/١٢ربیع الاول ہمارے معاشرے ہمارے ملک اور خاص کر بر صغیر میں باقاعدہ ایک جشن اور ایک تہوار کی شکل اختیار کر گئی ھے۔جب ربیع الاول کا مہینہ آتا ھے تو سارے ملک میں سیرت النبی اور میلادالنبی کا ایک غیر متناہی سلسلہ شروع ہو جاتا ہے ۔ظاھر ھے کہ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مبارک تذکره اتنی بڑی سعادت ہے کہ اس اس کے برار کوئی سعادت نہیں ہوسکتی لیکن مستقل یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آپ کے مبارک تذکره کو اس ماہ ربیع الاول کے ساتھ بلکہ صرف ۱۲ / ربیع الاول کے ساتھ مخصوص کر دیا گیا ہے اور یہ کہا جاتا ہے کہ چونک ۱۲ / ربیع الاول کو حضور صلى الله علي وسلم کی ولادت ہوئی اس لئے آپ کا یوم پیدائش منایا جائے گا اور اس میں آپ ک سیرت اور ولات کا بیان ہوگا
لیکن یہ سب کچھ کرتے وقت ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ جس ذات اقدس کی سیرت کا یہ بیان ہو رہا ہے اس ذات اقدس کی تعلیم کیا ہے ؟ اور اس تعلیم کے اندر اس قسم کا تصور موجود ہے یا نہیں ؟
تاریخ انسانیت کا عظیم واقعہ
اس میں کسی مسلمان کو شبہ نہیں ہوسکتا کہ آنحضرت صلى الله علیہ وسلم کا اس دنیا میں تشریف لانا تاریخ انسانیت کا اتنا عظیم واقعہ ہے کہ اس سے زیادہ عظیم ، اس سے پر مسرت، اس سے زیاده مبارک اور مقدس واقع اس روئے زمین پر پیش نہیں آیا ، انسانیت کو بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات کانور ملا، آپ کی مقدس شخصت کا برکات نصیب ہوئیں ، یہ اتنا بڑا واقعہ ہے کہ تاریخ کا اور واقعہ اتنا بڑا نہیں ہوسکتا اور اگر دنیا میں کسی کی يوم پیدائش منانے کا کوئی تصور ہوتا تو سرکار دو عالم کی يوم پیدائش سے زیاده کوئی دن اس بات کا مستحق نہیں تھا کہ اس کو منایا جائے اور اس کو عید قرار دیا جائے – لیکن نبوت کے بعد آپ ۲۳ سال اس دنیا میں تشریف فرما رہے اور ہر سال ربیع الاول کا مہینہ آتا تھا , لیکن نہ صرف یہ کہ آپ نے ۱۲ / ربیع الاول کو یوم پیدائش نہیں منایا بلکہ آپ کے کسی صحابی کے حاشئیہ خیال میں بھی یہ نہیں گزرا کہ چونکہ ۱۲/ ربیع الاول آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیدائش کا دن ہے اس لئے اس کو کی خاص طریقے سے منانا چاہیے_
میلاد النبی کی ابتداء ہے ۔
اللہ تعالی انسان کی نفسیات اور اس کی کمزوریوں سے واقف اللہ تعالی یہ جانتے ہیں کہ اس کو ذرا سا شوشہ دیا گیاتو یہ کہاں سے کہاں بات کو پہنچاۓ گا ۔ اس واسطے کسی کے دن منانے کا کوئی تصور ہی نہیں رکھا ۔ جس طرح ” کر سمس “ کے ساتھ ہوا ، اسی طرح یہاں بھی ہوا کہ کسی بادشاہ کے دل میں خیال آگیا کہ جب عیسائی لوگ حضرت عیسی علیہ السلام کا یوم پیدائش مناتے ہیں تو ہم حضور اقدس ﷺم کا یوم پیدائش کیوں نہ منائیں ؟ چنانچہ یہ کہہ کر اس بادشاہ نے میلاد کا سلسلہ شروع کر دیا ، شروع میں یہاں بھی یہی ہوا کہ میلاد ہوا جس میں حضور اقدس سلام کی سیرت کا بیان ہوا اور کچھ نعتیں پڑھی گئیں ۔ لیکن اب آپ دیکھ لیں کہ کہاں تک نوبت پہنچ چکی ہے ۔
حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات سراپا نور ہیں
چھٹی صدی عیسوی ، پیر کا دن ربيع الاول کا مہینہ تھا_ گھٹ ٹوپ اندھیری رات تھی ، گمراہیوں اور ظلم وستم کی گھٹائیں چھائی ہوئیں تھیں ، جاگیر و جائیداد اور پر گھنڈ نسلی ، اپنے سے دوسروں کو نیچا جاننا ، اور خاندانی اونچ نیچ ، غریب سے پیسے ہوئے لوگوں سے چھوت چھات کا معاملہ کرنا ، غریب مسکین کو دبانا کمزوروں کی کمزوریوں کی بنیاد پر استحصال کرنا ، عورتوں کو محص خدمت گزار جاننا ، شوہروں کی موت کے بعد ان کی زندگی کو اکارت ماننا یہاں تک کہ ان کی خودکشی کو ان کے لئے ذریعہ نجات سمجھنا ، ایک خدا سے انکا اور سیکڑوں ہزاروں دیوی دیوتاؤں کے سامنے ماکا رگڑنا من مانی باتوں کو مذهب سمجھ لینا خود عرضی بے رحمی ، سود ، زنا، شراب اور جواوغیره ایسی بیمایاں تھیں جن کی وبا پوری دُنیا میں پھیلی ہوئی تھی ، عرب کی معاشرت ان عامہ بیماریوں کے ساتھ بیمار معاشرت گی _ جیسا ماحول ان دنوں عام تھا ، تبھی ایک ایسے شخص کی بعثت مکہ مکرمہ میں ہوئی جس نے ان بیماریوں کو الله کے حکم سے نیست ونابود کیا اور وہ حضور اقدس صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے _ آپ صلی الله علیہ وسلم عامۃ الناس کی تربیت و اصلاح کے لئے ایک تنظیم (انجمن) بنائی جس کے ارکان کا یہ عہد ہوتا تھا ۔۱۔ہم اپنے وطن سے بے امنی دور کریں گے ۔۲۔غریبوں کی امداد کرتے رہیں گے ۔۳۔مسافروں کی حفاظت کریں گے ۔۴۔طاقت ورکو کمزور پر، بڑوں کو چھوٹوں پر ظلم کرنے اور ناانصافی سے روکیں گے ۔ اللہ تعالی نے قرآن مجید میں فرمایا کہ قد جاء كم من اللہ نوز و کتاب مبین ۔ ( سورۃ المائدہ ۔ ۱۵ ) یعنی تمہارے پاس اللہ تعالی کی طرف سے ایک تو کھلی کتاب یعنی قرآن آیا ہے اور اس کے ساتھ ایک نور آیا ہے اس اشارہ اس بات کی طرف کر دیا کہ اگر کسی کے پاس کتاب موجود ہے اور کتاب میں سب کچھ لکھا ہے ، لیکن اس کے پاس روشنی نہیں ہے نہ سورج کی روشنی ہے ، نہ بجلی کی روشنی ہے ، نہ چراغ کی روشنی ہے ، بلکہ اندھیرا ہے ۔ اس لئے اب روشنی کے بغیر اس کتاب سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا ۔ اسی طرح اگر دن کی روشنی موجود ہے ، بجلی کی روشنی موجود ہے ، لیکن آنکھ کی روشنی نہیں ہے تب بھی کتاب سے فائدہ نہیں اٹھاسکتا ۔ لہذا جس طرح روشنی کے بغیر کتاب سے فائدہ نہیں اٹھایا جاسکتا ، اسی طرح ہم نے قرآن کریم کے ساتھ محمد رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات کا نور بھیجا ہے جب تک تعلیمات کا یہ نور تمہارے پاس نہیں ہو گا ، تم قرآن کریم نہیں سمجھ سکو گے اور اس پر عمل کرنے کا طریقہ تمہیں نہیں آئیگا
نام: محمد کیف قمر الدین
مدرسہ فاروقیہ گوونڈی
رابطہ:9594772910
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

