پریس ریلیز ۔ایکشن فار ڈولپمنٹ اینڈ ویلفئیر آف سوسائٹی اینڈ انوائرنمنٹ(ایفڈاس) نئی دہلی کے زیر اہتمام اور قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان،نئی دہلی کے اشتراک سے یک روزہ سمینار بعنوان’ اردو ادب میں ہندوستانیت‘ مؤرخہ۲۰/ مارچ ۲۰۲۲ء کو ایف ڈی ۲۶، کمیٹی روم ،شاہین باغ اوکھلا میں منعقد ہوا۔سیمینار کی صدارت ڈاکٹر واحد نظیر،اسسٹنٹ پروفیسر،اکادمی برائے فروغ استعداد اردو میڈیم اساتذہ،جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی نے فرمائی ۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطبے میں کہاکہ ’اردو ایک جدید ہند آریائی زبان ہے اور ہندوستانیت اس کا جوہر ہے جس کے بغیر اردو کا تصور ممکن نہیں۔اس کی تعمیر و تشکیل سے لے کر اس کی نشو ونما اور شعرا ادبا کی کوششوں سے اس ہندوستانیت کی آبیاری ہوئی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ نعت اور مرثیہ جیسی غیر ہندوستانی پس منظر والی اصناف ادب میں بھی ہندوستانیت کے گہرے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔ انھوں نے سیمینار کے موضوع کی اہمیت و افادیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ایسے حالات میں جب اردو کوخاص قوم اور عقیدہ کے ماننے والوں کی زبان بتاکر اس کی حیثیت کو مشکوک کرنے کی کوششیں ہورہی ہوں ایسے موضوعات کی اہمیت دو چند ہوجاتی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس طرح کے موضوعات پر سمینار اور مذاکروں سے غلط فہمیوں کو دور کیا جاسکتاہے۔ ایسے اہم موضوع کے انتخاب کے لیے انھوں نے ایفڈوز کے عہدیداران کو مبارک باد پیش کی‘۔ایفڈاس کے سکریٹری جنرل جناب محمد جان نے صدرجلسہ،مقالہ نگاران اور شرکا ئے سیمینار کا خیر مقدم کرتے ہوئے تنظیم کے اغراض و مقاصد پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔انھوں نے بتایا کہ ان کی تنظیم پسماندہ طبقہ کی ترقی و بہبود کے لیے متواتر کوششیں کرتی رہی ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ گزشتہ چند برسوں میں ان کی تنظیم نے مختلف ادبی موضوعات پر سیمینار منعقد کرائے ہیں جن میں جنگ آزادی میں اردو صحافت کا کردار، ہندوستانی سینما اور اردو اور اردو ادب میں ہندوستانی اساطیر قابل ذکر ہیں ۔ اس یک روزہ سمینار کی نظامت کے فرائض ڈاکٹر خان محمد رضوان نے انجام دیے۔
سیمینار میں کل پانچ مقالات پیش کیے گئے جن میں ڈاکٹر حنا آفرین (جامعہ ملیہ اسلامیہ، نئی دہلی) ’ سید محمد اشرف کے ناول آخری سواریاں میں ہندوستانی تہذیب کے عناصر‘ڈاکٹر نوشاد عالم (جامعہ ملیہ اسلامیہ)’ہندوستان کی سماجی وتہذیبی زندگی کا اہم شعری حوالہ شہرآشوب‘،ڈاکٹر سعود عالم(دہلی یونیورسٹی)’ دکنی قصائد میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت‘ڈاکٹر قرۃ العین (جامعہ ملیہ اسلامیہ)’آغا حشر کاشمیری کے ڈراموں میں ہندوستانی تہذیب کی عکاسی‘ ڈاکٹر عبد الرزاق زیادی (جواہر لعل نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی)’نظیر اکبر آبادی کی شاعری میں ہندوستانی تہذیب و ثقافت‘ شامل ہیں۔ ڈاکٹر واحد نظیر نے اپنے صدارتی خطبے میں سمینار میں پڑھے گئے مقالات پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ سارے مقالات انتہائی محنت سے لکھے گئے تھے۔انھوں نے مزید کہا کہ اردو میں بڑی تعداد میں ایسی شعری و نثری تخلیقات ہیں جن میں ہندوستانیت کے حوالے راست اور بالواسطہ طورپر ملتے ہیں اس لیے گاہے بہ گاہے ان کی شناخت، تفہیم اور بازیافت کی کوشش ضروری ہے۔
سیمینار کنوینر جناب محمد جان کے شکریے کے ساتھ سمینار کے اختتام کا اعلان ہوا۔ سمینار نے جن اہم شخصیات نے شرکت کی ان میں جناب محمد جان، ڈاکٹر نوشاد منظر،ڈاکٹر واثق الخیر،ڈاکٹر تنویر احمد،ڈاکٹر صادق اور جناب معا ذ شامل ہیں۔
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

