Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

      تحقیق و تنقید

      کوثرمظہری کی تنقیدی کتابوں کا اجمالی جائزہ –…

      نومبر 19, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خصوصی مضامین

مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر – حقانی القاسمی

by adbimiras نومبر 26, 2021
by adbimiras نومبر 26, 2021 0 comment

جب سے دیکھی ابو الکلام کی نثر
نظم حسرت میں کچھ مزا نہ رہا
یہ مولانا حسرت کا اعتراف حقیقت ہے اور مولانا آزاد کو سچا خراج عقیدت بھی۔ مولانا آزاد کے معاصرین میں میر وغالب بھی ہوتے تو ان کی سوچ مولانا حسرت موہانی سے مختلف نہ ہوتی۔
سچ یہی ہے کہ مولانا آزاد (11؍نومبر1888-22؍ فروری1958)کی نثر میں اتنی مقناطیسیت، کشش اور قوت ہے کہ اس کے سامنے شاعری کی شمع بھی ماند پڑجاتی ہے۔ یہ مولانا کی نثر کا جادو ہی ہے کہ سجاد انصاری کو ’’محشر خیال ‘‘میں یہ کہنا پڑا کہ ’’میرا عقیدہ ہے کہ اگر قرآن نازل نہ ہوچکا ہوتا تو مولانا ابوالکلام کی نثر اس کے لیے منتخب کی جاتی۔‘‘
یہ بیان مبالغہ سہی مگر اس میں حقیقت کا اتنا عنصر ضرور شامل ہے کہ مولانا کی نثر اعجاز قرآنی سے بے حد متاثر ہے، قرآن کا جو اسلوب ہے اس کی نظیر دنیا کی کوئی بھی زبان پیش نہیں کرسکتی۔ اردو میں نثر کا یہ معجزہ مولانا آزاد کے قلم سے ظاہر ہوا۔ مولانا عبد الماجد دریابادی جیسے صاحب طرز ادیب اور انشا پرداز نے بھی تسلیم کیا کہ ’’مولانا آزاد اپنے طرز وانشا کے جس طرح موجد ہیں، اسی طرح اس کے خاتم بھی ہیں۔ تقلید کی کوشش بہتوں نے کی، پیروان غالب کی طرح تقریباً سب ہی ناکام رہے۔‘‘ انہوںنے صدق جدید 11؍مارچ 1958ء کے شمارے میں یہاں تک لکھ دیا کہ ’’حالی وشبلی کی سلاست، سادگی سر پیٹتی رہی، اکبر الٰہ آبادی اور عبدالحق موجودہ بابائے اردو سب ہائیں ہائیں کرتے رہ گئے۔‘‘
کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ جس کی مادری زبان عربی ہے اور جس کی عرب نژاد والدہ عالیہ بیگم کو یہ قطعی پسند نہیں تھا کہ ان کے بچے اردو میں باتیں کریں۔ وہ اردو میں اس درجہ کمال کو پہنچ جائے گا کہ اردو کی عظمت وجلالت کا سنگ نشان بن جائے اور ابوالکلامی ادب، اردو کا ایک مستقل باب قرار پائے اور تصنیفات کی اتنی قدر وقیمت ہو کہ کتب خانوں کی الماریوں میں نہیں دنیا کے دماغوں میں انہیں جگہ مل جائے۔
مولانا آزاد کو یہ بلند مقام ان کی بین العلومیت کے علاوہ اس نثری اسلوب کی وجہ سے حاصل ہوا ،جس کے بارے میں مولانا عبد الرزاق ملیح آبادی نے لکھا کہ ’’مولانا کی ہر تحریر ایسی ہے کہ عش عش کرتے رہئے۔‘‘ اعلیٰ انشا وادب کا ایسا نمونہ جس کی تقلید ممکن نہیں۔ تحریر پڑھتے وقت ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس دنیا سے پرے کوئی غیبی آواز بول رہی ہے۔
قلم کو نغمہ اور کاغذ کو رنگ عطا کرنے والے ابوالکلام آزاد نے اردو ادب کو ایک نیا اسلوب دیا، ایک نیا انداز بیان جس کا اعتراف ان کے معاصرین کو بھی ہے اور مخالفین کو بھی۔
مولانا کا نثری اسلوب، اردو کے بنیادی اسالیب سے بالکل مختلف ہے اور ان کا اسلوب موضوع اور مبحث کی مناسبت سے تبدیلیوں کے عمل سے بھی گزرا ہے۔ اسلوبیاتی ناقد پروفیسر مرزا خلیل احمد بیگ نے لکھا ہے کہ ’’آزاد نے اپنی نگارشات میں زبان کے اطلاعی (Informative)، ہدایتی (Directive) اور اظہاری (Expressive) تینوں اسالیب سے کام لیا ہے۔‘‘
تذکرہ کا اسلوب ترجمان القرآن سے الگ ہے۔ خطبات آزاد کا اسلوب غبار خاطر سے مختلف ہے۔
مولانا آزاد کی نثر میں اس اسلوبیاتی تنوع کی وجہ بھی ظاہر ہے۔ ان کے سامنے انشا کے بہت سے اسالیب تھے۔ سحبان بن وائل کی خطیبانہ نثر بھی تھی، مقامات کی لازوال نثر کا وہ نمونہ بھی تھا جس میں مقفی، مسجع عبارتوں کے علاوہ یہ التزام بھی تھا کہ ایک مقامہ میں موضوعی الفاظ (Content words) کا دوبارہ استعمال نہ ہو، ابن رشد اور ابن عربی کی کلامیہ نثر بھی سامنے تھی۔ عربی اور فارسی کے نثری اور شعری اسالیب کا خزانۂ عامرہ ان کے ذہن میں تھا۔ ایک طرف ان کا ذہنی رشتہ ابن خلدون، ابن رشد، ابن عربی، ابن تیمیہ، ارسطو، البیرونی، جمال الدین افغانی اور الجاحظ سے تھا تو دوسری طرف ام کلثوم، طاہرہ، طنطاویہ کے علاوہ جامی، حافظ، حزیں، خسرو وخیام، رومی وسعدی، شیرازی، سنائی وسودا، صائب وعرفی، غالب وغنی، فردوس، قاآنی، متمم ومتنبی سے بھی تھا۔
ان تمام اسالیب کے امتزاج سے مولانا آزاد نے جو اپنا اسلوب وضع کیا، وہ منفرد قرار پایا۔ ان کے اسلوب میں جزالت و بلند آہنگی ہے، اس کے لیے جتنے بھی Adjectives استعمال کیے جائیں ناکافی ہیں۔ اس اسلوب میں اتنی موسیقیت ہے کہ قاری ان کے لفظوں کے زیر وبم میں گم سا ہوجاتا ہے۔ عربی اور فارسی سے نابلد بھی ان کی تحریروں میں ایک عجب سی کشش محسوس کرتا ہے۔ مولانا کی تحریر اتنی موسیقیت ریز اس لیے ہوتی ہے کہ موسیقی سے ان کی زندگی اور ذہن کا بہت ہی گہرا رشتہ ہے۔ انہوںنے ’’غبار خاطر‘‘ میں لکھا ہے کہ: ’’میں زندگی کی احتیاجوں میں سے ہر چیز کے بغیر خوش رہ سکتا ہوں لیکن موسیقی کے بغیر نہیں رہ سکتا۔ آوازِ خوش میرے لیے زندگی کا سہارا، دماغی کاوشوں کا مداوا اور جسم و دل کی ساری بیماریوں کا علاج ہے۔‘‘
مولانا آزاد ایک مفکر، دانشور اور مدبر تھے۔ انہوںنے مذہب، تاریخ، فلسفہ سے متعلق نہایت اعلیٰ درجے کے عالمانہ، دانشورانہ مضامین لکھے ہیں۔ سنجیدہ علمی نثر لکھنے والے ابوالکلام آزاد کی تحریروں میں طنز کی نشتریت ملتی ہے، مگر یہ طنز شائستگی کے دائرے میں ہے۔ طنز کی اخلاقیات اور اس کے حدود کا پاس رکھتے ہوئے ذہن اور ضمیر کو جھنجھوڑنے کے لیے طنز کا بھی سہارا ہے۔ یوں تو ان کی بہت سی تحریروں میں طنز کے نمونے ملتے ہیں، مگر یہاں ’’غبار خاطر‘‘ کا ایک اقتباس پیش ہے، جس میں تحولِ نظر اور تحویلِ صورت سے طنز کی کیفیت پیدا کی گئی ہے،ذکر صلیبی جہاد کا ہے، اس ضمن میں آزاد لکھتے ہیں:
’’یورپ مجنونانہ جوش کا علمبردار تھا۔ مسلمان علم ودانش کے علمبردار تھے۔ یورپ دعاؤں کے ہتھیار سے لڑنا چاہتاتھا، مسلمان لوہے اور آگ کے ہتھیاروں سے لڑتے تھے۔ یورپ کا اعتماد صرف خدا کی مدد پر تھا، مسلمانوں کا یقین خدا کی مدد پر بھی تھا لیکن خدا کے پیدا کیے ہوئے سرو سامان پر بھی تھا۔ ایک صرف روحانی قوتوں کا معتقد تھا، دوسرا روحانی اور مادی دونوں کا۔
یہ حال تو تیرہویں صدی اور مسیحی کا تھا لیکن چند صدیوں کے بعد جب پھر یورپ اور مشرق کا مقابلہ ہوا تو اب صورت حال یکسر الٹ چکی تھی۔ اب دونوں جماعتوں کے متضاد خصائص اسی طرح نمایاں تھے جس طرح صلیبی جنگ کے عہد میں رہے تھے اور جو جگہ مسلمانوں کی تھی اسے اب یورپ نے اختیار کرلیا تھا۔
اٹھارہویں صدی کے اواخر میں جب نپولین نے مصر پر حملہ کیا تو مراد بک نے جامع ازہر کے علماء کو جمع کرکے ان سے مشورہ کیا تھا کہ اب کیا کرنا چاہئے۔ علمائے ازہر نے بالاتفاق یہ رائے دی تھی کہ جامع ازہر میں صحیح بخاری کا ختم شروع کردینا چاہئے کہ انجاح مقاصد کے لیے تیر بہدف ہے چنانچہ ایسا ہی کیاگیا لیکن ابھی صحیح بخاری کا ختم، ختم نہیں ہوا تھا کہ اہرام کی لڑائی نے مصری حکومت کا خاتمہ کردیا۔
انیسویں صدی کے اوائل میں جب روسیوں نے بخارا کا محاصرہ کیا تھا تو امیر بخارا نے حکم دیا کہ تمام مدرسوں اور مسجدوں میں ختم خواجگان پڑھاجائے۔ ادھر روسیوں کی قلعہ شکن توپیں شہر کا حصار منہدم کررہی تھیں، ادھر لوگ ختم خواجگان کے حلقوں میں بیٹھے یا مقلب القلوب یا محول الاحوال کے نعرے بلند کررہے تھے۔ بالآخر وہی نتیجہ نکلا جو ایک ایسے مقابلہ کا نکلنا تھا جس میں ایک طرف گولہ وباردو اور دوسری طرف ختم خواجگان!‘‘۔
علما کی دقیانوسی طرز فکر اور اندھی مذہب پرستی اور بے شعوری بے بصیرتی پر اس سے گہراطنز اور کیا ہوسکتا ہے۔
ایک اور طنزیہ اقتباس:
’’ان زلزلوں سے ڈرتے ہو، کبھی تم خود ایک زلزلہ تھے۔ آج اندھیرے سے کانپتے ہو، کیا یاد نہیں کہ ہمارا وجود ایک اجالا تھا۔ یہ بادلوں نے میلا پانی برسایا ہے، تم نے بھیگ جانے کے خدشے سے اپنے پائینچے چڑھا لیے ہیں۔ وہ تمہارے ہی اسلاف تھے جو سمندروں میں اترگئے، پہاڑوں کی چھاتیوں کو روند ڈالا، بجلیاں آئیں تو ان پرمسکرادیے۔ بادل گرجے تو قہقہوں سے جواب دیا۔ صرصر اٹھی تو اس کا رخ پھیر دیا۔ آندھیاں آئیں تو ا ن سے کہا کہ تمہارا راستہ یہ نہیں ہے۔ یہ ایمان کی جاں کنی ہے کہ شہنشاہوں کے گریباں سے کھیلنے والے آج خود اپنے گریبانوں سے کھیلنے لگے۔‘‘
یہ تعمیری طنز کے نمونے ہیں جس سے نہ کسی کی دل آزاری ہوتی ہے، نہ کسی کے جذبہ کو ٹھیس پہنچتی ہے۔ یہ ضمیر اور ذہن پر تازیانے ہیں، یہ کم ہمتی اور بے عملی پر وار ہے۔
مولانا آزاد ایک متبحر عالم تھے مگر زاہدانہ تقشف سے ان کا کوئی رشتہ نہیں تھا، سنجیدہ، اور متین تھے مگر طبیعت میں شوخی تھی، مرنجان مرنج اور بذلہ سنج تھے۔ غبار خاطر میں مولانا آزاد نے خود لکھا ہے کہ:
’’زمانہ حال کے ایک فرانسیسی اہل قلم آندرے ژید کی ایک بات مجھے بہت پسند آئی جو اس نے اپنی خود نوشتہ سوانح میں لکھی ہے: خوش رہنا محض ایک طبعی احتیاج ہی نہیں ہے بلکہ ایک اخلاقی ذمہ داری ہے یعنی ہماری انفرادی زندگی کی نوعیت کا اثر صرف ہم ہی تک محدود نہیں رہتا، وہ دوسروں تک بھی متعدی ہوتا ہے یا یوں کہئے کہ ہماری ہر حالت کی چھوت دوسروں کو بھی لگتی ہے اس لئے ہمارا اخلاقی فرض ہوا کہ خود افسردہ خاطر ہوکر دوسروں کو افسردہ خاطر نہ بنائیں۔ ہماری زندگی ایک آئینہ خانہ ہے، یہاں ہر چہرے کا عکس بیک وقت سیکڑوں آئینوں میں پڑنے لگتا ہے۔ اگر ایک چہرے پر غبار آئے گا تو سیکڑوں چہرے غبار آلود ہوجائیںگے۔‘‘
اسی خوش طبعی کے نتیجے میں آزاد کی وہ تحریریں وجود میں آئیں جن کے بارے میں مالک رام نے لکھا ہے کہ:’’ اس میں وہ گل افشانیاں کی ہیں کہ صفحہ کاغذ کو کشت زعفران بنا کے رکھ دیا ہے۔‘‘ مالک رام نے جن تحریروں میں بین السطور مزاح کی نشان دہی کی ہے، ان میں چڑیا چڑے کی کہانی، احمد نگر کے قلعے میں باورچی رکھنے کا قصہ اور ڈاکٹر سید محمود کی گوریاؤں کی ضیافت کا سامان کرنا اور قلندراور ملا کا حال شامل ہیں۔ اس کے علاوہ الہلال کے کچھ سیاسی مضامین میں ہلکا سا فکاہی رنگ تو آیا ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مزاح سے مولانا آزاد کی ایک طبعی مناسبت تھی اور یوں بھی حس مزاح ایک وہبی چیز ہے، اکتسابی نہیں۔ یہ ہرزندہ دل انسان میں موجود ہوتی ہے۔ مولانا نے اس حس مزاح کا کتنا استعمال اپنی تحریروں میں کیا ہے، یہ الگ بحث ہے مگر ان کی بعض تحریروں میں سنجیدہ مزاح کی کیفیت پائی جاتی ہے۔
’’آج کل حسن کی نمائشوں میں خوبروئی اور دلآویزی کا جو فتنہ گر سب سے زیادہ کامیاب ہوتا ہے اسے پورے ملک کی نسبت سے موسوم کردیا کرتے ہیں مثلاً کہیںگے مس انگلینڈ، مادی موازیل فرانس، گویا ایک حسین چہرے کے چمکنے سے سارے ملک وقوم کا چہرہ دمک اٹھتا ہے۔‘‘
طنز ومزاح مولانا آزاد کی شخصیت کا نہایت خفی اور ضمنی عنوان ہے، اسے موجودہ دور میں طنز ومزاح کی موجودہ صورت جس میں پھکڑپن اور ابتذال کی بہتات ہے۔ جلی عنوان کے طور پر پیش کرنے سے شاید ان کی علمی شخصیت مجروح بھی ہوسکتی ہے۔یہ میرا خیال ہے کہ جو غلط بھی ہوسکتا ہے اور اپنے اس خیال کی تائید میں مولانا آزاد کا ہی حوالہ دینا چاہوںگا۔ انہوںنے غبار خاطر میں لکھا ہے کہ ’’قوموں کے عروج وترقی کے زمانے میںجو اشتغال تحسین فکر اور تہذیب طبع کا باعث ہوتا ہے وہی دور تنزل میں فکر کے لیے آفت اور طبیعت کے لیے مہلکہ بن جاتا ہے۔ ایک ہی چیز حسن استعمال اور اعتدال عمل سے فضل وکمال کا زیور ہوتی ہے اور سوء استعمال اور افراط وتفریط کے عمل سے بداخلاقی اور صدعیبی کا دھبہ بن جاتی ہے۔‘‘
مجھے نہیں لگتا کہ اس سے آگے کچھ اور کہنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر وزیر آغا نے اپنی کتاب ’’اردو ادب میں طنز ومزاح‘‘ میں لکھا ہے:
’’الہلال کے افکار وحوادث میں مزاح کا فقدان ہے تاہم سنجیدہ طنز اور رمز کے بہت سے نمونے مل جاتے ہیں۔‘‘
ان ہی کی رائے ہے کہ’’ افکار وحوادث‘‘ میں طنز اور رمز کی تو شدت ہے لیکن مزاح کے عناصر دب گئے ہیں۔‘‘
اور سچی بات یہی ہے کہ مولانا کی مزاح وہ فنی تقاضے پورا نہیں کرتی کہ مزاح کا اپنا ایک مخصوص مزاج ہوتا ہے۔

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

حقانی القاسمیمولانا ابو الکلام آزادمولانا آزاد
0 comment
0
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
شگفتہ مزاج: محمد زماں آزردہ – پروفیسرابن کنول
اگلی پوسٹ
مال حرام اور بد نصیب انسان – شمشیر عالم مظاہری دربھنگوی

یہ بھی پڑھیں

گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

جولائی 26, 2025

نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا...

فروری 1, 2025

لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست...

جنوری 21, 2025

بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو –...

جنوری 21, 2025

اردو کی زبوں حالی – ماریہ غزال

جنوری 18, 2025

مظفر فہمی “پر ایک طائرانہ نظر- ڈاکٹر منصور...

جنوری 6, 2025

دار المصنفین – ڈاکٹر ظفرالاسلام خان

اکتوبر 8, 2024

دارالمصنفین کی مالیات کا مسئلہ : کیا کوئی...

اکتوبر 7, 2024

سچ، عدم تشدد اور مہاتما گاندھی – سید...

اکتوبر 3, 2024

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (118)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں