انسان جب مکمل طور پراپنی قدروں اور تہذیب سے نا آشناہو جاتا ہے تو اس کے اندر موجود Egoکہیں نہ کہیں گم ہو جاتی ہے۔اسے اپنی شخصیت اور Egoکیشناخت کے لیے در در کی ٹھوکریں کھانے پر مجبور ہونا پڑتا ہے۔موجودہ دور کے نمایندہ افسانہ نگار رضوان الحق نے بھی انھیں باتوں کو مد نظر رکھتے ہوئے افسانہ ’’کچھ ساماں‘‘تخلیق کیا۔بنیادی طور پر یہ افسانہ انسان کی داخلی کش مکش شعور ،لاشعور اور تحت الشعورکے پیچیدہ مسائل کو نفسیاتی طور پر حل کرنے کی ناکام کوشش کرتا ہے۔رضوان الحق نے اس افسانے میں کھوئی ہوئی Egoکو دوبارہ حاصل کرنے کی رودادکو مبہم طریقے سے پیش کیا ہے ۔موصوف نے اس افسانے میں فرائڈ کے تحلیلی نفسی،ایڈلر کے احساس کمتری، ژونگ کے اجتماعی لاشعور کے نظریے کو برتنے کی کاوشش کی ہے۔
افسانہ ’’کچھ ساماں‘‘میں رضوان الحق نے طالب کے کردار میں بیک وقت کئی چیزوں کو جمع کر دیا یے۔طالب جو کہ نفسیاتی مریض ہے،وہ رشوت خور ہے، عشق مزاج ہے، جنسی تلذذ کا رسیا ہے،اپنی رفیقِ حیات سے دور رہنے والا، پڑوسیوں سے بے زارو بے نیاز،یعنی اپنی ہی دنیا میں گم اور مگن رہنے والا ہے۔اس افسانے کامرکزی کردار طالب ہی ہے۔رضوان الحق نے طالب کو ایک ذہنی اور نفسیاتی مریض کے طور پر ہمارے سامنے پیش کیا ہے۔جب وہ بس میں سفر کرتا تو دوشیزاؤں کے جسم کی گرمی سے اپنی ذہنی تشنگی دور کرنا چاہتا ہے اور جب وہ اپنے دفتر میں ہوتا ہے تو وہ اپنے کلائنٹس سے رشوت مانگتا ہے۔لیکن جب وہ گھر پر آتا ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ اس کا قیمتی سرمایہ کہیں گُم ہو گیا ہے۔ اس کی تلاش میں وہ اپنے گھر کا کوناکونا چھان مارتا ہے۔لیکن اس کا کھویا ہوا سامان اسے موصول نہیں ہو پاتا۔وہ دن بھر کے واقعات کو یاد کرتا ہے کہ اس کا قیمتی سامان کون چوری کر کے لے گیا ہے۔اس کا شک اُس سیٹھ پر جاتا ہے جس سے اس نے رشوت کے روپیے لیے تھے۔لیکن اسے یاد آتا ہے کہ اس کا قیمتی سامان وہ نہیں لے گیا ۔رات کے نصف حصے میں اس کے سر میں شدید درد ہونے لگتا ہے لیکن اس کے ذہن میں بس ایک ہی سوال گردش کرتا ہے کہ اس کا کچھ سامان کہیں کھو گیا ہے۔وہ اپنے گھر سے رات میں ہیاپنے سامان کی تلاش میں نکل جاتا ہے ۔تھک ہار کر وہ ایک ایسے راستے پر چلا جاتا ہے جہاں اسے ذہنی سکون مل سکے اور اس کا کھویا ہوا کچھ سامان دستیاب ہو سکے۔لیکن حیرانی کی بات تو یہ ہے کہ اسے یہ ہی نہیں معلوم کہ اس کا کون سا سامان گم ہو گیا ہے۔اس کا سامان دفتر میں ،گھر میں ،شہر میں یا جنگل میں گم ہوا۔
افسانہ نگار نے اس افسانے میں مذہبی،فرقہ واریت اور سیاسی گندگی کے علاوہ بین الاقوامی touch بالخصوص isiکے ساتھ طالب کے تعلقات کو ثابت کرنے کے لیے داروغہ اور تھانے دار میں ہونے والی گفتگو کو مرکز بنایا ہے۔سلطان آباد کی بستی اور شہر کی مسافت پر خاص توجہ مرکوز کی گئی ہے۔افسانے کی قرأت کے دوران یہ واضح ہو جاتا ہے کہ طالب کا کردار اپنے راستے اور مقصد سے بھٹکے ہوئے نوجوان کا کردار ہے۔رضوان الحق نے افسانہ ”کچھ ساماں”میں طوالت سے کام لیا یے۔افسانہ کہانی در کہانی کی ہیئت میں پیش کیا گیا ہے۔اس افسانے میں خوابوں کو خاص اہمیت دی گئی ہے۔اگر افسانہ مختصر ہوتا یعنی اس میں خواب،سلطان آباد،تھانے وغیرہ پر جتنی محنت کی گئی ہے اگر اس سے آدھی محنت کہانی کے مقصدکو واضح کرنے میں صرف کی جاتی تو افسانہ نگار کی یہ تخلیق شاہ کار ہوتی۔طویل افسانہ لکھنا اپنے مقصد کو فوت کر دیتا ہے۔رضوان الحق نے طالب کے بچپن کی باتوں کو اہمیت دی ہے۔طالب کو بچپن میں کہی گئی باتیں تو یاد ہیں لیکن بیتے ہوئے کل کی باتیں اسے یاد نہیں ہیں۔اگران باتوں پر غورخوض کیا جائے تومحسوس ہوتا ہے کہ ان باتوں میں تضاد کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔میری ناقص راے میں رضوان الحق کو ان تمام امور پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے تھی۔افسانے کا اسلوب رواں دواں اور زبان صاف ستھری ہے۔موصوف نے افسانے میں منظر کشی اور جزئیات نگاری کے کمالات سے قارئین کو محظوظ کیا ہے۔
IBRAHEEM AFSAR,SIWAL KHAS MEERUT(U.P)250501,MOB-9897012528
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |

