مدھیہ پردیش اردو اکادمی،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام یومِ جمہوریہ کے موقع پر "جشن جمہوریت مشاعرہ” کا انعقاد 29 جنوری 2022 کو شام 5 بجے ونایک بینکٹ ہال، سؤرن کار کالونی، ڈاگا وسترالے کے پاس، ودیشہ میں کیا گیا.
اردو اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے پروگرام کی ابتدا میں تمام شعراء کا استقبال کیا اور پروگرام کے اغراض و مقاصد پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ آج کا یہ کل ہند مشاعرہ یومِ جمہوریہ کے موقع پر منعقد کیا جارہا ہے کیونکہ پورا ملک اس وقت آزادی کا امرت مہوتسو منا رہا ہے. محکمہ ثقافت، حکومت مدھیہ پردیش کی ہمیشہ یہ کوشش ہوتی ہے کہ محکمہ کی مختلف اکادمیوں کے زیر اہتمام جو پروگرام منعقد ہوتے ہیں اس میں صوبے کے زیادہ سے زیادہ فنکاروں کو اسٹیج مل سکے. اسی سلسلے میں مدھیہ پردیش اردو اکادمی نے تلاش جوہر کے تحت صوبے کے مختلف ضلعوں میں پروگراموں کا خاکہ تیار کیا ہے اور پورے صوبے کے ہر ضلع میں ایک مقامی کوآرڈینیٹر بھی بنایا ہے. آج کا یہ پروگرام اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے اس کی شروعات اکادمی نے یومِ جمہوریہ کے موقع پر یہ کل ہند مشاعرہ منعقد کر ضلع ودیشہ سے کی ہے. آگے بھی اسی طرح مختلف ضلعوں میں اسی طرح کے پروگرام منعقد کرنے کا ارادہ ہے.
اس کل ہند مشاعرے میں ملک بھر سے شرکت کرنے والے جن شعراء نے اپنا کلام پیش کیا ان کے اسمائے گرامی اور کلام درج ذیل ہیں.
جو اپنے وطن اپنی زمیں کا نہیں ہوتا
رہتے ہوئے دنیا میں کہیں کا نہیں رہتا
(ظفر صہبائی بھوپال)
کسی بھی دیش میں رہیے کسی بھی بھیس میں رہیے
تیرا لہجہ بتاتا ہے کہ تو ہندوستانی ہے
( نثار مالوی ودیشہ)
عجب رشتے نبھاتے ہیں الگ رہ کر مرے بچے
کبھی جاتا ہوں ملنے تو ملاقاتی سمجھتے ہیں
(فاروق انجم بھوپال)
تیرے رونے کی خبر رکھتی ہیں آنکھیں میری
تیرا آنسو میرے رومال میں آجاتا ہے
(شکیل اعظمی ممبئی)
بچھڑنے والے کسی دن یہ دیکھنے آجا
چراغ کیسے ہوا کے بغیر جلتا ہے
(عقیل نعمانی بریلی)
کسی دن زندگانی میں کرشمہ کیوں نہیں ہوتا
میں ہر دن جاگ تو جاتا ہوں زندہ کیوں نہیں ہوتا
(راجیش ریڈی صاحب ممبئی)
اٹھاؤ کیمرہ تصویر کھینچ لو ان کی
اداس لوگ کہاں روز مسکراتے ہیں
(ملک زادہ جاوید نوئیڈا)
میں اس لیے بھی ذرا اس سے کم ہی ملتا ہوں
بہت ملو تو محبت سی ہونے لگتی ہے
(معین شاداب دلی)
کشتیاں ساری مرمت کو گئی ہیں یارب
شور اٹھا ہے کہ سیلاب ہے آنے والا
(اتل اجنبی)
اندھیری راہ میں بھلا کس کا ہاتھ تھامتی
بہت ہی خوش نصیب ہوں تمہاری رہنمائی ہے
(ممتاز نسیم دلی)
جانے کس کا حق دبا کر گھر میں لائے ہو
اور اس پہ یہ ستم اس میں بھی برکت چاہیے
(ندیم شاد دیوبند)
اپنے وطن کی شان ہے چھبیس جنوری
بھارت کا سنودھان ہے چھبیس جنوری
(چاند خاں چاند ودیشہ)
جو وطن پر شہید ہوتے ہیں
ان کی جنت میں عید ہوتی ہے
(سنتوش ساگر ودیشہ)
ایک ہی شمع جلا لیں پیار کی دل میں
سارا عالم روشنی سے تر بہ تر ہوجائے گا
(شاہد علی شاہد ودیشہ)
ہم نے غزلوں کو عبادت کی طرح سمجھا ہے
ہم کو آتا نہیں لفظوں کی تجارت کرنا
(اودے ڈولی)
پروگرام کی نظامت کے فرائض معین شاداب نے اپنے مخصوص انداز میں انجام دیے.
پروگرام کے آخر میں ڈاکٹر نصرت مہدی نے تمام شرکاء کا شکریہ ادا کیا.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

