Adbi Miras
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
مقبول ترین
تحقیق: معنی و مفہوم ۔ شاذیہ بتول
تدوین متن کا معروضی جائزہ – نثار علی...
ترجمہ کا فن :اہمیت اور مسائل – سیدہ...
سر سید کی  ادبی خدمات – ڈاکٹر احمد...
آغا حشر کاشمیری کی ڈراما نگاری (سلور کنگ...
حالیؔ کی حالات زندگی اور ان کی خدمات...
ثقافت اور اس کے تشکیلی عناصر – نثار...
تحقیق کیا ہے؟ – صائمہ پروین
منٹو کی افسانہ نگاری- ڈاکٹر نوشاد عالم
منیرؔنیازی کی شاعری کے بنیادی فکری وفنی مباحث...
  • سر ورق
  • اداریہ
    • اداریہ

      نومبر 10, 2021

      اداریہ

      خصوصی اداریہ – ڈاکٹر زاہد ندیم احسن

      اکتوبر 16, 2021

      اداریہ

      اکتوبر 17, 2020

      اداریہ

      ستمبر 25, 2020

      اداریہ

      ستمبر 7, 2020

  • تخلیقی ادب
    • گلہائے عقیدت
    • نظم
    • غزل
    • افسانہ
    • انشائیہ
    • سفر نامہ
    • قصیدہ
    • رباعی
  • تنقیدات
    • شاعری
      • نظم فہمی
      • غزل شناسی
      • مثنوی کی تفہیم
      • مرثیہ تنقید
      • شاعری کے مختلف رنگ
      • تجزیے
    • فکشن
      • ناول شناسی
      • افسانہ کی تفہیم
      • افسانچے
      • فکشن کے رنگ
      • فکشن تنقید
    • ڈرامہ
    • صحافت
    • طب
  • کتاب کی بات
    • کتاب کی بات

      فروری 2, 2026

      کتاب کی بات

      فروری 1, 2026

      کتاب کی بات

      دسمبر 14, 2025

      کتاب کی بات

      ستمبر 29, 2025

      کتاب کی بات

      جولائی 12, 2025

  • تحقیق و تنقید
    • تحقیق و تنقید

      کیا نقاد کا وجود ضروری ہے؟ – شمس…

      مئی 5, 2026

      تحقیق و تنقید

      تانیثی ادب کی شناخت اور تعیّنِ قدر –…

      جنوری 10, 2026

      تحقیق و تنقید

      دبستانِ اردو زبان و ادب: فکری تناظری –…

      جولائی 10, 2025

      تحقیق و تنقید

      جدیدیت اور مابعد جدیدیت – وزیر آغا

      جون 20, 2025

      تحقیق و تنقید

      شعریت کیا ہے؟ – کلیم الدین احمد

      دسمبر 5, 2024

  • اسلامیات
    • قرآن مجید (آڈیو) All
      قرآن مجید (آڈیو)

      سورۃ یٰسین

      جون 10, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      قرآن مجید (آڈیو)

      جون 3, 2021

      اسلامیات

      قرآن کو سمجھ کر پڑھنے کا معمول بنائیے!…

      اپریل 11, 2026

      اسلامیات

      قربانی سے ہم کیا سیکھتے ہیں – الف…

      جون 16, 2024

      اسلامیات

      احتسابِ رمضان: رمضان میں ہم نے کیا حاصل…

      اپریل 7, 2024

      اسلامیات

      رمضان المبارک: تقوے کی کیفیت سے معمور و…

      مارچ 31, 2024

  • متفرقات
    • ادب کا مستقبل ادبی میراث کے بارے میں ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف تحفظ مادری زبان تراجم تعلیم خبر نامہ خصوصی مضامین سماجی اور سیاسی مضامین عالمی ادب فکر و عمل نوشاد منظر Naushad Manzar All
      ادب کا مستقبل

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

      ادب کا مستقبل

      غزل – عقبیٰ حمید

      نومبر 1, 2024

      ادب کا مستقبل

      ہم کے ٹھرے دکن دیس والے – سیدہ…

      اگست 3, 2024

      ادب کا مستقبل

      نورالحسنین :  نئی نسل کی نظر میں –…

      جون 25, 2023

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ایک اہم ادبی حوالہ- عمیرؔ…

      اگست 3, 2024

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب کی ترویج کا مرکز: ادبی میراث –…

      جنوری 10, 2022

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادبی میراث : ادب و ثقافت کا ترجمان…

      اکتوبر 22, 2021

      ادبی میراث کے بارے میں

      ادب و ثقافت کا جامِ جہاں نُما –…

      ستمبر 14, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      سائیں منظورحیدرؔ گیلانی ایک تعارف – عمیرؔ یاسرشاہین

      اپریل 25, 2022

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر ابراہیم افسر

      اگست 4, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      جنید احمد نور

      اگست 3, 2021

      ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف

      ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی

      اگست 3, 2021

      تحفظ مادری زبان

      ملک کی تعمیر و ترقی میں اردو زبان و ادب…

      جولائی 1, 2023

      تحفظ مادری زبان

      عالمی یومِ مادری زبان اور ہماری مادری زبان…

      فروری 21, 2023

      تحفظ مادری زبان

      اردو رسم الخط : تہذیبی و لسانیاتی مطالعہ:…

      مئی 22, 2022

      تحفظ مادری زبان

      کچھ اردو رسم الخط کے بارے میں –…

      مئی 22, 2022

      تراجم

      ڈاکٹر محمد ریحان: ترجمہ کا ستارہ – سیّد…

      اکتوبر 13, 2025

      تراجم

      کوثر مظہری کے تراجم – محمد اکرام

      جنوری 6, 2025

      تراجم

      ترجمہ نگاری: علم و ثقافت کے تبادلے کا…

      نومبر 7, 2024

      تراجم

      ماں پڑھتی ہے/ ایس آر ہرنوٹ – وقاراحمد

      اکتوبر 7, 2024

      تعلیم

      بچوں کا تعلیمی مستقبل اور والدین کی ذمہ…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      مخلوط نصاب اور دینی اقدار: ایک جائزہ –…

      جون 1, 2025

      تعلیم

      ڈاکٹر اقبالؔ کے تعلیمی افکار و نظریات –…

      جولائی 30, 2024

      تعلیم

      کاغذ، کتاب اور زندگی کی عجیب کہانیاں: عالمی…

      اپریل 25, 2024

      خبر نامہ

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      خبر نامہ

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      خبر نامہ

      قطر میں علیگڑھ مسلم یونیورسٹی الومنائی ایسوسی ایشن…

      اکتوبر 27, 2025

      خبر نامہ

      بزمِ اردو قطر کے زیرِ اہتمام سالانہ مجلہ…

      اکتوبر 26, 2025

      خصوصی مضامین

      گلوبلائزیشن اور اردو اَدب – ڈاکٹر نسیم احمد نسیم

      جولائی 26, 2025

      خصوصی مضامین

      نفرت انگیز سیاست میں میڈیا اور ٹیکنالوجی کا…

      فروری 1, 2025

      خصوصی مضامین

      لال کوٹ قلعہ: دہلی کی قدیم تاریخ کا…

      جنوری 21, 2025

      خصوصی مضامین

      بجھتے بجھتے بجھ گیا طارق چراغِ آرزو :دوست…

      جنوری 21, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      صحت کے شعبے میں شمسی توانائی کا استعمال:…

      جون 1, 2025

      سماجی اور سیاسی مضامین

      لٹریچر فیسٹیولز کا فروغ: ادب یا تفریح؟ –…

      دسمبر 4, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      معاشی ترقی سے جڑے کچھ مسائل –  محمد…

      نومبر 30, 2024

      سماجی اور سیاسی مضامین

      دعوتِ اسلامی اور داعیانہ اوصاف و کردار –…

      نومبر 30, 2024

      عالمی ادب

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      فکر و عمل

      حسن امام درؔد: شخصیت اور ادبی کارنامے –…

      جنوری 20, 2025

      فکر و عمل

      کوثرمظہری: ذات و جہات – محمد اکرام

      اکتوبر 8, 2024

      فکر و عمل

      حضرت مولاناسید تقی الدین ندوی فردوسیؒ – مفتی…

      اکتوبر 7, 2024

      فکر و عمل

      نذرانہ عقیدت ڈاکٹر شاہد بدر فلاحی کے نام…

      جولائی 23, 2024

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      جولائی 12, 2025

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      رسالہ ’’شاہراہ‘‘ کے اداریے – ڈاکٹر نوشاد منظر

      دسمبر 30, 2023

      نوشاد منظر Naushad Manzar

      قرون وسطی کے ہندوستان میں تصوف کی نمایاں…

      مارچ 11, 2023

      متفرقات

      جامعہ پریم چند آرکائیو ز اینڈ لٹریری سینٹر…

      فروری 27, 2026

      متفرقات

      عائشہ عودہ کی خودنوشت أحلام بالحریۃ : ڈاکٹر…

      جنوری 10, 2026

      متفرقات

      دوحہ (قطر) میں شاندار عالمی مشاعرے کا اہتمام

      جنوری 3, 2026

      متفرقات

      غزل – صائمہ مقبول

      جنوری 3, 2026

  • ادبی میراث فاؤنڈیشن
Adbi Miras
خاکہ

شگفتہ مزاج: محمد زماں آزردہ – پروفیسرابن کنول

by adbimiras نومبر 25, 2021
by adbimiras نومبر 25, 2021 1 comment

کہتے ہیں کہ آدمی کی پہچان دو باتوں سے ہوتی ہے، ایک تو اس سے لین دین کیا ہو یا اس کے ساتھ سفر کیا ہو۔ پروفیسر محمد زماں آزردہ کے ساتھ ہمارا روپے پیسے کا لین دین تو کچھ نہیں رہا اور رہتا بھی کیوں؟ الحمدللہ دونوں کے حالات ابھی تک ایسے ہیں کہ دال روٹی بلکہ گوشت روٹی مزے سے چل رہی ہے۔ تھوڑا بہت لین دین ہے وہ اخروٹ بادام کا۔ دین اُن کا ہے لین ہمارا ہے، یعنی خشک میوہ ان کی طرف سے دیا جاتا ہے، ہماری طرف سے لیا جاتا ہے۔ ہم واپسی کے طور پر شکر ادا کردیتے ہیں، اتنی تو ہماری حیثیت ہے۔ اب رہی بات سفر کی تو سفر ہم دونوں نے ملکی اور غیرملکی کئی کیے ہیں اور ہر سفر کے بعد خوشی خوشی ایک دوسرے سے رخصت لی ہے۔ یعنی دونوں باتوں میں ابھی تک ہم دونوں کھرے اُترے ہیں اور ابھی تک ایسے تعلقات ہیں کہ غائبانہ بھی ایک دوسرے کی برائی یعنی غیبت نہیںکرتے۔ یہ بات مجھے حیران کرتی ہے اور انھیں بھی شاید کرتی ہو۔

میرے اور زماں صاحب کی عمروں میں کافی فاصلہ ہے۔ زماں صاحب سے میرے غائبانہ تقریباً چالیس سال سے اور مشفقانہ قریب تیس سال سے تعلقات ہیں۔ مشفقانہ اس لیے کہہ رہا ہوں کہ وہ جب ملتے ہیں تو رویہ شفیقانہ رہتا ہے اور باتیں دوستانہ ہوتی ہیں۔ کشمیر اور کشمیریوں کی خوبصورتی سب کو بھاتی ہے، ہمیں بھی پسند ہے۔ طالب علمی کے زمانے میں ’’کشمیر کی کلی‘‘ اور ’’بابی‘‘ فلموں کے علاوہ بہت سی فلموں میں کشمیر کا حسن دیکھا تھا۔ ۱۹۸۴ئ میں حقیقت میں دیکھا، جب ہم کشمیر یونیورسٹی میں لیکچررشپ کے انٹرویو کے لیے گئے۔ انٹرویو کا نتیجہ جو ہونا تھا سو ہوا، لیکن کشمیر کے بارے میں جو کچھ سنا تھا سو آنکھوں سے دیکھ لیا۔ یوں بھی سنی سنائی باتوں پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔ بزرگوں کا کہنا ہے کہ آنکھوں سے دیکھو، کانوں سے سنو، ہاتھوں سے چھوؤ، تب کسی بات پر یقین کرو۔ ان مراحل سے گزرنے کے بعد مغلوں کی پسند پر ہمیں شک نہیں ہوا۔ ۱۹۸۴ میں زماں صاحب سے ہماری ملاقات تو نہیں ہوئی، لیکن یہ ضرور معلوم ہوگیا کہ ’’شیریں کے خطوط‘‘، ’’غبار خیال‘‘، ’’غبار کارواں‘‘، ’’اور وہ ٹاپ کرگئی‘‘ کے مصنف اسی شعبہ میں ہیں۔ کچھ مسرت کا احساس بھی ہوا کہ اگر خدا نخواستہ ہمارا تقرر ہوگیا تو اس معروف انشائیہ نگار کے ساتھ کچھ اُٹھ بیٹھ کر ہم بھی انشا پردازی سیکھ لیں گے۔ اور یہ بھی معلوم کرلیں گے کہ شیریں کے خطوط آپ کو کہاں سے ملے، وہ تو ہمارے پاس تھے۔ خیر اس کی نوبت ہی نہیں آئی، استاد محترم پروفیسر خواجہ احمد فاروقی کے ایکسپرٹ ہونے کے باوجود تقرر کسی اور کا ہوگیا۔ دراصل خواجہ صاحب نہیں چاہتے تھے کہ ہم جیسا لائق آدمی دہلی یونیورسٹی کو چھوڑکر کہیں اور جائے۔ انھیں شاید کامل یقین تھا کہ دیر سویر دہلی یونیورسٹی میں ہی ہماری روزی روٹی کا انتظام ہو ہی جائے گا۔ خواجہ تھے اس لیے ان کا اندازہ صحیح نکلا۔

بیسویں صدی کی آخری دہائی میں زماں صاحب سے باقاعدہ ملاقاتیں شروع ہوگئیں۔ وہ دہلی بہت آتے جاتے ہیں۔ جس طرح ہمیں کشمیر اور کشمیریوں سے محبت ہے، انھیں دہلی والوں سے بہت لگائو ہے۔ بزرگوں سے کم جوانوں سے زیادہ۔ دراصل زماں صاحب خود کو بوڑھا نہیں ہونے دیتے۔ وہ خالد علوی یا خالد اشرف سے مل کر جتنا خوش ہوتے ہیں اُن کے اساتذہ سے ملنے کے بعد نہیں۔ خالد علوی ماشائ اللہ ابھی تک کنوارے ہیں اور خالد اشرف شادی شدہ ہوکر بھی کنوارے جیسے ہیں۔ ان کی خوش مزاجی ہی کی وجہ سے ہی ہم جیسے جوانوں کے رشتے ان سے خوش گوار ہیں۔ زماں صاحب بنیادی طور پر انشائیہ نگار ہیں اور انشائیہ نگار بوڑھا ہو ہی نہیں سکتا۔ جس دن ذہنی طور پر بوڑھا ہوجائے گا نقاد بن جائے گا۔ ان کی طبیعت میں ابتدا ہی سے شگفتگی ہے۔ ۱۹۸۳ئ میں شائع ہونے والی ان کی پہلی کتاب ’’غبار خیال‘‘ ہی انشائیوں کا مجموعہ ہے۔ زماں صاحب کی خوش مزاجی دیکھ کر ہی شاید ان کا تقرر بہت جلد شعبۂ اردو، کشمیر یونیورسٹی میں بحیثیت استاد ہوگیا، جبکہ ان کا پی ایچ ڈی بھی مکمل نہیں ہوا تھا۔ اس وقت کشمیر کے شعبۂ اردو میں جمال پرست ڈاکٹر شکیل الرحمن اور ترقی پسند ناقد ڈاکٹر محمد حسن بھی موجود تھے۔ اس وقت کے شیخ الجامعہ نے سوچا ہوگا کہ شعبہ میں اس لڑکے کی آمدسے کچھ تنقیدی ماحول میں شگفتگی پیدا ہوگی۔ میرا خیال ہے ڈاکٹر شکیل الرحمن کی جمالیاتی حِس کشمیر میں رہنے کی وجہ سے کچھ زیادہ ہی بیدار ہوئی۔ انھوں نے ہر صنف کو جمالیاتی نظر سے دیکھا۔ یہی حال زماں صاحب کا ہے، آپ کچھ دیر ان کے ساتھ بیٹھ جائیے ان کی جمال پرستی کا اندازہ ہوجائے گا۔ ویسے کشمیر میں رہ کر بھی اگر کوئی جمال پرست نہ ہوا تو اس کی بے حسی پر ماتم ہی کیا جاسکتا ہے۔ کشمیر کے حسین قدرتی مناظر سے تو نابینا بھی محظوظ ہوتے ہیں۔ زماں صاحب مزاجاً اور عملاً نقاد نہیں ہیں، وہ محض مجبوراً نقاد ہیں اور اس کی وجہ بھی یہ ہے کہ کچھ عرصہ پروفیسر محمد حسن جیسے ناقد کی سرپرستی انھیں حاصل رہی۔ دراصل ان کی پی ایچ ڈی کے دو نگراں تھے۔ پہلے پروفیسر محمد حسن، بعد میں پروفیسر شکیل الرحمن۔ لائق اور پڑھنے لکھنے والے اسکالر کی نگرانی عموماً مشکل ہوتی ہے۔ اپنی عزت کے جانے کا خطرہ بھی رہتا ہے۔ گھر کے دبائو میں آکر ریسرچ کرنے والے طلبائ کو جیسا اساتذہ بتادیتے ہیں خاموشی سے کرلیتا ہے، لیکن لکھنے پڑھنے والا طالب علم استاد کا بھی امتحان لے لیتا ہے۔ زماں صاحب کو اسکول کے زمانے سے ہی لکھنے پڑھنے کا شوق ہوگیا تھا، اس لیے مرزا سلامت علی دبیر پر تحقیقی مقالہ لکھتے وقت لکھنؤ کی گلیوں کی ایسی خاک چھانی کہ خود مرزا دبیر کا سلامت رہنا مشکل ہوگیا۔ دبیر کے خاندان والوں اور لکھنؤ کے بزرگان ادب نے منت و سماجت کرکے انھیں واپس سری نگر بھیجا کہ میاں دبیر کے بارے میں آپ جتنا لکھ دوگے ہم اُسے ہی کافی سمجھیں گے۔ دراصل مرزا محمد زماں آزردہ اپنے نام کی مرزائیت کے سبب مرزا دبیر سے اپنی رشتے داری ثابت کرنے میں لگے ہوئے تھے۔ مرزا دبیر پر تحقیق کرنے کی اُن کی وجہ یہی تھی کہ وہ بھی مرزا تھے۔ اگر انیس میر کے بجائے مرزا ہوتے تو ان کی طرف بھی توجہ دی جاتی۔ خاندان میں بدنامی سے بچنے کے لیے مرزا غالب سے رشتہ داری نکالنے کی زماں صاحب نے کوشش ہی نہیں کی۔ خواہ مخواہ لوگ کانٹوں میں گھسیٹتے۔ ’’کانٹے‘‘ ان کے پاس پہلے سے موجود تھے، ان کا مزاج تو ہر ایک راستے پر ’’گلدستہ‘‘ لے کر کھڑے رہنے کا ہے۔

زماں صاحب کے ساتھ ہم نے دو غیرملکی سفر کیے۔ پہلے ۲۰۰۳ میں ایک عالمی کانفرنس میں ماریشس گئے، جس میں ہمارے اور زماں صاحب کے علاوہ اردو کے بہت سے نامور ادیبوں اور شاعروں نے شرکت کی تھی، مثلاً احمد فراز، کشور ناہید، ندا فاضلی، ڈاکٹر ڈیوڈ میتھیوز، ڈاکٹر لُڈمیلا واسیلیوا، ایرینا میکسی مینکو، رضا علی عابدی، پروفیسر عبدالحق، پروفیسر امیر عارفی، تاش مرزا، پروفیسر شمیم حنفی، پروفیسر فتح محمد ملک وغیرہ شامل تھے۔ اگست کا مہینہ تھا، ہمارے یہاں گرمی تھی، لیکن وہاں سردی کا موسم تھا۔ ماریشس کے لوگوں کی مہمان نوازی دیکھنے لائق تھی۔ ماریشس کے نائب صدر جناب عبدالرئوف بندھن سے لے کر جناب عبداللہ، شہزاد عبداللہ، عنایت حسین عیدن، صابر گودڑ سبھی تواضع میں لگے ہوئے تھے۔ ماریشس میں ہمارے کچھ شاگرد بھی ہیں، ان کی مدد سے زماں صاحب کی ہمراہی میں ماریشس کی سیر کی۔ زماں صاحب قدرتی مناظر کے درمیان رہنے والے – کشمیر کی خوبصورتی کا موریشس سے موازنہ بھی کرتے۔ ماریشس سے موازنہ بھی کرتے۔ماریشس میں اگر سمندر ہے تو ان کے ڈل جھیل ہے۔ بس دونوں جگہ کے نظاروں میں مغرب و مشرق جیسا فرق ہے۔ بعض مناظر کو دیکھنے کی شریعت اجازت دیتی تھی بعض کو نہیں۔ دیکھنا اس لیے پڑتا تھا کہ معلوم تو ہو یہ منظر غیرشرعی کیوں ہیں۔ کیوں منع کیا گیا  ہے۔ سمندر کے ساحل پر غیرملکی مرد عورتوں کی کم لباسی دیکھ کر بڑا دکھ ہوتا تھا کہ اتنے ترقی یافتہ ملکوں میں کپڑے کی کتنی قلت ہے۔ ایک ہمارا ملک ہے، کپڑے کی اتنی زیادتی ہے کہ کپڑوں کے اوپر برقع بھی پہن لیتے ہیں۔ شاید اسی لیے منع کیا گیا ہے کہ ان بے لباس لوگوں کی حالت ہم کپڑے والے برداشت نہیں کرسکیں گے۔ بہرحال جب بھی کوئی حسین منظر نظر آتا، ہم اپنا کیمرہ نکالتے، زماں صاحب اپنے تھیلے میں سے کیمرہ نکال کر نظارہ قید کرتے۔ زماں صاحب کہیں بھی ہوں ان کے کندھے پر کپڑے کا وہ تھیلا جو عموماً کھادی کا کرتا پہننے والے کامریڈوں کے کندھے پر ہوتا ہے، ضرور لٹکا رہتا ہے۔ تھیلا کیا ہے عمرو کی عیار زنبیل ہے، جب ہاتھ ڈالتے ہیں کچھ نہ کچھ نکل آتا ہے۔ اخروٹ اور بادام بھی اسی تھیلے میں سے نکلتے ہیں۔ زماں صاحب کو فوٹو کھینچنے کا بہت شوق ہے۔ پہلے ان کے پاس چھوٹا کیمرہ تھا آج کل آئی پیڈ ہے، وہی اب تصویر کشی کے کام آتا ہے۔ ماریشس میں ہمارے اور ان کے درمیان تصویروں کا لین دین رہا، اس لین دین میں نفع نقصان یا جھگڑے فساد کے امکانات نہیں تھے۔ ایک ہفتے کا سفر خوشگوار گزرا۔

پھر اتفاق یوں ہوا کہ اسی سال یعنی ۲۰۰۳ اکتوبر میں ہی لندن میں ہم سفری رہی۔ ہمارے ایک محسن اور اردو دوست ڈاکٹر اقبال مرزا نے لندن میں ایک سمینار کا انعقاد کیا۔ ہم دیکھنا چاہتے تھے کہ آخر انگریزوں میں ایسی کون سی بات تھی جو دنیا کو قابو میں کرلیا۔ سو یہ جاننے کے لیے اقبال صاحب کی دعوت پر لندن چلے گئے، سوچا یہ بھی دیکھ لیں گے کہ پہلے لوگ اتنا لندن کیوں جاتے تھے۔ جو جاتا بالسٹر یعنی بیرسٹر بن کر آتا۔ کیا وہاں کوئی بیرسٹر بنانے کا کارخانہ کھلا ہوا تھا۔ ہیتھرو ایئرپورٹ پر ڈاکٹر اقبال مرزا مل گئے۔ انگریزوں جیسا رنگ، مہندی رنگے بال، مسکراہٹ اور باتیں لکھنؤ جیسی۔ اس لیے کہ لکھنؤ سے ہجرت کرکے گئے تھے۔ گھر پہنچے تو تین چار پروفیسر اور مل گئے۔ کراچی سے پروفیسر سحر انصاری، لکھنؤ سے پروفیسر محمود الحسن، بنارس سے پروفیسر قمر جہاں اور کشمیر سے پروفیسر زماں آزردہ، بس پھر کیا تھا زماں صاحب کو دیکھ کر تو ہماری باچھیں کھل گئیں کہ اب لندن گھومنے اور دیکھنے کا مزہ آئے گا اور آیا بھی۔ لندن میں پورے ایک دن کا پاس بنتا ہے، اُسے لے کر بس میں بیٹھیے یا ٹیوب میں، بس گھومیے۔ ہم نے اور زماں صاحب  نے یہی کیا۔ کبھی بکنگھم پیلس پہنچے، کبھی برٹش میوزیم، کبھی لندن یونیورسٹی، کبھی لندن گیٹ تو کبھی ٹاور آف لندن، گویا جس طرح انگریزوں نے ہندوستان کو روند ڈالا تھا ہم نے لندن کو روند ڈالا۔ ۱۹۴۷ئ سے پہلے اتنے انگریز دہلی میں نہیں تھے جتنے ہندوستانی اب لندن میں ہیں۔ زماں صاحب کھانے پینے اور بولنے میں کنجوسی نہیں کرتے، اس لیے ان کے ساتھ سفر میں لطف آتا ہے۔

سمینار میر انیس اور مرزا دبیر کی خدمات پر تھا۔ زماں صاحب کا تو یہ خاص موضوع تھا۔ ہم نے انیس و دبیر کے مرثیوں میں ہندوستانی معاشرت تلاشکرڈالی۔ سمینار میں ڈاکٹر تقی عابدی بھی تھے اور پروفیسر عبدالستار دلوی بھی۔ ان کے علاوہ صفدر جعفری، سید محمد شبّر، رشید منظر، رضا علی عابدی، ساحر شیوی، جاوید شیخ، عمر مودودی، سوہن راہی، غفار عزم، اشفاق حسین، گلشن کھنہ، عقیل دانش، اکبر حیدرآبادی وغیرہ بھی شامل تھے۔ ہم دونوں نے مقالے بھی پڑھے، صدارت بھی کی اور شاعری بھی سنائی۔

ہمارا قیام لندن میں ڈاکٹر اقبال مرزا کے گھر پر تھا۔ پروفیسر سحر انصاری، پروفیسر محمود الحسن اور پروفیسر قمر جہاں بھی ساتھ تھے۔ دیر رات تک زماں کی فقرے بازیاں چلتی رہتی تھیں۔ یوں تو زماں صاحب کی دین داری سے میں واقف تھا، پابند صوم و صلوٰۃ ہیں، لندن میں ان کی ایک بات مجھے حیران بھی کرتی اور شرمندہ بھی۔ فجر کی نماز کے لیے زماں صاحب جلد اُٹھ جاتے تھے۔ مجھے اُٹھانے کے لیے تبلیغی جماعت والوں کی طرح میری ٹانگیں دبانے لگتے تھے۔ میں ہڑبڑاکر اُٹھتا تھا، مجھے لگتا تھا کہ میں جماعت میں آیا ہوں اور زماں صاحب جماعتی ہیں، جبکہ دونوں باتیں غلط تھیں۔ زماں صاحب کے ساتھ دو غیرملکی سفر بہت خوشگوار رہے، اس لیے کہ انھیں گھومنے اور گھمانے کا بہت شوق ہے۔ اُن کے چہرے پر کبھی میں نے تھکاوٹ محسوس نہیں کی، یوں بھی پہاڑوں پر رہنے والے زیادہ محنتی ہوتے ہیں۔ کام دماغی ہو یا جسمانی، زماں صاحب جوانوں کی طرح مصروف رہتے ہیں۔

زماں صاحب رہتے سری نگر میں ہیں، لیکن ان کا دل دلّی میں رہتا ہے۔ کسی نہ کسی بہانے دلّی درشن کے لیے آتے رہتے ہیں۔ آتے ہی اطلاع کرتے ہیں، یہ اُن کی محبت ہے۔ اکیسویں صدی میں کشمیر یونیورسٹی میں جانے کا بار بار اتفاق ہوا۔ فیملی کے ساتھ بھی کئی بار گیا۔ کبھی ایسا نہیں ہوا کہ اُن کے دسترخوان کو رونق نہ بخشی ہو۔ خود اپنی گاڑی سے لینے آتے ہیں اور پھر واپس گیسٹ ہائوس پہنچاتے ہیں۔ میں کشمیریوں کی مہمان نوازی سے بہت پریشان ہوں، مار مارکر کھلاتے ہیں، اس لیے عام طور پر میں کشمیر میں رہ کر کشمیریوں کی دعوت قبول کرنے سے ڈرتا ہوں۔ ان کے دسترخوان پر رکھے ہوئے کنگ سائز کباب دیکھ کر ہی خوف محسوس ہوتا ہے، لیکن ان کا خلوص مجبور کرتا ہے۔

میں ایک بات نہیں سمجھ سکا کہ زماں صاحب نے اپنا تخلص آزردہ کیوں رکھا۔ آزردگی تو اُن کے آس پاس ہوکر بھی نہیں گزری اور انشائیہ نگار اگر آزردہ ہوگا تو انشائیہ میں شگفتگی کیسے آئے گی۔ بغیر شگفتگی کے لطف نہیں آئے گا۔ خدا جانے کیا راز ہے مزاج میں شگفتگی اور نام میں آزردگی۔ اندر کی بات معلوم نہیں، البتہ میں نے انھیں جس قدر جانا ہے اس سے بس یہی نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ آزردگی بس نام تک محدود ہے، باقی تو شگفتگی ہی شگفتگی ہے۔ زماں صاحب کو غصہ بھی آتا ہے لیکن غصہ کی حالت میں وہ انگریزی بولتے ہیں۔ اردو کی شیرینی کو غصہ میں مجروح نہیں ہونے دیتے۔ ویسے انگریزی میں غصہ کرنے سے آدمی پڑھا لکھا اور مہذب معلوم ہوتا ہے۔ زماں صاحب کی خلاف توقع اپنے ہم عمر اردو والوں کے مقابلے میں انگریزی بہت اچھی ہے، جس کی وجہ سے دیگر زبانوں کے لوگوں سے جلد اُن کی دوستی ہوجاتی ہے۔ ساہتیہ اکیڈمی میں اُن کی مقبولیت کا ایک سبب ان کی خوشگفتاری اور دوسرا شگفتہ مزاجی ہے۔ اس کا قطعاً یہ مطلب نہیں کہ زماں صاحب کی علمیت یا قابلیت کی ساہتیہ اکیڈمی میں کوئی قدر نہیں۔ اُن کی تو وہاں دوہری قدر ہے۔ دونوں ہاتھوں میں لڈو ہیں، یعنی کشمیریوں کے ساتھ کشمیری ادیب اور اردو والوں کے ساتھ اردو ادیب۔ کشمیری کا ایوارڈ اور کنوینرشپ تو انھیں ۱۹۸۴ئ یعنی جاتی جوانی میں ہی مل گیا تھا۔ کشمیری زبان میں زماں صاحب کی پذیرائی دیکھ کر اردو والوں کو بھی غیرت آئی، کیونکہ کتابیں تو ان کی سب اردو میں ہیں، اُتّرپردیش اردو اکادمی نے اپنے سب سے بڑے ایوارڈ سے نواز دیا اور غالب انسٹی ٹیوٹ نے غالب ایوارڈ دے کر ایوارڈ کی عزت بڑھادی۔ لیکن یہ خیال رہے کہ انسان کی شگفتگی انعام کی محتاج نہیں ہوتی، مزاج پر منحصر کرتی ہے۔ بعض بڑے سے بڑا انعام پانے والے بھی منہ لٹکائے پھرتے ہیں۔ زماں صاحب کی شگفتگی کی وجہ سے اُن کا وزن آج تک وہی ہے جو تیس سال پہلے تھا، بالوں کا رنگ اب بھی بڑی حد تک کالا ہے، البتہ داڑھی اگر داڑھی کہلانے لائق رکھی جائے تو وہ ضرور بزرگی کو ظاہر کرے گی، لیکن زماں صاحب ایسا ہونے نہیں دیں گے، اس لیے اُن کی بزرگی اُن کی شگفتگی ہی میں پوشیدہ رہے گی۔

لمحہ لمحہ زندہ رہنے کے لیے

 

زہر کے پیالے پیا کرتے ہیں  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 

پروفیسرابن کنول

شعبہ اردو،دہلی یونیورسٹی،دہلی

 

 

(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)

 

 

 

ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com  پر بھیجنے کی زحمت کریں۔

 

Home Page

 

ibn kanwalابن کنولزماں آزردہ
1 comment
1
FacebookTwitterWhatsappTelegramEmail
adbimiras

پچھلی پوسٹ
معیاری تخلیقی ادب کی ترویج و اشاعت اردو کونسل کی ترجیحات میں شامل:شیخ عقیل احمد
اگلی پوسٹ
مولانا ابوالکلام آزاد کی نثر – حقانی القاسمی

یہ بھی پڑھیں

اسحاق وردگ:کھیلن کو مانگے چاند – پروفیسر خالد...

دسمبر 12, 2023

کلکتے کا جو ذکر کیا – پروفیسر غضنفر

اگست 9, 2023

اجتماعیت میں انفرادیت: دبیر احمد – نسیم اشک

مئی 26, 2023

زندگی کے طوفان میں پرواز کناں: ڈاکٹر محمد...

اپریل 1, 2023

اخلاق،محبت اور جنون کی تثلیث : ڈاکٹر تسلیم...

فروری 16, 2023

خاقانیٔ جامعہ پروفیسر خالد محمود – پروفیسر ابن...

نومبر 15, 2022

خاتون مشرق: پروفیسر شمیم نکہت – پروفیسر ابن...

اگست 1, 2022

ماہراقبالیات پروفیسر عبدالحق – پروفیسر ابن کنول  

جولائی 21, 2022

مولانا ابو االبقا ندوی – ڈاکٹر عمیر منظر

جولائی 11, 2022

سدا بہار پروفیسر اختر الواسع – پروفیسرابن کنول  

اپریل 25, 2022

1 comment

Dr Reyaz Tawheedi Kashmiri نومبر 26, 2021 - 5:58 شام

قابل ستائش مضمون۔۔۔ یادیں’دوستی”ملاقاتیں "اوصاف۔۔۔ سب کچھ شگفتہ اسلوب میں۔۔۔۔ مسکراہٹ

Reply

تبصرہ کریں Cancel Reply

اپنا نام، ای میل اور ویبسائٹ اگلے تبصرہ کے لئے اس براؤزر میں محفوظ کریں

زمرہ جات

  • آج کا شعر (59)
  • اداریہ (6)
  • اسلامیات (183)
    • قرآن مجید (آڈیو) (3)
  • اشتہار (2)
  • پسندیدہ شعر (1)
  • تاریخِ تہذیب و ثقافت (12)
  • تحقیق و تنقید (119)
  • تخلیقی ادب (595)
    • افسانچہ (29)
    • افسانہ (201)
    • انشائیہ (19)
    • خاکہ (35)
    • رباعی (1)
    • غزل (141)
    • قصیدہ (3)
    • گلہائے عقیدت (28)
    • مرثیہ (6)
    • نظم (128)
  • تربیت (32)
  • تنقیدات (1,045)
    • ڈرامہ (14)
    • شاعری (536)
      • تجزیے (13)
      • شاعری کے مختلف رنگ (218)
      • غزل شناسی (205)
      • مثنوی کی تفہیم (8)
      • مرثیہ تنقید (7)
      • نظم فہمی (88)
    • صحافت (46)
    • طب (18)
    • فکشن (404)
      • افسانچے (3)
      • افسانہ کی تفہیم (216)
      • فکشن تنقید (13)
      • فکشن کے رنگ (24)
      • ناول شناسی (148)
    • قصیدہ کی تفہیم (15)
  • جامعاتی نصاب (12)
    • پی ڈی ایف (PDF) (6)
      • کتابیں (3)
    • ویڈیو (5)
  • روبرو (انٹرویو) (46)
  • کتاب کی بات (477)
  • گوشہ خواتین و اطفال (99)
    • پکوان (2)
  • متفرقات (2,134)
    • ادب کا مستقبل (113)
    • ادبی میراث کے بارے میں (9)
    • ادبی میراث کے قلمکاروں کا مختصر تعارف (21)
    • تحفظ مادری زبان (24)
    • تراجم (33)
    • تعلیم (33)
    • خبر نامہ (898)
    • خصوصی مضامین (126)
    • سماجی اور سیاسی مضامین (228)
    • عالمی ادب (1)
    • فکر و عمل (119)
    • نوشاد منظر Naushad Manzar (68)
  • مقابلہ جاتی امتحان (1)
  • نصابی مواد (256)
    • ویڈیو تدریس (7)

ہمیں فالو کریں

Facebook

ہمیں فالو کریں

Facebook

Follow Me

Facebook
Speed up your social site in 15 minutes, Free website transfer and script installation
  • Facebook
  • Twitter
  • Instagram
  • Youtube
  • Email
  • سر ورق
  • ہمارے بارے میں
  • ہم سے رابطہ

All Right Reserved. Designed and Developed by The Web Haat


اوپر جائیں