قرآن مجید کلام الہی ہے یہ قرآن مجید رمضان المبارک میں نازل ہوا ۔ قرآن مجید میں ہے انا انزلناہ فی لیلۃ القدر یعنی ہم نے اس کو نازل کیا لیلۃ القدر میں ۔ قرآن مجید کے فیوض وبرکات سے پورا پورا استفادہ کرنے کے لئے رمضان کے روزے فرض کئے ہیں تاکہ نفس کا پورا تزکیہ ہو اور انسان کا دل اس کلام الہی سے فیضیاب ہوسکے ۔دل ایک پیالہ ہے اور اس پیالہ میں طرح طرح کی نجاستیں بھری رہتی ہیں ۔ نجاست سے بھرے ہوے پیالہ میں اگر آب زمزم بھی ڈال دیا جائے تو پیالہ نجس کا نجس رہے گا اور زمزم کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا ۔لیکن اگر پیالہ کواچھی طرح صاف کردیا جائے اور اسے ہر طرح سے پاک کردیا جائے اور پھر اس میں زمزم ڈالا جائے تو انسان اس زمزم سے پورے طرح سے مستفید ہوسکتا ہے ۔ قرآن کے نزول کے مہینہ میں روزے اسی لئے فرض کئے گئے ہیں کہ دل کا پیالہ تمام آلائشوں سے اور گندگی سے پاک ہوجائے اور پھراس میں قرآن کا طاہر اور مطہر پانی ڈالا جاسکے اور انسان اس آب زلال سے اپنی پیاس بجھائے اور تقوی اس کی زندگی میں داخل ہوسکے قرآن میں ہے یا ایہاالذین آمنوا کتب علیکم الصیام کماکتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون۔ یعنی اے ایمان والو تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے شاید کہ تم تقوی اختیار کرو۔ یعنی روزہ کی اصل غایت اور مقصد اصلی تقوی ہے اور تقوی پورے طور اندر داخل ہو اور انسان پاکباز بن جائے اور قرآن کا نور اندرون میں داخل ہو اس کے لئے روزہ کی ضرورت ہے روزہ قلب کی صفائی کے لئے ہے اور قرآن سے پورے طور پر مستفید ہونے کے لئے ہے ۔روزہ پیالہ دل کو طاہر اور شفاف بنانے کے لئے ہے تاکہ قرآن سے پورا استفادہ ممکن ہوسکے اور قرآن کا نور انسان کے باطن میں اتر سکے اور دل میں تجلیات الہی کا انعکاس ہوسکے انسان اخلاق کی بلندیوں تک پہونچ سکے روحانیت کی بارش میں نہا سکے ،اپنے معبود سے قریب ہوسکے اور اس کی طرف سے اجر وثواب کا مستحق ہوسکے اور مغفرت کا پروانہ حاصل کرسکے جہنم سے گلو خلاصی حاصل کرسکے ۔کہا گیا کہ تم پر رمضان کے روزے فرض کئے گئے اور اس کے بعد فورا یہ کہدیا گیا کہ یہ روزے تم سے پہلی قوموں پر بھی فرض کئے گئے تھے تاکہ انسان کے دل کو یہ اطمنان ہوجائے کہ یہ بوجھ کوئی نیا بوجھ نہیں ہے بلکہ تم سے پہلی قومیں بھی روزہ رکھتی آئی ہیں یہ کوئی نیا بوجھ تم پر نہیں ڈالا گیا ہے تاکہ انسان یہ نہ سمجھ لے کہ پہلی مرتبہ اس پر بوجھ ڈالا کیا ہے اور تاریخ میں صرف اسی کو دن میں کھانے پینے سے محروم کیا گیا ہے ۔ اس طرح سے کما کتب علی الذین من قبلکم کہہ کر نفسیاتی طور پر اس عبادت کو خوشی خوشی ادا کرنے کے لئے تیار کردیا گیاہے ۔
دلوں کے جام میں شراب معرفت اتر سکے اور انسان قرآن کی تجلیات سے محظوظ اور مستفید ہواس کے لئے روزے فرض کئے گئے ہیں لیکن یہ اس وقت ممکن ہے جب روزوں کی ادائیگی پورے اخلاص کے ساتھ اور دعا ومناجات اور تسبیح اور استغفار کے ساتھ ہو اور انسان غیبت جھوٹ بد زبانی اور ایذا رسانی سے پورے طور پر مجتنب ہو اور صغیرہ اور کبیرہ تمام گناہوں سے بچے ۔ رمضان کا مہینہ اخلاقیات کا ٹریننگ کورس ہے اگر اس مہینہ میں بھی غیبت جھوٹ دھوکہ دہی بد عہدی سب وشتم اور دوسروں کی حق تلفی سے انسان باز نہ آئے تو یہ صرف بھوکا اور پیاسا رہنا ہوا روزہ رکھنا نہ ہوا اور ایسا روزہ اللہ تعالی کے یہاں قبول نہیں ہوتا ہے ۔ رمضان کے مہینہ میں صدقہ وخیرات غریبوں کی مدد کا بڑا اجر ہے کیونکہ یہ مہینہ مواسات یعنی دوسروں کی غم خوار ی اور غم گساری کا مہینہ ہے ۔ ہر روز دوسروں کی مدد کے لئے اور حاجت روائی کے لئے تیار رہنا چاہئے کیونکہ اس مہینہ میں ہر نیکی کا اجر کئی گنا بڑھا دیا جاتا ہے ۔ اس وقت مسلمان اس ملک میں نہایت نازک حالات سے گذر رہے ہیں ۔ صرف ایک راستہ باقی رہ گیا ہے وہ ہے خدمت خلق کے ذریعہ انسانی آبادی میں نفوذ کرنے کا اور برادران وطن کے دلوں کو جیتنے کا۔ ہیومن ولفیر کونسل ایک نیا لیکن اہم ادارہ ہے اور یہ ادارہ مسلمانوں کے ساتھ برادران وطن کے درمیان بھی کام کرتا ہے ۔ قرآن میں زکات کے لئے تالیف قلب کی مد بھی بیان کی گئی ہے یہ اس لے کہ کبھی سنگین حالات اس کا تقاضہ کرتے ہیں کہ تالیف قلب کے لئے اور دلوں کو نرم کرنے کے لئے غیر مسلم ضعیفون اور معذوروں کی بھی مدد کی جائے۔لیکن یہ کام انفرادی طور پر نہیں بلکہ اجتماعی طورپر انجام پانا چاہئے مذکورہ ادارہ نے مسلم غیر مسلم سب کی حاجت روائی کو اپنا مقصد بنایا ہے ہندوستان میں خدمت خلق کے ذریعہ ہی دلوں کو جیتا جاسکتا ہے ۔زکاۃ کی مد کا بڑا حصہ مسلمانوں ہی پرخرچ کیا جاتا ہے ۔
ہندوستان کے موجودہ حالات میں غیرمسلم سماج میں اترنے کی فکری اور عملی تحریک کے ساتھ آپ پوراتعاون کرسکتے ہیں ۔آ پ مالی تعاون بھی کریں اور خودکام کا آغاز بھی کریں غیر مسلموں سے روابط کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں اور اپنی سرگرمیوں کی اطلاع ہیومن ولفیر کونسل کے صدر دفتر کو دیں دفتر ہیومن ولفیر کونسل کی تفصیلات یہ ہیں
ادارہ HUMAN WELFARE COUNCILجس کا مارمضان کے زمانہ میںمضبوط مالیاتی تعاون کے ذریعہ تعاون کرنا ہے اس کا ٹیلیفون نمبر 9654625663 ہے اورمالی اعانت کے لئے اکاونٹ نمبر000311001014574 ہے اور اس يکا IFSC کوڈ CB02 UTIBOSJ ہے ۔ اب ہندوستان میں خدمت انسانیت اور خدمت خلق کے ذریعہ ہی حالات کو بدلا جاسکتا ہے رمضان کے زمانہ میں اس فکری تحریک اور میدانی کام کی عملی اور مالی مدد کر یں اور ہر روز اہتمام کے ساتھ امت مرحوم کی مشکلات کو آسان کرننے کی اور حالات کی تبدیلی کی دعا مانگیں۔ الطاف حسین حالی نے کہا تھا
اے خاصہ خاصان رسل وقت دعا ہے
امت پہ تری آکہ عجب وقت پڑاہے
اس مہینہ میںدعا مانگیں اور نفل نماز ادا کرنے کا ثواب بھی فرض کے برابر ہوجاتا ہے ، قرآن کی تلاوت کا یہ مہینہ ہے ،چند پاروں کی تلاوت کا اہتمام روز کرنا چاہئے اور تراویح میں بھی قرآن مجید اہتمام کے ساتھ سننا چاہئے ایک روایت میں آتا ہے کہ ,, قرآن پڑھو کیونکہ قیامت کے دن قرآن سفارشی بن کر آئے گا اور مغفرت کی سفارش کرے گا ایک اور حدیث میں ہے کہ افضل عبادۃ امتی تلاوۃ القرآن یعنی میری امت کی افضل اور سب سے بہتر عبادت قرآن کی تلاوت ہے ،ایک حدیث میں ہے کہ جو شخص قرآن کا ایک حرف پڑھے اسے ایک نیکی ملتی ہے اور ایک نیکی دس کے برابر ہوتی ہے میں نہیں کہتا کہ الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف ہے لام ایک حرف ہے اور میم ایک حرف ہے ۔ اور رمضان میں ساری نیکیوں کا ثواب کئی گنا زیادہ ہوجاتا ہے ۔ بہتر ہے کہ رمضان کے مہینہ میں زیادہ سے زیادہ تلاوت کی جائے اور کچھ نہ کچھ حصہ قرآن مجید کا ترجمہ اور تفسیر کے ساتھ یعنی سمجھ کر بھی ضرور پڑھا جائے ۔
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

