اورنگ آباد میں 23 مضامین میں ایم اے کی ڈگری حاصل کرنے والے انور حسین کا استقبال.
اورنگ آباد 27 مارچ
کہا جاتا ہے کہ تعلیم کے لیے انسان کی عمر کوئی اہمیت نہیں رکھتی، انسان سیکھتا رہتا ہے۔ آج اورنگ آباد میں ریڈ اینڈ لیڈ فاؤنڈیشن کے مقبول ترین پروگرام "مصنف سے ملیئے ”
میں شیخ انور حسین (بنگلور) کا استقبال کیا گیا اور ادب قاری اور سماج کا باہمی رشتہ اس موضوع پر مذاکرہ کا اہتمام کیا گیا.
واضح رہے کہ شیخ انور حسین نت 23 مضامین پر ایم۔M . A* کیا ہے ۔ حسین کی اب تک دس کتابیں اور تین شعری مجموعے شائع ہو چکے ہیں۔ وہ
چھ زبانوں اور چار مضامین میں ایم اے۔کرچکے ہیں.
شیخ انور اورنگ آباد شہر کے معروف ادیب انور الحسنین کے شائع شدہ ادب پر ایم جی ایم یونیورسٹی سے اردو میں پی ایچ ڈی کر رہے ہیں۔اتوار کی صبح 11 بجے فاؤنڈیشن کے دفتر میں مرزا عبدالقیوم ندوی نے گلدستہ دی کڈ اِن سے نوازا۔ اس موقع پر شہر کے دوسرے ادیب مولانا آزاد کالج کے سابقہ صدر شعبہ تاریخ کے سربراہ ڈاکٹر مرزا محمد خضر کو گزشتہ دنوں ان کی بہترین خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے ادارہ ادب اسلامی ہند کی جانب سے ان کا استقبال کیا گیا تھا اس ضمن میں اس مذاکرہ میں انہیں تہنیت پیش کی گئی۔ مذاکرہ میں سینئر ادیب و استاذ احمد اقبال، ڈاکٹر عرفان سوداگر نے شرکت کی۔شیخ انور حسین نے کہا کہ ’’کوئی مصنف اور ادیب چھوٹا، بڑا نہیں ہوتا، ادیب ادیب ہوتا ہے، آج کا چھوٹا مصنف کل کا بڑا ادیب ہوگا۔‘‘ 65 سالہ حسین نے کہا کہ وہ جلد ہی اورنگ آباد اور یہاں کے لوگوں پر ایک کتاب لکھے گے، وہ یہاں کے لوگوں اور شہر سے بہت متاثر ہوئے ہیں۔پروگرام کے آغاز میں مرزا عبدالقیوم ندوی نے مہمانوں کا استقبال کیا اور ان کا تعارف کرایا۔ مذکورہ موضوع پر ڈاکٹر محمد خضر نے مذاکرہ میں حصہ لیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ادب، قاری اور مصنف یہ ایک ایسا رشتہ ہے جس میں سے کسی ایک کو الگ نہیں کیا جاسکتا ہے، تینوں کا ساتھ رہنا بہت ضروی ہے اگر ہم یہ کہیں گے تو بے جا نہ ہوگا کہ تینوں کا چولی دامن کا ساتھ ہے.
پروگرام کی صدارت احمد اقبال فرما رہے تھے انہوں نے اپنے صدارتی گفتگو میں کہا کہ موجودہ دور میں 23 مضامین میں ایم اے کرنا یہ ایک غیر معمولی کارنامہ ہے جو ہمارے نوجوانوں خصوصاً ریسرچ اسکالرز کے لیے ایک بہترین قابل تقلید مثال ہے، انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں بڑی خوشی ہوئی کہ انور حسین اورنگ آباد اور یہاں کی شخصیات پر ایک کتاب لکھنا چاہتے ہیں انہوں نے کہا کہ میں نے بھی دو جلدوں میں شہر کی 40 شخصیات پر "میرا شہر میرے لوگ” کے نام سے کتاب لکھی ہے.. کاروان اردو ادب کے ذمہ دار اور سرسید کالج کے استاذ ڈاکٹر عرفان سوداگر نے انور حسین کی خدمات کا بہترین انداز میں ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں جن کا نام اور کام برسوں سے جانتا تھا آج ان سے بالمشافہ ملاقات ہوگئی..
بزم میزان ادب کے ڈاکٹر اشفاق اقبال نے پروگرام کے اختتام پر تمام مہمانوں کا شکریہ ادا کیا.. مرزا طالب بیگ اور مرزا ابوالحسن نے پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے محنت کی.
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page
*Mirza Abdul Qayyum Nadwi*
*+91 9325203227*

