غالب کا ایک شعر جو مناسب معلوم ہوتا ہے قبل گفتگو آپ کے گوش گزار کرتا چلوں۔
نہ تھا کچھ تو خدا تھا کچھ نہ ہوتا تو خدا ہوتا
ڈبویا مجھ کو ہونے نے نہ ہوتا میں تو کیا ہوتا
بالکل سچ ہے کہ اس کائنات میں انسان کی حیثیت کیا ہے؟ اور انسان کی نظر میں اس دنیا کی کیا حقیقت ہے؟جس نے دنیا کو عیش وعشرت کی جا سمجھا اور اپنی ساری توانائی دنیا کو حاصل کرنے میں صرف کردی کیا وہ سب کچھ پالیا اور کیا اب اسے کچھ پانے کی للک نہیں اور اب وہ تھوڑی پرہیز گاری بھی کما لےگا نہیں کمائے گا تو لوگ اس کے گھر پہنچ کر اسے دین داری کی سند دے آئے گیں،بر خلاف ایسی زندگی کے ، کچھ زندگیاں ایسی بھی ہوتی ہے جو پہلے سانس کے ساتھ زیست سے پنگا لے لیتی ہیں یا زندگی انہیں اکسا کر پنگا لے لیتی ہے اور پھر یہ ہاتھا پائی اس کی آخری سانس تک جاری رہتی ہے۔کہا جاتا ہے کہ زندگی جس کو جیسی ملی اس نے زندگی کی تعریف ویسے ہی کی اس لئے زندگی کے متعلق کسی خاکی مخلوق کا کوئی نظریہ اہمیت نہیں رکھتا۔زندگی کی تعریف، تجربات کے تجزئے کے مطابق ہر کوئی پیش کرتا ہے اور اس کےلئے وہی تعریف صحیح ہوتی ہے لہذا اس بات کی بھی اشد ضرورت ہے کہ ہم زندگی کو اپنا ذاتی تعارف نہ دے یہ دوسرے کے لئے دوسرا مفہوم رکھتا ہے۔ایک حقیقت نگار کہ جس نے قلم ہی اسلئے اٹھایا کہ اسے زندگی کے چہرے کو بے نقاب کرنا تھا اور اس کے بہروپ کو دنیا کے سامنے لانا تھا۔جس کی شاعری میں جواں عمری کے ولولے ہیں،جوش وجنون کا اتاہ سمندر ہے تو وہی احتجاج ہے،انقلاب ہے،بغاوت ہے۔مزدوروں کے پسینے کی عظمت کا ترانہ ہے تو ہاتھوں میں ظلم و بربریت کو مٹانے والا علم بھی ہے۔دل چھولینے والی صدائیں ہیں تو دل چیر دینے والے تلخ تجربات بھی ہیں۔
محبوب کی مخمور نگاہوں کی قسم کھانے والا طوق سلاسل کو بھی سوغات زندگی سمجھتا ہے اور اپنا ارادہ کسی طور نہیں بدلتا،زمانے سے وہ انتقام نہیں لیتا مگر زمانے کو اس کی اوقات بتاتا ضروری سمجھتا ہے کہ دیوانوں کو زمانے سے کچھ کام نہیں ہوتا۔زمانہ دیوانہ سے خوفزدہ ہوتا ہے کیونکہ وہ زمانے کو سگریٹ کی ایک کش سے ذیادہ کچھ نہیں گردانتا۔
خالق کائنات کی اس حسین دنیا کو مختلف لوگوں نے مختلف نظریوں سے دیکھا ہے۔ساحر کی آنکھوں نے اس جہاں کو اپنی نظروں سے اور اپنے نظریوں سے دیکھا اور انہوں نے اپنی شاعری سے دنیا کو وہی دیا جو دنیا نے انکو دیا،اس ضمن میں یہ خود ساحر کا اعتراف ہے کہ
دنیا نے تجربات و حوادث کی شکل میں
جو کچھ مجھے دیا ہے وہ لوٹا رہا ہوں میں
ساحر کی غزلوں میں دنیا ایک بے معنی شئے ہے یا یوں کہا جائے معمولی شئے ہے وہ دنیا کو ایک وقتی قیام کی جا سے ذیادہ کچھ نہیں سمجھتے اور دنیا کا ذکر کرتے ہوئے ان کا نظریہ فلسفی کے جیسا ہوتا ہے۔سچ ہے انسان کے لئے دنیا بنائی گئ ہے مگر انسان دنیا کو مسجود سمجھ بیٹھا ہے۔وہ ہر ممکن کوشش کرتا ہے کہ وہ دنیاوی کامیابی حاصل کر سکے مگر ساحر دنیا کی اچھائی اور برائی سے خوب واقف ہیں وہ دنیا کے فیصلے کو ٹھکراتے ہوئے زندہ رہنے کی تلقین کرتے ہیں۔ پل پل دنیا اپنا فیصلہ بدلتی ہے بھلے کو برا اور برے کو بھلا ثابت کرتی ہے۔مفاد پرست دنیا سے اور اس کے قاعدے قانون جو فائدے کے مطابق بنتے ہیں اس سے خود کو دور رکھتے دکھائی دیتے ہیں اور بے پرواہ بھی انہیں لگتا ہے کہ یہ بھلے برے کے فیصلے دنیا کیا کرے گی جس نے آج تک بھلے کو برا اور برے کو بھلا ثابت کرنے کی کوشش میں کئ صدیاں اس خلا کے نیچے گزار دی۔کئی تہذیبیں آئیں گئیں۔ساحر اس سستی دنیا سے خوف کھانے سے بالکل خفا ہیں لہذا وہ اپنے محبوب کو دنیا کے فیصلوں سے پرے ہوکر جینے کی نصیحت کرتے ہیں۔
دنیا کی نگاہوں میں بھلا کیا ہے برا کیا
یہ بوجھ اگر دل سے اتر جائے تو اچھا
وہ دنیا سے حاصل ہونے والی اشیاء کی حقیقت سے واقف ہیں اس لئے ذیادہ سے ذیادہ اور اپنے پسند کی چیزیں حاصل کرنے کا خواہاں بھی نہیں ہیں،راہ زندگی میں جو میسر ہوا اسے بہ خوشی اپنا لیا اور جو نہیں ملا اس کی حاجت بھی دل میں نہ رکھی۔انکی شاعری میں جہاں طلبی کا دور دور تک کوئی وجود نہیں یقیناً ان کے ہاں دنیا کا وہی تصور ملتا ہے جو صوفیوں،فقیروں اور دانشوروں کے ہاں ملتا ہے۔ترک جہاں تو نہیں پر ترک خواہشات کا اہتمام ضرور ملتا ہے اس لئے تو وہ بے پروائی سے رقمطراز ہیں کہ
جو مل گیا اسی کو مقدر سمجھ لیا
جو کھو گیا میں اس کو بھلاتا چلا گیا
شاعر کے مطابق وہ تنہا نہیں جو دنیا سے بیزار ہے بلکہ جو بھی اہل دل اور اہل وفا ہیں دنیا انہیں کسی طور راس نہیں آتی،وہ دنیا کے بدلتے رنگ و روپ اور دنیا کی بدلتی انسانی تہذیبوں سے خائف ہیں۔شاعر کے نزدیک ایک سچا وفا پرست اور دل والا دنیا کا طلب گار نہیں ہو سکتا۔
اہل دل اور بھی ہیں اہل وفا اور بھی ہیں
ایک ہم ہی نہیں دنیا سے خفا اور بھی ہیں
دنیا کی بےثباتی سے واقف ایک حقیقت پسند شاعر دنیا کو آخر اتنی اہمیت کیوں دے؟ جس کی حیات پل بھر کی ہے جس کا کھیل کچھ لمحوں کا ہے۔دنیا کے مکر وفریب میں پڑ کر شاعر انسان ہونے کے عظیم مرتبے کو داؤ پر نہیں لگا سکتا یہ ان بھوکوں کو مبارک جو دنیا کو لوٹنے،بٹورنے اور عیش کی ابدی جا سمجھے ہوئے ہر وہ کام کر گزرتے ہیں جو انسان کو زیب نہیں دیتا۔ وہ اس کی حقیقت پر قہقہہ لگاتے ہوئے کہتے ہیں۔
اک پل کی پلک پر ہے ٹھہری ہوئی یہ دنیا
اک پل کے جھپکنے تک ہر کھیل سہانا ہے
دنیا خدا نے بنائی مگر دنیا والوں نے ہر نئے مذہب کے ساتھ ایک نیا خدا بنا لیا۔ زمین پر زمینی خداؤں کا غلبہ ہے ہر مذہب ،ہر مکتب فکر میں ایک نئے خدا کا وجود شاعر کو سوچنے پر مجبور کردیتا ہے کہ وہ آخر کس خدا کا ذکر کرے۔انسان انسان بن کے رہنے میں اتنی کراہیت کیوں محسوس کرتا ہے؟طاقت دولت ہاتھ آتے ہی اسے اپنی پرستش کا خواب کیوں ستانے لگتا ہے؟ایسی صورت حال میں وہ حیران و ششدر ہے کہ وہ کیا کرے۔یہ مسلم حقیقت ہے کہ سارے جہاں کا خدا صرف اور صرف ایک ہے۔
ہر ایک دور کا مذہب نیا خدا لایا
کریں تو ہم بھی مگر کس خدا کی بات کریں
زندگی کہاں سے شروع ہوئی؟کب شروع ہوئی؟ فلسفہ زیست کیا ہے؟یہ وہ سوالات ہیں جن کا جواب ڈھونڈنا نہایت مشکل امر ہے۔ساحر دنیا کے فسانے کی مختصر وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔
سنسار کی ہر شے کا اتنا ہی فسانہ ہے
اک دھند سے آنا ہے اک دھند میں جانا ہے
خالق کی اس کائنات میں انسان ایک کٹھ پتلی ہے جس کی ڈور اس کے ہاتھ ہے وہ ڈور آگے پیچھے ،اوپر نیچے جیسے چاہے کھینچتا ہے اور انسان اس کے اشارے پر رقص کرتا ہے۔انسان کے اختیار میں کچھ نہیں،قدرت کی ہر شئے اس کے تابع ہیں جس کے ہاتھ ہر کسی کی ڈور ہے۔انسان اپنی خام خیالی کو جتنی چاہے اتنی تقویت دے دے مگر اس کے قدم اس سرحد کو لانگھ نہیں سکتے جو اس نے مقرر کر رکھی ہے۔حیف انسان اپنی حقیقت سے نا واقف ہوکر خود کو مختار سمجھنے لگتا ہے جبکہ وہ خود کا بھی مختار نہیں۔شاعر نے اس نقطے کو کیا خوبصورتی سے شعری پیرہن عطا کیا ہے۔
ہم لوگ کھلونا ہیں اک ایسے کھلاڑی کا
جس کو ابھی صدیوں تک یہ کھیل رچانا ہے
جہاں کو اپنی ٹھوکر میں رکھنے والا شاعر جب زندگی سے بیزار ہوجاتا ہے تو وہ واحد راستہ اسے ٹھوکر لگانے میں ہی دیکھتا ہے۔جہاں اس کے لئے کوئی نعمت نہیں وہ جب چاہے اسے بے رخی سے ٹھوکر لگا دے۔ جہاں سے بے رخی کا یہ انوکھا انداز ساحر کے یہاں کچھ یوں ملتا ہے۔
تنگ آ چکے ہیں کشمکش زندگی سے ہم
ٹھکرا نہ دیں جہاں کو کہیں بے دلی سے ہم
ساحر کی غزلوں میں دنیا ایک مفاد پرست مقام کا نام ہے جہاں وفا،نیکی،محبت،ایمانداری سب کے سب بے معنی سےاور حقیر شئے ہونے کے ساتھ ساتھ عنقا بھی ہیں اس لئے وہ محبوب کو اس اندھی بہری اور گونگی دنیا کو چھوڑ کر اپنی بانہوں میں آنے کو کہتا ہے جہاں وفا ہے اور اس کے لئے محبت ہی محبت ہے۔شاعر کے مطابق دنیا سے دل لگانا بڑی حماقت ہے جس کا مرتکب وہ اپنے محبوب کو نہیں ہونے دینا چاہتا اور اس کو اپنے پاس آنے کی نصیحت کرتا ہے۔
دنیا کو بھول کر مری بانہوں میں جھول جا
آواز دے رہا ہوں وفا کے مقام سے
انسان کی ترقی کے ساتھ دنیا کی شکل و صورت بدلتی رہی اور آج سو سال پہلے کے لوگ موجود ہو جائیں تو انہیں قطعی یقین نہیں ہوگا کہ یہ وہی دنیا ہے جسے وہ چھوڑ گئے تھے۔انسانی طرز زندگی میں کئ خارجی اور داخلی تبدیلیاں ہوئی ۔آج ایک نئ دنیا ہے، نیا آسماں،نئ زمین،نئ تہذیب،انسانی ہنر مندی اور قابلیت کی منھ بولتی داستان بن چکی ہے۔
نئے جہان بسائے ہیں فکر آدم نے
اب اس زمیں پہ ارم ہی نہیں کچھ اور بھی ہے
دنیاوی زندگی کی ایک حقیقت یہ بھی ہے کہ ایک دن اسے ختم ہونی ہے پھر حق بولنے سے کترانا کیوں؟زندگی سے لاکھ الفت سہی مگر اس فانی جہاں کی زندگی کا انجام طئے شدہ ہے۔شاعر اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہےاور بول پڑتا ہے۔
جھوٹ کیوں بولیں فروغ مصلحت کے نام پر
زندگی پیاری سہی لیکن ہمیں مرنا تو ہے
ساحر کی ایک عجیب و غریب خواہش دیکھیں قدرت سے کیا طلب کرتے ہیں۔
میں دیکھوں تو سہی دنیا تمہیں کیسے ستاتی ہے
کوئی دن کے لئے اپنی نگہبانی مجھے دے دو
دنیا کی بے ثباتی اپنی جگہ پر اس حقیقت سے بھی انکار کی گنجائش نہیں کہ یہ دنیا بہت حسین ہے،اس کی لذت اپنی جگہ قائم ہے۔ہر زاویہ نگاہ یکساں نہیں ہوسکتا۔دنیا دلفریب بھی ہے اور بے دل بھی،وفا کی مورت بھی ہے اور جفا کی علامت بھی،یفین کی آزمائش بھی ہے اور آزمائش پر آزمائش بھی۔ چند روزہ زندگی کے مختصر حسین لمحے بھی ہیں اور دلخراش واقعات کا مرقع بھی۔ ساحر لدھیانوی کے ان چار مصرعوں کے ساتھ آپ سے اجازت طلب کرتا ہوں۔
یہ محلوں یہ تختوں یہ تاجوں کی دنیا
یہ انساں کے دشمن سماجوں کی دنیا
یہ دولت کے بھوکے رواجوں کی دنیا
یہ دنیا اگر مل بھی جائے تو کیا ہے
نسیم اشک
ہولڈنگ نمبر10/9گلی نمبر3
جگتدل 24 پرگنہ مغربی بنگال
فون۔9339966398
e-mail : nasimashk78@gmail.com
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

