انسان شعوری طور پر ارتقاء کا متلاشی ہے اور اس کی حسِّ ادراک دریافت اور ایجاد کی راہوں کی جستجو میں محو رہتی ہے، انسانی خرد کا احاطہ ممکنات سے بھی کمتر موجودات یا مشاہدات کی سرحدوں تک بہ مشکل ہو پاتا ہے، کھوج انسانی فطرت کا لازمہ ہے لیکن خرد اس کی اجازت نہیں دیتی، بلکہ وہ فقط موجودات کو مشاہدات کی بھٹی سے گزار کر نتائج کا اعلان کرتی ہے، اور ظاہر ہے روحانیت و ایمائیت کی اس دنیا میں ہر چیز عقل کی کسوٹی پر پورا نہیں اتر سکتی، اور تجربات کا نقص تو بہرصورت موجود رہ سکتا ہے، اس لیے ہم حتمی طور پر موجودات ہی کا احاطہ اس کی حقیقت اور کُنہ کے اعتبار نہیں کر سکتے، چہ جائیکہ اس کے کُل کو حیطۂ تحقیق میں لا سکیں، ہماری سائنس کا یہی حال ہے، روحانیت سے عاری اور ایمائیت سے خالی اس ٹھوس علم کی شبیہ ہم شاعری کو قرار دے سکتے ہیں، وجہ شبہ اگر محض خیالی تحقیق یا مشاہدہ ہو تو ہم شاعری اور سائنس کو باہم مشبہ اور مشبہ بہٖ قرار دے سکتے ہیں۔
میرا یہ مقالہ اسی نظریے کی تفہیم و تشریح پر مبنی ہے، کہ سائنس اور شاعری میں جو یک گُونہ معنوی و ہیئتی اشتراک ہے، اس کی حدبندی کی جائے اور اس کے ظاہر و باطن پر گہری نظر ڈالی جائے۔
شاعر اور سائنس داں کے مابین تخلیقیت کا عنصر مشترک ہے۔دونوں نظریات ،مشاہدات اور تجربات سے گُزرکر اپنی تخلیق پیش کرتے ہیں ۔سائنس داں اپنے ذہن میں اُبھر رہے تصّورات اورخیالات کو یکجا کرتاہے اورتخلیقیت کے عمل کے ذریعے خود ہی تحقیقی سوالات کو جنم دیتا ہے ان کےحل تلاش کرتاہےاور آخری مراحل میں نتائج بھی حاصل کرتا ہے ۔چنانچہ شاعر بھی اپنے تصورات اور خیالات کو تجربے کی روشنی میں جذبے کو فکر میں پرو کر پیش کرتا ہے ۔غرض جاندار تخلیق سے دونوں کی تخلیقی بے چینی تسکین پاتی ہے ۔فلپ فرانک کے الفاظ میں :
___”بنیادی طور پر سائنس داں کا کام یا کار نامہ غالباً شاعر کے کارنامے سے مختلف نہیں۔حقیقت (Reality) نہ تو پوری سائنس داں کی گرفت میں آتی ہے نہ شاعر کی۔حقیقت کا صرف تجزیہ ہی کیا جاسکتا ہے بیان یا پیش ہرگز نہیں کی جاسکتی ۔ہم اتنا بھی نہیں جان سکتے کہ حقیقت کوپیش یا بیان کرنے کے معنی کیا ہونگے ۔ہر بیان و اظہار خواہ سائنسی ہو یاشاعرانہ ،چلتا علامات آفرینی ہی سےہے "۔
(بحوالہ مذہب اور سائنس از مولانا عبد الباری ندوی_ ص-216نامی پریس لکھنو 1972)
شاعری بےچین روح کی مسیحا ابتدا سےرہی ہے۔شاعری انسان کےاندرون کی شکست و ریخت اور حیات ِ انسانی کے عجائبات کی سیرکراتی ہے ۔شاعر اپنےگردوپیش میں سیال وجود کا نہ صرف احساس و ادراک رکھتاہے بلکہ اس کی روح جوالامکھی کی طرح دہکتی رہتی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ بڑی شاعری ماضی کی یادگار ، حال کا آئینہ اور مستقبل کا اشاریہ ہوتی ہے .
اردو زبان انگریزی کے وسیلے سے ہی جدیدسائنس سے آشنا ہوئی ۔سائنس کی اہمیت و افادیت سمجھتے ہوئے سر سیدنے نعرہ لگایا کہ وہ مسلمانوں کے ایک ہاتھ میں قرآن اور دوسرے ہاتھ میں سائنس کو دیکھنا چاہتےہیں ۔سائنسی علوم سے ذات و کائنات سے متعلق ہمارے علم و آگہی میں نہ صرف وسعت پیدا ہوئی بلکہ ہمارے طرزِ فکر ،اور طرزِ اظہار میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔چنانچہ شاعری بھی اپنے طرزِ فکر ،داخلی وخارجی تجربات اور حسیات و کیفیات میں تغّیر و تبدل کا متقاضی ہوتی گئ۔یا جمیل جالبی کےالفاظ میں ،شاعری وہ پہلی دایہ تھی جس کے دودھ نے رفتہ رفتہ جاہل قوموں اور مشکل زبانوں کو مشکل علوم کو ہضم کرنے کا اہل بنایا ۔
بڑی تخلیق بڑے خیال سے جنم لیتی ہے ۔شاعر اور سائنس داں دونوں تخیل کے چکر کاٹتے ہیں اس سلسلے میں شاعر زیادہ ہی فعال ہوتا ہے مرغِ تخیل کی پرواز کے دوران وہ جس ظلمات سے گزر جاتا ہے وہاں جاتے ہوئے سورج کے پر جلتے ہیں ۔اپنے اس سفر سے کسی لمحے کو اخذ کرکے اپنے مطالعے میں گوندھ کر شعری صورت دیتا ہے بعد ازاں اس کی کہی ہوئی باتیں سائنسی جانچ پڑتال سے سچ بھی نکل آتی ہیں ۔صاحبِ "غالب بوطیقا” رقمطراز ہیں:
__”شعر فہمی یہ نہیں کہ آپ شعر میں یہ تلاش کریں کہ شاعر کیا کہہ رہا ہے بلکہ آپ یہ معلوم کریں کہ شعرکیا کہہ رہا ہے یا شعر میں کیا کہا گیا ہے ۔کیونکہ شاعر اپنے شعر میں ایک بات نہیں کہتا بے شمار باتیں کہتا ہے جو کسی زمان و مکان کی پابند نہیں ہوتی۔”
(غالب بوطقا۔از مشکور حسین یاد ۔ص06 سال2003_آفسیٹ پرنٹرس -دہلی-6)۔
اردو غزل بھی آدمی کے محشر خیال کا احاطہ کرتی ہے جیسے جیسے ادب کا رجحان سائنس کی طرف بڑھے گا ویسے ویسے اردو غزل میں نئے نئے گوشوں کا انکشاف ہوتا جائے گا ۔
موجودہ سائنسی تحقیقات کےمطابق اب تک اس کائنات کو تخلیق ہوئے کم وبیش پندرہ(15)ارب سال گزر چکے ہیں۔تخلیق کائنات کے حقائق کو جاننے کےلیے ماہرِ فلکیات ہمیشہ سے سر گرداں رہے ہیں ۔1929میں امریکی ماہر فلکیات ایڈون ہبل نےدریافت کیا کہ کہکشائیں مسلسل ایک دوسرےسےدُورہو رہی ہیں ۔اس سےسائنس دانوں نےیہ اخذ کیاکہ ماضی میں کسی وقت یہ کہکشائیں اکھٹی تھیں ۔اس وقت یہ کائنات توانائی کے ایک بڑے گولے کی شکل میں موجود تھی جو ایک عظیم دھماکہ (Big-Bang) کے نتیجے میں مادے کی صورت اختیار کر گیا ۔اس زبردست دھما کے کےنتیجے میں کہکشائیں ،سورج ،چاند ،ستارے اور زمین سب کے سب وجود میں آئے ۔
احد کی ذات جدا نہیں صفات احمد ؐ سے
پھٹا انار تو بکھرے انار کے . دانے
ْ(سراج اورنگ آبادی )
یہ کائنات ابھی ناتمام ہے شاید
کہ آرہی ہےدما دم صدائے کن فیکون
(اقبال)
دھماکہ سے وجود میں آنے والی کہکشائیں ،چاند، ستارے وغیرہ جو مسلسل گردش میں ہیں ماہرین ِ فلکیات نے ان کی ہلچل کا مشاہدہ کرنے کے لیے بڑی بڑی دور بینوں کو سیٹ کیاہے تاکہ رات دن خلاوں میں ہونے والی ہلچل پر ہر لمحہ نظر رکھی جاے۔جس سے زمین کی گردش ،رات اور دن اور موسموں کا حال معلوم ہوتا ہے ۔
رات دن گردش میں ہیں سات آسمان
ہورہے گا کچھ نہ کچھ گھبرائے کیا ۔
(غالب )
وہی پستی و بلندی ہے زمین کی آتش
وہی گردش میں شب و روز ہیں افلاک ہنوز۔
(آتش )
سکوں جو کائنات میں کہیں نہیں
کہو کہ اب مدار پر زمیں نہیں۔
(شاہد شیدائی )
ستارے زمین سے بہت دوری پر واقع ہیں ۔سورج کے مقابلے زمین سے فاصلے پر ہونے کی وجہ سے یہ ہمیں دن میں دکھائی نہیں دیتے ہیں ۔رات کی تا ریکی میں یہ چمکتے ستارے بہت چھوٹے معلوم ہوتے ہیں جبکہ ان میں بعض سورج سے بڑے بھی ہوتے ہیں ۔ستارے مر بھی جاتے ہیں اور نئے ستارے پیدا بھی ہوتے ہیں۔جسے سائنس کی زبان میں Origin and Evolution of Stars کہا جاتا ہے ۔اردو غزل گو شعراء بھی ستارے چمکتے دیکھتے تھے اور گنتے بھی تھے کہ ہجر کی رات کٹے اور وصل کا دن نصیب ہوجائے ۔لیکن شاعر کے مرغِ تخیل کی رسائی ویسے بھی تا کجا ہوتی ہے ۔دیکھیے :
زمانہ عہد میں اس کے ہے محوِ آرائش
بنیں گے اور ستارے اب آسماں کے لیے .
(غالب )
مرتبہ کم حرص و رفعت سے ہمارا ہوگیا
آفتاب ایسا ہوا اُنچا کہ تارا ہوگیا ۔
(ناسخ)
بڑے تاباں ،بڑے روشن ستارے ٹوٹ جاتے ہیں
سحر کی راہ تکنا تا سحر آساں نہیں ہوتا ۔
(ادا جعفری )
سورج ستاروں میں بادشاہ کی حیثیت رکھتا ہے ۔سائنسی نقطہ نظر سے زرعی پیداوار کے اعتبار سے سورج بہت اہمیت کا حامل ہے ۔زرعی پیداوار کے لیے زمین،روشنی،ہوااور بارش بے حد ضروری ہے ان چاروں عناصر کے وجود میں آنے کی سائنسی اور جغرافیائی وجہ سورج ہی ہے ۔
روشنی کے زاویوں پر منحصر ہے زندگی
آپ کے بس میں نہیں ہے آپ کا سایا یہاں
(حمایت علی شاعر)
روشنی بانٹتا رہا سورج
دُھوپ سے ہر زمین کو چمکایا
(نامعلوم )
سورج ہوں زندگی کی رمق چھوڑ جاوں گا
میں ڈوب بھی گیا تو شفق چھوڑ جاوں گا
(اقبال ساجد )
سورج کی روشنی سے دریا میں بُخارات پیدا ہوتے ہیں وہی بخارات کُرہ ہوا تک پہنچ کر ابر بن جاتے ہیں ۔اور پھر ہوا اس ابر کو دُور دُور تک لے جاتی ہے تب بارش ہوتی ہے ۔سائنس اس عمل کو عملِ تبخیر Process of Evaporation کے نام سے جانتی ہے اور اردو غزل :
ضُعف سے گریہ مُبدل بہ دم سرد ہوا
باور آیا ہمیں پانی کا ہوا ہو جا نا
(غالب)
بہت کشید کیا پانیوں کو سورج نے
سمندروں کی مگربے کرانیاں نہ گئیں
(جہانگیر عمران )
زمین نظام شمسی کے آٹھ سیاروں میں سورج کی طرف سے تیسرا سیارہ ہے اس کا نام زمین،نیلا سیارہ،دُنیا اور مٹی کے طور پر بھی ہوتا ہے ۔سائنسی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ زمین کی عمر 45۔4 ارب سال ہے ۔زمین نہ صرف انسان کا بلکہ دیگر لاکھوں جانداروں کا گھر بھی ہے اور ساتھ ہی ابھی تک معلوم کائنات میں واحد مقام ہے جہاں زندگی کا وجود پایا جاتا ہے ۔مٹی،ہوا ،پانی ،روشنی زمین پر زندگی کے لیے بہترین ماحول کو ممکن بنادیتے ہیں __
خلا میں گروی رکھا اپنے سارے خوابوں کو
اور اس زمین پہ چھوٹا سا گھرلیا میں نے
(فیضان ہاشمی )
آگ ہوا مٹی اور پانی
بس اتنی ہے اپنی زندگانی
(مغنی تبسم )
اس گھومتی زمین کا محور ہی توڑ دو
بے کار گردشوں پہ خفا ہورہے ہو کیوں
(صادق)
برطانوی سائنس داں سر آئزاک نیوٹن Sir Issac Newton نے اپنی کتاب "قدرتی فلسفہ کے حسابی اصول "Philosophaie Naturalist Principia Mathematica میں کشش ثقل Law of Gravitation کو پیش کیا۔کشش ثقل کُرہ ارض کی کٙمیت سے پیدا ہونے والی قوت ہے ۔کشش ثقل سمندر کے مدوجزر پر کیسے اثر ڈالتی ہے ؟ کرہ ارض کے جو حصّے چاند کے سب سے قریب ہوتے ہیں ان پر چاند کی کشش ثقل کا اثر پڑتا ہے اور سمندر کی سطح اُوپر اُٹھ جاتی ہے اسی طرح جوحصے چاند سے دور ہوں وہاں کی سطح سمندر نیچے چلی جاتی ہے ۔کُرہ ارض کے گھومنے کی وجہ سے ہر چوبیس گھنٹے میں ایک بار کرہ ارض کا ہرحصہ چاند سے قریب اور دُور ہوتا ہے یعنی سمندر ہر چوبیس گھنٹے میں دو مرتبہ مدو جزر سے گُزرتے ہیں ۔اردو غزل اپنے مخصوص انداز میں اس تصور کو یوں پیش کرتی ہے ۔
چاند بھی حیران دریا بھی پریشانی میں ہے
عکس کس کا ہے کہ اتنی روشنی پانی میں ہے
(فرحت احساس)
مجھے یہ ضد ہے کبھی چاند کو اسیر کروں
سو اب کے جھیل میں اک دائرہ بنانا ہے ۔
(شہباز خواجہ )
تلاشے جارہے ہیں عہد رفتہ
زمینوں کی کھدائی ہورہی ہے ۔
(عبید الر حمان )
ریڈیو میٹرک جانچ سے حاصل شدہ ثبوتوں کے مطابق ایک ارب سال گُزرنے کے بعد سمندروں سے زندگی کا آغاز ہوا تھا ۔جس طرح زمین کا یہ ماحول زندگی کو پانی کے اندر ممکن بناتا ہے اسی طرح زندگی کو زمین پر رہنے کے قابل بناتا ہے ۔ زمین کی سطح کا 8۔70فیصد علاقہ پر پانی موجود ہے ۔پانی ہی زندگی کی شروعات ہے اور زندگی کے تمام اقسام کے لیے ضروری ہے ۔”اردو غزل میں بھی پانی کو اپنی بیشتر صورتوں میں زندگی کے استعارے کے طور پر برتا گیا ہے اور اس کی روانی زندگی کی حرکی توانانی کا اشارہ ہے پانی کا ٹھہر جانا زندگی کی بے حرکتی کی علامت ہے ۔”( ریختہ)۔
تین حصے ہیں زمین کے عرق دریائے محیط
ربع مسکوں میں کچھ آبادی ہے کچھ ویرانہ ہے
(مصحفی )
اس میں عالم کی سب آبادی و ویرانہ ہے۔
یہ جو کچھ پانی سے باہر ہے زمین تھوڑی سی
(مصحفی )
حیران مت ہو تیرتی مچھلی کو دیکھ کر
پانی میں روشنی کو اُترتے ہوئے بھی دیکھ
(محمد علوی )
زندگی ہے اک کراے کی خوشی
سوکھتے تالاب کا پانی ہوں میں
(عبدالحمید عدم )
پانی کی طرح ہوا بھی زندگی کے لیے ضروری ہے زمین کی فضا میں نائٹروجن ،آکسیجن ،آرگان ،کاربن ڈائی آکسائیڈ وغیرہ جیسی گیسس موجود ہیں ۔اردو غزل میں ہوا کا ذکر بار بار آیا ہے ۔یہ بھی جینے کا استعارہ کے طور بھرتی گئی ہے ۔__
ابھی سانسیں ہماری چل رہی ہیں
ابھی زندہ بتائے جا رہے ہیں ۔
(اظہر عنایتی )
ہوا کے دوش پہ اُڑتی ہوئی خبر تو سنو
ہوا کی بات بہت دُور جانے والی ہے ۔
(حسن اختر جلیل)
اس قدر سبز درختوں کو نہ کاٹو کہ کہیں
سانس لینے کو ترس جائے ہوا بے چاری ۔
(فریاد آذر )
سورج کے گرد گردش کرنے والے سیارے ماہرین فلکیات کے لیے ہمیشہ توجہ کا مرکز رہے ہیں ۔شعراء کے کلام میں بھی اس کا خوب خوب ذکر ملتا ہے ۔جہاں خلاوں کی بلندی اور اس کی وسعت میں شعراء کو تمنا کا دوسرا قدم رکھنے کی جگہ نہیں ملتی اور ستاروں سے آگے بھی جہاں دیکھنے کو ملتے ہیں وہیں سورج کی شعاعوں کو گرفتار کرنے کا عمل اور آفاق کی ویرانیوں کے اسفار کے ساتھ شاعر انسانیت کی شبِ تاریک کو سحر کرنے کےنالے بھی اُگلتے ہیں :
ویرانیاں دلوں کی بھی کچھ کم نہ تھیں ادا
کیا ڈھونڈنے گئے ہیں مسافر خلاوں میں ۔۔
(ادا جعفری )
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

