دل کے بگولے اور من کے پھپھولے ایک ساتھ اُبھرے تو جینا دوبھر ہوجاتا ہے۔!!
اُس دن مدُھراپورمیں گئوگھاٹ کے سامنے بن پھول کے کھیت میں ایسی خاموشی تھی جیسے ابھی ابھی میّت اُٹھی ہو ۔!ماحول پر سکون ،شیتل پون کے تھپیڑے ، سامنے باگمتی ندی کی سطح پر مچلتی نرم نرم موجیں ،ارہر کے کھیت کی کیاریوں پر لہلہاتے اشجار اور دور ہوا میں لہراتے مرغابی کے پر۔۔!!ایسے میں اُسے بار بار دادی کی کہی بات یاد آتی رہی کہ جب اپنی مٹی ٹھکرادیتی ہے تب وہ کہیں کا نہیں ہوتا ہے بلکہ بنجارہ ہوجاتا ہے بنجارہ …..!!آنسوں کی گلی جب گیلی ہوگئی تودل کا گلستاں بھی اُجڑ گیا پھر کیا تھا اُس نے من کے پنچھی کو بہاروں کے دیس میں چلے جانے کی اجازت دے کر یاد کی کھڑکی کھولی تو نظارے بہت دور تک نظرآئے۔!
آنگن میں آج جہاں املتاس کا پیڑہے وہاں مہوا کا تناور درخت تھا۔اسی مہوا کے نیچے یہ کہانی شروع ہوئی تھی۔اُس وقت اِس کی شاخوں پر جاتی بہار کے پھولوں کی بارش اورخزاں کی آمد کا موسم تھا ۔ ہم دو بھائی بہن تھے۔
میرا بھائی بڑا شرارتی تھا۔جب وہ مجھ سے اُلجھتا۔میں اُس کو ایک تھپڑ مار دیتی اُس وقت ماں کہتی ۔تم کو سسرال میں بسنا ہے اوراِس کو اسی گھرمیں رہنا ہے۔!بارہ تیرہ برسوں تک میرے گھروالوں کی شفقت کا سایہ میرے سر پر رہا لیکن اچانک موسم کی طرح اِس مزاج میں آئی تبدیلی کو دیکھ کر میں حیران و پریشان رہنے لگی ۔ایک دن ہوایوں کہ میں نے غلطی سے اسی کپڑے کو دھودیا جس کو دھوبی نے صبح صبح دے گیا تھا۔بس پھر کیا تھا بادل گرجا اور ماں پر ہی برس گیا کہ اُس نے دیکھا کیوں نہیں۔!!دن بھر میں ملول رہی کہ میری وجہ سے خواہ مخواہ ماں کو میرے باپ کے عتاب کو سہنا پڑا۔!!لیکن کیا بھی کیا جاسکتا تھا۔ناری کے مقدر کا یہ تو ایک حصہ ہے۔!!اُس دن کے بعد تنہائی میں ماں اکثر بڑے پیار سے سمجھاتی یہ گھر تیرا نہیں ہے بیٹی۔!تم پرائی دھن ہو۔صبح صبح اُٹھ کر گھر کی صفائی کرو ۔بستر سمیٹو۔چولہا چوکی کرو۔ یہ سب تمہارے کام آئیں گے اور میں کتاب ہاتھوں میں لیے آبدیدہ ہوجاتی۔ساون جب جھولے کا سندیسہ لاتاتوجس دن آم کے باغیچے میں سہیلوں کے ساتھ جھولا ڈالتی اُس دن تو بس آفت آجاتی۔ دادی کہتی جس گھر میں جاؤ گی کرشن نہیں ملیں گے کہ جھولا جھولائیں گے۔ !صبح جاؤ گی شام کو گھر والا دھتکارکر اِس گھر میں واپس بھیج دے گا۔!!میرے پپا لقمہ دیتے۔اُس وقت میرا دروازہ بھی بند ملے گا۔!!کھانہ پکانے میں ذرا سی غلطی ہوجاتی تو بس دادی کے طعنے سنتے سنتے جی چاہتا خودکشی کرلوں۔تب بچپن میں مدرسے کے مولوی صاحب کا سبق یاد آتا۔خود کشی کرناحرام ہے۔!بدلتے موسم میں جس گھر کو ہوش سنبھالنے کے بعد سے اپنا گھر سمجھا ،سجایا،سنوارا،جھاڑو لگایا،پرایا لگنے لگا۔گھر کے درو دیوار کو دیکھ کر دل کہنے لگا یہاں کچھ بھی میرا اپنانہیں ہے۔!آہستہ آہستہ میر ے خوابوں میں ایک نئے گھر کا تصور جاگنے لگا۔اتنے میں یاد کی دھارا دوسری سمت میں بہہ نکلی۔
اُن دنوں میں باٹ بٹورے اپنے دروازے پر ٹیک لگا کر نہ جانے کیا کیاسوچاکرتی تھی۔اچانک ایک دن صبح سویرے جب میں پنگھٹ پر پانی بھر رہی تھی اسی وقت ایک نوجوان ہاتھ میں بریف کیس لیے پگڈنڈی کو پار کرتے ہوئے گائوں میں داخل ہوا۔ پنگھٹ پر کھڑی میری سہیلیوں نے چھیڑا۔
’’دیکھ صبح صبح تیرا کون آرہا ہے ۔!‘‘میں نے گاگر کو دونوں ہاتھ سے پکڑتے ہوئے کہا۔
’’میرا نہیں تیرا۔!!‘‘
وہ پنگھٹ کے پاس آیا۔ایک عورت سے میری ماں کا نام پوچھا۔اُس عوت نے میری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا۔
’’یہ اُن کی بیٹی ہے۔!‘‘
گاؤں کے رشتے سے بھابھی نے گھونگھٹ ٹھیک کرتے ہوئے کہا۔
’’لے جا اِن کو اپنے گھر لے جا۔!!‘‘میں گاگر لیے تھوڑی سی کسمسائی۔پھر کہا۔
’’وہ د یکھئے پیپل کی چھائوں میں جو گھر دیکھائی دے رہا ہے۔وہی گھر اُن کا ہے جن کو آپ تلاش کررہے ہیں۔!!‘‘
وہ چلاگیا۔پنہاریوں کے سوالوں کی بوچھار میں میں نے ڈور کنویں میں ڈالی۔اُس دن گاگر کنویں کے اندر پانی کی سطح پر ایک عجیب قسم کا اُچھال لیا۔پھر کنویں کا ٹھنڈا پانی اِس میں بھر گیا۔گاگر کو اُٹھا کرسولہ برس کی لچکتی کمر پر رکھا۔سکھیوںنے پیچھے سے چھیڑا۔
’’دیکھ گاگر پھوٹ نہ جائے۔!‘‘
اور میں دبی دبی سی مسکان ہونٹوں میں دبائے چھوٹے چھوٹے قدموں کو اُٹھاتے ہوئے پگڈنڈی کی راہ ہولی۔جب آنگن میں آئی تو دیکھا۔بیس بائیس سال کا وہ گوراچیٹا لڑکا جس کے بال ریشم جیسے ہیں آنگن میں مہوا کے نیچے چارپائی پر بیٹھا ہے۔میں نے ماں سے پوچھا۔
’’یہ کون ہے ۔؟‘‘اُس نے کہا۔
’’یہ کان پور والی موسی کا لڑکا ہے۔‘‘
اُس کو دیکھتے ہی تلوؤں کے تقاضے تویاد رہے لیکن نظروں کے تقاضے بھول گئی۔!!سوئی دن بھر انگلیوں میں چھبتی رہی۔پڑوس کی عورتوں نے چٹکی لے کرکہا۔
’’ کیا بات ہے ۔آج آپ کی انگلیوں میں سوئی چبھ رہی ہے۔!!‘‘اور میں شرما کر اُن کی بلاؤز سیتی رہی۔
دھیرے دھیرے دن گذر گیا۔اُس رات کی بے چینی کی گواہ گگن کے بن کا رکھوالا تنہا چاند بنا۔جس نے رات بھر اپنی چاندنی میرے اوپر لٹاتا رہااور میری روح کے پور پور کی پیاس بجھتی رہی۔ایک تو پیلی مٹی کے آنگن میں چاندنی لٹاتا تنہا چاند دوسری خاموش رات کی تنہائی اور رات کی رانی کے بدن سے پھوٹتی خوشبو۔ ایسے میں جی ناگن کی طرح مچل نہ اُٹھے تو وہ دل دل نہیں پتھر ہوتا ہے۔!میں آہستہ سے چار پائی سے اُٹھی اور کھڑکی کے پٹ کھو لی ۔باہر ایک ساتھ دو چاند نظر آئے۔ایک سرے فلک اور دوسرا درِدل ….!!میں دونوں کو دیکھ کر نہ چاہتے ہوئے بھی شرما گئی اور شرمیلی سی ہنسی ہنس کر کھڑکی کے پٹ بند کرلیے۔اِس رات میں رات بھر چاندکے بازؤں کے حلقے میں خود کو محسوس کی ۔چونکہ وہ پہلی بار گاؤں آیا تھا۔اِس لیے میں کچھ بول بھی نہ پاتی۔کھانے کے وقت اپنی چھوٹی بہن کو آواز دیتی ۔
’’کان پور کے بابو کو کھانا پہنچا دو۔!!‘‘
دو دنوں کے بعد حیا کا پردہ کچھ سرکا۔دوپہر کا وقت تھا ۔آنگن میں کھِلی کھِلی دھوپ۔پیلی مٹی کا دپ دپ کرتاآنگن ۔ اور کونے میں سبز و شاداب مہندی کا پودا۔!اُس دن ماں اور چھوٹی بہن پڑوس کے گاؤں میں دودن کے لیے شادی میں یہ تاکید کرکے چلی گئی کہ اِن پر خیال رکھنا۔باہر سے آئے ہیں۔کہیں جانے مت دینا ۔دن زمانہ خراب ہے۔وقت پر کھانا دے دینا۔کپڑا صاف کرکے الگنی پر ڈال دینااور رات میں دروازے کو ٹھیک سے بند کرکے سونا۔ہم لوگ دودن کے بعد رگھو پور سے واپس آجائیں گے۔ اِن کو دودھ دینا نہ بھولنا۔بے چارا پردیسی بہت دنوں کے بعد گاؤں آیا ہے۔!میں نے ماں سے کہا ۔
’’کیا شہر میں دودھ نہیں ملتا۔!!‘‘ماں نے کہا۔
’’شہر میں سب کچھ ہے پر خالص کچھ بھی نہیں۔!!‘‘
اِدھر ماں کے قدم چوکھٹ سے باہر نکلے اُدھر وہ گھنا سایہ دار بادل پورب دِیشا سے پچھم کی طرف گزرا۔ محسوس ہوا جیسے دل کی بنجر زمین یکا یک زرخیز ہواُٹھی جس پر سرسوں کے پیلے پیلے پھول اُگ آئے۔ دھان کی لچکتی بالیاں لہلہا اُٹھیں۔!! میں نے دیکھا۔وہ مہوا کے نیچے تپائی پر اُداس بیٹھا کچھ سوچ رہا تھا۔اُس کی اُداسی دیکھ کر مجھے کچھ عجیب سا لگا ۔میں نے پوچھا ۔
’’کیوں شہری بابو گاؤں اچھا نہیں لگ رہا ہے۔!!‘‘اُس نے شرما کر کہا۔
’’ایسا کچھ بھی نہیں۔!‘‘میں نے پھر چٹکی لی ۔
’’تو پھر کس کی یاد میں ڈوبے تھے۔!!‘‘اِس کے بعد وہ کچھ کھلا۔اُس نے کہا ۔
ٍ ’’اِس سنسار میں مجھے کون یاد کرنے والا ہے۔ایک ماں تھی وہ بھی چل بسی ۔!!‘‘اُس کی اِس بے قراری نے میرے دل کو جیسے اندرسے جکڑ لیا۔ میں نے کہا۔
’’میں تم کو یاد کروں گی ۔!!‘‘ پھر پلٹ کر بولی ۔
’’لیکن تم تو ٹھہرے پردیسی تمہارا کیا ٹھیکانا۔آج ہو کل پنچھی کی طرح اُڑ جاؤ گے۔تم سے دل لگاناٹھیک نہیں۔!!‘‘
اور وہ مسکرا کر رہ گیا۔دن تو کسی طرح گذر گیا لیکن جب شام زینہ بہ زینہ نیچے اُترنے لگی اور رات شباب کی فصیل پر چڑھنے لگی تومہواکی ننھی ننھی پتیوں سے چاندنی جھر جھر آبشار کی طرح نیچے گرنے لگی ۔اِس حسین و دلفریب چاندنی رات میں دل نے ایک دلکش راگ چھیڑااور من دریا کی کشتی کی طرح ہولے ہولے ڈولنے لگا۔ایسے متوالے موسم میں میں نے آنگن میں مہوا کے نیچے چارپائی پرسفیدچادر بچھائی اور اِس کے قریب لالٹین جلا کر رکھ دی ۔پیتل کے تھال میں اُبلا باسمتی چاول،بلوری پیالے میں ارہر کی دال، مٹی کے کورے کھورے میں دہی، قلعی کیئے ہوئے تانبے کی طشتری میں پاپڑ، کچے ناریل ،پوستہ دانا کی چٹنی ، پلول کی بھاجی اور کچے آم کا اچار کے ساتھ چار گلاب جامن پڑوس کر گھر کی چوکھٹ پر بیٹھ گئی۔پھر ہاتھ پنکھے سے ہوا کر تے ہوئے پوچھا۔
’’گاؤں کیسا لگا۔؟‘‘ اُس نے کہا ۔
’’بہت اچھا۔!!‘‘اِس کے بعدمیںنے پوچھا۔
’’اور کتنا دن رہنا ہے۔؟‘‘ اُس نے باسمتی کا نوالہ اُٹھاتے ہوئے کہا۔
’’کل کی گاڑی سے شہر کو واپس ہوجائیں گے۔!!‘‘میں نے کہا۔
’’اتنا جلدی بھی کیاہے۔ایک دو دن اور ٹھہر جا یئے ۔ جمعہ کو منڈی میں بازارلگتا ہے۔ آپ میرے ساتھ چلئے گااور میرے پسند سے کپڑے خرید نا ہے اور سنچر کی گاڑی سے چلے جانا۔!‘‘
اتنا کہہ کرمیں نے اِن چھوٹی آنکھوں میں بہت بڑا سپنا دیکھ لیا ۔کھانا کھا کر اُس نے کہا ۔کھانا بڑا لذیذلگا۔!میں یہ کہتے ہوئے خالی تھال چار پائی سے اُٹھا کر کمرے میں چلی گئی کہ بڑے بزرگوں کا کہنا ہے کہ ’’یہاں کی ارہر دال میں ایک چمچہ گھی ڈال دینے کے بعدوہ ورداون کی رادھا بن جاتی ہے۔!‘‘وہ کھِل کھِلا کر ہنسنے لگا۔تھوڑی دیر میںچارپائی پر بستر لگا دی اور کہا ۔آپ چارپائی پر آرام کیجئے۔ جب تک آپ سو نہیں جاتے میں چاندنی کی ملگجھی روشنی میں آپ کے لیے موج کی ڈلیا بن رہی ہوں۔پھر موج کی ڈلیا بناتے ہوئے پوچھا۔
’’ شہر میں آپ کے ساتھ اور کون کون رہتے ہیں۔؟‘‘اُس نے کہا ۔
’’کہانہ کہ ایک ماں تھی وہ بھی چل بسی۔!‘‘میں نے پوچھا ۔
’’تو پھر کھاتے پیتے کہاں ہیں۔؟‘‘اُس نے کہا۔
’’مہاجر کی زندگی جیتا ہوں۔ہوٹل میں کھاتا ہوں ۔گھر میں سوتا ہوں۔!!‘‘میں ذرا بے باک ہوئی۔
’’تم نے کسی سے پیار نہیں کیا۔!‘‘پھرکیاتھااُس نے کہانی کو ایک دم سے دوسری طرف موڑ تے ہوئے کہا۔
’’لڑکیاں جب ہنستی ہیں تو دل کی جھیل میں کنول کھیلتے ہیں۔ لیکن محبت کی راہوں میں کانچ کی طرح دل ٹکرے ٹکرے ہوتے ہیں۔ایسے موسم میں گیٹار کی تار کی طرح تنے ہوئے جسم میں مضراب کا ایک ہلکا جھٹکا سیکڑوں ترنگیں پیدا کرتا ہے۔ جب یہ ترنگیں بج اُٹھتیں ہیں تو اِن کے نزدیک گناہ اور ثواب کا فلسفہ اپنی معنویت کو کھودیتا ہے۔!!‘‘
کہانی کے بدلتے رُخ کو دیکھتے ہوئے میں اُٹھ کر چوبارے میں دیا جلا کر کمرے میں سونے چلی گئی۔کمرے کے اندرمن کی آنکھوں نے دیکھا۔باہرکھلا آسمان ۔نرم نرم پھیلی چاندنی ۔خاموش کھڑا مہوا کا درخت۔سامنے چہار دیواری پر بیٹھا اُداس پرندہ ۔شاید یہ سورج ڈوب جانے سے پہلے اپنے آشیانے تک نہیں پہنچ سکا ہے۔اِس لیے رات کے گذرنے کا انتظار اِس فصیل پر کر رہا ہے۔ وہ سوچ رہا ہے۔کل سورج اُگے تو گھونسلے میں واپسی ہو۔ اِس رات مہوا کے پھولوں کی خوشبو کی ضرورت نہ رہی کہ دل کے آنگن میں کھلے رجنی گندھا کے پھولوں کی مہک کافی تھی کہ اتنے میں گھنا سایہ دار بادل اُدھر سے گذرا اور چاند بادلوں کی اوٹ میں چھپ گیا۔ دل نے کہا۔
’’ ہائے اللہ ایسا غضب مت کرنا۔!‘‘
عجیب کشمکش کی وہ رات تھی۔کشمکش کے اِن لمحوں میں ایک سہیلی کی بات یاد آئی۔جوانی کے دنوں میں زُلف جب بے وجہ کھلے اور ہونٹ بے و قت ہنسے تو دل کی نگری میں کچھ گڑ بڑ ہونے کا امکان ہوتا ہے ۔!!اور ایسا ہی کچھ رات بھر میرے ساتھ ہوتا رہا۔!!صبح کی پہلی کرنوں کی دستک سے جب کمرے کا دروازہ کھولی تو میں شبنم زدہ پھول کی پنکھڑیوں کی طرح تر و تازہ تھی۔اِس کی بعد پھر میرے حصّے میں جتنے خواب آئے سب کے سب میں وہ مجھے نوشہ ہی دکھائی دیااور میں دلہن کی طرح اُس کا انتظار کرتی رہی ۔پھر ایک دن ایسا ہواکہ میرے گھر شہنائی بجی اور وہ آیا اور گاؤں والوں کی موجودگی میں ہم دونوں ایک دوجے کے ریشمی ڈور میں بندھ گئے۔پھر میری ڈولی اُٹھی ۔کہاروں نے نئے رُت کے گانے گائے اور دھیرے دھیرے گاؤں کے پیپل ،پنگھٹ ،کھیت ،کھلیان،رہٹ کی آواز،پوکھر،آم کے باغیچے،سرسوں کے کھیت کو پیچھے چھوڑتے ہوئے مدھوبن کے موڑ پر آگئی۔ ایک لمبی مسافت کے بعد کہاروں نے ڈولی کو ایک مکان کے سامنے رکھتے ہوئے کہا۔
’’بی بی جی آپ کا اپنا گھر آگیا۔لیکن اُس وقت تک ڈولی سے اُترنے نہیں دونگا۔!!جب تک آپ کے ہاتھوں سے ہمارا نیگ نہ مل جائے۔!!‘‘
آتے وقت ماں نے مجھے جو پیسے دیئے تھے اُس کو اپنے حنائی ہاتھوں سے کہاروں کی ہتھیلی پر رکھ دی۔اُس نے کہا ۔
’’بی بی جی آپ لچھمی ہیں ذرا مسکرا کر نیگ دیتیں تو دل خوش ہوتا۔!!‘‘میں نے کہا۔
’’اب ہنسنا اور رونا صرف اُس ساجن کے لیے ہوگا جس کے دروازے پر آپ نے یہ ڈولی اُتاری ہے۔!!‘‘
وہ سر جھکائے ایک طرف چلا گیا۔نندوں نے ڈولی سے اُتارا۔گاؤں کے رسم کو پوری کرکے گھر کے اندر آئی۔پھر یہاں سے ایک نئی زندگی کی شروعات ہوئی۔ وہ پہلی رات تھی جب میں کسی اجنبی کے ساتھ بندکمرے میں رات گذاری ۔رات نے میٹھی انگڑائی لی اور گلابی دوپٹہ ہوامیں لہرادی۔دھانی چاندنی نے تیور نرم کیا تومزاج کی شوخی نے اپنا پر پھیلایا۔ملہار گاتی ہوا نے جب سبک روی کے ساتھ چلنا شروع کیا تو خواہشوں کی قوس قزح پھوٹ پڑی۔جس کے ست رنگی جلو میں پہروں دل اُلٹ پلٹ ہوتا رہا۔اِس دوران کئی بہاروں کے جھونکے آئے ۔میرے گلشن میں بھی پھول کھلے ۔ اِس کے بعد میں مدُھراپور گاؤں چھوڑ کر کان پور چلی آئی۔شہری زندگی کی دھارا اسی سبک رفتاری سے بہہ رہی تھی کہ اچانک ایک دن شوٹ بوٹ میں ایک لڑکی کے ساتھ وہ گھر میں داخل ہوا۔میں اِس اجنبی لڑکی کو دیکھ کر حیران و پریشان ہوگئی۔بغل والے کمرے میں کافی دیر تک ہنسی مذاق ہوتارہا اور میرے جگر کا ایک ایک ٹکڑا کٹتا رہا۔جب روزانہ کا یہ معمول بن گیا تو ایک دن میں نے پوچھا۔
’’یہ لڑکی کون ہے۔؟‘‘ پہلے تو اُس نے مجھے جھوٹا دِلاسہ دیا۔پھرایک دن اُس نے کہا۔
’’یہ میری گرل فرینڈ ہے۔!!‘‘میں نے پوچھا ۔
’’یہ کیا ہوتا ہے۔؟‘‘اُس نے بڑی سفّاکی سے کہا۔
’’تم گھروالی ہواور یہ باہر والی ۔!!‘‘میں نے احتجاج کیا۔تو اُس نے بے ساختہ کہا۔
’’یہ گھر میرا ہے۔تمہارا نہیں۔رہنا ہے رہو ورنہ دروازہ کھلاہے۔!!‘‘
اتناکہہ کر اُس نے جب دروازہ بند کیا تو محسوس ہوا جیسے اُس نے اپنے دل کا دروازہ بند کرلیاہو۔اُس کے جواب سے ایسا لگا جیسے اِس بارگاؤں کے پوکھر نے میرے گاگر کو ریت سے بھر دیا۔ جی چاہاچاندنی رات میں جس گلابی دوپٹے کواُس کے گلے میں ڈالا تھا اُس کو اِس کے گلے کا پھند ا بنا دوں۔لیکن ایسا چاہ کر بھی نہیں کرسکی کہ یہ تو دماغ کی سوچ تھی اور میں دل کے ہاتھوں مجبور تھی۔پھراِس رات کے بعد مہوا کے پھولوں کی خوشبو کی ضرورت نہ رہی کہ دل کے زخموں کی مہک کافی تھی۔اِس واقعہ کے بعد میرے سامنے ایک دوجے کے لیے جینے اور مرنے کافلسفہ بے معنی ہوگیا۔اسی کشمکش میں برسوں شام کے دُھندلکوں میں دل کا چراغ جلتا رہا۔ ایک دن صبح سویرے جوگی آیا اور سارنگی بجا کر گانے لگا۔
’’جوبن تھا جب روپ تھا گاہک تھا سب کوئی۔جوبن رتن گنواکے بات نہ پوچھے کوئی۔!!‘‘پھر اُس نے دان مانگا۔دان دیتے وقت جوگی نے میری اُداس آنکھوں کو دیکھ کر سارنگی روکتے ہوئے کہا۔
بیٹی۔! جوگی تھا سو اُٹھ گیا آسن رہی بھبھوت ۔!!!اِس سنسار میں جب اپنی مٹی ٹھکرادیتی ہے نا تب وہ کہیں کا نہیں ہوتا ہے بلکہ میرے جیسا بنجارہ ہوجاتا ہے۔بنجارہ ….!!
٭٭٭
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

