کیا تم سمجھتے ہو، کہ یہ نکاح کیا ہے؟
کیسی سنت ہے یہ، اور فریضہ کیا ہے؟
جوڑ لینا کسی سے رشتہ ، عمر بھر کے لیے
پھر کرنا مخصوص اس کو، ذندگی بھر کے لیے
صرف اتنا ہی نہیں ، کہ بس نام جڑ جایں
بلکہ یہ بھی کہ ، دل کے احکام جڑ جایں
ہزار ذمےداریوں کو ، نبھایا جاتا ہے
ہر سکھ دکھ کو، گلے لگایا جاتا ہے
عزت و احترام سے ، آہن سا ہے مضبوط
ورنہ تو نازکی، جیسے دھاگا جاے ٹوٹ
نکاح سے خوشیوں کے ایسے آبشار ہوجائے
بنجر زمیں جیسے پانی سے، خوشگوار ہو جائے
نبیوں، صحابیوں کی ، سنت میں سے ہے
پاکیزہ زندگی کی، ضرورت میں سے ہے
اے قوم کے لوگو!، ذرا حکمت سے کام لیا جائے
بچنا ہے گر گندی سے، تو نکاح عام کیا جائے…
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

