جشن اردو کا دوسرا دن رہا خواتین کے نام
مدھیہ پردیش اردو اکادمی ،محکمہ ثقافت کے زیر اہتمام آزادی کے امرت مہوتسو کے تحت منعقدہ سہ روزہ جشن اردو کا دوسرا دن خواتین کے نام رہا.
پہلے اجلاس میں "اردو میں نسائی ادب” کے موضوع سیمینار کا انعقاد ہوا جس کی صدارت بھوپال کی بزرگ ادیبہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے فرمائی.
اجلاس کی شروعات میں اکادمی کی ڈائریکٹر ڈاکٹر نصرت مہدی نے مہمانان کا استقبال فرماتے ہوئے کہا کہ اردو میں بھی خواتین نے معیاری ادب تخلیق کیا ہے. ایک زمانے تک خواتین کو اظہار خیال کی اجازت ہی نہیں تھی اور انہیں ناقص العقل کہہ کر نہ صرف کمتر سمجھتا جاتا تھا بلکہ ادب کی تخلیق کو مرد کی اجارہ داری قرار دیتے ہوئے اسے خواتین کی فہم و فراست سے بالاتر سمجھا جاتا تھا. لیکن جب سماج میں بیداری آئی اور خواتین کو اپنے احساس رقم کرنے کی اجازت ملی تو اس نے ایسے شہ پارے تخلیق کئے کہ بعض مقامات پر مرد اہل قلم بھی پیچھے رہ گئے. سمینار کا مقصد خواتین اہل قلم کی فکری جہات کو منظر عام پر لانا ہے اور ہمیں خوشی ہے کہ سمینار میں خواتین کے ساتھ شامل اسکالرس نے بھی خواتین اہل قلم کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے . اس موقع پر انھوں نے اپنا یہ شعر بھی پڑھا.
میں زندگی کی کتاب میں اک فسانہ بےاثر نہیں تھی
ورق کو جلدی الٹ گئے تم میں قصۂ مختصر نہیں تھی
سیمینار میں دلّی سے تشریف لائے معروف ادیب اور شاعر ڈاکٹر خالد محمود نے اردو ادب میں نسائی ادب کے حوالے سے "اردو کی خواتین سفرنامہ نگار صغریٰ مہدی کے خصوصی حوالے سے” موضوع پر اپنا مقالہ پیش کیا. انھوں نے کہا کہ اردو ادب میں اچھی شاعرات، افسانہ نویس اور ناول نگار خواتین کی کمی نہیں. خصوصاً فکشن میں تو خواتین کی خدمات اس قدر اعلیٰ اور ارفع ہیں کہ ان کی تخلیقات کا معیار عالمی ادب کا مقابلہ کرتا ہے.
علی گڑھ سے تشریف لائیں افشاں ملک نے کہا کہ نسائی ادب کسی ملک کے سماج کے نصف حصے کی عملی و فکری صلاحیتوں کی ترجمانی کرتا ہے. نسائی ادب میں خواتین کے احساسات و جذبات اور تجربات و مشاہدات کی ایک دنیا آباد ہوتی ہے اور اس میں مکمل طور سے کسی ملک یا سماج کی تہذیب کو دیکھا اور سمجھا جا سکتا ہے. سیمینار کی صدارت فرما رہیں معروف ادیبہ ڈاکٹر رضیہ حامد نے اردو میں نسائی ادب کے حوالے سے ریاست بھوپال کی خواتین ادیباؤں وشاعرات کے تخلیقی فن پاروں پر تفصیل سے روشنی ڈالی انھوں نے کہا کہ ریاست بھوپال میں چار بیگمات نے نہ صرف ایک صدی سے زیادہ عرصہ تک مسلسل حکومت کی بلکہ ادب کی سرپرستی کے ساتھ اردو میں بہترین شاہکار تخلیق کئے ہیں.
دوسرے اجلاس میں دوپہر 3 بجے چلمن مشاعرہ شاعرات منعقد ہوا جس میں خواتین شاعرات نے اپنا بہترین کلام پیش کیا. جن شاعرات کا کلام پسند کیا گیا ان کے نام اور اشعار درج ذیل ہیں
تمہارے پھول مری ڈائری میں ہیں ابھی
محبتوں کو ہے اب تک وفا سنبھالے ہوئے
(صبیحہ صدف)
عشق میں شک نہ ہو تو عشق بے شک ہوتا ہے
عشق والے ہی فقط عشق میں شک رکھتے ہیں
(عنبر عابد)
اک اسی بات کا تھا ڈر اس کو
مجھ میں انکار کی بھی ہمت تھی
(پوجا بھاٹیہ)
اک طرح دنیا نے دریافت کیا ہے تم کو
یہ جو سامان ملا ہے مری الماری سے
(زہرا قرار)
ایک عالم ہے جو سجدوں میں گلے کرتا ہے
ایک درویش جو حالت نمناک میں خوش
(عائشہ ایوب)
ساتھ تیرے دن بھر اتنا خوش رہے ہیں ہم
یعنی تجھ کو رات میں جی بھر کے روئیں گے
(مدیتا رستوگی)
نہ کوئی شہزادی کہیں کی میں نہ کوئی سلطنت میری
تو پھر ہاتھوں میں میرے یہ خزانے کون دیتا ہے
(غوثیہ سبین)
مشاعرے کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر عنبر عابد نے بحسن خوبی انجام دیے.
دوسرے دن کے آخری اجلاس میں مشہور گلوکارہ ممتا جوشی کے ذریعے سئر کوکیلا لتا منگیشکر کے گائے ہوئے نغمے پیش کر لتا منگیشکر کو خراج عقیدت پیش کیا گیا. اس کے علاوہ انھوں نے حب الوطنی پر مبنی نغمے بھی پیش کر سامعین کو جھومنے پر مجبور کیا.
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

