Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
تعلیمخصوصی مضامین

مولانا آزاد : جدید نظام تعلیم کے معمار – ڈاکٹر شمیم احمد

by adbimiras نومبر 10, 2021
by adbimiras نومبر 10, 2021 0 comment

مولانا ابوالکلام آزاد ایک نابغہ روزگار شخصیت تھے۔ ان کی خدمات کا دائرہ بے حد وسیع ہے۔ جدوجہدِ آزادی سے لے کر قومی و ملی رہنمائی کے ہر شعبے میں انھوں نے اپنی الگ شناخت قائم کی ہے۔ علم و ادب کے آسمان پر وہ ایک روشن ستارے کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ ان کے انداز اور اسلوب نے کتنے ہی نسلوں کو متاثر کیا ہے۔ حالاں کہ انھوں نے باقاعدہ تعلیم حاصل نہیں کی تھی تاہم اردو، ہندی، عربی اور فارسی میں انھیں خصوصی مہارت حاصل تھی۔ وہ ریاضی، تاریخِ عالم، فلسفے اور سائنس سے گہری واقفیت رکھتے تھے۔ دین و مذہب کی ایسی تفہیم انھیں حاصل تھی کہ علمائے دین ان سے مذہبی امور میں مشورے لیا کرتے تھے۔

1947 میں آزادیِ وطن کے بعد انھوں نے ایک عشرے تک وزارتِ تعلیم کی سربراہی فرمائی، جس میں سائنس اور ثقافت کے محکموں کی اضافی ذمہ داری شامل تھی۔ تعلیم، سائنس اور ثقافت کے متعلق ان کا ماننا تھا کہ ہمارے خوابوں کے نئے ہندوستان کی تعمیر میں ان کا منفرد کردار ہے۔ ہندوستان اپنی فراواں مشترکہ ثقافت، گراں قدر تنوع کے پہلو میں بیش قیمتی وحدت، اپنی مجموعی قومی سالمیت، حسن و صداقت، انصاف اور رواداری کی اپنی اقدار اور مشرق و مغرب کی ثقافتوں کے امتزاج کی اپنی منفرد صلاحیتوں کو بروئے لاکر اسے ایک نیا اور تخلیقی روپ عطا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ناخواندگی اور جہالت، سُستی اور غربت کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں تاکہ ہمارا ملک دوسرے ملکوں کی ہم سری کر سکے۔

مولانا آزاد کے تئیں ہندوستان کی جدید تعلیمی پالیسی کا بنیادی مقصد انسان کو انسان بنانا، کردار سازی، اخلاقی اور ثقافتی اقدار کی تربیت تھا۔ ان کا خیال تھا کہ تعلیم و تدریس سے فرد کی ہمہ جہت نشو و نما ہوتی ہے۔ اس لیے گھر اور مذہب، اسکول اور استاد سمیت ہر موقع اور ہر سطح پر تعلیم کا مقصد کردار کی تعمیر اور اخلاقی اقدار کی تربیت ہونا چاہیے۔ اساتذہ اپنے طلبا کی اس طرح رہنمائی فرمائیں کہ گھر اور اسکول کے مابین تعاون کے ذریعے غلط چیزوں سے انحراف کرنے اور صحیح چیزوں کو منتخب کرنے کی تفہیم طلبا میں پیدا ہوتی چلی جائے۔ یکجہتی اور دوستی کے توسط سے طلبا اتحاد اور تعاون کو اپنی زندگی کا حصہ بنا لیں۔

مولانا آزاد نے جمہوریت کے لیے تعلیم کی اہمیت پر زور دیا۔ ان کا خیال تھا کہ بالغ اپنے حقِ رائے دہی کا صحیح استعمال اسی صورت میں کر سکیں گے جب ہمارا تعلیمی نظام شہریوں کو ان کے حقوق اور فرائض سے خوب اچھی طرح واقف کرا دے۔ آزاد ہندوستان کے شہری اور غیر ملکی حکمرانوں کے تحت غلام عوام کے درمیان فرق ہونا ضروری ہے۔ یہ تبدیلی عوامی سطح پر تعلیم کو عام کرنے سے ہی ممکن ہوپائے گی۔ وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے معاشرتی تعلیم کے نظام کو رائج کیا۔ ہندوستانیوں کو تعلیم یافتہ بنانے اور ان میں شہریت کا جذبہ بیدار کرنے کی غرض سے پانچ بنیادی اصولوں کی تاکید کی:

(i)      ہر شہری کو شہریت کے معنی کا علم ہو اور یہ پتا ہو کہ جمہوری حکومت میں اس کا کردار کیا ہے۔

(ii)    معاشرتی تعلیم لوگوں کو صاف اور صحت مند زندگی گزارنے کی تربیت دے۔

(iii)   معاشرتی تعلیم اس نوع کی ہو کہ وہ ایسی معلومات فراہم کرے جس سے افراد اپنے طرزِ زندگی میں بہتری لا سکیں۔

(iv)   تعلیم کے ذریعے لوگ اپنے جذبات و احساسات کی صحیح تربیت کر سکیں۔

(v)     جمہوری رواداری کی ضرورت پر تاکید کے ساتھ معاشرتی تعلیم میں اخلاقی عناصر شامل ہوں۔

مولانا آزاد نے قومی ترقی میں تعلیم کے کردار کو تقویت عطا کی اور سائنس و ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دیا ۔ اگست 1951   میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی IIT   کھڑگ پور کے افتتاح کے موقع پر انھوں نے کہا کہ ’’وزیرِ تعلیم کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کیے گئے اوّلین فیصلوں میں سے ایک فیصلہ یہ تھا کہ ہم ملک میں اعلیٰ تکنیکی تعلیم کی سہولیات کو اس طرح فروغ دیں کہ ہم اپنی زیادہ تر ضروریات کو خود ہی پورا کر سکیں۔ ہمارے نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد جو اعلیٰ تعلیم و تربیت کے لیے غیر ممالک کا سفر کرتی رہی ہے۔ اسے ملک میں ہی اس طرح کی تربیت ملنی چاہیے۔ بلکہ میں یہ خواہش رکھتا ہوں کہ ایک ایسا وقت آئے کہ جب ہندوستان میں تکنیکی تعلیم کی سہولیات اس معیار کی میسر ہوں کہ غیر ممالک کے افراد اعلیٰ سائنسی اور تکنیکی تعلیم کے لیے ہندوستان آئیں۔‘‘

پیش بینی پر مبنی مولانا آزاد کا ذہن و دل جن آرزؤں کو اپنے اندر سمیٹے ہوئے تھا وہ آج نئے ہندوستان کی تصور میں اپنی تکمیل کو پہنچ رہی تھیں۔ انھوں نے وزیر تعلیم کی حیثیت سے اور ایک سیاسی رہنما کے طور پر بھی ہمیشہ قوی اتحاداور مشترکہ ثقافت پر زور دیا۔ ان کی تاکید تھی کہ نصابی کتب اور دیگر مطالعہ جاتی کتب میں قومی اتحاد و سالمیت اور یکجہتی نیز قومیت کے فروغ کو اولیت حاصل ہو۔

20  فروری 1949   کو علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے جلسۂ تقسیم اسناد سے خطاب کرتے ہوئے مولانا آزاد نے ملک کی مرکزی حکومت کے قومی تعلیمی نظام کا نقشہ پیش کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ایک غیر مذہبی تعلیمی نظام ہونا ضروری ہے جس میں ملک کے تمام باشندوں کے لیے بلا امتیاز تعلیم و تربیت کی گنجائش موجود ہو۔ انہوں نے اپنے اس خطاب میں زور دیا تھا کہ علی گڑھ خواہ مسلم یونیورسٹی ہی کیوں نہ ہو لیکن سیکولر ہندوستان میں یہ صرف مسلمانوں کی یونیورسٹی بن کر نہ رہ جائے۔ اس کا کردار ایسا ہو جہاں ملک کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کے خاص شعبوں کے مطالعہ کا اہتمام کیا جائے۔ انہیں کے الفاظ میں :

میں آپ کو مختصر طور پر بتلا دینا چاہتا ہوں کہ آپ کی مرکزی حکومت کے سامنے ملک کی قومی تعلیم کے نظام کا جو نقشہ ہے اس کی بنیادی نوعیت کیا ہے؟ اور ایک ایسے تعلیمی ادارے کے لیے جس طرح کا ادارہ آپ کی یہ یونیورسٹی ہے اس میں کس طرح کی جگہ پیدا ہوتی ہے؟ آپ تسلیم کریں گے کہ ایک غیر مذہبی جمہوری حکومت کے لیے ضروری ہے کہ اس کا ایک عام غیرمذہبی تعلیمی نظام ہو جو ملک کے تمام باشندوں کے لیے بلا امتیاز ایک ہی نوعیت کا تعلیمی سانچا مہیا کر دے۔ اس نظام تعلیم کا ایک خاص ذہنی مزاج ہونا چاہیے ایک خاص طرح کا قومی رنگ ہونا چاہیے، اور اسے انسانی ترقی و خوش حالی کا ایک خاص رخ اپنے سامنے رکھنا چاہیے۔ انڈین یونین ایک ایسا ہی عام تعلیمی نقشہ اپنے سامنے رکھتی ہے اور ا سمیں کسی طرح کے امتیاز اور تفرقہ کی گنجائش تسلیم نہیں کرتی۔ لیکن اس کے ساتھ ہی وہ تسلیم کرتی ہے کہ اس عام نظام تعلیم کے ساتھ ایسے خاص اداروں کی ضرورت سے بھی انکار نہیں کیا جا سکتا جو ملک کی تاریخ اور تہذیب و تمدن کے خاص خاص شعبوں کے مطالعہ کا خاص اہتمام رکھتے ہوں اور ان کے دروازے ان تمام لوگوں پر کھلے ہوں جو ان شعبوں کے مطالعہ وتعلیم سے دلچسپی رکھتے ہوں۔ ملک کے تعلیمی نقشہ کا یہی گوشہ ہے جہاں آپ کا ادارہ اپنی ایک صحیح اور مطابق جگہ نکال لیتا ہے اور وقت کے عام نقشے سے بھی جڑ جاتا ہے۔ آپ اپنی ایک خاص جگہ رکھتے ہوئے بھی تعلیم کے عام نظام سے الگ نہیں ہو جاتے بلکہ اس کی ایک خاص ضرورت کو پورا کر دیتے ہیں آپ کی یہ خاص جگہ بھی کسی خاص جماعت کے ساتھ مخصوص نہیں ہونی چاہیے بلکہ ان سب کے لیے ہونی چاہیے جو ان خاص شعبوں سے دلچسپی رکھتے ہوں۔

بحوالہ : مولانا آزاد ، سرسید اور علی گڑھ از ضیا الدین انصاری (ص 307-308)

آزاد ہندوستان کے تکثیری تقاضوں کو پیش نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ مولانا آزاد نے سائنس اور صنعتی ترقی کی ضرورت کو شدت سے محسوس کیا۔ انہیں اندازہ تھاکہ ہمارا ملک اپنی بہت سی ضروریات کے لیے دوسرے ملکوں سے آنے والے مالِ تجارت پر انحصار کرتا ہے۔ ہمیں بہت سی چیزیں درآمد کرنی پڑتی ہیں۔ حالانکہ ہمارے ملک میںخام مال کے وافر ذخائر موجود ہیں۔ ان ذخیروں کو استعمال کرنے کی صلاحیت ہندوستانیوں میں تبھی پیدا ہوگی جب وہ صنعتی اور فنی تعلیم سے آراستہ ہوں گے۔ گویا خود انحصاریت یا آتم نربھر ہونے کا تصور اُس زمانے میں بھی مولانا آزاد کے ذہن میں تھا۔

عالم گیریت یعنی گلوبلائزیشن کا تصور بیسویں صدی کے آخری عشرے کی دین ہے لیکن اس سے بہت پہلے  1950  کے عشرے میں ہی مولانا آزاد نے بین الاقوامیت کے تصور کو اپنانے کی بات کی تھی جس کی مدد سے ایک نیا عالمی نظام قائم ہو سکے جو آفاقیت کو فروغ دیتا ہو۔ انہوں نے 1951   میں یونیسکو کے ساتھ تعاون کے ہندوستانی قومی کمیشن میں اپنے ان خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا : ’’تعلیم ایک ایسا ماحول پیدا کرنے میں بنیادی رول ادا کرتی ہے جس میں انسان ایک دوسرے سے دوستی اور مساوات کی بنیاد پر ملاقات کر سکیں۔ موجودہ نسل کے مرد اور خواتین کی قومی اختصاص کے ایسے ماحول میں نشو و نما ہو رہی ہے جہاں ان سے یہ توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ عالمی اتحاد اور عالمی شہریت کے تصور کی حصولیابی کر سکیں۔ انہیں ایسے خطوط پر سوچنے کی تربیت دی گئی ہے جن کے سبب ان کے لیے نسل، طبقے یا قومیت کی حدوں کو پار کرنا دشوار ہو گیا ہے۔ اسی لیے اگر ہمیں عالمی اتحاد کے تصور کو کامیاب بنانا ہے اور اگر ہم سب اس بات سے اتفاق کرتے ہیں کہ بغیر اتحاد کے انسان کا مستقبل تاریک ہے تو پھر ہماری تمام کوششیں آنے والی نسلوں کو عالمی شہریت کی تعلیم و تربیت عطا کرنے پر مرکوز ہونی چاہئیں۔‘‘

مولانا آزاد نے خواتین کی تعلیم پر بہت زور دیا ۔ 1949   میں مرکزی اسمبلی میں انہوں نے جدید علوم کی حصولیابی پر زور دیا اور یہ بھی کہا کہ قومی تعلیم کا کوئی پروگرام اس وقت تک کامیابی حاصل نہیں کر سکتا جب تک کہ وہ آبادی کے آدھے حصے کی تعلیم پر پوری توجہ مرکوز نہ کرے اور وہ آدھی آبادی خواتین پر مشتمل ہے۔

ان کا خیال تھا کہ خواتین کی تعلیم دو اعتبار سے بہت اہم ہے۔ پہلی بات تویہ کہ آزاد ہندوستان کے شہری کی حیثیت سے انہیں تعلیم کی ضرورت ہے۔ دوسرے یہ کہ ان کی تعلیم سے نو جوان نسلوں کی تعلیم کا ہدف آسان ہو جائے گا۔ انھوں نے 1949   کی آئین ساز اسمبلی میں یہ بھی کہا کہ دنیا کے آدھے مسائل حل ہو سکتے ہیں اگر خواتین کو تعلیم مہیا کر ادی جائے کیونکہ تعلیم یافتہ خواتین کا مطلب ہے خواندہ بچے۔ یہ مولانا آزاد ہی تھے جنھوں نے تسلیم کیا کہ مردوں کی تعلیم سے زیادہ خواتین کی تعلیم اہمیت رکھتی ہے کیوں کہ اس سے ایک نئی بیداری پیدا ہو سکتی ہے اور یہ پورے ملک میں ایک نئی جان ڈال سکتی ہے۔

ہندوستان کے پہلے وزیر تعلیم کی حیثیت سے مولانا آزاد نے ایسے پروگرام اور پالیسیاں بنانے کی ضرورت کو اجاگر کیا جن کی مدد سے ملک میں تیز رفتار، ہمہ جہت اور سب کی شمولیت والے تعلیمی نظام کو اختیار کیا جا سکے۔ جنوری 1949   میں تعلیم کے مرکزی مشاورتی بورڈ کی میٹنگ میں انھوں نے کہا کہ ’’قومی حکومت کا اولین اور سب سے اہم ہدف یہ ہے کہ سب کے لیے مفت اور لازمی بنیادی تعلیم کی گنجائش ہو۔‘‘

اس طرح مولانا آزاد نے دو اہداف کو زیادہ اہمیت دی ۔ ایک اسکول جانے والے بچوں کی عمر کے سبھی بچوں کو بنیادی تعلیم مہیا کرانے کے لیے ایک ملک گیر نظام قائم کیا جائے۔ دوسرے یہ کہ تکنیکی شعبے میں اعلیٰ تعلیم کی سہولیات مہیا کرانے کی پوری پوری گنجائش ہو۔ 15  مارچ 1952  کو مرکزی مشاورتی بورڈ کی میٹنگ سے خطاب کرتے ہوئے انھوں نے ملک میں تعلیم کی توسیع کا پانچ نکاتی پروگرام شروع کرنے کی بات کہی۔ یہ پانچ نکات اس طرح تھے۔

۱۔       اسکول والی عمر کے سبھی بچوں کے لیے یکساں لازمی بنیادی تعلیم

۲۔      ناخواندہ بالغوں کے لیے معاشرتی تعلیم

۳۔      ثانوی اور اعلیٰ ثانوی تعلیم کی سہولیات کے معیار میں بہتری اور توسیع

۴۔      ملک کی ضروریات کے اعتبار سے تکنیکی اور سائنسی تعلیم کا فروغ

۵۔      معاشرے کی ثقافتی زندگی کو مزید تقویت عطا کرنے کی غرض سے اقدامات اور فنونِ لطیفہ کی حوصلہ افزائی نیز تفریحات کے لیے سہولیات مہیا کرانا۔

جنوری 1947   میں عبوری حکومت میں شامل ہونے کے بعد انھوں نے مختلف ادارے اور تنظیمیں قائم کیں۔ انھوں نے 1948   میں یونیورسٹی تعلیمی کمیشن اور 1952   میں ثانوی تعلیمی کمیشن مقرر کیے۔ یونیورسٹی گرانٹس کمیشن قائم کیا گیا جس کا مقصد ملک میں اعلیٰ تعلیم کا فروغ تھا۔ میڈیسن کے شعبے میں تحقیق و ترقی کے فروغ کے لیے انڈین کونسل فار ریسرچ قائم کیا۔

علم و سائنس کے مختلف شعبوں کو فروغ دینے کے ساتھ ساتھ انھوں نے ہندوستانی فنونِ لطیفہ کی ترویج اور اشاعت کا کام بھی کیا۔ ان کے نزدیک تعلیم محض ذہنی قویٰ کی بیداری کا نام نہیں بلکہ جذباتی آسودگی اور تہذیب و شائستگی کی تربیت بھی ضروری ہے۔ مولانا آزاد نے مصوری، موسیقی، رقص، فنِ سنگ تراشی اور ڈراما جیسے تمام فنون کو فروغ دینے کی غرض سے مختلف اکاڈیمیز قائم کیں۔ سنگیت ناٹک اکاڈیمی ، للت کلا اکادیمی اور ساتیہ اکادیمی سب مولانا آزاد کی پیش بندی اور دور اندیشی کا نتیجہ ہیں۔ مختلف ممالک سے تہذیبی و ثقافتی رشتوں کو مضبوط کرنے کے لیے انڈین کونسل فار کلچرل ریلیشنز ICCR  کی تشکیل کی۔

11  برس کی اپنی وزارتِ تعلیم کے عہدے کی مدت کے دوران مولانا آزاد نے بیش قیمت خدمات انجام دیں۔ وہ بنیادی طور پر ایک معلم تھے۔ ایک معلم اپنے طلبا کی ہمہ جہت نشو و نما پر توجہ مرکوز کرتا ہے۔ مولانا آزاد کو وزیرتعلیم کی حیثیت سے جب ملک کے پورے تعلیمی نظام کی شکل و صورت وضع کرنے کا موقع میسر آیا تو انھوں نے بطور معلم پورے ہندوستان کی ہمہ جہت نشو و نما کو اہمیت دی اور ہندوستانیوں میں قومی اور بین الاقوامی شعور کو فروغ دیا۔

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

 

 

مولانا آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
مولاناابوالکلام آزاد اورتعلیم نسواں – ڈاکٹر محمد اختر
اگلی پوسٹ
داستانوں کی ادبی و ثقافتی اہمیت آج بھی مسلّم ہے: شیخ عقیل احمد

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ...

جون 1, 2025

مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –...

جون 1, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں