نئی دہلی: ادبی تنظیم ‘پوئٹک آتما’ کے بانی ابھیشیک تیواری کی دہلی آمد کے موقع پر ان کے استقبال میں جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی کے شعبہ ہندی کے استاد ڈاکٹر رحمان مصور کے دولت کے پر ایک پروقار شعری شعری نشست کا اہتمام کیا گیا۔ اس نشست کی صدارت مشہور و معروف شاعر شکیل جمالی نے کی۔ تقریب میں صحافی ہری پرکاش پانڈے نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔ پروفیسر رحمان مصور نے اردو ہندی شاعری کو ڈیجیٹل دنیا میں فروغ دینے کے لیے ابھیشیک تیواری کی کاوشوں کا ذکر اور جامعہ کے ماس کمیونیکیشن ریسرچ سینٹر سے تعلق رکھنے والے پروفیسر متین احمد نے مہمانوں کا گلدستے دے کر استقبال کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض معروف طنزیہ و مزاحیہ شاعر انس فیضی نے انجام اور اختتام ڈاکٹر رحمان مصور کے اظہارِ تشکر پر ہوا۔ نشست میں پیش کیے گئے کلام میں سے کچھ اشعار درج ذیل ہیں:
اندر ڈوری ٹوٹ رہی ہے سانسوں کی
باہر بیمہ کرنے والے بیٹھے ہیں
(شکیل جمالی)
اپنی ہم سادہ مزاجی کے سبب تنہا ہیں
تیز گر ہوتے تو پہلو میں تمہارے ہوتے
(رحمان مصور)
گیٹ پر دوزخ کے میں نے اک فرشتے سے کہا
کس طرح اعمال میرے یوں بھلا کم رہ گئے
ہنس کے بولا آپ کا اے سی ٹپکتا تھا جناب
اتنا ٹپکا آپ کے اعمال سارے بہہ گئے
(انس فیضی)
ناچتا رہتا ہوں اکثر اپنی نم آنکھوں کے ساتھ
دیکھتی رہتی ہے اکثر میری ہی عینک مجھے
(سفیر صدیقی)
پھر اک برپا ہوئی صحرا میں مجلس
تبرک میں بٹے کرتے ہمارے
(علی ساجد)
اس موقع پر صاحبِ اعزاز ابھیشیک تیواری سمیت کئی دیگر شعراء نے بھی اپنے کلام سے نوازا۔ کئی باذوق افراد بھی سامعین میں موجود تھے۔

