پۓتفہیم : ایک مطالعہ – محمد صدرعالم ندوی
"پۓ تفہیم” مظہرؔ وسطوی کا تازہ ترین شعری مجموعہ ہے ،ابھی مظہرؔ نوجوان ہیں ،عمرنبوت کوبھی نہیں پہونچےہیں،تازہ دم ہیں ،اورتازہ دم ہوکر شاعری بھی کرتےہیں ۔ پۓتفہیم ان کی شاعری کاپہلا مجموعہ ہےجو ۲۰۲۱ میں اردو ڈاٸرکٹوریٹ محکمہ کابینہ سکریٹریٹ پٹنہ کے مالی تعاون سےچھپ کر منظر عام پر آیا ہے۔ مظہرؔ وسطوی کا اصل نام مظاہرحسن ہے لیکن وہ قلمی نام مظہرؔ وسطوی سے ہی مشہور ہیں ۔مظہرؔوسطوی طالب علمی کے زمانہ سے ہی شاعری کرتےہیں اس سلسلہ میں سب سے پہلی غزل کی اصلاح انہوں نے آسنسول کے مشہور شاعر جناب محبوب انورؔ سے لی – انہوں نے شاعر کی اصلاح ہی نہیں کی بلکہ ہمت افزاٸ اس طرح کی کہ شاعرکا من گد گد ہوگیا – ان کےالفاظ پڑھیے :
"آپ کی یہ پہلی کوشش ہےبھلےہی اس میں بہت سی خامیاں ہیں ،مگرغزل کے مضامین کی تلاش وجستجوآپ ہی کی ہے۔ نقاٸص کودورکرنےکانام ہی اصلاح ہے ، اصلاح کےبعدتبدیلی کاہونالازمی ہے لہذایہ آپ کی تخلیق کہی جاۓ گی “ ۔
اب صاحب کتاب مظہرؔ وسطوی کی تحریر( حرف ابتدا )کا اقتباس پڑھیے :
”مذکورہ جملوں نےمجھےکافی حوصلہ دیامیں گاہےبگاہےاپنےذوق کی تسکین کےلیےاشعارکہتا رہا اور اپنےبیاض کی زینت بناتارہالیکن اس کےبعد محبوب انورسےخط وکتابت کامعاملہ ختم ہوگیا میں نےاپنی تعلیمی سرگرمیوں کو فوقیت دینازیادہ مناسب سمجھا لیکن شعروشاعری میں دلچسپی برقرار رہی ۔ محبوب انورصاحب کا ٢٠١٤میں انتقال ہواتومیں نےایک تعزیتی نظم ان کے تعلق سےکہی جواس کتاب میں شامل ہے۔ میں جب ٢٠١٣میں شاعری کی طرف باضابطہ ماٸل ہواتو محترم قوسؔ صدیقی صاحب کاشرف تلمذحاصل ہوا ان کی محبتوں اورشفقتوں نےمجھےبہت کچھ سکھایا۔میں شاعری کرنےلگا اور اخبارات ورساٸل میں چھپنےلگا – ٢٠١٩ء میں اپنےشعری مجموعہ کوشاٸع کرانےکا ارادہ کیامگرحالات سازگار نہ ہونےکی وجہ سےتاخیرہوٸ اوراس طرح ٢٠٢١ میں یہ کتاب منظرعام پرآٸ“ ۔
مظہرؔ وسطوی نٸ نسل کےسنجیدہ شاعرہیں ۔ ان کےیہاں الفاظ کا توازن ہے۔ ان کی شاعری صداقت پرمبنی ہے اوراردوسےمحبت کی مثال ہے ۔ ان کےایک قطعہ کو دیکھئے :
جنھیں اردوسےالفت ہےانھیں اکرام ملتاہے
زباں کی قدردانی کابھلاانجام ملتاہے
یہی پیغام اردوہے،محبت بانٹتےرہیے
کریں خدمت ،نہ سوچیں کیاہمیں انعام ملتاہے۔
شاعری ایک الہامی فن ہے۔ یہ فن کسی کسی کو نصیب ہوتا ہے ۔ شاعری تلوارسےزیادہ تیزکام کرتی ہے اور اس کے زدمیں جوآجاتاہے وہ زخم کھاکرہی رہتا ہے ۔ ایک اچھا شاعر زندگی کے تلخ حقائق کو منظوم اندازمیں پیش کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔
شاعری کی ایک صنف غزل ہے جب غزل کی بات آتی ہےتو عام طور پر لوگ یہ سمجھتےہیں کہ غزل میں صرف عورتوں کے تعلق سے باتیں ہوتی ہیں اور نوجوانوں کی ذہنی تسلی کا سامان موجود ہوتا ہے حالانکہ آج کے اس ترقیاتی دور میں غزل کا دائرہ وسیع تر ہوتا جارہا ہے۔ جہاں ہر طرح کے مضامین غزل میں باندھے جا رہے ہیں۔ ایک سنجیدہ شاعری وہ ہے جس میں تجربات و احساسات کی صحیح صحیح ترجمانی بھی ہو اورقاری کے ذہن و دل پر مثبت اثر قائم کرنے کی کوشش بھی ۔
مظہرؔوسطوی کےیہاں مذکورہ فکری و فنی رجحانات کی عمدہ مثالیں موجود ہیں ۔ ان کے یہاں غلو کے عناصر نہیں کے برابر ہیں ۔ مثال کے طور پر چند اشعار دیکھیں:
اگرسچاٸ کےحق میں تمہارا فیصلہ ہوگا
محبت کاصلہ پھراس سےبڑھ کراورکیاہوگا
حسیں خوابوں کےنرغےسےسلامت میں نکل آیا
حسینوں کےقبیلےمیں بڑاچرچاہواہوگا
کسی کادل دکھانےکی ہمیں عادت نہیں ہرگز
کبھی بھی بھول کرہم نےنہیں ایساکیاہوگا
جہاں میں چاہ کربھی تم مٹاسکتےنہیں ہم کو
زباں پراپنی جب تک نعرہء صل علی ہوگا
کوٸ ماں جب بھی کہتی ہےکہ بیٹاجاخداحافظ
یقینا ” ایسےبیٹےکاہراک لمحہ بھلاہوگا
مرےگی یونہی مظہرؔ جل کےاپنےملک کی بیٹی
جہیزوں کےجولینےکاجوانوں میں نشہ ہوگا
زمانہ بہت اب خراب آرہاہے
ترقی کوتھامےعذاب آرہاہے
محبت کی رسمی علامت ہےیہ بھی
کہ پرزےمیں سوکھا گلاب آرہاہے
مری آنکھ پتھرارہی ہےبہت اب
وہ کب سےتمہاراجواب آرہاہے
مظہؔروسطوی کی شاعری میں دورحاضر کے سماجی مسائل بھی دیکھنے کو ملتے ہیں ۔ ان کے یہاں حالات حاضرہ کی سچی ترجمانی ہوئ ہے :
کس نےکہاکہ آج کی دنیامزےمیں ہے
ہرشخص جانتاہےوہ کتنامزےمیں ہے
جذبٸہ انسانيت باقی کہاں ہردل میں ہے
اس لیے توآج کل ہرآدمی مشکل میں ہے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
میں اپنی جان ہتھیلی پہ لےکہ چلتاہوں
کہ میرےشہرکابدلاہوانظارہ ہے
مظہرؔ وسطوی کی شاعری حقیقت کی آٸنہ دارہے ۔ الفاظ بھی آسان استعمال کرتے ہیں جس سے عام قاری کو کسی ذہنی الجھن کا شکار نہیں ہونا پڑتا ہے ۔ ڈاکٹرکامران غنی صباؔ نے شاعر کے تعلق سے بہت صحیح لکھاہے:
”مظہروسطوی کی شاعری متوازن شاعری کی بہترین مثال ہے ۔ان کےیہاں نہ توخودساختہ ادبی پیچیدگیاں ہیں اورنہ عوامی مقبولیت حاصل کرنےکی تمناکےنتیجےمیں پیداہونےوالی سطحیت۔کتاب کے پشت پرڈاکٹرعطاؔ عابدی کی تحریر ہے انہوں نےکتاب کےتعلق سےصاحب کتاب کاتعارف اس طرح کرایاہے :
”مظہروسطوی کی شاعری دل ودنیاکےاحوال اور ان احوال کےتعاقب کاحاصل ہے۔اس کتاب میں ڈاکٹرکامران غنی صبا،ڈاکٹربدرمحمدی،نذرالاسلام نظمی ،ڈاکٹرارشدالقادری اورڈاکٹرعطاعابدی کی تحریر ہے جس سےکتاب کی اہمیت دوبالاہوجاتی ہے ۔
"پۓ تفہیم ” میں حمد،ونعت ، کے علاوہ پینسٹھ غزل اورمختلف عناوین سے آٹھ نظمیں ہیں جواس مجموعہ کاکل اثاثہ ہیں۔ کتاب کا نام ”پۓ تفہیم “ذرا مشکل نام ہے مگر یہ صاحب کتاب کا فیصلہ ہے۔ جہاں تک ممکن ہو کتاب کانام آسان رکھناچاہیےتاکہ قاری کاذہن آسانی سےسمجھ سکے۔کتاب ظاہروباطن دونوں اعتبار سےجاذب نظرہے جسےایجوکیشنل پبلشنگ ہاٶس نٸی دہلی نےچھاپاہے ۔ ١٩٢صفحات کی کتاب صرف ١٧٥روپےمیں دستیاب ہے ۔ امید ہےکہ یہ کتاب اردو آبادی میں پسندکی جاۓگی ،میں اس کتاب کی طباعت پرمظہؔروسطوی کومبارکباددیتاہوں اورآگےبھی نیک توقعات رکھتاہوں۔
************
ویشالی
9661819412 #
(مضمون میں پیش کردہ آرا مضمون نگارکے ذاتی خیالات پرمبنی ہیں،ادارۂ ادبی میراث کاان سےاتفاق ضروری نہیں)
| ادبی میراث پر آپ کا استقبال ہے۔ اس ویب سائٹ کو آپ کے علمی و ادبی تعاون کی ضرورت ہے۔ لہذا آپ اپنی تحریریں ہمیں adbimiras@gmail.com پر بھیجنے کی زحمت کریں۔ |
Home Page

