عورت معاشرے کا وہ اہم حصہ ہے جس کے بغیر معاشرے کی تشکیل ناممکن ہے ۔ یہی وہ ہستی ہے کہ جس کے دم سے ایک خاندان وجود میں آتا ہے۔ چنانچہ تخلیق انسان کی ابتدا اگر حضرت آدم علیہ السلام سے ہوتی ہے تو حضرت حوا علیہا السلام کی شخصیت بھی اسی تخلیق کی ایک اہم کڑی ہے جس سے انسانی خلقت کا آغاز ہوتا ہے۔ گویا مرد و عورت ایک ہی سکے کے دو پہلو ہیں .
یہ عورت ہی ہے جو ماں بن کر جنت کی حقدار بنتی ہے تو بہن کی صورت میں بھائی کا بازو بن کر سماج کو تقویت پہنچاتی ہے۔ بیٹی کی صورت میں والدین کا سر فخر سے بلند کرتی ہے تو بیوی بن کر خاندان کی ڈوبتی کشتی کا سہارا ثابت ہوتی ہے۔ عورت کی اسی اہمیت کو میں نے عربی کے چند اشعار میں اجاگر کرنے کی کوشش یوں کی ہے:
المرأة نصف المجتمع
اشعلت نور الشمع
صنعت للرجل البطل
سارت و نشرت اللمع
وكم من مرأة فاخرة
قدمت وتمثلت الورع
( فی تکریم الرائدات العربیۃ ، نقیب الھند ، جنوری – مارچ 2021)
ترجمہ: عورت معاشرے کا نصف جزء ہے جس نے ایک شمع روشن کی۔ جسے مرد آہن کے لئے ہی بنایا گیا ، وہ جب چلی تو کائنات کو چمک بخشی اور کتنی ہی باوقار عورتوں نے میدان میں آگے بڑھ کر زہد و تقویٰ کی بہترین مثال قائم کی۔
عورت کی انہی اہمیت کے پیش نظر اسے دنیا کی سب سے قیمتی متاع سے تعبیر کیا گیا چنانچہ فرمان رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم ہے:” الدنيا متاع وخير متاع الدنيا المرأة الصالحة”.( مسلم : ١٤٦٧)
ترجمہ: دنیا ایک سامان ہے اور دنیا کا بہترین متاع نیک بیوی ہے۔
اپنی انہی خصوصیات کی باعث ایک عورت سماج میں اہم کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے خواہ وہ انفرادی سطح پر ہو یا اجتماعی طور پر۔ لہذا ہم دیکھتے ہیں کہ عورت نے جس میدان میں قدم رکھا وہ کامیابی کا خزانہ ثابت ہوا۔
ایک عورت بحیثیت ماں سماج کو رشد و ہدایت کی ڈگر پر لانے میں مثبت کردار ادا کرتی ہے جب اس کی گود میں پروان چڑھنے والا بچہ ایک عظیم قائد بن کر معاشرے کی باگ ڈور سنبھالتا ہے کیونکہ ماں ہی بچے کی پہلی استاد ہوتی ہے ۔ اس کی بہترین عکاسی شاعر مصر حافظ ابراہیم نے یوں کی ہے:
الأم مدرسة إذا أعددتها
أعددت شعبا طيب الاعراق
ترجمہ: ماں ایک ایسی درسگاہ ہے کہ اگر آپ نے اس کو تیار کیا یعنی خیال رکھا تو آپ نے ایک پاکیزہ اور اچھی نسل کی قوم تیار کی یعنی ایک ماں اپنے والدین سے جو حسن سلوک یا علم حاصل کرتی ہے وہی اپنی اولاد میں منتقل کرتی ہے۔
وہ عورت ہی ہے جو گھر کی ملکہ بن کر خاندانی امور کی نگہداشت کی مالک ہوتی ہے نیز اقتصادی و معاشرتی معاملات میں مردوں کے شانہ بشانہ چل کر کردار سازی کا وہ عظیم نمونہ پیش کرتی ہے جس پر عمل درآمد سے ہی معاشرہ صحیح راہ پر گامزن ہو سکتا ہے۔
وہ عورت ہی ہے جو معاشرے میں درپیش نسوانی مسائل پر گہری نظر رکھتے ہوئے اس کا حل تلاش کرتی ہے اور عورتوں کے استحصال پر آواز بلند کرتے ہوئے اسے روکنے کی بھرپور کوشش کرتی ہے۔
چنانچہ ہم دیکھتے ہیں کہ ابتدائے اسلام سے ہی خواتین نے ہر میدان میں قدم رکھا لہذا بحیثیت معلمہ اگر عائشہ و فاطمہ نے مسند تدریس کو سنبھالا تو خنساء ، اسماء اور زینب نے ممبر خطابت کو زینت بخشی۔ حضرت سمیہ نے عقیدہ توحید کی روح کو برقرار رکھتے ہوتے شہادت کے مرتبے کو اونچا کیا تو ام عمارہ نے تیر و ترکش کو ہاتھ میں تھام کر جانبازی کا مظاہرہ کیا۔ حضرت صفیہ نے جانفشانی کے ساتھ ساتھ طبی میدان میں طبع آزمائی کی تو حضرت خدیجہ نے تجارتی معاملات کی بہترین اسٹراٹیجی پیش کی ( رضی اللّٰہ عنہن). غرضیکہ معاشی و معاشرتی ہر میدان میں اپنے قیمتی جوہر دکھائے۔
آج جب کہ مادی و ڈیجیٹل دور شروع ہوچکا ہے جس کے نتیجے میں نسل نو بے دینی و بے راہ روی کا شکار ہو رہی ہے جس کی اصل وجہ یہ ہے کہ مغرب کے دلفریب مناظر نے اس کے باطل دلوں پر پردے ڈال دیئے ہیں۔ ایسے ماحول میں ایک عورت پر معاشرتی اصلاح اور احکام شریعت کی ترویج و اشاعت کی دوہری ذمہ داری عائد ہوتی ہے اور بالخصوص ملک ہندوستان میں جہاں ایک فاشسٹ حکومت کا دبدبہ ہے اور ہر مسئلے کو فرقہ پرستی کا رنگ دینے کی سر توڑ کوشش جاری ہے۔
آج جب کہ حجاب کا مسئلہ سنگین تر ہوتا جارہا ہے اور بعض نام نہاد مسلم خواتین میڈیا اور ٹی وی چینلوں پر آکر قرآنی آیات کی غلط تاویل کرتے ہوئے قرآنی آیات کا انکار کرنے میں پیش پیش ہیں۔ بعض حجاب کا سرے سے انکار کرتی ہیں تو بعض اس کی غلط تعبیر عوام کے سامنے پیش کرتی ہیں۔ ایسے بھیانک ماحول میں ایک عورت پر یہ خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنی آواز بلند کرتے ہوئے احکام الٰہی کی ترویج میں اہم کردار ادا کرے۔ کیونکہ ہر شخص اللہ کے ہاں جوابدہ ہے۔
عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: ((كلُّكم راعٍ، وكلُّكم مسؤولٌ عن رعيَّتِه، والأمير راعٍ، والرجل راعٍ على أهل بيته، والمرأة راعية على بيت زوجها وولدِه، فكلُّكم راعٍ، وكلُّكم مسؤول عن رعیتہ”.
تم سب نگراں ہو، اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے، اور امیر نگہبان ہے، اور مرد اپنے گھر والوں کا نگراں ہے، اور عورت اپنے شوہر کے گھر اور بچے کی نگراں ہے، پس تم سب نگراں ہو اور تم میں سے ہر ایک اپنی رعایا کا ذمہ دار ہے۔
مندرجہ بالا حدیث کی روشنی میں ہر شخص اللہ کے ہاں جوابدہ ہے اور عورت جس کی گود میں اولاد پروان چڑھتی ہے وہ اس بات کی ذمہ دار ہے کہ اپنی اولاد کی تربیت اسلامی نہج پر کرے اور احکام شریعت سے روشناس کرائے تاکہ اس مسلمہ کی گود میں پروان پانے والی اولاد معاشرے میں اپنے رب کے کلمات کو بلند کرسکے۔
پردے سے متعلق قرآن کریم میں ارشاد ربانی ہے کہ﴿ يَا بَنِي آدَمَ قَدْ أَنْزَلْنَا عَلَيْكُمْ لِبَاسًا يُوَارِي سَوْآتِكُمْ وَرِيشًا وَلِبَاسُ التَّقْوَى ذَلِكَ خَيْرٌ ذَلِكَ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ لَعَلَّهُمْ يَذَّكَّرُونَ ۔ ( الأعراف : 26)
’اے آدم کی اولاد ہم نے تمہارے لئے لباس پیدا کیاجو تمہاری شرم گاہوں کو بھی چھپاتا ہے اور موجب زینت بھی ہے(۱) اور تقویٰ کا لباس (۲) یہ اس سے بڑھ کر (۳) یہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے ہے تاکہ یہ لوگ یاد رکھیں‘‘
اس حوالہ سے قرآن پاک میں ایک اور جگہ حق تعالیٰ فرماتا ہے ” وَقُل لِّلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ۖ وَلْيَضْرِبْنَ بِخُمُرِهِنَّ عَلَىٰ جُيُوبِهِنَّ ۖ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا لِبُعُولَتِهِنَّ أَوْ آبَائِهِنَّ أَوْ آبَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ أَبْنَائِهِنَّ أَوْ أَبْنَاءِ بُعُولَتِهِنَّ أَوْ إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي إِخْوَانِهِنَّ أَوْ بَنِي أَخَوَاتِهِنَّ الخ ” ( النور : 31)
’’مسلمان عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ بھی اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی عصمت میں فرق نہ آنے دیں اور اپنی زینت کو ظاہر نہ کریں سوائے اس کے کہ جو ظاہر ہے اور اپنے گریبانوں پر اپنی اوڑھنیاں ڈالے رکھیں اور اپنی آرائش کو کسی کے سامنے ظاہر نہ کریں سوائے اپنے خاوندوں کے یا اپنے والد یا اپنے خسر کے یا اپنے بہن، اوربھائیوں کے بچوں کے الخ۔
اس کے علاوہ اللّٰہ تعالیٰ کا فرمان ہے:” يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ قُلْ لِأَزْوَاجِكَ وَبَنَاتِكَ وَنِسَاءِ الْمُؤْمِنِينَ يُدْنِينَ عَلَيْهِنَّ مِنْ جَلَابِيبِهِنَّ ذَلِكَ أَدْنَى أَنْ يُعْرَفْنَ فَلَا يُؤْذَيْنَ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَحِيمًا ( الأحزاب : 59)
اے نبی!اپنی بیویوں اور اپنی صاحبزادیوں اور مسلمانوں کی عورتوں سے کہہ دیجئے کہ اپنی چادروں کا ایک حصہ اپنے او پر ڈالے رکھیں ، یہ اس سے زیادہ نزدیک ہے کہ وہ پہچانی جائیں تو انہیں ستایا نہ جائے اور اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔
عورتوں کے پردے سے متعلق جو حکم مطلق ہے اس میں بنیادی طور پر ”جلباب“ کا لفظ آیا ہے اور حضرت عبداللہ بن عباس کے مطابق ”جلباب“ اس چادر کوکہا جاتا ہے جواوپرسے لے کر نیچے تک پورے جسم کو چھپائے، لغت ِ عرب میں بھی ”جلباب“ اس چادرکوکہا جاتاہے جوپورے بدن کو چھپالے نہ کہ وہ چادر جوبعض جسم کو چھپالے۔
صفيہ بنت شيبہ بيان كرتى ہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا كہا كرتى تھيں:
” جب يہ آيت نازل ہوئى :
اور وہ اپنى اوڑھنياں اپنے گريبانوں پر ڈال كر ركھيں .
تو ان عورتوں نے اپنى نيچے باندھنے والى چادروں كو كناروں سے دو حصوں ميں پھاڑ ليا اور اس سے اپنے سروں اور چہروں كو ڈھانپ ليا ”
صحيح بخارى حديث نمبر ( 1448 ).
حضرت عبداللہ بن عباس اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے مومنین کی عورتوں کو یہ حکم فرمایا ہے کہ جب وہ کسی ضرورت سے اپنے گھروں سے باہر نکلیں تو چادروں کے ذریعے اپنے چہروں کو اپنے سروں کے اوپر سے ڈھانپ لیں اور صرف ایک آنکھ کھولیں اورحضرت ام سلمہ فرماتی ہیں کہ جب قرآن کریم کی یہ آیت نازل ہوئی توانصار کی خواتین اپنے گھروں سے اس طرح نکلیں کہ گویا ان کے سر اس طرح بے حرکت تھے جیسے ان کے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں اور ان کے اوپر کالا کپڑاتھا، جسکو وہ پہنی ہوئی تھیں۔
عروہ بيان كرتے ہيں كہ عائشہ رضى اللہ تعالى عنہا نے بيان كيا:
” رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نماز فجر ادا كرتے تو آپ كے ساتھ مومن عورتيں بھى اپنى چادريں لپيٹ كر نماز ميں شامل ہوتيں، اور پھر وہ اپنے گھروں كو واپس ہوتى تو انہيں كوئى بھى نہيں پہچانتا تھا ”
صحيح بخارى حديث نمبر ( 365 ) صحيح مسلم حديث نمبر ( 645)
قرآن مجید اور احادیث مبارکہ کے اس واضح فرمان کے باوجود اگر آج کی نسل اس پاک فرمان سے ناواقف ہے تو یقیناً اس کی ذمہ دار ایک عورت ہی ہے جس نے اپنی اولاد کی دینی تربیت نہ کی۔ لہذا یہ وقت ہے کہ دین اسلام کی طرف رجوع کریں اور شرعی علوم سے اپنے سینوں کو مزین کریں تاکہ ملک میں امن و امان کی فضا ہموار ہو سکے اور فرقہ پرستوں کی ناپاک سازشوں کی قلعی کھل کر اقوام عالم کے سامنے آسکے۔
موجودہ دور میں حجاب کا مسئلہ جو سر اٹھا رہا ہے وہ انتہائی تشویشناک ہے جس کا اگر بیک وقت تدارک نہ کیا جائے تو ایک طرف ہم اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوں گے تو دوسری جانب ہم معصیت الہی کے مرتکب ہوں گے۔
دور جدید کا حصہ ہونے کی بنا پر ہمیں یہ معلوم ہونا چاہیے کہ مذہبی شعار اختیار کرنا آئین ہند کے دفعہ 14 اور از 25 تا 28 دفعات کے مطابق ہمارا بنیادی اور آئینی حق ہے ۔ اسی طرح بحیثیت مسلمان ہمیں یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ شریعت اسلامی کے مطابق حجاب و پردہ ہمارا بنیادی فرض ہے جس پر عمل کرنا ہی ہمارے لئے فلاح دارین کا ضامن ہے۔
لہذا ایسے پر خوف و پرفتن دور میں ایک عورت پر یہ خاص ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ نسل نو کو احکاماتِ الہی سے باور کرائے اور اس کی ترویج و اشاعت میں اہم رول ادا کرے۔
اللہ ہمیں شر پسند عناصر سے بچائے اور شریعت اسلامی کا پابند بنائے اور ملک میں امن و امان قائم کرے۔ آمین
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

