یاد گار افسانے / پروفیسر سید شفیق احمداشرفی – محمودہ قریشی
اساتذہ میں پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی سر ( صدر شعبہ اردو خواجہ معین الدین چشتی لینگویج یونیورسٹی ,لکھنؤ ) کا نام محتاج تعارف نہیں ہے ۔درس و تدریس کے علاوہ آپ تحقیق و تنقید میں بھی خامہ فرسائی کرتے رہتے ہیں ۔فیض احمد فیض , احتشام حسین , سجاد ظہیر وغیرہ پر آپکی تحقیقی و تنقیدی کتابیں موجود ہیں ۔ کئی ریسرچ جنرل میں آپکے تحقیقی و تنقیدی مضامین نظر سے گزرتے رہتے ہیں ۔اس کڑی میں ایک اور کتاب کا اضافہ ہوتا ہے ۔”یاد گار افسانے "یہ بیس کلاسک افسانوں کا انتخاب ہے۔ اشرفی سر نے یہ انتخاب بڑی عرق ریزی اور دیدہ زیب نگاہ سے ترتیب دیا ہے ۔چونکہ اس کی خصوصیت یہ ہے کہ افسانوں کے ساتھ اشرفی سر نے افسانوں کا تجزیہ بھی پیش کیا ہے ۔
اگر ہم اردو فکشن پر بات کریں تو اس کی عمر زیادہ نہیں ہے ۔بہت کم وقت میں اردو میں افسانوں نے اپنی ایک خاص پہچان بنا لی ہے ۔ کہانی پڑھنا اور سننا دلچسپی کا باعث ہے ۔وہی کچھ کہانیاں اتنی دلچسپ ہوتی ہیں کہ ذہن کے ایک گوشے میں اپنی جگہ بنا لیتی ہیں ۔اور قاری چاہ کر بھی ان کو بھول نہیں پاتا ہے ۔ہمارے اردو ادب میں کچھ کہانیاں ایسی ہی دلچسپ ہیں کہ وہ ذہن کے ایک کونے میں ہمیشہ محفوظ رہتی ہیں ۔
لکین طالب علمی میں ان سب کا انتخاب کر یکجا محفوظ رکھنا مشکل ہے ۔چونکہ ہم صرف نصاب کے مطابق افسانوں کا مطالعہ کرتے ہیں ۔تو ہمارے سامنے سب سے پہلی دشواری پیش آتی ہے کہ ہمیں مشاہیر کے سب ہی نصابی افسانے یکجا نہیں مل پاتے ۔اور اگر لائبریری وغیرہ سے افسانوی ادب نکال کر مطالعہ کرتے بھی ہیں , تو وہاں سب سے پہلی دشواری یہ ہوتی ہے کہ ایک ہی افسانہ نگار کے ڈھیروں افسانوی مجموعے ہوتے ہیں ۔کون سا افسانہ پڑھے اور کون سے چھوڑ دیں ۔ان میں سے انتخاب کرنا ہمارے لئے مشکل ہو جاتا ہے ۔اشرفی سر نے اس مشکل کو زیر نظر رکھ کر تخلیق کاروں کے عمدہ افسانوں کا انتخاب آج کے بی ۔ اے ,ایم ۔اے کے داخل نصاب میں شامل سبھی یاد گار افسانوں کا انتخاب مع تجزیاتی رہنمائی فرماتے ہوئے طلبہ کی مشکلات کو "یاد گار افسانے ” ترتیب دے کر آسان کر دیا ہے ۔
یہ اشرفی سر کا طلبہ کے لئے مخلص اور ہمدردانہ رویہ ہے کہ ان کا تحقیقی و تنقیدی کام طلبہ کے حق میں ہوتا ہے ۔ورنہ موجودہ تخیلق کار یا نقاد صرف اپنی علمی و ادبی شہرت کا خیال رکھتے ہوئے اپنے ادبی میدان میں غوطہٰ زن رہتے ہیں ۔لکین استاد محترم کا مقصد صرف طلبہ کی رہنمائی ہوتا چونکہ وہ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ ۔
"خود بہ خود ہونے لگے گا اعتراف اپنا ۔
خود کو تہزیب کے سانچے میں ڈھل کر تو دیکھئے ۔”
یاد گار افسانے طلبہ کے لئے بہت کار آمد ثابت ہونگے ۔یاد گار افسانے میں بیس افسانے شامل ہیں ۔اور ہر افسانے کے آخر میں افسانے کی تفہیم کو اُجاگر کرتا سر کا لکھا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔انتخاب میں شامل سب سے پہلا افسانہ اردو افسانہ نگاری کے بادشاہ پریم چند کا شہکار افسانہ’ کفن’ کو شامل کیا گیا ہے ۔
"کفن "جس کی بھوک مری , بیماری , غربت غلاظت کو آج تک کوئی نہیں بھول پایا ہے ۔افسانے کے آخر میں سر کا لکھا ہوا جامع تجزیہ شامل ہے ۔تجزیہ کا اقتباس ملاحظہ ہو جس سے مصنف کی تنقیدی صلاحیت کا اندازہ ہوگا ۔
"کفن پریم چند کا ایک شہکار افسانہ ہے ۔یہ افسانہ حقیقت نگاری , نفسیاتی پہلوؤں , فلسفیانہ افکار , طنز کے نشتر اور تہداریوں سے روشن ہے ۔یہ اپنے اندر موضوع اور ضمنی موضوعات بھی رکھتا ہے ۔اس کا پس منظر دیہی ضرور ہے لکین اس کے رنگِ حقیقت نے اس کو زمان و مکان کے قیود سے بلند کر دیا ہے ۔یہ ہر اس سماج کی حقیقت ہے جہاں دولت مند طبقہ اپنے نیچے کے طبقات کا استحصال کر رہا ہے ۔”
افسانہ” کفن ” کا تجزیہ پڑھ کر یہاں ایک بات ضرور کہنا چاہتے ہیں بی ۔اے کے زمانے میں جب ہم "کفن ” کا تجزیہ لکھنے بیٹھے تو کس قدری دشواری پیش آئی تھی ۔چار بار خود کاغذ پر لکھ کر خود کو ہی غلط ثابت کیا تھا ۔ بہت کوشش کے بعد بھی ہم کفن کا تجزیہ ڈھونڈنے میں ہم کامیاب نہیں ہوئے تھے ۔ خیر” یاد گار افسانے ” بہت حد تک طلبہ کی اس دشواری کو ختم کر سکتی ہے ۔انتخاب میں شامل دوسرا افسانہ "پوس کی رات ” مع تجزیہ کے پیش کیا گیا ہے ۔ انتخاب میں شامل علی عباس حسینی کا شہکار کلاسک افسانہ "میلہ گھومنی ” ہے ۔جس میں نچلے طبقے کی خواتین کی رداد پیش کی گئی ہے ۔
وہی غلام عباس کا افسانہ” آنندی "جو اس وقت میں اس دور کی حقیقت طوائف کو موضوع بنا کر اس کی تمام تر حقائق کو پیش کرتا ہے ۔مصنف کے جامع تجزیہ کہ” آبادی ضرورت کی جننی ہوتی ہے ۔”
یاد گار افسانے کی ایک خاص خوبی یہ ہے کہ سبھی افسانوں کو تاریخی حثیت سے پرکھا گیا ہے ۔ترقی پسند افسانہ نگاروں میں کرشن چندر کے دو افسانے” کالو بھنگی "اور” مہا لکشمی کا پل ” کو مصنف نے اپنے جامع تجزیوں کے ساتھ شامل کیا گیا ہے ۔سعادت حسن منٹو کے بھی دو افسانے” ٹوبہ ٹیک سنگھ ” "نیا قانون "وہی عصمت چغتائی کے دو شہکار افسانے "دو ہاتھ اور "چوتھی کا جوڑا” تو فسادات کے موضوع پر راجندر سنگھ بیدی کا "لاجونتی "حیات اللہ انصاری کا "آخری کوشش ” اور عینی آپا قرۃ العین حیدر صاحبہ کا” پت جھڑ کی آواز "کو شامل کیا گیا ہے ۔
استاد محترم نے افسانوں کے انتخاب میں اپنے ذہن و فکر کے دریچے کھولنے کے ساتھ زمانی ترتیب کا بھی خاص خیال رکھا ہے ۔ان 13 کلاسک افسانوں کے علاوہ دور حاضر کے عالمی سطح پر شہرت یافتہ افسانہ نگاروں کے شہکار افسانوں کو بھی مجموعہ میں جگہ دی گئی ہے ۔
قاضی عبدالستار کا” پیتل کا گھنٹہ "بغاوت کے بعد نمودار ہونے والے واقعات کو پیش کرتا ہے ۔
دور حاضر کے افسانوں میں ذکیہ مشہدی کا افسانہ "قصہ جانکی رمن پانڈے ” اس پر سر کا تجزیہ قابل ستائش ہے ۔وہی دور حاضر کے مسائل پر اقبال مجید کا افسانہ "جنگل کٹ رہے تھے ۔”سید محمد اشرف کا "ڈار سے بچھڑے” اور ابن کنول صاحب کا افسانہ "خواب "پر بے باک اور بے لاگ تجزیے پیش کیے گئے ہیں ۔وہی شموئل احمد کا ہمیشہ ذہن میں رکھنے والا ایک یادگار افسانہ "سنگھاردان ” بھی شامل ہے اور آخر میں عالمی شہرت یافتہ ناول( اللہ میاں کا کارخانہ) کے خالق محسن خاں صاحب کا افسانہ” زہرا” بھی شامل ہے ۔جس کے تجزیہ کے آخری جملے دیکھئے جس سے افسانہ کو سمجھنے میں کافی مدد ملتی ہے یعنی افسانے کی گرہ وا کرتا تجزیہ پیش کیا گیا ہے ۔
"دراصل یہ افسانہ فرد سے سماج تک صحت مندی کی خواہش کو بیدار کرتا ہے ۔اور جسم کے کسی ایک حصے کی دِق پورے جسم کو مدقوق بنا دیتی ہے اس نظریہ سے یہ دہیی مسلم خواتین کی زندگی پر روشنی ڈالتا ہے ۔”
یاد گار افسانے طلبہ کے لئے ایک تاریخی دستاویز کی حثیت رکھتے ہیں ۔ساتھ ہی تجزیوں کی قراٰت بہت حد تک افسانوں کی گرہ کھولنے میں مدد گار ثابت ہوتی ہے ۔
کتاب کا عنوان بھی بہت عمدہ ہے ۔چونکہ اس میں شامل سبھی افسانے یادگار رکھنے کے قابل ہیں۔ جو قاری کے ذہن میں زمانہ طالب علمی سے ہی ایک ساتھ محفوظ رہے گے ۔ یہ کتاب اردو افسانے کو سمجھنے میں بلکہ تجزیہ نگاری کے فن سے بھی آشنہ کرتی ہے ۔اس اہم کام کو ترتیب دینے کے لئے ہم استاد محترم پروفیسر سید شفیق احمد اشرفی سر کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ اور توقع رکھتے ہیں کہ آئندہ بھی سر کی تحقیقی و تنقیدی کارنامے طلبہ کے حق میں راہِ مثل ثابت ہونگے ۔اس کتاب کو آیم ۔آر ۔پبلی کیشنز نئی دہلی سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

