نیرنگ خیال:محمد حسین آزاد – مہر فاطمہ
محمد حسین آزادکے مضامین پر مشتمل کتاب’’نیرنگ خیال‘‘ دو حصوں میں شائع ہوئی۔پہلا حصہ 1880میں اور دوسرا حصہ جو کہ چھ مضامین پر مشتمل ہے آزاد کی وفات کے بعد 1923میں منظر عام پر آیا۔ابھی میرے سامنے جو کتاب ہے اس میں کل دس مضامین ہیں۔
نیرنگ خیال کے مضامین دراصل انگریزی کے معروف انشاپردازجانسن اورایڈیسن کے مضامین کا ترجمہ ہیں لیکن مکمل طور پر ترجمہ نہیں کہا جاسکتا کیونکہ آزاد نے اس میں اپنے تخیل کی بنا پر کچھ ترمیم و اضافہ کیا ہے۔جس کا اعتراف انہوں نے دیباچہ میں بھی کیا ہے کہ’’ میںنے انگریزی انشا پردازوں کے خیالات سے چرا غ ر وشن کیا ہے‘‘۔اس بنا پر اس کو آزاد ترجمہ کا نام دیا گیا ہے۔ اس تعلق سے مالک رام بھی تعارفی کلمات میں رقمطراز ہیں:
’’ نیرنگ خیال میں جتنے مضامین میںجتنے مضمون شامل ہیں ،یہ دراصل انگریزی سے ترجمہ کردہ ہیں۔ان میں سے
چھ مضمون جانسن کے ہیںاور تین ایڈیسن کے اور بقیہ دوسرے انگریزی ادیبوںکے لیکن ان ترجموں میں آزاد نے
اپنی ذہانت اور سحر بیانی سے اتنا ردوبدل کردیا ہے کہ ان کا درجہ ترجمے سے بڑھ کر تخلیق کا ہوگیا ہے۔‘‘
۔۔۔۔۔۔۔۔ص۷،۸
اس کتاب کے مضا مین کی تفصیل درج ذیل ہے:
1)انسان کسی حال میں خوش نہیں
the endeavour of mankind to get red of their burdons
2)شہرت عام بقائے دوام کا دربار
the vision of the table of fame
3)خوش طبعی
our ture and false humour
4)آغاز آفرینش میں باغ عالم کا کیا رنگ تھا اور رفتہ رفتہ کیا ہوگیا
an allegorical history of rest and labour
5)جھوٹ اور سچ کا رزم نامہ
truth falsehood and fiction and allegery
6)گلشن امید کی بہار
the garden of hope
7)سیر زندگی
the voyage of life
8)علوم کی بد نصیبی
the conduct of patronage
9)علمیت اور ذکاوت کا مقابلہ
the allegory of wit and learnign
10)نکتہ چینی
the allegory of criticism
ٰان مضامین پرایک طائرانہ نظر ڈال کر ہی اندازہ ہوجاتا ہے کہ یہ کتاب اول تا آخر نیرنگی کا سر چشمہ ہے۔ظاہرہے کہ قاری کی نظر سب سے پہلے عنوانات پر پڑتی ہے۔عنوانات دلچسپ ہوں تو آغازہی دلچسپی کے ساتھ ہوتا ہے جو کہ قاری کے ذہن کے لئے مثبت کردار ادا کرتا ہے۔اس لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ اس کے عنوانات بھی اپنا رول بخوبی ادا کرتے نظر آتے ہیں مثلا ’’آغاز آفرینش میں باغ عالم کا کیا رنگ تھا اور رفتہ رفتہ کیا ہوگیا،علوم کی بد نصیبی،انسان کسی حال میں خوش نہیں،علمیت اور ذکاوت کا مقابلہ اور جھوٹ اور سچ کا رزم نامہ ‘‘وغیر ہ وغیرہ۔ان کو دیکھتے ہوئے یہ کہنے میںبھی کوئی مضائقہ نہیں کہ آزاد کا مقصد ہی نیرنگی اور جدت پیدا کرنا تھا۔
یہ مضامین اس کتاب کو تمثیلی اسلوب کی بہترین کتاب ثابت کر نے کے لئے کافی ہیں ۔آزاد نے اشیائے بے جان میں جان ڈال کر اس کو مجسم کردیاجس کو تجسیم نگاری کا عمدہ نمونہ کہا جاسکتا ہے ۔ہر جگہ جھوٹ،سچ، دل عقل،ایمان نفس ،حرص قناعت،امید یاس،آرام مشقت ،بچپن بڑھاپااور ظلم و انصاف کو حرکت میں دیکھا جاسکتا ہے یعنی ان کو متشکل اور مجسم کرکے آزاد نے اس میں وہ رنگ بھرے کہ یہ خیالی ہونے کے باوجود حقیقی معلوم ہوتے ہیں۔اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ آزاد کے قلم میں وہ جادو ہے کہ وہ اپنی تحریر کو کسی پردے پرچلتی ہوئی فلم کی شکل میں پیش کرتے ہیں۔ غرضیکہ آزاد تجسیم نگاری میں مہارت رکھتے تھے ۔اس کتاب میں دیگرکردار ہندوستان اور ایران وغیرہ کی تاریخ سے منتخب کئے گئے ہیں۔’ شہرت عام بقائے دوام کا دربار ا‘میں آزاد نے غالب اور سعدی کا خاکہ پیش کیا ہے جس میں ان کے مرقع نگاری کے جوہر سامنے آتے ہیں۔اس مضمون کی تمہید میں ایڈیسن کے مضمون کا ترجمہ پیش کیا ہے۔
’جھوٹ اور سچ کا رزم نامہ ‘ کوایک رمزیہ مضمون کہا جاسکتا ہے ۔اس میں دونوں کی معرکہ آرائی دکھائی گئی ہے جس کے بیان میں تجسیم نگاری سے کام لیا گیا ہے۔وہ اس میں سچ کا نام’’ملکہ صداقت زمانی‘‘اور جھوٹ کا نام ’’درو غ دیوزار‘‘رکھتے ہیں۔ آزاد محاکات کے بھی بادشاہ کہلاتے ہیں۔ہرچیز کی ہو بہو تصویرکھینچ کر صفحہ قرطاس پر سجاکے پیش کردیتے ہیں۔اس میں ان کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
نیرنگ خیال کا اسلوب شاعرانہ ہے ۔اس میں تشبیہات و استعارات کا خوب استومال ملتاہے۔استعارہ کی مثال:
تمام میدان جو نظر کے گرد و پیش دکھائی دیتا تھا اس کا رنگ کبھی نور سحر تھا اور کبھی شام شفق،جس سے قوس و قزح کے رنگ میں کبھی شہرت عام اور کبھی بقائے دوام کے حروف عیاں تھے۔۔
اس طرح کی بیش تر مثالیں جابجا مل جاتی ہیں۔آزاد نے انشا پردازی کے جس طرز کی بنیاد ڈالی وہ انہی تک محدود رہ گئی۔
ان کے کلام میں ایسی شعریت ہے کہ معلوم ہوتا ہے انہوں نے شعر کو نثر میں لکھ دیا ہے یا وہ نثر میں شاعری کر رہے ہیں ۔جس طرح شاعری میں ایک ایک لفظ کا انتخاب بڑی احتیاط کے ساتھ کیا جاتا ہے ،ویسے ہی آزاد اپنی نثر میں بہت چن چن کرالفاظ لاتے ہیں ۔اس میں شعری وسائل کا بھی بڑی مہارت سے استعمال کرتے ہیں۔جس سے ان کی تحریروں میں وہ جادو پیدا ہوجاتا کہ ہر بات دل میں اترتی چلی جاتی ہے۔اسی لئے تو شبلی نے کہا کہ :
’’آزاد غپ بھی ہانک دے تو وہی معلوم ہوتی ہے‘‘
ان تمام باتوں کا احساس خود آزاد کو بھی تھا۔انہوں نے دیباچہ میں لکھا ہے کہ :
’’یہ چند مضمون جو لکھے ہیں۔نہیں کہ سکتا کہ ترجمہ کئے ہیں۔ہاں جو کچھ کانوں نے سنا اور فکر مناسب نے زبان کے حوالے کردیا۔
ہاتھوں نے اسے لکھ دیا۔اب حیراں ہوں کہ نکتہ شناس اسے کیا سمجھیں گے ۔اکثر نازک دماغ تو کہ دیں گے کہ واہیات ہے۔
بہت کہیں گے ،کوئی کہا نی کہی ہے مگر مزا نہیں۔جو بڑے مبصر ہیں کہیں گے کہ ہے،مگرغور طلب ہے۔بے شک یہ کہنا ان کا اصلیت سے خالی نہیں۔کیونکہ خیالی تصویریںحکمت و اخلاق کی ہیں ۔فکر کے قلم نے خاکہ ڈالا ہے اور استعارہ و تشبیہ نے رنگ دیا ہے۔
طبیعتیں رستہ سے آشنا نہیں ۔سبب یہ کہ ملک میں ابھی اس طرز کا رواج نہیں۔۔‘‘
آزاد نے ان چند سطروں میں ان تمام باتوں کا احاطہ کر دیا جو ہم اب تک دو تین صفحات میں کر پائے تھے۔پہلی بات یہ کہ مذکورہ مضامین صرف ترجمہ نہیں ہیں۔ماقبل بھی ذکر آیا کہ یہ ترجمہ سے زیادہ تخلیق کا درجہ رکھتے ہیں۔دوسری بات یہ کہ یہ طرز عام روش سے مختلف ہے یعنی آزاد کی خود کی ایجاد کردہ ہے۔تیسری بات آزاد نے قارئین کوتین حصوں میں تقسیم کیا اور کہا کہ جو بڑے مبصر ہیں کہیں گے کہ ہے،مگرغور طلب ہے یعنی سب لوگ اس اہمیت کا اندازہ نہیں لگا سکتے، صرف خواص ہی اس کی تہ تک پہنچیں گے اور ابھی اس طرز کا رواج نہیں۔چوتھی بات کہ یہ خیالی تصویریں ہیں جن میں حکمت و اخلاق کی باتیں ہیں۔اس کے تعلق سے بھی بات ہوئی کہ کیسے خیالی چیزوں کوانہوں نے مجسم کر کے حقیقی رنگ دیا ہے۔پانچویں اور اہم بات یہ فکر کے قلم نے خاکہ ڈالا ہے اور استعارہ و تشبیہ کے استعمال سے اس میں حسن پیدا کیا گیا ہے۔یہ اس کتاب کی خصوصیات ہیں ۔دیگر خصوصیات کے بارے میں رام بابو سکسینہ کا خیال نقل کروں گی کہ:
’’آزاد کی عبارت میں بھاشا کی سادگی اور بے تکلفی اور بے تکلفی،انگریزی کی صاف گوئی اور فارسی کی حسن کاری سب یک جان ہوگئی ہے۔‘‘
غرضیکہ آزاد کی عظمت یہ ہے کہہ وہ اس انو کھے اور نادر اسلوب کے بانی ہیں ،ان کی سادگی میں بھی بناو سنگار کا سامان موجود ہے،اس معاملے میں انہیں یکتائی حاصل ہے۔مذکورہ تمام خصوصیات ان کی نثر پہچان اور شان ہیں۔مختصر یہ کہ نیرنگ خیال تمثیلی اسلوب اور ہلکے پھلکے شگفتہ مضون نگاری کا عمدہ نمونہ ہے اور اس کا مطالعہ خاص کر نہایت اہم ہے۔۔۔۔۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |


1 comment
یہ تو کل دس مضامین ہیں اور آپ نے فرمایا ہیں کہ تیرا مضامین ہیں تفصیل سے بیان کرنا