انیسویں صدی کے اوائل سے لیکر تا دم تحریر تاریخ کا مطالعہ، بیشمار واقعات، حالات، نشیب و فراز، ملکی سماجی بدلتی ہوئی صورتحال، آزادانہ مشاہداتی تجزیہ اس بات کی پوری تصدیق کرتا ہے کہ اگر ملک کی آزادی کے بعد رہبران قوم کا انداز فکر اور طریقہ کار مفکرانہ، مدبرانہ رہا ہوتا تو یقیناً موجودہ صورتحال نہ صرف قابلِ اطمنان بلکہ مسلمانانِ ہند زندگی کے تمام شعبہ جات میں شریک کار ہو کر حصہ داری کا رول ادا کر رہے ہوتے،
ابتدائی دور میں حصول علم، دائرہ کار، درجہ بندی کو عین شریعت و اسلام بتا کر نوجوانانِ قوم کو محض معمولی خدشات، وہم و گمان کی بنیاد پر دانستہ طور پر اپنی ترجیحات کو اسلامی تعلیمات پر فوقیت دیتے ہوئے جائز ترقیاتی منصوبوں اور ایسے تمام میدان عمل سے دور رکھا گیا جہاں وہ دین اسلام کی نہ صرف اچھی ترجمانی کر سکتے تھے بلکہ اُس وقت ملکی ترقی میں نمایاں کارناموں کو انجام دیکر لوگوں کا اعتماد حاصل کر عوامی تحریک پیدا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منواتے ہوئے دین اسلام اور مسلمانوں کی ہر فیلڈ و میدان میں رہنمائی کر رہے ہوتے،
ہندوستان کی آزادی کی لڑائی ایک فکر، انگریزی تسلطت اور ملک کو آزاد کرانے کی لڑائی تھی،
انگریزوں کا تسلط ختم ہوا، ایک دوسرا مسلم ملک بھی وجود میں آیا،
لیکن خدا جانے یہ فکر، انگریزوں کے تسلط و ملک کی آزادی کی لڑائی لڑتے لڑتے کیسے علوم و فنون، تقسیمِ کار، درجہ بندی کا شکار ہو گئی،
انگریزوں کی مخالفت کرتے کرتے عالم انسانیت کے کام آنے والے علوم و فنون، وسائل کی مخالفت اور تقسیم کار کے درپے ہو گئے،غور و فکر کرنے کے بعد اس نتیجہ پر پہنچنا آسان ہو جاتا ہے کہ ہندوستان کی آزادی کے بعد اسلامی دائرہ کار کو وسیع تر کرتے ہوئے ذرائع و وسائل کو محدود نہ کیا گیا ہوتا تو جنریشن گیپ اور درمیانی خلا دیکھنے کو نہ ملتا،
بدلتے ہوئے وقت اور حالات اور ایک صدی پر محیط برعکس نتائج ملنے، تجزیہ و محاسبہ کرنے، ضیعان وقت، بہت کچھ پیچھے چلے جانے کے بعد رہبرانِ قوم عملاً نظر ثانی کرنے پر تیار ہو گئے، کچھ رہبران ملت تبدیلیاں لا چکے ہیں اور کچھ لانے پر غور و فکر فرما رہے ہیں،اور کچھ ابھی بھی تذبذب، مخمصے اور کشمکش کا شکار ہیں،
ماہرین کے مطابق عملی تبدیلیاں وقت، وسائل، ذرائع، مالی اسباب کا محتاج ہوا کرتی ہیں،لہذاٰ عملی تبدیلیوں پر اقدامات عمومی دسترس اور عام لوگوں کے بس سے باہر کی بات ہے،اس لئے تحریری ،تقریری،بیداری پروگرامنگ کے ساتھ ساتھ ہر ایسے ذرائع ابلاغ کا استعمال کیا جائے جن میں وسائل کی کمی کے ساتھ نوجوان نسل کو تقسیمِ کار، درجہ بندی کی بھنور سے باہر نکال کر تمام خدشات سے اوپر اٹھکر عمومی فکر اور سوچ کی تبدیلی عین شرع کے مطابق کی جا سکے، ،
تجربہ کار لوگوں کا ماننا ہے کہ اصل محنت اور تشہیر ذہنی فکر اور سوچ کی ہی ہوا کرتی ہے،
ہمیں ایسی فکر و سوچ کی تبلیغ و تشہیر اس طرح کرنی چاہیے کہ جس سے ہماری نو جوان نسل کسی کشمکش اور کنفیوژن کا شکار نہ ہو، علوم دینیہ کو صف اول پہلا مقام دیتے ہوئے عالم انسانیت کے کام آنے والے دیگر مروجہ علوم و فنون کو بھی دائرہ اسلام اور مسلمانوں کی ضرورت سمجھکر ترجیحات و ترغیبات میں شامل کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔
قارئین: اسلامی تعلیمات،اسوۃ رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم، دور صحابہ کرام بطور خاص دور خلافت سامنے رکھتے ہوئے ہی ہر دور میں اصل اسلام اور عالم انسانیت کی خدمت ممکن ہے،دور حاضر کے مروجہ بہت سارے عائلی، سماجی، عدالتی سیاسی نظام دور خلافت سے لئے گئے آج بھی ہمارے ملک ہندوستان کے انتظامی امور کا حصہ ہیں،
قارئین: علماء وقت کو بہرحال وقت کی ضرورت سمجھتے ہوئے ایک مخصوص میدان عمل سے باہر نکل کر انسانیت کے کام آنے والے دیگر تمام میدانوں میں تیاری کے ساتھ پڑھ لکھر کر ٹرینگ یافتہ ہوکر انتظامی امور سے آراستہ و پیراستہ ہو کر عین شرعی اصولوں کے مطابق دنیاں میں ایک شاندار نظیر پیش کرنی ہوگی، شریعت کی بنیادی تعلیمات سے انحراف، کتمان علم، اپنی حکمت عملی اور اپنی محدود دور اندیشی کے تحت پورے اسلامی معاشرے سے شریعت محمدی کو سمیٹ کر ایک نصاب تعلیم، ایک مخصوص حلقہ، ایک مخصوص سوچ، ایک مخصوص نظام کے ساتھ اس طور پر محدود اور متصف کر دینا کہ اس کے علاوہ خدمت دین، اشاعت دین ،اقامت دین کا تصور ہی لوگوں کے ذہنوں سے نہ صرف اوجھل بلکہ مکمل نکل جائے دراصل یہی فکر نہ صرف انگریزوں کی فکر کی غماز بلکہ انگریزوں کے مشن کی مکمل تائید ہے،
ملکوں کی تقسیم سے کہیں زیادہ نقصان دہ تقسیم علم، تقسیمِ کار، فکر و سوچ کی تقسیم ہوا کرتی ہے،
خدشات کی فکر سے اپنے اندازِ فکر اور دور اول ابتداء اسلام کی روایات اور اسلامی تعلیمات کو محض اپنی محدود مصلحت کے پیش نظر تبدیل کر سنت رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام کی سنتوں کو مخصوص عبادات تک محدود کرتے ہوئے دنیاء انسانیت کے دوسرے شعبہ جات کی سنتوں کو نظر انداز کردینا کسی بھی طرح مناسب نہیں،
تمام شعبہ جات میں اسلامی تعلیمات، سنت رسول اللہ صلعم کو عام کرنا وقت کی اہم ترین ضرورت ہے،
والسلام
مورخہ 4 مارچ بروز جمعہ 2022
abdulhaleemeumc@gmail.com
WatsApp 9307219807’’
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

