مولانا آزاد مرد اورعورت میں جنسی تفریق کے قائل نہ تھے۔ خالص مشرقی اورمذہبی ماحول کے باوجود مولانا کے والد نے تعلیم کے اعتبار سے اپنے لڑکوں ا ورلڑکیوں میں کوئی امتیاز نہیں برتا تھا۔ دونوں کی تعلیم وتربیت کا یکساں بندوبست کیا اورمساوی رویہ اپنایا۔اس معاملے میں مولانا آزاد اپنے والد کے ہم خیال، بلکہ ان سے بھی زیادہ ترقی پسند تھے۔ وہ عورت کے سماجی ، سیاسی اور معاشرتی رول کو کتاب وسنت کی روشنی میں دیکھ رہے تھے۔اسلام نے عورت کی آزادانہ حیثیت اورانفرادیت پر جس قدر زور دیا ہے کہ رشتۂ ازدواج جو عورت کی زندگی کا نہایت ہی اہم پہلو ہے۔ وہ بھی عورت کی نسوانیت کو کسی طرح تارتار نہیں کرسکتا ہے۔ عورت اسلامی نقطۂ نظر سے پہلے عورت ہے۔آزادی کا مژدہ اسلام نے اسے چودہ سو برس پہلے سنایاتھا۔مغرب آزادیٔ نسواں کا دعویدار تو ہے، لیکن عورت کی انفرادیت اوراس کی نسوانیت کو وہ آج تک تسلیم نہیں کر سکا ہے۔ مولانا آزاد نے قومی تعلیمی پالیسی میں عورتوں کی تعلیم کا خصوصی پروگرام بنایا اورانھیں قومی دھارے میں رکھنے کی ہر ممکن کوشش کی ۔ تعلیم نسواں کے حوالے سے مولانا آزادہمیشہ فکر مند رہا کرتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ اگر عورتوں کو تعلیم یافتہ نہیں بنایا گیا تو نسلِ نو کی تربیت ہم اچھے ڈھنگ سے نہیں کرسکتے ہیں۔
مولانا آزاد دور اندیش اورزمانہ شناس تھے۔ ان کی نظر ہمیشہ زندگی کے نشیب وفراز پر رہتی تھی۔اسی لیے وہ عورتوں کو مکمل تعلیم دینے کے حق میں تھے۔ آدھی ادھوری تعلیم کو وہ گمراہی اورکارزیاں سمجھتے تھے۔ مولانا آزادمسلمانوں میں رائج تعلیم نسواں کا تنقیدی جائزہ لیا تھا۔پھر ایک مکمل نظام ِ تعلیم اورطریقۂ تعلیم کا منصوبہ پیش کیا تھا،تاکہ ہماری عورتیں زندگی کی دوڑمیں دوسروں سے پیچھے نہ چھوٹ جائیں اور انھیں یہ احساس نہ ستائے کہ وہ مردوں سے کم تر ہیں۔
مولانا آزاد در اصل عورتوں کو خود کفیل ، تعلیم یافتہ اورحسن اخلاق کے زیور سے آراستہ پیراستہ دیکھنے کے خواہش مند تھے۔ وہ عورت کے دائرۂ عمل کو محدود نہیں کرنا چاہتے تھے، بلکہ ہر میدان اورہر شعبہ میں ان کی صلاحیتوں کا اظہار چاہتے تھے ۔اسلام نے عورت کو اس بات کی آزادی دی ہے کہ وہ اپنے طریقۂ زندگی اوردائرۂ عمل کا انتخاب خود کرسکتی ہیں۔ عہد نبوی اورعہد صحابہ کے بہت سے واقعات اس بات کے شاہد ہیں۔
عصر حاضر میں تعلیم نسواں، حقوق نسواں اورآزادی نسواں کا ہر سو شور برپا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ زور آزادیٔ نسواں پر ہے ،تاکہ اس آڑ میں ان کا استحصال کیا جاسکے۔ درحقیقت مرد اساس معاشرے نے بہت ہی چالاکی سے عورت کو اشتہار کا سامان بناکر رکھ دیاہے اورمکر و فریب کا ایک ایسا جال بچھایا ہے ، جس میں عورتیں آزادی کے نام پر پھنستی چلی جارہی ہیں۔ یہ ایک ایسا دلدل ہے، جس میں قدم رکھنے کے بعد پیچھے مڑ کر دیکھنے کے امکانات تقریباً ختم ہوجاتے ہیں،جب کہ مولانا آزادکا خواب عورت کو تعلیم کے ساتھ، حسن اخلاق کے زیور سے آراستہ کرنا تھا ، تاکہ وہ اپنی عزت وآبرو کی محافظ بن سکیں اوربڑے سے بڑا فتنہ بھی ان کے قدم کو متزلزل نہ کرسکے۔
Dr. Mohammad Akhtar
Associate Professor and Head Department of Urdu
Vasanta Collage for women
(BHU), Rajghat, Varanasi 221001
Whatsapp: 9793857521
email.:Akhtarvcr@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

