ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی بحیثیت مصنف (حصہ اول) – ڈاکٹر عمیر منظر
ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کا شمار ممتاز شبلی شناسوںمیں ہوتا ہے ۔علامہ شبلی سے متعلق اب تک ان کی ڈیڑھ درجن کتابیں شائع ہوچکی ہیں ۔ انھوں نے علامہ شبلی سے متعلق جہاں بہت کچھ دریافت کیا ہے وہیں تدوین و تحقیق کے حوالے سے بھی مطالعات شبلی میں اضافہ کیا ہے ۔یہ کہنا درست قرار دیا جائے گا کہ ان کی وجہ سے ادبی دنیا میں مطالعات شبلی کی ایک الگ ہی شان ہے ۔مطالعات شبلی سے متعلق بعض نئے موضوعات کو انھوں نے پیش کیا ہے ۔شبلی سے متعلق ان کی کتابیں علم و ادب کے شائقین کو اپنی طرف متوجہ کرتی ہیں ۔اس کا سبب موضوع کے تئیں مصنف کی سنجیدگی اور مواد کی عمدہ پیش کش ہے۔ڈاکٹر سفیر اختر اپنی علمی و ادبی خدمات کے سبب ہندوپاک کے ادبی حلقوں میں بہت محترم اور معتبر شخصیت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ان کی بے لوث علمی دلچسپی کاانداہ زیر نظر کتاب سے بھی کیا جاسکتاہے کہ انھوں نے ایک ہی مصنف کی متعدد کتابوں پر نہایت توجہ اور انہماک سے اپنے مطالعہ کا نچوڑ پیش کیا ہے۔ڈاکٹرسفیر ا ختر کے یہ تبصرے ان کی شبلی شناسی کے غمازہیں کیونکہ انھوں نے عمومی قسم کے تبصروں سے گریز کرتے ہوئے ان کتابوں کا مطالعہ گہرائی وگیرائی کے ساتھ کیا ہے اور جہاں جو بات توجہ طلب تھی اس کی نشاند ہی بھی کی ہے ۔اس سے ان کی منفرد مبصرانہ شان سامنے آتی ہے ۔چونکہ یہ تبصرے سہ ماہی’ فکر ونظر‘ اور ’جہات الاسلام‘ میں شائع ہوئے تھے جن کی رسائی ہندستان کے عام ادبی حلقوں تک نہیں ہے مگر جناب محمد عرفات اعجاز اعظمی کی وجہ سے یہاں بھی متعارف ہوگئے ۔عرفات صاحب علم اور ذوق دونوں ہیں جس کا اندازہ اس کتاب سے بخوبی کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ انھوںنے ان تبصروں کو نہایت سلیقہ مندی کے ساتھ نہ صرف مرتب کیا بلکہ ان کا اشاریہ بھی تیار کرکے ان کی اہمیت کو دو چند کردیا ہے ۔ اور اس طرح یہ کتاب ایک اہم علمی خدمت کے فریضے کے طور پر یاد کی جائے گی ۔جس کے لیے وہ بجا طور پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔
زیر تبصرہ کتاب ڈاکٹر سفیر اخترکے دس تبصروں پر مشتمل ہے ،جن میںنو (۹)کتابیں الیاس الاعظمی کی ہیں۔ واضح رہے کہ شاہ معین الدین احمد ندوی :حیات و خدمات پر فاضل مبصر کے دو تبصرے شامل ہیں ۔پہلا سہ ماہی ’فکر و نظر‘ میں جبکہ اسی کتاب پر دوسرا تبصرہ ’جہات الاسلام ‘میں شائع ہوا ۔ضمیمے کے طور پر ’’کاروان رفتگاں ‘‘کو شامل کیا گیا ہے جو مولانا مجیب اللہ ندوی کے وفاتیہ مضامین کا مجموعہ ہے جس کے مرتب ڈ اکٹر محمد الیاس الاعظمی ہیں ۔یہ تبصرے ۲۰۰۴ سے ۲۰۱۵ کے دوران سہ ماہی’ فکر ونظر‘ اور ’جہات الاسلام‘ میں شائع ہوئے ۔کتاب کے مرتب جناب محمدعرفات اعجاز اعظمی نے ’حرف آغاز ‘کے نام سے ایک نہایت عمدہ تحریر بھی بطور مقدمہ سپر د قلم کی ہے ۔جس میں دونوں شخصیات کا جامع تعارف ہے اور ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی شبلی شناسی کے حوالے سے بعض اہم باتوں کا ذکر بھی انھوں نے کیا ہے ۔ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی جن کتابوں پر تبصرہ کیا گیا ہے ان میں دارالمصنفین کی تاریخی خدمات،عظمت کے نشان،شاہ معین الدین احمد ندوی :حیات و خدمات ،متعلقات شبلی ،مطالعات ومشاہدات ،کتابیات شبلی ،مکتوبات شبلی ،شبلی شناسی کے سو سال اور بطور ضمیمہ کاروان رفتگاں شامل ہے ۔
ڈ اکٹر سفیر اختر کے تبصروں کی نمایاں خوبی یہ ہے کہ وہ پہلے کتاب کا تعارف کراتے ہیں اور مصنف کی تحقیق و جستجو بھی قاری پر واضح کرتے ہیں اور اسی کے ساتھ ساتھ جہاں کوئی سہو یا کوئی تحقیق طلب بات ہوئی اس کی وضاحت کرتے ہوئے چلے جاتے ہیں ۔ان کا یہ انداز و اسلوب ایک طرف کتاب اور مصنف کے تعارف کا وسیلہ بنتاہے تو دوسری طرف ان مباحث کو وسعت بھی دیتا ہے ۔’دارالمصنفین کی تاریخی خدمات‘ کا جائزہ لیتے ہوئے جہاں ان کی تحقیق کو سراہا ہے وہیں یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس کتاب کے مطالعہ سے جہاں معلومات میں اضافہ ہوتا ہے وہیں یہ بات بھی سامنے آتی ہے کہ کتاب میں بعض جزوی معلومات درست نہیں ہیں ۔’عظمت کے نشان ‘پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی نے ایک ذمے دار مصنف کے طورپر اپنے مآخذ کا ذکر کیا ہے اور جو مآخذ نہیں مل سکے ان کا ذکر بھی ہے ۔’شاہ معین الدین احمد ندوی :حیات و خدمات ‘پر تبصرہ کرتے ہوئے فاضل مبصر نے لکھا ہے کہ اس کتاب سے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کو ایک کام یاب سوانح نگار کے طور پر سامنے آتے ہیں کیونکہ انھوں نے شاہ صاحب کی شخصیت اور ان کی سوانح کو جس اختصار اور جامعیت کے ساتھ احاطہ کیا ہے وہ انھیں کا حصہ ہے ۔فاضل مبصر نے مشورہ دیا ہے کہ دارالمصنفین کے دوسرے بزرگوں کی سوانح عمریاں اسی انداز میں اگر مرتب کی جائیں تو یہ اچھی علمی خدمت ہوگی ۔’متعلقات شبلی‘کی ایک نمایاں جہت کی داد دیتے ہوئے ڈاکٹر سفیر اختر نے لکھا ہے :
متعلقات شبلی کے یوں تو سبھی مضامین معلومات افزا ہیں تاہم ’تذکرہ گلشن ہند اور علامہ شبلی ‘کے ساتھ ساتھ ’تصانیف شبلی کے تراجم ‘،عالم اسلام میں شبلی شناسی ‘اور ’عہد حاضر میں علامہ شبلی کی تجویزوں اور منصوبوں کی معنویت ‘خاصے کی چیز ہیں ۔ ان مقالات میں منتشر اور ریزہ ریزہ معلومات بہت محنت سے جمع کی گئی ہیں ۔(ص ۴۹)
’مطالعات و مشاہدات ‘کے بارے میں ڈاکٹر سفیر اختر نے لکھا ہے کہ ان میں اولاً اعظم گڑھ اور ثانیا دارالمصنفین کو نمایاں اہمیت حاصل ہے ۔اور اسی طرح علمی مضامین کا ایک بڑا حصہ دبستان شبلی سے ہی متعلق ہے ۔انھوں نے لکھا ہے کہ اختصار کے باوجو د ڈاکٹر اعظمی کی کوشش رہتی ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم کریں ۔’کتابیات شبلی ‘پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا گیاہے کہ اپنے مو ضوع پر یہ ایک منفرد کاوش ہے ۔کتابیات شبلی سے ہی یہ پہلو بھی سامنے آتا ہے کہ’ علامہ شبلی کی کس کتاب کو زیادہ مقبولیت حاصل ہوئی ‘اس سے ہی معلوم ہوا کہ علامہ شبلی کی سب سے مقبول ترین کتاب ’الفاروق ‘ہے،جس کی ۴۲ اشاعتوں کا اندراج کتاب میں ہے ۔کتابوں اور مقالوں کے اندراج میں ماہ و سال کی غلطیوں اور عناوین کے بعض تسامحات کی نشاندہی بھی کی گئی ہے ۔’
مکتوبات شبلی پر تبصرہ کرتے ہو ئے ان کی تدوینی اہمیت اور طریقہ کار کو خاص طور پر ڈ اکٹر سفیر اختر نے نمایاں کیا ہے ۔ایک طرف جہاں مطبوعہ خطوط کے ماخذ کی نشاندہی کی گئی ہے تو دوسری طرف غیر مطبوعہ مکتوبات کی صورت میں ان افراد کی نشاندہی کی گئی ہے جن سے یہ خطوط حاصل کیے گئے یا جنھو ںنے فراہم کیے ۔فاضل مبصر نے اس کام کی داد دیتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ علامہ شبلی کی سو انح پر تحقیق کرنے والوں کے لیے اس کی حیثیت ناگزیر ماخذ کی ہوگی ۔’شبلی شناسی کے سوسال ‘ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی ایک اہم کتاب ہے ۔ فاضل مبصر نے لکھا ہے کہ ’ کتب شبلیات پر ڈاکٹر الیاس اعظمی کی وسیع نظر ہے‘ ۔اس کتاب میں شبلی پر شائع ہونے والے بارہ خاص رسالوں کا ذکر کیا گیا ہے کتاب میں الیاس الاعظمی نے ماہنامہ خاور (ڈھاکہ )کے کے شبلی نمبر کا ذکر کیا ہے ۔یہ خاص اشاعتیں ۱۹۳۰ سے ۲۰۰۸ کو محیط ہیں ۔ڈھاکہ سے شائع ہونے والے ماہنامہ خاور (مارچ ۱۹۵۳)کے بارے میںڈاکٹر سفیر اخترنے اپنی معروضات سے یہ ثابت کیاہے کہ اس رسالہ کا کوئی شبلی نمبر شائع نہیں ہوا۔انھوںنے یہ بھی لکھا ہے کہ ‘جہان شبلی‘ میں علامہ شبلی سے متعلق کسی مضمون کا اندراج نہیں ہے (ص ۷۸)انھوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ مئی ،جولائی ،نومبر۱۹۵۲ اور فروری ۱۹۵۳ کے شماروں میں علامہ شبلی کے حوالے سے اندراجات موجود ہیں ۔سفیر اختر کا سوال ہے کہ اگر مارچ میں شبلی نمبر شائع ہورہا ہے تو ۱۹۵۲ کے شماروں کا نہ سہی مگر فروری ۱۹۵۳ کی تحریر جو شعرا لعجم سے متعلق ہے اس کو ایک ماہ بعد خصوصی اشاعت کے لیے روک سکتے تھے ۔
علم وتحقیق کی کوئی بھی منزل ،منز ل آخر نہیں ہوتی موجود ہ مواد ہی تحقیقی کارواں کو آگے بڑھاتاہے اور پھر بعد کی تحقیقات علم وادب کی نئی راہ دکھاتے ہیں اور سلسلہ جاری و ساری رہتا ہے ۔حیات شبلی کے بعد علامہ شبلی سے متعلق بہت سی نئی باتیں دریافت ہوچکی ہیں ۔اس کی روشنی میں سوانح شبلی کے متعدد نئے پہلو سامنے آچکے ہیں ۔سفیر اختر نے ڈاکٹر محمد الیاس الاعظمی کی کتابوں کا جس توجہ اور سنجیدگی سے مطالعہ کے ہے وہ بہت خوش آیند پہلو ہے ۔اس طرح سے کتابوں کو کون پڑھتا ہے اور علمی و ادبی مباحث کونئی سمت و رفتار کون دیتا ہے ۔یہ بلاشبہ ایک قابل قدر ادبی واقعہ ہے ۔کتاب کا مطالعہ ایک خوش گوار احساس کا حامل قرار دیا جاسکتا ہے ۔معیاری طباعت اور مناسب قیمت ہے ۔امید ہے ارباب ذوق پذیرائی کریں گے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

