بنگال کے ادب نگاروں خصوصی طور پر افسانہ نگاروں کی لمبی فہرست پر جب نظر پڑتی ہے تو ان میں ایک نام عظیم اللہ ہاشمی کا بھی بشرف نگاہ ہو تا ہے جس کی عظمت ان کے نام سے ہی ظاہر ہے۔ میں ان کا قصیدہ تو نہیں پڑھوں گا مگر حق بیانی سے ایک سوت بھی پیچھے نہیں ہٹوں گا ۔عظیم اللہ ہاشمی بنگال کی نئی نسل کی ایک اہم پہچان ہیں، خصوصی طور پر اردو افسانہ نگاری کے حوالے سے وہ جانے پہچانے جاتے ہیں ۔ ویسے مبصر،مقالہ نگار ، مضمون نگار اور تجزیہ نگار بھی قا بلِ اعتنا ہیں ۔ لیکن میں ان کی افسانہ نویسی کے حوالے سے گفتگو کرنا چاہوں گا اور اس حیثیت سے ان کا کہاں مقام ٹھہرتا ہے اس کا تعین کرنے کی کوشش کروں گا ۔ وہ بھی ان کا افسانہ’ ’دیدۂ نم ‘ ‘کی روشنی میں ۔ اس کے پہلے کہ میں کچھ کہوں ان کے دو اقتباس ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ’’کسی بھی فن پارے پر تنقیدی نظر ڈالتے وقت جب ضمیر کی آواز اظہار کا وسیلہ بن جاتی ہے تب اس میں پائداری آتی ہے کہ ضمیر سیاہ و سفید کے درمیان خط تنسیخ کھینچنے میں ملال نہیں کرتا بلکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ کردیتا ہے ‘‘
(۲) ’’ادبی تنقید کے حرم میں ادبی شخصیت کا سومنات بنا کراس کی پرستش نہیں کی جاتی بلکہ اس کے فن پاروں کے اوصاف متن کی سیاہ لکیروں کے درمیان تلاش کیے جاتے ہیں ۔اس عمل کے دوران بے جا تنقیص اور تعریف سے ناقد کا قد چھوٹا ہوتا ہے اور اعتبار کی کڑیاں ٹوٹ جاتی ہیں ۔‘‘(تفہیم و تعبیر ۔عظیم اللہ ہاشمی ۔ص۔۷)
مذکورہ اقتباسات کے پیش ِ نظر اگر ہم کہیں کہ عظیم اللہ ہاشمی کو ادب نگاری کا شعور اور فہم و فراست ہے تو شاید غلط نہ ہوگا ۔ اس لئے کہ جب انہوں نے ادب اور تنقید کی راہوں سے صحیح سلامت گزرے ہیں تو تنقید اور تحقیق کی اہمیت و افادیت سے فیضیاب بھی ہوئے ہیں ۔ یہ اور بات ہے کہ اس میں ایک دو آنچ کی کمی ہوسکتی ہے لیکن اتنی بڑی بات اگر وہ کہتے ہیں تو یہ طے ہے کہ ان کو ادب کا اچھا خاصا شعور ہے ۔جب کوئی قلمکار ادب پڑھتا ہے تو اس کے اندرادب لکھنے کا جذبہ بھی پیدا ہوتا ہے سو ہاشمی صاحب نے افسانہ نگاری کو اپنے لئے تخلیقی ادب کے طور پر قبول کیا ہے اور افسانے لکھ رہے ہیں ۔ ان کی تازہ کتاب ’’دیدۂ نم ‘‘ ( افسانوں کا مجموعہ ) ۲۰۱۷ میں منظر عام پر آئی اور دوسری کتاب (مضامین کا مجموعہ) ۲۰۱۹ میں۔ ’دیدۂ نم‘ میں ان کے بیس افسانے سفیر امن ،نینوں کے پگ بھیگ گئے ،گلابو، جائیداد کی منتقلی ، جوگی تھا سو اٹھ گیا آسن رہی بھبھوت ،خوابوں کے دریچے بند ہوئے ،مہکتے لمحے ،مٹی کا مجسمہ ، نوح کی کشتی کے لوگ ،دیدۂ نم ،نصف رات کی تلسی ،نصف شب کے اندھیرے ، ہجر کے فیصلے ستارے ڈوب گئے سیاہ رات کے اجالے ، سرخ آنکھوں والا پرندہ، وصیت نامہ ، نیل گگن کے تارے ، سرخ گلاب اور اشجار ببولوں کے شامل ہیں۔ اس کتاب کا کیسا اور کیا رد عمل ہوا اس کا مجھے علم نہیں لیکن میں نے جو محسوس کیا ہے پیش کرنا چاہوں گااسلئے کہ اردو ادب کی کتابوں کی اشاعت جس تیز رفتاری سے ہو رہی ہے اس کے قاری اس سے دوگنی رفتار سے اب عنقا ہوتے جارہے ہیں۔موصوف کی افسانہ نویسی کے معیار و منہاج پر رائے زنی سے پیشتر ان کا ایک اور بیان ملاحظہ فرمالیںتاکہ ان کی ذہنی صلاحیت کااندازہ ہو سکے :
’’کوئی بھی فن پارہ پائیداری کی منزل پر تب پہنچتا ہے جب وہ اپنے وسیع دامن میں اپنے عصر کی شورش و بے کلی کے ساتھ اس میں سانس لینے والے عام آدمی کے جذبوں ،ان کی خواہشوں اور ان پر گزرنے والے علائم سے متاثر ان کی ذہنی کیفیات کا نقیب بن کر سامنے آئے ۔ ‘‘( تفہیم و تعبیر ۔عظیم اللہ ہاشمی ۔ ص۔۸)
مذکورہ بیان کا انہوں نے کتنا پاس رکھا ہے ،تلاش کرتے ہیں ۔افسانہ’’ دیدۂ نم ‘‘اس عورت کی کہانی ہے جس کے آبا و اجداد بڑے خوشحال افراد تھے ۔ان کی اپنی بڑی بڑی حویلیاں تھیں۔ جن کے پُروج کی ایک الگ شان تھی ۔ لیکن انگریزوں کی آمد اور حالات کی مار نے انہیں غریبی اور مفلسی کی دہلیز سے بھی در بدر کر دیا تھا ۔اس میں ان کی اپنی بھی کمیاں شامل حال رہی ہوں گی ۔جائیدادیں بکتی گئیں ،شہزادے سڑکوں پر آگئے شہزادیاں عصمت کے دوپٹے کے لئے ماری ماری پھریں ۔محل سرائے سے خانۂ مفلس کی مکین ہو گئیں۔ معاملہ پیتل کا گھنٹہ جیسا ہو گیا ۔ حالت یہ ہوئی کہ حویلیاں کھنڈر ہو گئیں ، خاندان اجڑ گیا اور خاندان کے افراددر بدر ہوگئے ۔محل سرائے کی رونق فضیلت النسا اپنے دو بچوں کے ساتھ دانے ادنے ک محتاج گئیں ۔ زندگی مفلسی کی رہگزار پرچلتی رہی خانہ بدوشی کا دوپٹہ سر پر چڑھتا رہا اترتا رہا ،روزے جیسے تیسے کٹتے رہے ۔لیکن آج اس کے بچے روزہ کے باوجود افطارکے انتظار میں ماں کو ایک ٹک دیکھے جارہے ہیں جب کہ پڑوس کے صاحب حیثیت ،دیوان صاحب کے یہاں افطار پارٹی کا اہتمام ہے ۔ مغرب کی نماز کے بعد بھی کہیں سے کوئی غیر متوقع سبیل نہیں آئی تو اس کی نو سالہ بیٹی باہر نکلتی ہے وہ کیا دیکھتی ہے کہ کوڑے دان پر کھائے ہوئے افطار کے پلیٹ پھینکے جارہے ہیں جن میں کچھ کچھ کھانے کے سامان بھی ہیں ۔ بچی گھر سے تمچین کاٹوٹا پھوٹا پلیٹ لے کریہ کہتے ہوئے کوڑے دان کی طرف دوڑ پڑتی ہے۔’’امی جان رمضان برکتوں والا مہینہ ہے ،پروردگار نے سبیل پیدا کردی ۔‘ ‘
اردو افسانے کی تعریف کرتے ہوئے وقار عظیم لکھتے ہیں:
’’مختصر افسانہ ایک نثری داستان ہے جسے ہم بہ آسانی آدھ گھنٹہ سے لے کر دو گھنٹہ تک پڑھ سکیں اور جس میں اختصار یا سادگی کے علاوہ اتحاد اثر ،اتحاد زمان و مکان ، اور اتحاد کردار بدرجہ اتم موجود ہو ‘‘ (موج ادب‘ کوثر مظہری ۔ص ۴۸)
ایک جگہ اور لکھتے ہیں:
’’افسانہ نثر کی ایک مختصر بیانیہ تحریر ہے جو ایک واحد ڈرامائی واقعے کو ابھارتی ہے جس میں کسی ایک کردار کے نقوش نمایاں کیے جاتے ہیں اور واقعات کی تفصیل اتنے اختصار اور ایجاز کے ساتھ کی جاتی ہے کہ پڑھنے والے کا ذہن ایک تاثر قبول کرے ۔‘‘(فن افسانہ نگاری ۔وقار عظیم ۔ص ۱۶)بحوالہ ’نثری اصناف ‘ ڈاکٹر محمد شارق ۔ص ۴۴:
ان اقتباسات کی روشنی میں جب ہم عظیم اللہ ہاشمی کا افسانہ ’دیدۂ نم ‘کا جائزہ لیتے ہیں تواس حقیقت کا انکشاف ہوتا ہے کہ ان کے اس افسانے میں اختصار بھی ہے ،قصہ بھی ،اتحاد اثر اور اتحاد زمان و مکان بھی نیز اس کا طرز اظہار بیانیہ بھی ہے ۔ ساتھ ہی فضیلت النسائ کے کر دار کے نقوش بھی خوبصورتی کے ساتھ ابھارے گئے ہیں کہ سب کچھ لٹ جانے کے باوجود وہ خدا پر توکل رکھتی ہے،صابر و شاکر بھی ہے اور خدا ہی کو مسبب الاسباب بھی گر دانتی ہے ۔ نہایت ہی خوددار طبیعت کی مالک ہے ۔بیشک اس کہانی کو پڑھ کر قاری کے ذہن میں تاثر کا ایک وسیع عکس ابھرتا ہے اور سماج کا وہ قبیح چہرہ بھی عکس ریز ہوتا ہے جو فقط نام و نمود کے لئے پڑوسی کا حق اور حقوق العباد کا فرض بھول جاتے ہیں ۔ اس افسانے میں افسانے کے اجزائے ترکیبی کے بیشتر اجزا کا احترام کیا گیا ہے ۔ اس کا پلاٹ بھی تاریخی اور واقعاتی ہے ۔ فنی بصیرت اور بصارت کی موجودگی کا بھی احساس ہوتا ہے ۔ چونکہ واقعات کی ترتیب کو ہی پلاٹ کہتے ہیں تواس افسانے کے پلاٹ کو بھی فلش بیک کے انداز میں خوبصورتی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے جو متجسس اور اثر انگیز ہے۔ افسانے کو متحرک بنانے کے لئے کردار کاہونا لازمی ہے ۔بقول ڈاکٹر رفیعہ سلطانہ :
’’آج کل وہی افسانے پسند کیے جاتے ہیں جن کے کرداروں میں تحلیل اور ان کے نفسیاتی تجزیہ میں زور قلم صرف کیا جائے ۔یہ نئے افسانے کی خاص خصوصیات ہیں یعنی انسان کی ذہنی و باطنی کشمکش کا بیان ۔‘‘ (موج ادب ،کوثر مظہری۔ص ۴۹)
اس منظر نامے کے پیش نظر’ ’دیدۂ نم‘‘ کے کرداروں میں تحلیل ہونے کی بات دیکھنے کو ملتی ہے اس لئے کہ ایسے حالات و کردار اکثر افسانوں میں ملتے ہیں ۔ کشمکش کے نقوش بھی ملتے ہیں کہ کہانی جیسے جیسے آگے بڑھتی ہے تجسس کا احساس بڑھتا جاتا ہے ۔ قاری بالکل گیس نہیں کر پاتا کہ اس کے بعد کیا ہونے والا ہے ۔کردار نگاری بیشک دشوار گزار کام ہے اس لئے کہ اسی میں افسانہ نگاری کا راز مضمر ہے۔ کردار جتنا مستحکم اور حقیقت آشنا ہوگا افسانہ اتنا ہی بلند اور قابلِ تحسین ہوگا ۔فضیلت النسائ کا کردار بیشک حقیقت کا اظہاریہ ہے ۔تصنع سے پاک ہے ۔ بیٹی کا کردار بھی اصلیت کا حامل ہے ۔یہ فطری عمل ہے کہ بچے یا انسان اگر بھوکے ہوں تو ایسا عمل کرنے سے گریز نہیں کرتے جیسا کہ نو سال کی بیٹی نے کیا ہے ۔ اسے کہتے ہیں کردار کا جیتا جاگتا نمونہ ۔
مکالمہ بھی افسانے کا ایک خاص جز ہوتا ہے ۔جس کی وجہ سے افسانے میں ڈرامے کا لطف آتا ہے اور کردار نگاری کے جوہر کھلتے ہیں ۔موصوف نے بھی مکالمے کا خیال رکھا ہے اور سلیقے سے اپنے بیانیہ افسانے میں اس کو جگہ دی ہے ۔ملاحظہ فرمائیں:
(۱) ’’امی جان کب تک ہم لوگ روزہ پر روزہ رکھیں گے ۔ اب برداشت نہیں ہو رہا ہے ۔وقت کے دھارے یوں ہی چلتے رہیں گے،اس کو بدلا نہیں جاسکتا ؟‘‘
’’بیٹی حوصلے بلند ہوں تو وقت کے دھارے کیا صدیوں کے رخ کو بھی موڑا جا سکتا ہے!!‘‘کیسے امی جان ؟
’’حوصلے اور صبر کے مستول کو نیچے مت جھکنے دو ۔کیا تم کو معلوم ہے تمہارے اجداد کون تھے ؟‘‘
(۲) ’’اجداد کی ناموس کی پاسداری کے لئے یہ کنیز آپ کی خدمت میں حاضر ہے ۔‘‘
(۳) ’’ابھی بھی ہمارے خون میں بڑے بزرگوں کا احترام باقی ہے !!‘‘
(۴) ’’بیگم ! اب اس کھنڈر نما محل کی خاموشیاں مجھے دن رات ڈستی رہتی ہیں !‘‘
(۵) ’’آج طوفان کے تھپیڑوں سے میرے پُرکھوں کی آخری نشانی بھی ہمیشہ کے لئے مٹ گئی!‘‘
(۶) ’’طوطا شاہ! لو کبھی اس گلاس میں تمہارے اجداد فتح و کامرانی کے بعد فخر کا جام پیا کرتے تھے ،آج تم صبر کا جام پی لو !!‘‘
یہ انداز ہے جناب کا مکالمہ نویسی کا ۔ اس طرز مکالمہ نگاری پر کون نہ فدا ہوجائے ۔ہا ںکہیں کہیں رک کر قاری سوچ میں ضرور پڑجاتا ہے کہ نو سال کی بچے اتنی اچھی فکر کیسے رکھ سکتی ہے ،وقت کے دھارے کو کیا وہ سمجھتی ہے ۔لیکن اسکاجوا ب اس لئے مل جاتا ہے کہ ماں تو ایک مہذب ،باعزت ،با ثروت خاندان کی بہو رہی ہے اس لئے بچوں کی پرورش میں اس کا اثر ضرور شامل ہوا ہوگا ۔ دیگر کرداروں کا معاملہ بھی یہی ہے کہ پورا منظر نامہ ہی کسی رئیس خاندان کی حویلی کا پیش خیمہ ہے ۔ یہ مکالمے چست ،درست ،دلکش اور رواں بھی ہیں جو کامیاب افسانے کے تقاضے بھی ہیں ۔
ہر افسانے کا ایک مقصد اور ایک نقطہٗ نظر ہوتا ہے ۔ افسانہ نگار بھی یہی سوچ کر لکھتا ہے کہ مقصد تحریر یا تصنیف کیا ہے اورقاری بھی اس میں مقصد تحریراور فلسفہ ٗحیات تلاش کرتا ہے ۔ ہاشمی صاحب کے اس افسانے کی تخلیق کا مقصد بیشک سماج اور معاشرہ کے اس قبیح نظام کو ظاہر کرنا ہے جو باحیثیت ہونے کے باوجوداپنے غریب ،مفلس ۔نادار اور بیوہ پڑوسیوں کا خیال نہیں رکھتے جب کہ جھوٹی شان کے لئے بے جا نمائش سے گریز نہیں کرتے ۔ ورنہ دیوان صاحب اسلامی شریعت کے پابند ہوتے تو ایک غریب بیوہ کی کفالت کے لئے وہ کافی تھے۔
کلائمکس افسانے کا ایک لازمی جز ہے ۔افسانے کا اختتام اگر قاری پہلے سے سوچ لے تو اسے کلائمکس کا نام نہیں دیا جاسکتا ۔ کلائمکس کا مطلب قاری کی سوچ سے پرے ہو ۔قاری دیدہٗ نم کا اختتام تک آتے آّتے یہ سوچتا ہے کہ یا تو فضیلت النسائ کے گھر بھی افطار کی کوئی سینی دیوان صاحب کے گھر آئے گی یا پھر بچی کھچی چیزیں ضرور آئیں گی ۔ مگر ایسا نہیں ہوتا ۔ساری پلیٹیں کوڑادان پر پھینک دی جاتی ہیں اور چھوٹی بچی اسے اللہ کی طرف سے سبیل سمجھ کر پلیٹ لے کے دوڑ پڑتی ہے ۔ یہ سین واقعی بہترین کلائمکس کی مثال ہے ۔ ہاں ایک سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ اللہ پر اتنا توکل رکھنے والی عورت کی دعاؤ ں کا اتنا بھیانک انجام کیوں ہوتا ہے ۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا تھا کہ کسی اور کے گھر سے ہی سہی کچھ کھانے کی چیزیں آجاتیں ۔ جس سے اللہ کی قدرت کاملہ کا بھرم بھی رہ جاتا ۔ مگر افسانہ نگار کا یہ اپنا خیال ہے جو کلائمکس کو واقعی بہت اثر انگیز بنادیا ہے ۔ اور یہ ایک خوبصورت اختتام بھی ہے ۔اختتام بھی افسانہ نگاری میں ایک اہم جز کی حیثیت رکھتا ہے ۔سارے عناصر ترکیبی کے بعد اگر اختتام پُر اثرنہ ہو تو افسانے کی دلکشی ختم ہو جاتی ہے ، یہ بڑا ہی نازک مرحلہ ہوتا ہے ۔ انجام کو پُر اثر بنانے کے لئے ندرتِ بیان اور جدتِ بیان کا خیال رکھنا لازمی ہے ۔ جس کی پاسداری موصوف نے خوب کی ہے ۔
یہ تو ایک طرح سے قصیدہ خوانی ہو گئی لیکن ایسا نہیں ہے یہ حقیقت بیانی ہے ۔ میں نے عظیم اللہ ہاشمی کو بہت بڑھا چڑھا کر ،رائی کو پربت بنا کر یا تل کا تاڑ بنا کر نہیں پیش کیا ہے کہ دوسروں کے پاؤں پھولنے لگیں۔ عظیم اللہ صاحب کا ادبی مقام یہی ہے کہ وہ افسانے اچھا لکھتے ہیں اور ادب نگاری کا بھی ان دلکش سلیقہ موجود ہے ۔ ہاں ان کے یہاں ایک مسئلہ ضرور ہے کہ وہ زبان تو بہت اچھی استعمال کرتے ہیں خالص ادبی اورافسانوی زبان میں سب کچھ لکھتے ہیں لیکن کہیں کہیں وہ زبان کی ڈگر سے پھسل بھی جاتے ہیں اور بے خیالی کے شکار ہو جاتے ہیںلیکن ایسا نہیں کہ ان پر کوئی بٹہ لگے۔کبھی کبھی لفظوں کی مرصع سازی میں بھی شیشے اور ہیر ے کی پہچان میں فریب کھاجاتے ہیں۔ اس کی طرف انہیں دھیان دینے کے ضرورت ہے ۔ امید ہے وہ میری بات کا برا نہیں مانیں گے اور اپنی اصلاح فرما ئیں گے ۔ لیکن ان کی جملہ تراشی کا میں قائل ہوں اتنے اچھے اور لچھے دار جملے تراشتے ہیں کہ قاری کا دل وہیں جا کر اٹک جاتا ہے ۔خالص ادبی جملے جو دیر تک کانوں میں رس گھولتے ہیں ۔ چند مثالیں دیکھیں :
(۱) ’’فضیلت النسا ئ یہ طلوع نہیں بلکہ غروب آفتاب کی کرنیں ہیں جنہوں نے ہمارے اجداد ی افق کو ابھی بھی اپنی سرخی سے منور رکھا ہے ۔‘‘
(۲) ’’اس وقت میں نئی نویلی دلہن بن کر اس محل میں اتری تھی جب سرمئی اجالے میں اسی جمنا کے کنارے ہمارے پُرکھوں نے اپنے تاج کو فاتح کے قدموں میں رکھ دیئے تو پھر سورج کا غروب ہونا لازمی تھا ۔ ‘‘
(۳) ’’اس کے اندر اجدادی خون نے جوش مارا ۔بدن پسینے پسینے ہوگیا ۔ چہرہ ایسے دمک اٹھا جیسے اس پر کوئی گاڑھے دودھ میں سیندور ملا کر مل دیا ہو ۔‘ ‘
(۴) ’’مالک کائنات میرا کیا قصور تھا کہ تو نے میرے اجداد کو محلوں کا مالک بنایا اور مجھے اس گھر کی نوکرانی بنا دیا ۔ نوبت یہاں تک آگئی کہ جو میرے پُرکھوں پر حرام تھا وہ مجھ پر حلال ہو گیا ۔‘ ‘
ایسی بے شمار مثالیں ہیں جن کے مطالعے کے بعد ہاشمی صاحب کی کہی ہوئی باتیں سچی لگتی ہیں اور یہ بھی راز کھلتا ہے کہ انہوں نے صرف افسانے نہیں لکھے بلکہ افسانے کے فن کو بھی سمجھنے کی اچھی کوشش کی ہے ۔ وہ فرماتے ہیں :
’’کسی فن پارے کی اہمیت تب بڑھ جاتی ہے جب وہ اپنے کینوس پر فرد اور سماج کے ٹوٹتے بکھرتے رشتوں کے درمیان خیر کی راہیں تلاش کرتا ہے نیز اس میں تاریخی شعور کا احساس جاگزیں ہو تا ہے کیوں کہ تخلیق کا مقصد اپنے معاشرے کو مثبت قدروں سے روشناس کرانا ہو تا ہے ۔‘‘ ( ص۔۸)
’’دیدۂ نم‘‘ میں بھی انہوں نے یہی کیا ہے بلکہ اپنے بیشتر افسانوں میں ایسے چبھتے ہوئے سوالوں کے درمیان رہ کر اپنی کہانیوں کی تشکیل کی ہے ۔اچھی کردار سازی کی ہے ،خوبصورت مکالموں سے چونکایا بھی ہے ۔کہانی کے پلاٹ کو سلیقے سے نباہا ہے اور تسلسل کو قائم رکھا ۔ قاری کو بھٹکا کر اس کا قیمتی وقت ضایع نہیں کیا ہے۔ فضول گوئی سے پرہیز کیا ہے اور قاری کو مکمل طور پر اپنی گرفت میں رکھا ہے ۔افسانوں میں ان کی رنگ آمیزی قابلِ دید ہے ۔افسانہ نگاری کے اجزائے ترکیبی کی روشنی میں ہم کہہ سکتے ہیں کہ ان کا یہ افسانہ ’دیدۂ نم ‘ ایک کامیاب افسانہ ہے ۔ میں ان کو دل کی اتاہ گہرائیوں سے مبارکباد پیش کرتا ہوں اوران سے بہتر سے بہترین تخلیق کی امید بھی رکھتا ہوں ۔۰۰
(ایم ۔ نصراللہ نصرؔ۔9339976034 )
۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰۰

