کی حیثیت سے سماج کا حصہ بنانا چاہئے تھا۔ مسلمانوں کی ترقی ہندوسماج کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ اورقدم بہ قدم چلنے میں تصور کرتے تھے۔ وہ مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ محب وطن اور قوم پرست رہنما بھی تھے۔ ہندوستان جیسے کثیرالمذاہب ، مختلف اقوام و ملل، رنگ و نسل، بول چال اور کیفیت و کمیت، ثقافت ،تمدن، تہذیب وکلچر اور کثیر اللسان معاشرے میں وہ اس طرح کی تعلیم کا تصور رکھتے تھے جو ہندوستانی ماحول اور کثیر ثقافتی و مذہبی معاشرے کے تقاضوں کو پورا کرے۔لسان اور سوشل ریفارم مضمون میں پروفیسر محمدظفرالدین صاحب (مرحوم) رقمطراز ہیں:
’’سوشل ریفارم کالفظی ترجمہ ’’سماجی اصلاح‘‘ یا اصلاح معاشرہ کیا جاسکتا ہے لیکن یہاں چونکہ ہم مولانا آزاد کے سوشل ریفارم کی بات کررہے ہیں اس لئے بہتر معلوم ہوتا ہے کہ سوشل ریفارم کے اس تصور تک رسائی حاصل کی جائے جو خود مولانا آزاد کے ذہن میں تھا۔انہوں نے لسان الصدق کے پہلے شمارے میں رسالے کے خاص مقاصد بیان کرتے ہوئے تحریر کیا ہے کہ’’سوشل ریفارم ،یعنی مسلمانوں کی معاشرت اور رسومات کی اصلاح کرنا‘‘۔
فاضل مضمون نگار مزید یوں تحریر کرتے ہیں:
’’ القصہ مختصر! مولانا آزاد کی تمام ترصحافتی اورمذہبی تصنیفات میں جو پہلو سب سے زیادہ شدت سے سامنے آتا ہے وہ اصلاح معاشرہ ہے، وہ ہرجگہ مسلمانوں کی معاشرتی خرابیاں دور کرنے،انہیں تعلیم کی طرف مائل کرنے اور ایک بیدار محب وطن شہری بنانے کے لئے شعوری طورپر کوشاں نظر آتے ہیں۔بچپن ہی سے انہوںنے معاشرے کی خرابیوں کو محسوس کیا اور خود کو اس کی اصلاح کے لئے وقف کردیا تھا۔ مولانا آزاد نے ان اصلاحی کوششوں کے لئے قلم کو اپنا ہتھیار بنایا اور عوامی سطح پر لوگوں تک پہنچنے کے لئے صحافت جیسا موثر وسیلہ اختیار کیا، لسان الصدق انہیں میں سے ایک اہم وسیلہ تھا‘‘۔
(مولانا آزاد ایک ہمہ جہت شخصیت)
ہندوستان میں متحدہ و متفقہ قومیت کی ضرورت کے تحت انہوںنے کارہائے نمایاں خدمات انجام دیں اس سلسلے میں مضامین تحریر کئے اور تقریر و خطابت کے ذریعہ بھی اہم رول ادا کیا۔مولانا ابوالکلام آزاد نے ہندوستان کی متفقہ قومیت کے متعلق یوں تحریر کیا کہ ’’سرزمین ہندبھی قدرت کی نادرہ کاریوں کی ایک بوقلمی گلدستہ ہے ۔ اپنی مختلف طبیعی کیفیات و مناظر ،تنوع آب و ہوا، کثرت قومیت ومذہبیت ،تلوین پیداوار کیوجہ سے اس جہان ارضی کا ایک محیرالعقول عجائب خانہ ہے‘‘۔ مزید یوں کہ آج اگر قومیت کا احساس پیدا ہوجائے تو ہماری تدابیر کارگر ہوسکتی ہیں،ہم دنیا میں آدمی بن کررہنے کے مستحق ہوجائیں گے اور اقوام عالم ہم کو زندہ جماعت سمجھنے لگیںگی۔ ہندوایک قدم اپنی روایات قدیمہ سے نہ ہٹے، مسلمان ایک انچ اپنی آیات ربانی اوراحکامات قرآنی سے نہ سرکے، پارسی اپنی مذہبی کتاب کی تلاوت کرتا رہے، سکھ اپنے گرنتھ صاحب کا احترام مدنظر رکھے۔ ہندو کا ایقان وید،گیتاپرغیر متزلزل رہے، مسلمان کا ایمان قرآن و حدیث پر غیر فانی رہے ، سکھوں اور پارسیوں کے عقائد مذہبی و دینی میں ایک چاول برابرلغزش نہ ہو، پھر بھی وہ صدق دل، خلوص نیت، مستقل ارادے اور سچے خمیر کے ساتھ یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ ہندوستانی ہے۔ ہندوستان اس کی مایہ، ہندوستان اس کی عزت، ہندوستان میں وہ پیدا ہوا ہندوستان میں مرے گا متحدہ قومیت ایک عام نقطۂ نظر سے بنتی ہے ، ایک غرض مشترکہ سے پیدا ہوتی ہے۔اس طرح سے ہندوستان کے پہلے وزیرتعلیم نے ہمارے پیارے ملک ہندوستان میں امن ومحبت بھائی چارگی کو برقراررکھتے ہوئے ترقی کے اصول بتائے،ایسے وقت میں جبکہ ہرطرف انتشاروافتراق کادوردورہ تھاآزادی کے ساتھ ہی وطن دوحصوں میں تقسیم ہوگیا تھا مگر مولاناآزاد نے وطن سے محبت اور وطن پر اپنی جان نچھاور اور وطن کو ترقی دینے کے کئی بیش بہااور اہم اصول بھی بتائے تاکہ اس میں رہنے اور بسنے والے مختلف مذاہب اور مختلف اللسان لوگ ایک دوسرے سے باہم شیرو شکر کی طرح زندگی گزار سکیں اور اسے تعصب و تنگ نظر ی اور فرقہ وارانہ فساد کی بری نظر نہ لگے اور ہمارا پیارا ملک ہندوستان خوب خوب ترقی کر سکے ۔
متحد ہوتو بدل سکتے ہو زمانے کا نظام
منتشر ہو تو مرو شور مچاتے کیوں ہو
محمد خوشتر
ریسر چ اسکالر یونیورسٹی آف حیدرآباد
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

