یوم پیدائش پر خاص
اس کی خاطر میں کسی شام بہت رویا تھا
ہاں وہی جس سے محبت بھی نہیں تھی مجھ کو
کتنا بھولا بھالا ہے میرا چاہنے والا
اس حقیر ہستی کو دیوتا سمجھتا ہے
میں کھویا رہوں اور ہوا کا کوئی جھونکا
جب چھو کے گزر جائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
ایسے بہترین اشعار کہنے والے جناب ایم آر چشتی صاحب 5 مئی 1980 کو پوکھریرا (سیتا مڑھی) میں پیدا ہوئے – آپ کا پورا نام محامد رضا کمالی ہے – آپ نے ابتدائی تعلیم گھر سے ہی حاصل کی – لکھنے پڑھنے کا ماحول آپ کو گھر سے ہی ملا آپ کے چچا جناب شبنم کمالی رحمت اللہ علیہ اپنے دور کے بہت ہی مشہور و معروف شاعر گزرے ہیں اور آپ کے والد پروفیسر انجم کمالی صاحب کا شمار بھی بڑے شاعروں میں کیا جاتا ہے – چھوٹی عمر سے ہی آپ کو لکھنے کا شوق تھا آپ نے پہلی نظم محض 8 برس کی عمر میں ہی کہی تھی – آپ نے ابتدائی دنوں میں ہی اپنے چچا جناب شبنم کمالی صاحب سے اصلاح لینی شروع کر دی اور ان کی ہی رہنمائی میں آپ شعر کہتے رہے جس کے سبب آپ کی شاعری میں نکھار آتا رہا- آپ کی نظم پہلی بار سال 1994 میں بال ہنس میگزین میں چھپی اس وقت آپ آٹھویں جماعت کے طالب علم تھے آپ کی نظم شائع ہونے کے سبب پورے اسکول میں جشن منایا گیا تھا – آپ نے میٹرک کا امتحان سال 1996 میں گوپال گنج ہائ اسکول سے پاس کیا اس کے بعد اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے غرض سے مظفر پور چلے آئے – جہاں آپ نے بی – اے کی سند انگریزی میں لی پھر ایم – اے کی سند سب سے پہلے اردو میں پھر انگریزی میں اور پھر ماس کمیو نیکیشن حاصل کی – آپ کی لکھی کتاب آہٹ 2000 میں اور انتظار 2002 میں شائع ہوئی- آپ کی شادی سال 2004 میں رانا پروین سے ہوئی جو پیشے سے ایک معلمہ ہیں – بڑھتی عمر کے ساتھ ساتھ آپ کی شہرت اور بلند ہوتی گئی پھر سال 2007 میں آپ ایک مڈل اسکول میں اردو استاد کے عہدہ پر فائز ہوئے اس کے بعد آپ ایک اچھے شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بہترین استاد بھی بن کر ابھرے سال 2012 آپ کی زندگی میں وہ پل لے کر آیا جو شاید ہی کسی کو نصیب ہوتا ہے اسی سال بہار ریاستی دعا لکھنے پر وزیر اعلیٰ نیتش کمار کی جانب سے آپ کو انعام و اکرام سے نوازا گیا اور پوری بزم میں وزیر اعلیٰ جناب نیتش کمار نے آپ کی تعریف کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر چشتی جیسا استاد بہار کے سبھی اسکولوں میں ہو جائے تو یقیناً بہار کا مستقبل سدا روشن رہے گا اس کے بعد آپ کی شہرت اس قدر بلند ہوئ کہ ملک سے باہر کے مشاعروں میں بھی آپ کو بلایا جانے لگا اور اب تو عالم یہ ہے کہ آپ کی موجودگی ہی مشاعرے کی کامیابی کی ضمانت بن چکی ہے – اتنی بڑی شخصیت ہونے کے باوجود بھی آپ اپنی زندگی بالکل سادہ طریقے سے گزارتے ہیں – بچوں کے درمیان رہنا اور ان کے ساتھ والی بال کھیلنا آپ کا محبوب مشغلہ ہے – تمام اہل علم کی جانب سے آپ کو یوم ولادت کی پر خلوص مبارکباد اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے پیارے محبوب کے صدقے آپ کو سدا شاد و آباد رکھے
آمین یارب العالمین
ایم اے صابری
جگن ناتھ مشرا کالج مظفرپور
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page


1 comment
بہت ہی عمدہ