حیات انسانی میں رول ماڈل بڑا اہم کردار ادا کرتا ہے چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ہر انسان کا اپنا کوئی رول ماڈل ہوتا ہے جس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ زندگی کے پیچ و خم کا سامنا کرتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان مبارک ” لقد کان لکم فی رسول اللہ اسوۃ حسنۃ ” کے مطابق ایک سچے مومن کا رول ماڈل نبی کریم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی ذات عالی ہی ہوگی ۔ اس طرح آپ کے طرز عمل نیز آپ کے اہل و عیال کے طرز حیات امت مسلمہ کے لئے وہ نایاب اصول ہیں جنہیں اپنا کر انسان کامیابی کی راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
سیرت صحابیات پر ایک طائرانہ نظر ڈالنے سے حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی زندگی گوہر آبدار کی مانند اپنا جوہر بکھیرتے ہوئے نظر آتی ہے ۔ اس صاف و شفاف پیکر کی ایک ہلکی جھلک ہی امت مسلمہ کے لئے وہ بہترین مشعل راہ ہے جس کی روشنی میں زندگی کا سفر بآسانی طے کیا جاسکتا ہے۔
حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ کی سیرت مطہرہ سے متعلق صفحات بھرے پڑے ہیں لہذا ذیل میں ان کی سیرت سے قطع نظر ، ان کے کردار کے پس منظر میں خواتین امت کو چند رہنما اصول پیش کرنے کی ایک حقیر کوشش ہے۔
سیرت فاطمہ کے مطالعہ سے یہ پتہ چلتا ہے کہ آپ بچپن سے ہی نہایت سنجیدہ مزاج کی حامل تھیں اور وقتاً فوقتاً کائنات میں موجود نشانیوں سے متعلق سوال کیا کرتیں لہذا اس میں مادی دور کی ترقی یافتہ خواتین کے لئے ایک درس ہے جو مادی چیزوں کے حصول یابی میں غوطہ زن اپنے معصوم بچوں کی نفسیات سے غافل ہیں کہ وہ اپنے بچوں کو کافی وقت دیتے ہوئے انہیں سوالات کرنے کا موقع دیں اور ان کے سوالوں کا درست جواب دے کر ان کے وسوسوں کو دور کریں تاکہ آئندہ زندگی میں اس کا مثبت اثر دیکھ سکیں۔
حضرت خدیجہ رضی اللّٰہ عنہا کے انتقال کے وقت امہات المومنین رضی اللّٰہ عنہن نے حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی غمگساری اور دلجوئی کی جو بہترین مثال پیش کیں، امت مسلمہ کے لئے ایک بیش بہا تحفہ ہے۔ خواتین امت اگر اس صفت عالی سے خود کو مزین کرلیں تو انسانیت کا شیرازہ بکھرنے سے بچ جائے گا۔
حقوق نسواں میں ایک اہم چیز حق مہر ہے ۔ اس ضمن میں مہر فاطمی کا اگر تخمینہ لگایا جائے تو موجودہ دور کے حساب سے اس کی قیمت ایک لاکھ پانچ ہزار بنتی ہے اور کم سے کم مہر کی قیمت بھی 2100 روپئے کے حساب سے بنتی ہے۔ لہذا معاشرے میں مہر فاطمی جو آج 551 روپئے کے نام سے رائج ہے ، وہ لڑکی کے ساتھ مذاق ہے۔ البتہ اگر شوہر مفلوک الحال ہو تو کم سے کم مہر مثلاً لوہے کی انگوٹھی یا قرآنی تعلیمات کا بھی بطور مہر ثبوت ملتا ہے اسلئے عورتوں کے اس حقوق کا خاص خیال رکھتے ہوئے فریقین کی باہمی مشاورت سے اس کا تناسب طے کریں تاکہ ازدواجی زندگی بدمزگی کا شکار نہ ہو۔ تاہم صاحب ثروت افراد کو زیادہ سے زیادہ مہر کی تعیین میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا ہی مہر فاطمی کا اصل رخ ہے۔
جہیز جو آج معاشرے کے جسم میں ناسور کی مانند پنپ رہا ہے اور ہزاروں گھروں کو خس و خاشاک کی طرح بہا رہا ہے جس کی اصلی ہیرو آج کی خواتین ہی ہیں لہذا سیرت فاطمہ جسے جہیز کے جواز میں بطور دلیل پیش کیا جاتا ہے اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ اس سیرت طیبہ سے امت کے لئے ایک خاص اور سنہرا سبق ہے کہ نبی اطہر صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اپنی شہزادی کو جو چیزیں نکاح کے موقع پر دی تھیں وہ احتیاجات یومیہ سے متعلق تھیں اور چونکہ حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی زیر سرپرستی تھے اور ان کے پاس گھر بسانے کے لئے کوئی ساز و سامان نہ تھا لہذا انہی کی زرہ کو فروخت کرا کر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم نے اس سے روز مرہ کے سامان خرید کر دیا لہذا اس چیز کو جہیز کے جواز میں پیش کرنا شریعت کے منافی ہے۔
اپنی چہیتی بیٹی کی رخصتی کے وقت شاہ عرب و عجم نے دعا دیتے ہوئے حقوق وفرائض کی خاص نشاندھی کی جو امت کے لئے ایک عمدہ مثال ہے۔ لہذا ہر والدین کو اپنی بیٹی کی رخصتی کے وقت حقوق وفرائض کی خاص تاکید کا خیال رکھنا چاہیے تاکہ خاندان خوشحالی سے زندگی بسر کر سکے۔
حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کو آپ نے ولیمہ کی خاص تاکید کی لہذا اس دور میں بھی ولیمہ کا خاص اہتمام ہونا چاہیے البتہ اس کے لئے ضروری نہیں کہ بڑی دعوت ہی رکھی جائے کیونکہ حدیث میں ” اولم ولو بشأۃ” کے الفاظ بھی ملتے ہیں۔
حضرت فاطمہ رضی اللّٰہ عنہا کی زندگی جن جانفشاں اور مشکل ترین محنت کی عکاسی کرتی ہے اس میں خواتین امت کے لئے عبرت ہے کہ شہزادی عرب و عجم ہونے کے باوجود گھر کے تمام کام کاج میں حصہ لیا نیز ذکر الٰہی میں بھی مصروف رہیں لہذا گھریلو امور انجام دیتے وقت عورتوں کو شرم نہیں بلکہ فخر محسوس ہونا چاہیے اور اس کی ادائیگی اس طرز پر ہو کہ یہ گھریلو کام ذکر خدا اور عبادت الٰہی میں رکاوٹ نہ بنیں جیسا کہ ہم آج دیکھتے ہیں کہ بعض مصروفیات کی بنا پر کئی کئی وقت کی نمازیں بھی بڑی آسانی سے چھوڑ دی جاتی ہیں۔
اپ رضی اللّٰہ عنہا نے جس کسمپرسی کی زندگی گزاری مگر کبھی شوہر نامدار کی ناشکری نہیں کی اور نہ ہی کبھی کسی چیز کی فرمائش کی۔لہذا اس میں دور جدید کی خواتین کے لیے ایک خاص سبق ہے کہ شوہر کے حالات اگر ناگفتہ بہ ہیں تو بیوی کی زبان پر حرف شکایت نہیں آنی چاہیے بلکہ ہر حال میں اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے شوہر کا ہم سفر ہونا چاہیے جب کہ آج ہم دیکھتے ہیں کہ بیوی محض خاندانی رسوم و رواج کی ادائیگی کے لیے شوہر کی جیب اور حالات کا خیال کئے بغیر زیادہ سے زیادہ رقومات کا مطالبہ کرتی ہے اور اسے پورا نہ کرنے کی صورت میں بعض دفعہ زبان درازی پر اتر آتی ہے جو شوہر کے لئے تکلیف کا باعث بنتا ہے یہاں تک کہ بعض دفعہ شوہر وہ مطالبات پورے کرنے کے لیے حرام کمائی میں بھی ملوث ہوجاتا ہے۔
آپ نے انتہائی تنگدستی میں بھی صدقات و خیرات کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دیا لہذا دور جدید کے مسلمانوں کے لیے اس میں سبق ہے کہ جب کوئی بھائی صدقہ و خیرات کرکے کسی کے ساتھ حسن سلوک کرے تو آیت کریمہ کی روشنی میں ( یایہا الذین آمنوا لا تبطلوا صدقاتکم بالمن و الأذی ) احسان جتاکر اپنے صدقات کو باطل نہ کرے مثلاً اس طرح کے جملے استعمال کرنا کہ میں نے اس کے ساتھ اتنا کیا مگر اس نے فراموش کردیا وغیرہ ،بلکہ اپنے صدقات کو رضائے الٰہی کے لئے پوشیدہ رکھے۔
آپ رضی اللّٰہ عنہا انتہائی مشکل حالات میں بھی کبھی آزردہ خاطر نہ ہوئیں بلکہ صبر و استقلال کا مظاہرہ کیا لہذا ہمیں چاہیے کہ ہم پریشانی کے وقت آبدیدہ نہ ہوں بلکہ خدا کی مصلحت سمجھتے ہوئے اس پر صبر کریں اور فراوانی کی دعا کریں۔
اگرچہ اسلام نے ضرورت کی بنا پر چار شادیوں کی اجازت دی ہے مگر سوکن کا رشتہ عورتوں کے لئے تکلیف کا باعث ہے جس کا اظہار حضرت علی رضی اللّٰہ عنہ کے دوسرے نکاح کے ارادے پر آپ صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے الفاظ سے ہوتا ہے لہذا محض دل لگی کے لئے ایک سے زائد نکاح پر غور کر لینا چاہیے کیونکہ زائد نکاح مساوات کا تقاضا کرتا ہے جب کہ آج کے دور میں اس صفت کا فقدان ہے۔
آپ نے بیماری یا عام حالات میں بھی پردہ و حجاب کی پابندی کی لہذا بیمار ہوں یا عام حالات خواتین امت کو پردہ کا خاص اہتمام کرنا ہی شریعت کو مطلوب ہے۔
آپ نے عائلی ذمہ داریوں کی ادائیگی نیز ذکر خدا میں مشغول رہ کر علمی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا جیسا کہ آپ سے کئی احادیث کی روایت ملتی ہے لہذا یہ دریچے وا کرتا ہے کہ عائلی امور کی ذمہ داریاں ہوں یا ذکر الٰہی کی مشغولیت ، ہمیں حتی الامکان علمی امور میں حصہ لینا چاہیے۔
غرض کہ سیرت فاطمہ سے جو زریں اصول ملتے ہیں وہ ایک خوش گوار عائلی زندگی گزارنے کے لئے بیش قیمت تحفہ ہیں جنہیں اپنا کر ہم کامیابی کا زینہ طے کر سکتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین یارب العالمین۔
ڈاکٹر سمیہ ریاض فلاحی
آراضی باغ، اعظم گڑھ
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

